ججوں کو غیر جانبدار ہونا چاہئے

قدرتی انصاف کا پہلا اصول،تفریق کے خلاف قانون پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے تین فارمولے ہیں۔پہلا کوئی آدمی ذاتی معاملوں میں جج نہیں ہو سکتا۔دوسرا،ا نصاف صرف ہونا ہی نہیں بلکہ صاف طور پر دکھائی بھی دینا چاہئے۔تیسرا ،سیزر کی بیوی کی طرح جج پر کسی طرح کا شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
ہندوستانی سپریم کورٹ، انتظامی کاموں کے منصفانہ تجزیہ کو بلندی تک پہنچانے کے لئے فخر کرسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جج ان قوانین کی خود تعمیل کرتے ہیں جن کا وہ خود ہی تجزیہ کرتے ہیں؟جواب منفی دکھائی دیتا ہے ۔اس کی مثال 11جنوری 2017 کو بِرلا سہارا معاملے کے فیصلے میں دیکھنے کو ملی۔ایک این جی او کے ذریعہ داخل کی گئی اس عرضی جس میں مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کو مبینہ طور پر بڑی رقم کی ادائیگی کے خلاف کرمنل جانچ کی مانگ کی گئی تھی،کو جسٹس امیتو رائے اور جسٹس ارون مشرا نے خارج کر دیا تھا۔ عدالت کو یہ لگا کہ کسی ٹھوس قانونی ثبوت کے فقدان میں ( جس پر نوٹس لیا جاسکے ) کسی اہم آئینی عہدے پر براجمان آفیسر، کسی سرکاری آفیسر یا کسی بھی آدمی کے خلاف جانچ کا حکم دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ غور طلب ہے کہ آدتیہ بِرلا اور سہارا گروپ پر سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے چھاپوں کے دوران برآمد دستاویز موجود تھے۔ فیصلے میں یہ درج کیا گیا ہے کہ ’’ رینڈم لاگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کئی اہم لوگوںکو نقد منتقل کیا گیا۔ رینڈم صفحات کی کاپیاں معاہدہ اے 8 کے طور پر داخل کی گئیں۔ معاہدہ اے 9 اور معاہدہ اے 10 کے صفحات بھی داخل کئے گئے جن میں اصل ادائیگی کی تجویز موجود ہیں جو ملک کے بڑے لیڈروں کوکی گئیں۔ ان ناموں میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کا نام بھی شامل تھا۔
جسٹس مشرا نے 10دسمبر 2016 کو گوالیار میں اپنے بھتیجے؍بھانجے کی شادی تقریب منعقد کی تھی۔ اس تقریب میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی شامل ہوئے تھے جس کی تصویریں ریاست کے اخباروں میں چھپیں۔ یہاں یہ بتانا غلط نہیں ہوگا کہ مذکورہ مقدمے کی سنوائی نومبر 2016 سے ایک دیگر بینچ میں چل رہی تھی۔ جسٹس مشرا اس بینچ کے ممبر تھے۔

 

3جنوری کے بعد جسٹس مشرا پہلی بار اس بینچ کے صدر بنے اور یہ متنازع مقدمہ ایک بار پھر اس بینچ میں زیر غور آیا۔ جسٹس مشرا نے جنوری سے پہلے یا جنوری کے بعد شیو راج سنگھ سمیت کسی دیگر لیڈر سے اپنی نزدیکیوں کو ظاہر نہیں کیا۔
لہٰذا معاملے کی سنوائی میں کسی بھید بھائو کا شبہ ہے یا نہیں ،اس جانچ سے پہلے ہی جسٹس مشرا خود کار طریقے سے معاملے کی سنوائی کے لئے نا اہل ہوجاتے تھے۔ سپریم کورٹ نے متعدد معاملوں میں اس حقیقت کو دوہرایا ہے۔ روپا اشوک ہُرّا بنام اشوک ہُرّا معاملے میں آئینی بینچ نے 2002 کے اپنے فیصلے میں ’’ ان جسٹیفائڈ اِن جسٹس ‘‘ کو دور کرنے کے لئے کیوریٹیو پٹیشن کی ایک غیر معمولی اور نئے نظام کی تجویز دی۔ اپنے فیصلے میں بینچ نے کہا کہ ہم اس رائے سے متفق ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج بہترین فیصلے دیتے ہیں۔ ان فیصلوں میں انسانی غلطی کی گنجائش محدود رہتی ہے لیکن پھر بھی کچھ معاملوں میں آخری فیصلے پر از سر نو غور کی ضرورت ہوگی تاکہ انصاف کو ٹھیک کیا جاسکے۔ جن حالات میں اس طرح کی راحت دی جاسکتی ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر جج فریق یافریقوں سے اپنے تعلقات کو ظاہر نہیں کرتے جس سے عرضی گزار کو فیصلے میں بھید بھائو اور نقصان کا اندیشہ ہو۔11جنوری کو دیا گیا فیصلہ اسی درجے کے تحت آتا ہے۔ کیونکہ جسٹس مشرا ، اپنے اور شیو راج سنگھ چوہان یا مذکورہ دستاویزوں میںدرج سیاسی ہستیوں سے تعلق کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔ لہٰذا اس سے فیصلے میں بھید بھائو کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عرضی گزار کو متاثر کرتا ہے بلکہ عوامی مفاد کو بھی متاثر کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ان رے پینوشے معاملے میں ہائوس آف لارڈ کے 1998 کے فیصلے کا تجزیہ کیا ہے۔ اس معاملے میں اپنے پچھلے فیصلے کو ہائوس آف لارڈ نے بھید بھائو ہونے کے مد نظر واپس لے لیا تھا، کیونکہ معاملے کی سنوائی کررہے ایک جج لارڈ ہف مین اور ان کی بیوی معاملے کے ایک فریق کے رشتہ دار تھے۔ انصاف کے بنیادی اصولوں کی توضیح کرتے ہوئے امنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ کوئی آدمی اپنے ہی کسی معاملے کا جج نہیں ہوسکتا ۔ عدالتوں کے ذریعہ ڈیولپ اس اصول کے دو رنگ ہیں لیکن ناہموار ارادہ ہے۔ دوسرا ارادہ یہ ہے کہ اگر سنوائی کر رہا جج معاملے کا فریق نہیں ہے یا اس میں اس کا کوئی مالی فائدہ نہیں ہے لیکن اس کے برتائو سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے یعنی وہ کسی فریق کا دوست ہے۔
این جے اے سی معاملے میں 16 اکتوبر 2015 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں جسٹس چیلمیشور نے مفاد کے ٹکرائو، جس میں کوئی جج خود کار طریقے سے معاملے کی سنوائی کے لئے نا اہل ہوجاتا ہے ،کے ایشو پر الگ سے تجزیہ کرتے ہوئے عدالت نے غیر جانبدار جج کے ایشو پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اسے جمہوریت کی پہچان بتایا۔ انہوں نے پینوشے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی منظوری بھی دی۔ 2001 میں عدالت نے مومائوں منڈل وکاس نگم لمیٹیڈ معاملے میں کہا تھا کہ عدالتی فیصلے میں بھید بھائو کا واقعی خطرہ اس وقت پیدا ہوتاہے جب معاملے سے جڑے جج اور فریق کے بیچ دوستی یا دشمنی کا رشتہ ہو۔2012 میں آرسی چندیل معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس لوڑھا نے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کے وجود کو بچائے رکھنے کے لئے جج کو لازمی طور سے صاف ستھری شبیہ کا اور آزاد خیال کا ہونا چاہئے۔

 

 

اپنے چارٹر ’’ عدالتی زندگی کے اقدار کی ازسر نو قیام ‘‘ میں 7 مئی 1997 کو سپریم کوٹ نے دیگر باتوں کے ساتھ مندرجہ ذیل نکات پر زور دیا :(1)صرف انصاف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف ہوتے ہوئے دکھائی بھی دینا چاہئے۔ عدالت کی غیر جانبداریت میں لوگوں کے عقائد کی توثیق عدالت کے ممبروں کے سلوک اور اخلاق سے ہونا چاہے (2) ایک جج کو اپنے کام کے دفتر کے وقار کے مطابق کام کرناچاہئے (3)جج کو اپنے خاندان کے ممبروں، نزدیکی لوگوں یا دوستوں سے متعلقہ معاملوں کی سنوائی سے الگ ہٹ جانا چاہئے (4) ہر جج کو ہر وقت محتاط رہنا چاہئے کیونکہ وہ عوام کی نظر میں ہیں۔
جسٹس مشرا نے 18 دسمبر 2016 کو دہلی میں اپنے بھتیجے ؍ بھانجے کا ریسپشن منعقد کیا۔ اس تقریب میں وکیلوں، سپریم کورٹ ، دہلی ، مدھیہ پردیش، راجستھان ہائی کورٹ اور رجسٹری آفس کے کئی ججوں کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔ تقریب میں مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ کئی کابینی وزیر بھی دکھائی دیے،جن کا عدالت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ دوری کی سرحد، کہاں ہے؟اس سے تقریب میں موجود ہائی کورٹ کے ججوں کو کیا پیغام جائے گا؟آج کل اعلیٰ آئینی عہدیداروں کا ہائی اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ذاتی پروگراموں میں حصہ لینا عام چلن بن گیا ہے جو غیر جانبداریت کے معاہدے پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
جسٹس مشرا کافیصلہ دو باہمی متعلقہ امور پر مبنی تھا۔ پہلا سمجھوتہ (سیٹلمنٹ) کمیشن نے دستاویزوں کو مشکوک قرار دیا تھا اور دوسرا الکٹرانک طور سے رکھے جانے یا ریگولر اکائونٹنگ بک میں درج نہیں ہونے کے سبب اسے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ دونوں امور عدالت کی قانونی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ الکٹرانک ریکارڈ کو ایویڈنس ایکٹ کے تحت ثبوت کے طور پر قبول کیا جا سکتاہے۔ انکم ٹیکس کی دفعہ 132(4) اور 4A، 1961 اور ایویڈنس ایکٹ کی دفعہ 79 ایسی دستاویزوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اس آدمی سے متعلق مانا جائے گا جسے انہیں ضبط کیا گیا ہو اور انہیں صحیح ثبوت مانا جائے گا۔ یعنی ان میں درج بیوروں کو جانچ کے دوران ثبوت کے طور پر رکھا جاسکتاہے۔ پورن مل بنام ڈائریکٹر آف انسپکشن اور آئی ٹی او بنام سیٹھ برادرس معاملوں میں سپریم کورٹ نے اس کی توثیق کی ہے۔مدراس ، دہلی اورراجستھان ہائی کورٹ نے ایسی دستاویزوں کوثبوت کے طور پر قبول کیا ہے۔
لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ 11جنوری کا فیصلہ ’’بھید بھائو ‘‘ سے بھرا ہے اور سپریم کوٹ کے ذریعہ واپس لینے کے قابل اور اگر ضرورت پڑے تو نوٹس لینے کے قابل ہے۔ ایسا کرنے کے بعد ہی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تئیں عدالت کے کمٹمنٹ کی تصدیق ہوتی ہے۔
( مضمون نگار سینئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ہیں )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *