آئندہ الیکشن میں چھتیس گڑھ 3 پارٹیوں کا اکھاڑہ بنے گا

آج سے ٹھیک ڈیڑھ سال بعد چھتیس گڑھ میں عوام اپنی آئندہ سرکار چنیں گے۔اب تک عوام کے پاس دو ہی متبادل تھے۔ کانگریس اور بی جے پی۔ لیکن اس بار تین متبادل ہیں۔ان دونوں پارٹیوں کے علاوہ چھتیس گڑھ جنتا کانگریس کو چن سکتے ہیں۔ چھتیس گڑھ جنتا کانگریس ،کانگریس سے الگ ہوکر سابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی نے بنائی ہے جو کہ ایک زمانہ میں مرکز اور ریاست دونوں میں کنگ میکر کی حیثیت رکھتے تھے۔
تینوں ہی پارٹیاں اب میدان میں تال ٹھوک رہی ہیں۔ روز نئے نئے دعوے کررہی ہیں۔ گزشتہ دو انتخابات میں محض ایک فیصد سے بھی کم ووٹوںسے انتخابی فتح حاصل کرنے والی بی جے پی نے اس بار 65 سیٹوں کی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اجیت جوگی بھی پھر سے اپنی تاج پوشی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کانگریس بھی ہر کسی کو اپنی جیت کا حساب سمجھا رہی ہے۔
ریاست میں 65 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ اگر کسی اور لیڈر نے کیا ہوتا تو دعوے کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہوتا لیکن یہ بات قومی صدر امیت شاہ نے تین دن ریاست میں گزارنے کے بعد کہی ہے، اس لئے کوئی بھی اپوزیشن پارٹی اسے ہلکے میں نہیں لے رہی ہے۔ یو پی انتخاب کے جو نتیجے امیت شاہ نے تمام اندازوںکو غلط ثابت کرکے دلائے تھے، اس کے بعد انتخابی انتظام کے معاملے کو کافی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔
امیت شاہ کے دورے کے فوراً بعد ریاست کی سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔تینوںہی بنیادی پارٹیاں انتخابی انتظامات کو مضبوطی دینے میں لگ گئی ہیں۔ جنتا کانگریس نے اجیت جوگی کے دورے کے لئے فوری طور پر ہیلی کاپٹر منگوا دیا تو کانگریس جنرل سکریٹری بی کے ہری پرساد نے دو دن تک رائے پور میں ڈیرا ڈال کر انتخابی تیاریوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔
اب اہم بات یہ ہے کہ ساڑھے تین سال میں کس پارٹی نے کتنی تیاری کی ہے۔ کیونکہ تیاریوں میں جو جتنا آگے رہے گا، سخت مقابلے میں فائدہ اسے ہی سب سے زیادہ ہوگا۔ اس مسئلے پر ریاست کے ایک سینئر صحافی سے میں نے پوچھا کہ آج کی تاریخ میں کون سی پارٹی کہاں کھڑی ہے؟تو انہوں نے اس کا جواب بڑے دلچسپ انداز سے دیا۔ وہ کھڑے ہوئے ،پھر دوڑے اور بولے یہ سرکار کی تیاری ہے۔ اس کے بعد وہ پیدل آگے گئے اور بولے یہ جوگی کانگریس کی تیاری ہے۔ پھر وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر بغیر آگے بڑھے تال ٹھونکنے لگے۔ پھربولے یہ کانگریس کی تیاری ہے، جہاں وہ دو سال پہلے تھی، وہیں اب بھی ہے لیکن تال ایسے ٹھونک رہی ہے جیسے بازی اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر میدان میں دیکھیں تو بی جے پی سرکار اور تنظیمی طور پر کافی آگے دکھائی دے رہی ہے۔ جوگی کانگریس صرف ایک سال پرانی پارٹی ہے لیکن وہ تیاریوں میں بی جے پی کے پیچھے نظر آتی ہے جبکہ کانگریس تین سال سے پریس کانفرنس اور بیانوں سے آگے نہیں نکل پائی ہے۔
برسراقتدار پارٹی بی جے پی تین بار اقتدار میں رہنے کے بعد چوتھی مرتبہ اقتدار میں آنے کے لئے ہونے والی دشواریوں سے بخوبی واقف ہے ۔ اس لئے سرکار اور تنظیم لگاتار سرگرم ہے۔ ریاست کے چیف رمن سنگھ لگاتار ہر سال سوراج ابھیان کے تحت پوری ریاست میں جاتے ہیں۔ لوگوںسے مل کر ان کے مسائل سنتے ہیں۔ تنظیم کی سطح پر بھی پارٹی کے چیف دھرم لال کوشک پوری ریاست گھوم چکے ہیں۔ تیاریوں کو لے کر بی جے پی کتنی سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ خود تین دن تک رائے پور میں رکے اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔

 

پارٹی کا فوکس بوتھ پر ہے۔پارٹی دین دیال اپادھیائے یوم پیدائش کے موقع پر ہر بوتھ پرجارہی ہے۔ پارٹی کے قومی لیڈر اور ریاستی سطح کے بڑے عہدیدار ریاست کے ہر حصے میں لگاتار میٹنگیں کر کے سرکار کے کام کو عوام کے درمیان پہنچا رہے ہیں اور تنظیم کے کام کو مضبوطی دے رہے ہیں۔آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں لگاتار کام کررہی ہیں ۔وہ الگ الگ پروگراموںکے ذریعہ لگاتار پورے ملک میں سرگرم ہیں۔
دوسری طرف اجیت جوگی کی پارٹی ہے۔ جب سے پارٹی بنی ہے تب سے اجیت جوگی لگاتار دورے کر رہے ہیں۔ وہ محض ایک سال میں تین سو سے زیادہ اجلاس کو خطاب کر چکے ہیں۔ پارٹی نے اپنا منشور حلف نامہ کے ذریعہ ڈیرھ سال پہلے ہی جاری کر دیا۔ چاہے کسانوں کا ایشو ہو یا آئوٹ سورسنگ کا۔ ایشوز کو کس طرح سے آگے بڑھانا ہے ،یہ خوبی ان کے پاس ہے۔تنظیم کی سطح پر جنتا کانگریس ، بی جے پی کے اسٹائل میں کام کر رہی ہے۔ بی جے پی کی طرح وہ کارکنوں کی فوج تیار کررہی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک سال میں ہی دس لاکھ ممبر بنا لئے۔ جو کانگریس کے ممبروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا پر پارٹی بے حد سرگرم ہے۔پارٹی اسی مہینے سے ’’جن جن جوگی کاریہ کرم ‘‘ کے تحت اپنے حلف نامہ کو گھر گھر لے کر جائے گی۔
کانگریس کی بات کریں تو پارٹی کئی مسائل اور سوالوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ گٹ بازی اتنی زبردست ہے کہ بھوپیش بگھیل کو کرسی سے ہٹانے کے لئے کئی بڑے لیڈر لگے ہوئے ہیں۔فی الحال کام کرنے سے زیادہ کرسی بچانے کی جدو جہد میں لگے ہیں۔ابھی تک یہ بھی صاف نہیں ہے کہ انتخاب کے وقت ریاست کا انچارج جنرل سکریٹری کون ہوگا۔ موجودہ انچارج بی کے ہری پرساد استعفیٰ دے چکے ہیں۔ حالانکہ ان کا استعفیٰ نامنظور ہو چکا ہے۔ تنظیمی سطح پر چل رہی اتھل پتھل اور بے یقینی کا اثر تنظیم کے کام کاج پر پڑ رہا ہے۔ اجیت جوگی نے کانگریس کو پی سی سی دفتر میں رہنے والی پارٹی قرار دے دیا ہے۔
پارٹی میں تنظیمی انتخاب ہونے ہیں اور یہ لگاتار ٹل رہے ہیں۔ پارٹی کے بڑے لیڈر انتظار کررہے ہیں کہ تنظیمی انتخاب ہو جائے اور پھر اس کے بعد میدان میں اترا جائے۔ پارٹی کے ترجمانوں کے پاس صرف یہی دلیل ہے کہ کانگریس کے کام کاج کا طریقہ یہی ہے لیکن کیا یہ طریقہ آج کی تاریخ میں الیکشن جتا سکتا ہے ؟ حالانکہ کانگریس نے تنظیم کی سطح پر کچھ کام کرنا شروع کیاہے ۔ہر اسمبلی کو سیکٹر میں بانٹ کر کارکنوں کو ٹریننگ دی جارہی ہے۔ انہیں سوشل میڈیا کے گُر ماہرین کو بلا کر سکھائے جارہے ہیں۔ پارٹی نے اب تک 7اسمبلی کے کارکنوں کی ٹریننگ دے دی ہے۔لیکن تنظیمی سطح پر جو میٹنگیں لگاتار کرکے بڑے لیڈروں سے پالیسی دلائی جانی چاہئے۔ وہ اب تک شروع نہیں ہو پایا ہے۔
گزشتہ مرتبہ جب اسمبلی انتخابات کے نتیجے آئے تھے توشکست کے کئی اسباب گنائے گئے۔ اس میں ایک کانگریس لیڈر کا اپنے بی جے پی دوست کو مبارکبادی میں دیا گیا پیغام کافی اہم تھا۔ اس نے کہا کہ آپ کی پارٹی اس لئے جیت گئی کیونکہ آپ کی پارٹی نے انتخاب کو لڑا اور ہم صرف دیکھتے رہ گئے۔ اس بار کے انتخاب میں جیتے گی ایک پارٹی اور دیکھے گی دو پارٹی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *