رام اور میرا کس پر کون کتنا بھاری؟

2017 میں 14ویں صدر جمہوریہ ہند کے لئے ہونے والا انتخاب ’ دلت بنام دلت ‘کا انتخاب بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف برسراقتدار اتحاد کے امیدوار دلت لیڈر رام کووند ہیں تو دوسری طرف 17اپوزیشن پارٹیوں کی امیدوار دلت لیڈر میرا کمار ہیں۔ یہ سچ ہے کہ برسراقتدار اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کرکے ایک د وسرے کو چونکایا ہی نہیں ہے بلکہ پریشانی میں بھی ڈالا ہے۔ صدارتی انتخاب کا نتیجہ ہی بتائے گا کہ رام کووند اور میرا کمار میں کس پر کون کتنا بھاری ثابت ہوتا ہے؟آئیے لیتے ہیں تفصیلی جائزہ۔
تھوڑی دیر سے ہی صحیح، لیکن اپوزیشن نے صدر جمہوریہ کی امیدواری کے لئے زبردست نام چن کر اچانک برسراقتدار پارٹی کو سکتے میں ڈال دیا ۔مرکزی سرکار نے دلت برادری کے رام ناتھ کووند کو صدارتی عہدے کا امیدوار بنا کر اپوزیشن کو جھٹکا دیا تھا، لیکن اپوزیشن نے میرا کمار جیسی دَمدار دلت امیدوار کو میدان میں اتار کر صدارتی انتخاب کو دلچسپ بنا دیاہے۔ رامناتھ کووند پڑھے لکھے آدمی ہیں۔لیکن میرا کمار کی تعلیم و تربیت کووند کے مقابلہ میں کافی اوپر ہے۔ وہ لوک سبھا میں ملک کی پہلی خاتون اسپیکر رہ چکی ہیں اور سیاست میں آنے سے پہلے وہ انڈین فارن سروس کی آفیسر تھیں۔ لہٰذا میرا کمار کی امیدواری رام ناتھ کووند پر بھاری ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ریاضیاتی اعدادو شمار سے برسراقتدار کا امیدوار انتخاب جیت جائے اور اپوزیشن کا امیدوار ہار جائے۔لیکن شخصیت کے انتخاب میں برسراقتدارپارٹی پر اپوزیشن کی جیت درج ہو چکی ہے۔

 

اتفاق رائے کا کھیل ناکام
صدر جمہوریہ کی امیدواری کے لئے عام اتفاق بنانے کے تمام کھیل کھیلے گئے ۔کبھی اپوزیشن کا کھانا تو کبھی اتحادیوں کا کھانا۔کبھی اپوزیشن کی کمیٹی تو کبھی اتحادیوں کی کمیٹی،کبھی اِدھر کی ملاقتیں تو کبھی اُدھر کی، لیکن یہ سب جانا اور سمجھا ہوا ڈرامہ تھا۔ بی جے پی نے خود ہی پہلے سنگھ چیف کا نام اڑوایا۔ شیو سینا سے موہن بھاگوت کا نام اچھلوایا،پھر اسے اثر دار کرنے کے لئے بھاگوت کی پرنب مکھرجی سے ملاقات کروائی اور منصوبہ بند بھرم پھیلا کر اچانک رام ناتھ کووند کا نام پیش کردیا گیا۔
بی جے پی نے صدر عہدہ کے لئے دلت نام کو چنا، جس کے نام پر اپوزیشن کوئی چوں چرا نہیں کر پائے۔ لیکن اپوزیشن نے بی جے پی کے دلت دائو پر بھاری وزن رکھ دیا۔ میرا کمار کی امیدواری سے اب اپوزیشن کے ان لیڈروں کے سامنے دھرم سنکٹ کی صورت حال کھڑی ہو گئی ہے جنہوں نے دلت ہونے کے سبب رامناتھ کووند کا ساتھ دینے کا بیان دیا تھا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو ) کووند کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔
صدر عہدہ کے لئے رامناتھ کووند کی امیدواری کی حمایت کرنے والے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کووند کے گورنر بنائے جانے پر مخالفت کی تھی۔ نتیش کا کہنا تھا کہ ان سے صلاح لئے بغیر گورنر کی تقرری کی گئی۔ رام ناتھ کووند کو حمایت دینے کے نتیش کے فیصلے سے اپوزیشن مشکل میں ہے ۔بہار میں مہا گٹھ بندھن میں شامل راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو یادو نے اس مسئلے پر نتیش سے از سر نو غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ نتیش کا فیصلہ اپوزیشن پارٹیوں کے لئے غیر متوقع اس لئے بھی رہا کیونکہ نتیش نے ہی آغاز میں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے عام اتفاق رائے کی بنیاد پر صدر امیدوار اتارنے کی بات کہی تھی۔انہوں نے اس سلسلے میں کچھ اپوزیشن لیڈروں سے بات بھی کی تھی اور 20 اپریل کو کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملے بھی تھے۔لیکن کووند کے نام کا اعلان ہونے کے کچھ عرصہ پہلے سے نتیش کمار اپوزیشن پارٹیوں سے الگ تھلگ رہ رہے تھے۔
صدر کے انتخاب کے مسئلے پر 26مئی کو سونیا گاندھی کی صدارت میں بلائی گئی ضیافت اجلاس میں نتیش شامل نہیں ہوئے، جبکہ اگلے ہی دن نریندر مودی کی طرف سے دیئے گئے کھانے میں وہ شامل ہوئے۔ اسے لے کر اپوزیشن کافی پریشان ہے۔ کووند کی امیدواری کا اعلان ہونے پر اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے بھی کہا تھا کہ اگر اپوزیشن نے کوئی دلت امیدوا ر نہیں اتارا توبہو جن سماج پارٹی کووند کے حق میں ووٹ دے گی، لیکن وہ میرا کمار کے میدان میں اترنے کے بعد پلٹ گئیں۔ اسی طرح ملائم سنگھ یادو بھی کووند کے تئیں حمایت کا اظہار کرچکے تھے لیکن سماج وادی پارٹی کے اصل صدر اکھلیش یادو نے میرا کمار کے تئیں حمایت ظاہر کی ہے۔میرا کمار کے میدان میں آجانے سے بی جے پی کو ان پارٹیوں کا ووٹ نہیں ملنے کے آثار بڑھ گئے ہیں۔ کووند کے نام پر تذبذب میں پڑی کئی دیگر پارٹیاں بھی اب میرا کمار کے سپورٹ میں آسکتی ہیں۔ اب تک 17 پارٹیوں نے باضابطہ طور پر میرا کمار کو سپورٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

 

 

اپوزیشن کی تاخیر نے کھیل بگاڑا
سینئر سیاسی تجزی کاروں کا بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن نے میرا کمار کا نام پہلے ہی علان کر دیا ہوتا تو صدر کے انتخاب کو لے کر منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ لہٰذا یو پی اے صدر سونیا گاندھی ایک بڑا سیاسی موقع چوک گئیںیا دائوں لگانے میں پچھڑ گئیں، ایسا کہا جا سکتا ہے ۔ سہ فریقی بی جے پی کمیٹی نے سونیا گاندھی سے آئندہ صدر کا نام پوچھا تو انہوں نے بی جے پی کو پہلے پتے کھولنے کو کہا۔ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر سونیا نے اس وقت لال کرشن اڈوانی کو صدر بنائے جانے کی خواہش ظاہر کردی ہوتی تو بی جے پی چاروں خانے چت ہو گئی ہوتیں۔ لیکن سونیا ایسا کچھ بھی نہیں کر پائیں۔ دراصل میرا کمار کا نام تو اپوزیشن کے دھیان میں کووند کے نام کے بعد آیا، لیکن اڈوانی پر دائو کھیلنا بی جے پی کے لئے بھاری پڑ جاتا اور اپوزیشن کی پالیسی بی جے پی کے اندرونی سمیکرن کی گِلیاں بکھیر کر رکھ دیتی۔اپوزیشن کی اس چال سے این ڈی اے میں دراریں پڑ جاتیں ، پارٹی وہپ کی ایسی تیسی ہو جاتی اور بی جے پی کو زمین نظر آنے لگتی۔
لال کرشن اڈوانی کو لے کر بی جے پی ممبر پارلیمنٹ شترو گھن سنہا کا ٹویٹ پہلے ہی سرخیاں اور تائید دونوں بٹور چکا تھا۔شترو گھن سنہا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی ہی صدر عہدہ کے لئے بہتر امیدوار ہیں۔بی جے پی کو انہیں امیدوار بنانا چاہئے۔ لال کرشن اڈوانی کو پتامہ کہنے والے بہاری بابو نے لکھا کہ کچھ سنجیدہ غور و فکر کرنے والے شہریوں کی سرگرمیوں سے میں کافی متاثر ہوں۔ یہ ملک کے اقتدار کی چوٹی پر قابض کسی ایک آدمی یا ایک چھوٹے متاثر کن گروپ کی مرضی سے نہیں چل سکتا۔ یہ ملک کسی ایک آدمی کا یا کسی ایک گروپ کا نہیں ہے ۔یہ سوا سو کروڑ ملک کے باشندوں کا ہے۔
صدر جیسے اہم عہدہ پر کسی کی قابلیت اور تجربہ کو پوری طرح نظر انداز کر کے اپنی مرضی نہیں تھوپی جاسکتی ۔میرے خیال سے اڈوانی ہی کسی بھی پارٹی کے ضروری معیاروں سے اوپر ہیں، جو کسی سے متاثر نہیں ہوتے۔ آخر صدر کے نامینیشن کو لے کر عجیب سی خاموشی کیوں ہے؟کسی پارٹی یا کسی فرد کو اڈوانی کی قابلیت ، ان کے لمبے پارلیمانی تجربات اور ان کے عوامی زندگی کے تجربوں میں کیا کوئی کمی دکھائی دیتی ہے؟شتروگھن سنہا کے اس ٹویٹ پر چرچا بھی خوب ہوئی اور انہیں سپورٹ بھی خوب ملا ۔لیکن اپوزیشن لیڈر سیاسی تھرمامیٹر کے اس حرارت کو پڑھ نہیں پائے۔
کیسے کنارے کئے گئے اڈوانی و جوشی ؟
قومی سیاست کے میدان کے نئے لیکن اڑیل لیڈر نریندر مودی نے عمر کی بنیاد پر لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے سینئر لیڈروں کو کنارے لگا دیا۔ مودی نے ان لیڈروں کی عمرپوری ہونے کے پہلے ہی ان کا سیاسی قتل کر دیا۔ عمر اگر بنیاد ہو تو 60 سال سے اوپر کے کسی بھی آدمی کو کسی بھی عہدہ پر نہیں ہونا چاہئے۔ جب سرکاری آفیسر یا ملازم کا 58 یا 60 سال میں ریٹائر ہو جانا قانون ہے تو لیڈروں میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہے کہ وہ 60 سے اوپر کے ہوں تو وزیر اعظم بن جائیں لیکن اڈوانی 75 سال کے ہوجائیں تو ان کا سیاسی قتل کردیا جائے۔
عمر کی اسی اخلاقی بنیاد پر مودی کو استعفیٰ دے کر یوگی جیسے نوجوان کو ملک کا وزیر اعظم بنا دینا چاہئے تھا اور کووند کی جگہ کسی دوسرے نوجوان دلت کو صدر کے عہدہ کا امیدوار بنانا چاہئے تھا۔ عام لوگوں کے یہ سوال اخلاقی قدروں سے جڑے ہوئے ہیں،لیڈروں پر یہ لاگو نہیں ہوتے ۔نریندر مودی اور امیت شاہ کی تکڑم کے آگے آخر کار ہار ہی گئے تجربہ کار اڈوانی ۔
بہر حال اتر پردیش کے لوگوں کو اسی میں فخر ہے کہ ملک کا وزیر اعظم ورانسی کا ممبر پارلیمنٹ ہے اور ہونے والا صدر کانپور کا رہنے والا ہے۔ رامناتھ کووند بھی 70 سال کے ہو چکے ہی۔ لہٰذا رایٹائرمنٹ کے پہلے کی ان کی آخری پوسٹنگ ہے ۔اس کے پہلے ملک کو یوپی سے کوئی مکمل مدت کا صدر نہیں ملا ۔ محمد ہدایت اللہ ایک بار 24دن کے لئے اور دوسری بار 25 دن کے لئے ملک کے کارگزار صدر بنے تھے۔ رام ناتھ کووند بہار کے گورنر تھے۔ بہار کے باشندوں کو بھی کووند کے صدارتی امیدوار بنائے جانے پر اس لئے خوشی ملی کیونکہ وہ بہار کے گورنر تھے۔ بہار کے لوگوں کو یہ خوشی 1962 میں بھی مل چکی ہے۔ جب بہار کے گورنر ڈاکٹر ذاکر حسین ہندوستان کے صدر بنے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین آزادی کے بعد بہار کے چوتھے گورنر تھے اور وہ ملک کے تیسرے صدر بنے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین 6 جولائی 1957 سے 11 مئی 1962 تک بہار کے گورنر رہے۔
کووند کا پس منظر
رامناتھ کووند کی پیدائش کانپور دیہات کی ڈیراپور تحصیل کے گائوں پروکھ میں 1945 میں ہوئی تھی۔ان کی ابتدائی تعلیم صندل پور بلاک کے گرام خان پور کے پرائمری اور پری سکنڈری اسکول میں ہوئی۔ کانپور نگر کے بی این ایس ڈی سے انٹرمیڈیٹ امتحان پاس کرنے کے بعد ڈی اے وی کالج سے بی کام اور ڈی اے وی لاء کالج سے ایل ایل بی کی پڑھائی پوری کی۔ اس کے بعد دہلی میں رہ کر تیسری کوشش میں سول سروس کا ایگزام پاس کیا،لیکن الائڈ سروسز ملنے کے سبب نوکری ٹھکرا دی اور وکالت کرنے لگے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کی سرکار کے وزیر اعظم مرارجی دیسائی کے پرائیویٹ سکریٹری بنے ۔ اس کے بعد وہ بی جے پی میں آئے، کووند کو بی جے پی نے 1990 میں گھاٹم پور لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ دیا لیکن وہ انتخاب ہار گئے۔ 1993 اور 1999 میں پارٹی نے انہیں ریاست سے دو بار راجیہ سبھا بھیجا۔پارٹی کے لئے دلت چہرہ بنے کووند ’’ انوسوچت ذاتی مورچہ ‘‘ کے قومی صدر اور ترجمان بھی رہے۔2007 میں پارٹی نے رامناتھ کووند کو گھوگنی پور سیٹ سے الیکشن لڑایا لیکن وہ پھر انتخاب ہار گئے۔ اگست 2015 میں انہیںبہار کا گورنر بنایا گیا تھا۔ کووند نریندر مودی کے کافی قریبی ہیں۔ بی جے پی رامناتھ کووند کو مایا وتی کے خلاف ایک دلت چہرے کے طور پر آزمانا چاہتی تھی، لیکن ان کے لگاتار انتخاب ہارنے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوپایا۔
اپوزیشن نے 23جون کو سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار کو اپوزیشن کی طرف سے صدر عہدہ کی امیدوار بنائے جانے کا اعلان کیا۔ اب صدر کا انتخاب ’دلت بنام دلت ‘ ہو گیا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہاکہ ہم نے میرا کمار کو صدر انتخاب میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر پارٹیاں بھی ہمارے ساتھ آئیں گی، 17 سیاسی پارٹیوں نے سنسد بھون میں ہوئی اپوزیشن کی میٹنگ میں حصہ لیا اور میرا کمار کے نام پر مہر لگا دی۔
’دلت بنام دلت ‘ کا انتخاب کافی دلچسپ ہو گیا ہے۔ رامناتھ کووند این ڈی اے کے صاف شبیہ والے لیڈر ہیں تو دوسری طرف میرا کمار کا انتظامی کیریئر اور سیاسی زندگی بھی صاف ستھری ہی ہے۔اعلیٰ تعلیم یافتہ میرا کمار شائستہ ،نرم گفتار اور ہمیشہ مسکرانے والی عقلمند خاتون مانی جاتی ہیں۔ میرا کمار سابق نائب وزیر اعظم جگجیون رام کی بیٹی ہیں۔وہ 1973 میں انڈین فارن سروس میںشامل ہوئیں۔ کئی ملکوں میں ان کی تقرری ہوئی اور بہتر سفارت کار ثابت ہوئیں۔ 3جون 2009 کو میرا کمار لوک سبھا کی پہلی خاتون اسپیکر بنیں ۔1975 میں وہ پہلی بار بجنور سے پارلیمنٹ میں چن کر آئی تھیں۔1990 میں وہ کانگریس پارٹی ایگزیکٹیو کمیٹی کی ممبر اور اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی کی جنرل سکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔1996 میں میرا کمار دوسری بار رکن پارلیمنٹ بنیں اور تیسری بار 1998 اور 2004 میں بہار کے ساسارام سے لوک سبھا سیٹ پر انتخاب جیت کر پارلیمنٹ پہنچیں۔
ایک اور لالو پرساد یادو نے بھر اصدر کا پرچہ
17 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لئے لالو پرساد یادو نے اپنا نام بھرا ہے ۔لالو پرساد یادو نے بروز بدھ 23جون کو نامزدگی کی ۔لوک سبھا سکریٹریٹ نے سرکاری طور پر بتایا کہ لالو پرساد یادو نے نومینیشن لیٹر داخل کرتے ہوئے ووٹر کے طور رجسٹرڈ پارلیمانی حلقے کی ووٹنگ لسٹ میں درج اپنے نام کی کاپی اور 15ہزار روپے ضمانتی رقم کے طور پر جمع کئے ہیں۔
23جون کو دو لوگوں نے صدر عہدہ کے لئے نام بھر ا جس میں لالو پرساد یادو کے علاوہ تمل ناڈو کے گھرم پوری ضلع کے اگنی شری رام چندرن شامل ہیں۔ اب تک دو درجن سے زیادہ لوگ نامزدگی کرچکے ہیں۔ صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہونے کے پہلے دن 6 لوگوں نے اپنا نام درج کیا تھاجس میں ممبئی کے پٹیل دمپتی، سائرا بانو محمد پٹیل اور محمد پٹیل عبد الحمید شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو کے کے پدراجن، مدھیہ پردیش کے آنند سنگھ کشواہا،تلنگانا کے اے بالا راج اور پونے کے کونڈیکر وجے پرکاش نے بھی صدراتی انتخاب کے لئے اپنا نومینیشن داخل کیا ہے۔
لالو پرسایادو کو لے کر کسی بھرم میں نہ رہیں۔یہ لالو وہ لالو نہیں ہیں، یعنی یہ لالو راشٹریہ جنتا دل کے صدر نہیں ہیں۔ اتفاق یہ ہے کہ دونوں کا نام اور ضلع مساوی ہے۔ صدارتی عہدہ کے لئے نام بھرنے والے لالو پرساد یادو بھی بہار کے سارن ضلع کے ہیں اور راشٹریہ جنتا دل کے لالو یادو بھی سارن کے رہنے والے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *