خوف وہراس کی انتہا: نقاب میںانجینئر نجم الحسن

گزشتہ 2 جولائی کی سہ پہر علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) نے برقع پہنے کسی مشتبہ کی خبر پاکر اس کا دہلی جارہی ٹرین میں پیچھا کیا تو وہ عورت نہیںبلکہ مرد نکلا۔ وہ خوف و ہراس سے بری طرح تھر تھر کانپ رہا تھا اور بہت ہی سہما ہوا تھا ۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ علی گڑھ کے قاسم پور پاور اسٹیشن میں اسسٹنٹ انجینئر نجم الحسن ولد عبدالحسن ساکن سلطان گڑھ، پٹنہ ( بہار)ہے۔ 42 سالہ نجم الحسن نے جی آر پی کو یہ بھی بتایا کہ وہ 22 جون کو ٹرین کے اندر ہریانہ کے 15 سالہ حافظ جنید خاں کے ’ماب لنچنگ‘ یعنی بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار دیے جانے کے سانحہ سے بے حد خوفزدہ ہے۔ ا س نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی شناخت کو چھپائے رکھنا چاہتا تھاکیونکہ بطور مسلمان اسے یہ خوف مستقل ستا رہا تھا کہ ٹرین سفر کے دوران بھیڑ کے ذریعہ اسے بھی پیٹ پیٹ کر قتل کیا جاسکتا ہے۔ وہ کسی ٹرین سے اپنے بیمار کزن سے ملنے دہلی جارہا تھا۔ جی آرپی نے تفتیش کے بعد سمجھا بجھا اور ہمت دلاکر نجم الحسن کو چھوڑدیا۔
یہ واقعہ ہے بہت ہی چھوٹا سامگر بہت غیر معمولی اور دل دہلادینے والا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لنچنگ کے متواتر واقعات بشمول حافظ جنید کے بربر اور وحشیانہ قتل نے معاشرے میںکس طرح خوف و ہراس پیدا کردیا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ انجینئر بھی ہمت نہیںکرسکا کہ وہ ٹرین میںکھلے عام اور بلاخوف سفر کرسکے۔ اس سانحہ نے پورے سماج کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا خوف و ہراس اپنی اس انتہا کو پہنچ گیا ہے کہ کسی مرد کو اپنی شناخت چھپانے کے لیے برقع تک پہننے کو مجبور ہونا پڑے۔ کیونکہ اسے یہ خوف و ہراس پریشان کر رہا ہے کہ کہیں اس کا حشر ٹرین کے اندر حافظ جنید جیسا نہ کردیا جائے۔

 

 

انجینئر نجم الحسن کا واقعہ ہمارے لیے فوراً چونکنے کا ہے اور ایسی تدابیر اختیار کرنے کا ہے جس سے خوف و ہراس کا بنتا ہوا ماحول فوراً ختم کیاجاسکے۔ وزیر اعظم ہند نے تو واضح طورپر ماب لنچنگ کے ذمہ داروںکو للکارا ہے۔ لہٰذا مرکزی اور ریاستی انتظامیہ اور اہلکاروںکی ذمہ داری ہے کہ جن لنچنگ کے واقعات سے خوف و ہراس کا ماحول بنتا ہے، اسے فوری طور پر روکیں اور وقوع پذیر ہوئی لنچنگ سے سختی سے نمٹیں، ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور انھیںکیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ پی ایم مودی کی اس وارننگ کو عملی شکل دی جاسکے کہ کسی بھی قصوروار کو ہرگز بخشا نہیںجائے گا۔ اس سے معاشرے میںایک سخت پیغام جائے گا اور پھر اس طرح کے واقعات کو ہونے سے روکا جاسکے گا۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ 29 جون کو سابرمتی آشرم میں پی ایم مودی کی زبردست تنبیہ کے بعد بھی لنچنگ کا سلسلہ اب تک مکمل طور پر نہیں رکا ہے۔ جب تک اس سلسلہ پر فل اسٹاپ نہیں لگتا ہے اور لنچنگ کے اصل ذمہ دار ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی نہیں کی جاتی ہے، خوف و ہراس ختم نہیںہوگا۔ یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ لنچنگ کے واقعات بسیہرا، دادری کے محمد اخلاق کا ہو یا جے سنگھ پور کے پہلو خاں یا کھنڈاؤلی کے حافظ جنید خاںکا، کسی بھی معاملے میں پولیس اور انتظامیہ کو جس سنجیدگی سے ایکشن لینا چاہیے، وہ نہیںلیا گیا۔ اس سے جو پیغام سماج میں گیا، اس نے شرپسند عناصر کے حوصلے مزید بڑھائے اور بلند کیے۔ یہ کیسی عجب بات ہے کہ لنچنگ کے ان دردناک واقعات کے بعد یہ شرپسند بے خوف وخطر گھوم رہے ہیں جبکہ دیگر شہریوں کو خوف زدہ ہوکر سماج میں رہنا پڑ رہا ہے۔

 

اسی شمارہ میںمعروف سماجی کارکن ہرش مندر کی ضمیر کو جھنجھوڑتی ایک تحریر شائع کی گئی ہے، جس میں وہ مرحوم حافظ جنید خاں کی والدہ کے حوالے سے کہتے ہیںکہ اگر اسے اندازہ ہوتاکہ ماحول اتنا خراب ہے ،تو وہ بیٹے جنید کو گول ٹوپی پہن کر ہرگز عید کی خریداری کرنے نہیں جانے دیتی۔
اگرواقعی ایسا لمحہ آگیا ہے کہ سفر کرنے والے کو سفر کے دوران یہ اندیشہ ہو کہ اس کی مخصوص مذہبی شناخت کے سبب اس کی جان خطرے میںپڑسکتی ہے یا کسی سفر کرنے والے کو یہ سوچنا پڑے کہ وہ رخت سفر میںکھانے کا کون سا آئیٹم ساتھ لے یا نہ لے یاکسی کو یہ بھی فکر کرنا پڑے کہ اس کے گھر کے فریج میںکہیںرکھے ہوئے مٹن یا چکن کو بیف نہ سمجھ لیا جائے، تو یہ یقیناً بڑی تشویش ناک بات ہے۔
ہمارے ملک کے آئین نے شہریوں کو فراہم کردہ بنیادی حقوق میںصرف اظہار خیال، اپنے اپنے نجی مذہب اور رسم و رواج پر عمل کرنے کو ہی نہیں، بلکہ کھان پان اور رہن سہن کے ساتھ اپنی پسند کے ملبوسات پہننے کی بھی پوری آزادی اور اختیار دیے ہیں۔ یہی تو ہمارے آئین کی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر وہ بہترین گردانا جاتا ہے اور جس میںتکثیریت، تنوع اور رواداری کو اس کی روح بتایا گیا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *