جھارکھنڈ کا جھریا کوئلہ آنچل آگ میں دفن ہورہے ہیں زندہ انسان

جھارکھنڈ میں جھریا کے اندرا چوک کے پاس اپنے ابو کے ساتھ دس سال کا رحیم خاں جب چائے پی کر اپنے گھر لوٹ رہا تھا تو کچھ ہی دوری کے بعد اسکے قدموں کے وزن سے زمین دھنس گئی اور وہ اس میںزندہ دفن ہو گیا، جبکہ اسے بچانے آئے اس کے والد ببلو خاں کی بھی موت اس میں گر جانے سے ہو گئی۔ 10 فٹ کے بنے گوفہ میں بیٹا اور باپ زندہ دفن ہو گئے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، جھریا کے نیچے کوئلے میں لگی آگ سے انتظامیہ کی نیند ابھی تک نہیں کھلی ہے۔
کوئلہ آنچل کے اس علاقے کے 17ہزار مربع کلو میٹر میں برسوں سے آگ لگی ہوئی ہے ور تقریباً 8 لاکھ خاندان اس سے متاثر ہیں لیکن ابھی تک ان لوگوں کو از سر نو بسانے کا کام سرکار کے ذریعہ نہیں کیا جاسکا ہے ،جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مرکزی سرکار نے 2009 میں جھریا ماسٹر پلان بنایا تھا۔ یہ ملک کی سب سے بڑی فائر فائٹنگ اور نو آبادکاری اسکیم ہے۔ اس میں 6 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ جگہوں پر بسانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے کام کرنے کا طور طریقہ اور وقت بندی،معاوضہ ،کس کی کیا ذمہ اری ہوگی ۔اس کے باوجود اب جب بھی کوئی موت ہوتی ہے تو انتظامیہ اور بی سی سی ایل کے آفیسر ایک دوسرے کے متھے پر ذمہ داری پھوڑنے کا کھیل شروع کر دیتے ہیں۔ وہیں ریاستی سرکار اور مرکزی سرکار ثالثی کے کردار میں آجاتی ہیں۔
بی سی سی ایل اور ریاستی حکومت کی لڑائی سے عوام متاثر
بی سی سی ایل اینڈ اسٹیٹ گورمنٹ کی اس لڑائی میں یہاں کے لوگ زندہ دفن ہونے کو مجبور ہیں۔ نیچے کوئلے کی آگ اور گیس رسائو اور اوپر زندگی ۔17 ہزار مربع کلو میٹر میں پھیلے اس آگ کے اوپر لگ بھگ8 لاکھ زندگیاں ہیں۔ زمین کے اندر کوئلے میں لگی آگ سے ہی پورا علاقہ دہک رہا ہے۔ زمین کا دھنسنا اور گیس رسنے کے حادثات عام ہو گئے ہیں۔ حال کے ہوئے حادثے سے یہاں کے لوگ بھاری دہشت میں ہیں کہ کب کس کا مکان دھنس جائے۔ اس علاقے کے 595 جگہوں کو نشان زد کیا گیا ہے۔جہاں کوئلے کے نیچے لگی آگ سے زمین دھنس جانے کا خطرہ ہے۔ اس میں 42 جگہوں کو تو انتہائی خطرناک مانا گیا ہے جسے فوری طور پر کہیں شفٹ کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اگر یہ کام جلد نہیں کیا گیا تو ایک بڑا حادثہ کبھی بھی ہو سکتاہے ۔ ان علاقوں میں کہیں کہیں تو درجہ حرارت 80 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جسے دیکھ کر این ڈی آر ایف ٹیم بھی حیران ہو گئی ہے۔
دراصل یہ کام اس لئے سست رفتاری سے چل رہا ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے اس سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے۔ پہلے یہ اسکیم 10 ہزار کروڑ کی تھی لیکن اب یہ بڑھ کر 31 ہزار کروڑ روپے کی ہو گئی ہے۔ پہلے بنے ماسٹر پلان میں یہ کہا گیا تھا کہ آگ پر کنٹرول اور آگ کے علاقے میں رہ رہے کول اسٹاف کو محفوظ جگہوں پر بسانے کی ذمہ داری بی سی سی ایل کی ہے ،کہیں غیر بی سی سی ایل لوگوں جس میں ریٹی اور انکروچر ہیں کو بسانے کا کام ریاستی سرکار کوکرنا ہے ،اس کے لئے باقاعدہ جھریا نوآبادکاری و ڈیولپ اتھارٹی کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس بورڈ کے صدر شمالی چھوٹا ناگپور سب ڈویژن کے کمشنر بنائے گئے ، جبکہ بی سی سی ایل کے سی ایم ڈی کو نائب صدر ،ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو سکریٹری بنایا گیاہے۔ مرکزی سرکار کی سطح پر کوئلہ وزارت نے ماسٹر پلان کی تعمیل کے لئے ہائی پاور کمیٹی تشکیل کر رکھی ہے ،جو مقررہ میٹنگ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ اس کی مانیٹرنگ کر رہا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا واضح بندوبست اور روڈ میپ کے باجوود فائر بیلٹ میں ہر موت کے بعد ذمہ داری کی پھیکا پھیکی شروع ہوجاتی ہے۔ انتظامیہ آگ بجھانے کی ذمہ داری جہاں بی سی سی ایل پر ڈالتا ہے تو وہیں بی سی سی ایل متاثر علاقوں میں لوگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالتی ہے۔ ذمہ دار وں کے بیچ تال میل ہے ہی نہیں۔ اس کاخمیازہ متاثر علاقے کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جبکہ اس طرح کے حادثات کے لئے سبھی قصوروار ہیں، یہاں تک کہ مرکزی سرکار بھی۔ شروع میں نوآبادکاری کے کام میں جو تیزی آئی تھی، وہ رک سا گیا ہے۔ کوئی دلچسپی نہیں لے رہاہے۔ نئی جگہ پر ان کے زندگی گزارنے کا کیا ذریعہ ہوگا ،اس کا حل ابھی تک نہیںنکل سکتا ہے۔ آگ کے زیر اثر علاقے کے متاثرین کو کیا ملے گا،یہ بھی بڑا سوال بناگیاہے۔فائر بیلٹ میں تقریباً 1.25 ہزار خاندان رہ رہے ہیں۔ اس میں 30ہزار ریٹی لوگوں کو معاوضہ دینے کی تجویز ہے، انتہائی انکروچروں کو جہاں بنایا ہوا گھر ملے گا ،وہیں ریتوں کو اپنے گھر زمین کے مارکیٹ ویلو کے ساتھ ہی بسنے کے لئے محفوظ زمین ۔ انکروچ بھی دونوں چیزیں مانگ رہے ہیں۔ اس کے سبب انتظامیہ کو پھر سے بسانے میں دشواری آرہی ہے۔ اس کے سبب 10 ہزار کروڑ کی اسکیم 31 ہزار کروڑ کو پہنچی جارہی ہے اور اسے دیکھ کر مرکزی سرکار نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔
صورتحال خطرناک

 

ریاستی سرکار کی چیف سکریٹری راج بالا ورما نے صورت حال کو خوفناک بتاتے ہوئے کہا کہ جلد ہی فائر بیلٹ کو خالی کرا دیا جائے گا۔ انتظامیہ اور بی سی سی ایل کے افسروں کو اس تعلق سے سخت احکام دیئے گئے ہیں۔ 42جگہوں کو ابھی نشان زد کیا گیاہے جہاں صورت حال انتہائی بھیانک ہے۔ اس علاقہ کے لوگوں کو فوری طور پر یہاں سے شفٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 595 جگہوں کو نشان زد کر کے متاثرین کو جلد ہی محفوظ جگہوں پر شفٹ کیا جائے گا۔ مرکزی سرکار کے ساتھ ہی ریاست سرکار اس میں پورا تعاون کررہی ہے۔
ادھر دھنباد کے ڈپٹی کمشنر اے داڑڈے کا کہناہے کہ لوگوں کو اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔اس علاقہ میں کوئی بھی حادثہ کبھی بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ لوگ ذہنی طور سے غیر محفوظ علاقہ کو خالی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ متاثر خاندان نئے قانون کے تحت زمین کے بدلے معاوضہ اور کول انڈیا کی پالیسی کے تحت نوکری کی مانگ کررہے ہیں۔ بی سی سی ایل کے افسروں کا کہنا ہے کہ ہمیں کول کی کھدائی کے لئے اس علاقہ میں زمین چاہئے ہی نہیں۔ دوسری طرف تحویل اراضی کے مشکل پروسیس اور زمین فراہم نہیں ہونے کی وجہ سے مہاجروں کے لئے نئی کالونی بنانے میں کافی دشواریاں آرہی ہیں۔اس کے سبب کام دھیمی رفتار سے چل رہا ہے لیکن جلد ہی مسئلے کا حل کر لیا جائے گا۔
بی سی سی ایل کے تکنیکی ڈائریکٹر کا ماننا ہے کہ جھریا کی آگ اور گیس رسائو اب خطرناک شکل لیتی جارہی ہے۔ آگ کا دائرہ کافی بڑا ہے اور کافی نیچے تک ہے۔ بارش کے موسم میں دھسنے کا خطرہ اور بڑھ جاتاہے۔ متاثر علاقوں کے لوگوںکو ہٹانے کے لئے پہلے ہی نوٹس دیاجاچکا ہے۔ بی سی سی ایل کے لوگوں کو پھر سے بسانے کا کام بی سی سی ایل کے ذریعہ کیا جارہاہے۔ آدھے سے زیادہ ملازموں کو دوسری جگہ شفٹ کیا جاچکا ہے، جبکہ غیر بی سی سی ایل کے لوگوں کو دوسری جگہ بسانے کی ذمہ دا ری جھریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دی گئی ہے۔
زیر زمین آگ کی وجہ سے دھنباد چندر پورا ریلوے لائن بھی بند کر دیا گیا ہے جس کے سبب سوا کروڑ مسافروں کے ساتھ ہی کوئلہ ڈھلائی کے مسئلے مزید بڑھ گئے ہیں۔ 34 کلو میٹر اس ریل ڈویژن کو بند کر دیئے جانے سے 7 ریاستوں کے پاور پلانٹوں کو کوئلہ ملنے میں پریشانی ہوگی۔ ریلوے کو اس سے تقریباً 3000 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ متبادل لائن بننے میں تقریباً پانچ سال لگ جائیں گے۔
وہیں کول فیلڈ بچائو کمیٹی کے صدر اشوک اگروال کا کہنا ہے کہ کوئلے کے لئے بی سی سی ایل آگ کو دہکا رہی ہے۔ جھریا میں پہلے چاروں طرف ہریالی تھی، لیکن اوپن کاسٹ مائننگ نے زمین کا کلیجہ چیر کر تصویر بدل دی ہے، ہریالی کی جگہ گیس رسائو اور کالی مٹی پتھر کے پہاڑ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اوپن کاسٹ مائنس کی وجہ سے کوئلہ میں لگی آگ ہوا کے رابطے میں آ گئی جس سے یہ آگ کا علاقہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس پر کبھی افسروں نے دھیان نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جھریا نو آبادکاری اسکیم 100 سالوں میں بھی پورا نہیں ہوگا۔
دامودر ندی کے ایک کنارے پر بسا جھریا 100 سال سے دہک رہا ہے۔ ان دنوں آگ اور تیز ہو گئی ہے اور پورا علاقہ کھوکھلا ہو گیاہے اور کبھی بھی زمین کے اندر سما سکتا ہے ۔ آگ 17 مربع کلو میٹر میں پھیل چکی ہے۔ تقریباً 6 لاکھ متاثر ین ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ کوئی بڑا حادثہ ہونے سے پہلے کوئی کول کمپنی بیدار ہوتی ہے یا نہیں ۔
مہاجروں کی نوآبادکاری
جھارکھنڈ کی چیف سکریٹری راج بالا ورما نے کہا کہ جھریا کی صورت حال انتہائی خوفناک ہے۔اس صورت حال سے جلد ہی نمٹنا ہوگا۔ جھریا ریہابلیٹیشن بورڈ مہاجروں کو پھر سے بسانے کا کام کررہی ہے۔ جلد ہی متاثر خاندانوں کو یہاں سے ہٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جھریا میں زمین کے اندر ایک بڑے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی آلودہ گیس بھی نکل رہا ہے۔ اس سے کبھی بھی کوئی بڑا حادثہ ہو سکتاہے۔ ضلع انتظامیہ اور بھارت کوکنگ کول لمیٹیڈ کے افسروں کو جلد سے جلد متاثر علاقہ کے لوگوں کو شفٹ کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ بی سی سی ایل اہلکاروں کو شفٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بی سی سی ایل اہلکاروں کو شفٹ کرنے کا کام تیزی سے چل رہا ہے۔ ریلوے آپریشن بھی 15جون سے جھریا اور دیگر متاثر علاقوں میں بند کر دیا ہے ۔ ریلوے بورڈ نے اس سلسلے میں فیصلہ لے لیا ہے۔
چیف سکریٹری نے بتایا کہ لوگوںکو جہاں بسایا جائے گا وہاںہر بنیادی سہولت مہیا کرانے کا حکم دیاگیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ 42 ایسی جگہ نشان زد کی گئی ہے جہاں کے خاندانوں کو فوری دوسری جگہ شفٹ کیا جائے گا ۔ اس کے بعد دیگر جگہوں کے خاندانوں کو شفٹ کیا جائے گا۔ جھریاریہابلی ٹیشن اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ6 ہزار رہائش گاہیں بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو وقت بوقت ضروری ہدایات دی جارہی ہے۔ یہ مرکزی سرکار کی سب سے بڑی فائر فائٹنگ اینڈ ریہابلی ٹیشن اسکیم ہے۔ جھریاماسٹر پلان کو مرکزی سرکار 2009 میں منظور کر چکی ہے۔ 595 جگہ کو نشان زد کر کے کام کیا جارہاہے۔ لگ بھگ 6 لاکھ لوگ اس آگ سے متاثر ہیں۔ اب سرکار نے بھی یہ مان لیاہے کہ اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ اربوں روپے کے کوئلے کا نقصان ہو ا ہے۔

 

 

فائر بیلٹ سے ہٹائے جائیں گے سبھی کول اہلکار
جھریا کی آگ اور گیس رسائو اب خطرناک شکل لیتی جارہی ہے۔ آگ کا دائرہ کافی بڑا ہے۔ زیر زمین آگ کافی نیچے تک ہے۔ آگ اور گیس رسائو کی وجہ سے زمین کے دھنسنے کے حادثات ہورہے ہیں۔ اندرا چوک کا حادثہ کافی افسوسناک ہے۔ بارش کے موسم میں دھنسنے کا خطرہ بڑ جاتا ہے۔ غیر محفوظ جگہوں سے ہٹنے کے لئے جریڈا اور بی سی سی ایل کی طرف سے پہلے ہی نوٹس دیا جا شکا ہے۔ خطرے والی جگہوں کو نشان زد کر کے وہاں سے بسے ہوئے لوگوںسروے کرکے ہٹنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی لوگ ہٹ نہیں رہے ہیں۔ جریڈا کو غیر بی سی سی ایل لوگوں کو بسانے کیذمہ داری دی گئی ہے۔ بی سی سی ایل اپنی ذمہ داری کے تحت فائر بیلٹ میں رہ رہے کول اہلکاروں کو فوری ہٹانے جارہی ہے۔ اس سمت میں کام شروع کیا گیا ہے۔ اس میں اور تیزی لانے کے لئے ہر ایریا کے جنرل منیجر اور عہدیداروں کو حالات کے مطابق ہدایت دی گئی ہے ۔کول اہلکاروں کے لئے محفوظ جگہوں پر بسانے کے لئے 15852 نئی رہائش گا ہیں بنائی جارہی ہیں۔ 6416 رہائش گاہ بن کر تیار ہیں۔ اب تک 2876 کول ملازموں کو نئی رہائش گاہ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ کوسانڑو، بستا کولا، سیجوا، لودنا سمیت متاثر علاقہ کے اہلکاروں کو ترجیح سے شفٹ کیا جائے گا۔ 2019 تک سبھی کول اہلکاروں کو زیر زمین آگ اور خطرناک جگہوں سے ہٹا لینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کول اہلکاوں کو صورت حال کے بارے میں سمجھنا ہوگا۔ نئی رہائش گاہوں میں پانی ، بجلی کی ضرورت جلد فراہم کرنے کا حکم افسروں کو دیا گیا ہے۔ رہائش گاہ کی شیپ کو لے کر شکایت ہو رہی ہے۔ لیکن اس پر فیصلہ کول منسٹری اور سینئر افسروں کو لینا ہوگا۔ ویسے شیپ اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ڈیزائن پاس ہونے کے بعد ہی بنیا اگی اہے۔ اہلکاروں کے لئے نئی جگہوںپر ساری سہولیتں دی جارہی ہیں۔ پانی ،بجلی،ڈسپنسری سمیت بچوں کے لئے اسکول کا بھی انتظام ہے۔ فائر بیلٹ کی وجہ سے دھنباد چندر ا ریل لائن کو بھی خطرہ ہے۔

 

حادثوں کی لمبی فہرست
26 ستمبر 1995 کو کندووا کا چیرسیا جوڑا ، زمین دوز
سال 1996 میں کتراس موڑ میں زمین دھنسنے کا حادثہ
4اگست 1997 کو دھرم نگر کی گیتا نام کی لڑکی زمین دوز
جون 1999 میں سینٹرل بسا جوڑا میں ایک نوجوان دھنسا اور کئی گھر کو زبردست نقصان
سال 2006 میں شملہ بحال بستی کی میرا نام کی لڑکی پاتال میں سما گئی
15مارچ 2007 کو بی سی سی ایل کے نئے ڈیہ کوسونڈا میں رات دوبجے زمین دھنسنے سے دس کی موت
سال 2008 میں سیل کے ریٹائر اہلکار چاسنالہ کے اوما شنکر ترپاٹھی چاسنالہ سائوتھ کالونی کے اندرا چوک مارچ پر جارہے تھے۔ تبھی زمین پھٹی اور وہ اس میں سما گئے۔
16مارچ 2008 کو چاسنالہ کی دیکو اسکیم میں ڈوزر مشین سمیت ونود داس نام کا ملازم زمین دوز
19ستمبر 2008 کو کوجامہ میں جیوتی نام کی لڑکی شگاف میں گر کر مری ۔
اکتوبر 2008 میں دھرم نگر جھریا میں زمین دھنسنے سے سندری دیوی کی موت
5فروری 2016 کو سودام ڈیہ میں زمین دھنسنے سے زیرہ دیوی مکان سمیت زمین دوز
13مارچ 2017 کو بوکا پہاڑی میں زمین دھنسنے سے 50فٹ ڈایامیٹر کا شگاف

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *