وزیر اعظم مودی کادورہ امریکہ کتنا کامیاب؟

وزیر اعظم نریندر مودی تین ملکوں پرتگال، امریکہ اور ہالینڈ کا کامیاب دورہ کرکے وطن واپس آچکے ہیں۔ دورے کے پہلے مرحلے میں وزیر اعظم پرتگال گئے جہاں انہوں نے پرتگال کے وزیر اعظم انتونیو کوستا کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون سمیت دو طرفہ دلچسپی کے کئی مسائل پر بات چیت کی۔اس کے بعد انہوں نے امریکہ کا سفر کیا۔مودی کے اس دورے کو تاریخی دورہ کہا جارہا ہے جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں وہ ہالینڈگئے اور وہاں وزیر اعظم مارکس سے ملاقات کے دوران انسداد دہشت گردی سمیت ماحولیات میں تبدیلی جیسے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کو کامیاب دورہ کہا جارہا ہے ۔خاص طور پر اس دورہ کے دوران حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینے اور پاکستان کو دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے جیسے بیان نے عالمی امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دیگر ممالک پر حملوں کے لیے دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دے۔امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ملاقات کے دوران امریکی صدر اور ہندوستانی وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں جاری جنگ کے خلاف مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔
امریکی وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی نے ملاقات کے دوران پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دے اور اس کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے جبکہ دونوں رہنماوں نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام علاقائی اور سمندری تنازعات کو عالمی قوانین کے تحت پر امن طریقے سے حل کریں۔دوطرفہ ملاقات کے بعد وہائٹ ہاوس کے باہر مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ دہشت گردی کی برائی اور اسے چلانے والے انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوئے ہیں۔

 

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے ہی بہت اچھے ہیں اور ٹرمپ کے دور حکومت میں مزید بہتری کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستان کے ساتھ 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے 20 ڈرون طیاروں اور ایک مسافر طیارے کی فروخت کے معاہدے کیا ہے۔امریکہ ہندوستان کو 2008 سے اب تک فوجی سامان فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 9 برسوں میں 15 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہو چکے ہیں۔انہی تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ہندوستان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے اور دو طرفہ شفاف تجارتی تعلقات کی تعمیر کرنا چاہتا ہے جس سے دونوں ممالک کے لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع میسر آسکیں اور ساتھ ہی دونوں ممالک کی معیشتیں بھی مضبوط ہوں گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب امریکی اشیا کی ہندوستانی منڈیوں تک رسائی کی رکاوٹیں ختم ہو گئیں جس کی مدد سے امریکا کا مالی خسارہ کم ہوجائے گا۔نریندر مودی نے ہندوستان کو امریکی کمپنیوں کے لیے بہترین منڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ ملک کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ امریکا ہندوستان کے لیے سماجی و اقتصادی تبدیلی میں اہم شراکت دار ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ ہندوستان کی ترقی کے لیے میرا نقطہ نظر اور ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکا کو دوبارہ عظیم ملک بنانے کے نظریے کی مدد سے دونوں ممالک کے تعاون میں نئی وسعت پیدا ہوگی‘‘۔مودی -ٹرمپ ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں تعمیر و ترقی کے عمل میں تعاون پر ہندوستانی عوام کے شکر گزار ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے بھی امریکی صدر کو یقین دلایا کہ ہندوستان عالمی امن و استحکام کے حصول میں امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس اور امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرسن سے بھی ملاقات کی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ نے حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کردی گئی جسے ماہرین کی جانب سے اس دورہ کے موقع پر ہندوستان کی ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔

 

محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کشمیر میں انڈین فورسز کے خلاف مسلح جدو جہد کرنے والے سب سے بڑے گروپ کے سرغنہ ہیں۔یہ پیش رفت ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سید صلاح الدین کو ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے سیکشن ون بی کے تحت عالمی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، جو امریکا اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے غیر ملکیوں پر لاگو ہوتا ہے۔پابندی کے بعد کسی امریکی یا کسی بھی ملک کے شہری کو سید صلاح الدین سے مالی لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر تنازع کے کسی پرامن حل کی راہ میں رکاوٹ بننے کا عندیہ دیا تھا، جبکہ انہوں نے کشمیریوں کو خودکش بمبار کی تربیت دینے کی بھی دھمکی دی تھی۔امریکا کا کہنا ہے کہ حزب المجاہدین نے متعدد حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
اسی دوران جبکہ وزیراعظم نریندر مودی امریکی دورے پر تھے، وہائٹ ہاؤس کے باہر کچھ لوگوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اقلیتوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ہندوستانی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔اس احتجاج کے تعلق سے ڈاکٹر غلام نبی فائی جوکہ عالمی آئینی فورم کے صدر ہیں ،کا کہنا ہے کہ فورم کے اراکین ڈونالڈ ٹرمپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کے تعلق سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی میں مدد دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ کشمیر کی حیثیت کا تعین ہوسکے۔ بہر کیف اس احتجاج کو میڈیا نے زیادہ اہمیت نہیں دی کیونکہ دنیا اس بات کو جانتی ہے کہ کشمیر کے سلسلے میں ثالثی کے تعلق سے ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے۔خلاصہ یہ کہ وزیر اعظم کا امریکی دورہ اجمالی طور پر کامیاب رہا اور اسی کامیابی کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے اندر بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔
لیکن غور کیا جائے تو پاکستان کی بے چینی بے معنی ہے ۔ پاکستان کو ہندوستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ سے پریشان ہونے کے بجائے اسے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان تیزی سے معاشی طاقت بنتا جارہا ہے اور اس کی عالمی امور میں اہمیت ایک مسلمہ حقیقت بنتی جارہی ہے، پاکستان پسماندگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور مستقبل قریب میں سیاسی استحکام سراب نظر آرہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی جن مقتدرہ طاقتوں کے ہاتھ میں ہے، وہ ہندوستان مخالفت میں یہ دیکھ ہی نہیں پارہی ہیں کہ چند دہائیوں میں ہندوستان اتنی بڑی معاشی طاقت بن چکا ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان علاقے کی سیاست میں محض حاشیہ کا حصہ ہوگا۔ ہندوستان کو سیکورٹی کونسل کا مستقل ممبر بننے کیلئے وقت لگ سکتا ہے لیکن آخر کاروہ اپنا مقصد حاصل کرلے گا۔ پاکستان کو ان حالات کیلئے اپنے آپ کو ابھی سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

غور کیا جائے تو پاکستان کی بے چینی بے معنی ہے ۔ پاکستان کو ہندوستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ سے پریشان ہونے کے بجائے اسے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان تیزی سے معاشی طاقت بنتا جارہا ہے اور اس کی عالمی امور میں اہمیت ایک مسلمہ حقیقت بنتی جارہی ہے، پاکستان پسماندگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور مستقبل قریب میں سیاسی استحکام سراب نظر آرہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی جن مقتدرہ طاقتوں کے ہاتھ میں ہے، وہ ہندوستان مخالفت میں یہ دیکھ ہی نہیں پارہی ہیں کہ چند دہائیوں میں ہندوستان اتنی بڑی معاشی طاقت بن چکا ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان علاقے کی سیاست میں محض حاشیہ کا حصہ ہوگا۔ ہندوستان کو سیکورٹی کونسل کا مستقل ممبر بننے کیلئے وقت لگ سکتا ہے لیکن آخر کاروہ اپنا مقصد حاصل کرلے گا۔ پاکستان کو ان حالات کیلئے اپنے آپ کو ابھی سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *