بیف ایکسپورٹ میں ہندوستان تیسرا سب سے بڑا ملک

اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم آرگنائزیشن فاراکانومک کو آپریشن اینڈ ڈولپ منٹ فوٖ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائیزشین کی تازہ رپورٹ برائے 2017تا2026نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان نے بیف برآمد کرنے والے ممالک میں اپنا پہلا مقام قائم رکھا ہے۔ امریکہ کے زرعی شعبہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس نے دوسرے سب سے زیادہ بیف برآمد کرنے والے ملک برازیل پر کافی برتری بنا رکھی ہے۔ توجہ دینے کی بات یہ بھی ہے کہ امریکی حکومت بھینس کے گوشت کو بھی بیف ہی کہتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2014-15 میں ہندوستان نے 24 لاکھ ٹن بیف یعنی گائے اور بھینس کا گوشت برآمد کیا تھا۔ وہیں، برازیل نے اس دوران 20 لاکھ ٹن اور آسٹریلیا نے 15 لاکھ ٹن بیف برآمد کیا تھا۔ دنیا میں برآمد ہونے والے کل بیف میں 58.7 فیصد کی حصہ داری انہی تین ممالک کی ہے، جس میں اکیلے ہندوستان 23.5 فیصدی بیف برآمد کرتا ہے۔ گزشتہ مالی سال (2013-14) میں ہندوستان کی شراکت 20.8 فیصد کی تھی، اس لحاظ سے بیف ایکسپورٹ میں ہندوستان نے ترقی کی ہے۔ سینٹر فور نگرانی انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان سے بھینسوں کے گوشت سب سے زیادہ ایشیائی ممالک میں ہی جاتے ہیں۔ ان ممالک میں ہندوستان 80 فیصد تو افریقی ممالک میں 15 فیصد بیف کا برآمد کرتا ہے۔ ایشیائی ممالک میں بھی خاص طور پر ویتنام ہندوستان کے 45 فیصد بیف کا خریدار ہے۔ ہندوستان کا بھینسوں کے گوشت کا برآمد سال 2011 سے ہی ہر سال اوسطا تقریبا 14 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ سال 2014 میں تو ہندوستان کو بیف برآمد سے 48 لاکھ ڈالر یعنی تقریبا 30 کروڑ روپے کی کمائی ہوئی۔ گزشتہ سال تو ہندوستان نے اس معاملے میں ایک ریکارڈ بنا لیا، جب اس نے باسمتی چاول سے زیادہ بھینسوں کے گوشت کی برآمد سے کمائی کر لی۔ یونائیٹڈ نیشنس فوڈ اینڈ اےگریکلچر آوٹ لک سمیت کچھ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں گوشت کی کھپت بڑھ رہی ہے۔ تاہم، کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملک میں بیف کی کھپت سال کے سال کم ہورہی ہے اور سال 2000 کے مقابلے میں سال 2014 میں 44.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ غور طلب یہ بھی ہے کہ بیف کھپت میں کمی کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ ملک پر کسی پارٹی کی حکومت ہے۔ بہر حال، سال 2000 سے سال 2014 تک چکن کی کھپت میں 31 فیصد کا اضافہ درج کیا جا چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *