چوسٹھ سال بعد کشمیری زبان کو رس میں پھر شامل

کچھ ہفتہ قبل جموں و کشمیر سرکار کے محکمہ تعلیم نے ایک تاریخی حکم جاری کیا۔ اس کے تحت کشمیری، ڈوگری اور بوڑھی زبانوں کو درجہ 9 اور 10 میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی زبان کارکنوں کا ایک زیر التوا مطالبہ پورا ہوچکا ہے اور کشمیری زبان کو پڑھانے کی مانگ پوری ہوگئی ہے۔
ریاست میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہونے کے باوجود 1953 میںکشمیری زبان کو کورس سے ہٹادیا گیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب کشمیر کے سب سے بڑے لیڈر اور اس زمانے کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ سرکار کو غیر قانونی طریقہ سے ہٹا کر انھیںجیل میں بند کردیا گیا تھا۔ ایک طویل عرصہ سے کشمیری کارکنان اس کی مانگ کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ صاحب کو تو رہا کردیا گیا لیکن کشمیری زبان کو ابھی بھی سلاخوںمیںرکھا جارہا ہے۔
اسے واپس لانے کافیصلہ پچھلی سرکار کے ذریعہ 2013 میںقائم ایک کمیٹی کی سفارشوں پر مبنی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب زبانوں پر لڑائی ہندوستان کے کچھ اور حصوں میںبھی لڑی جارہی ہے۔ مغربی بنگال کے دارجلنگ میں حال ہی میںہوئی اتھل پتھل کا سبب بھی زبان ہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دائیںبازو بھارتیہ جنتا پارٹی سے ملنے والے ممکنہ خطروںکے بیچ اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کے لیے بنگالی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس سے گورکھا لینڈ (دارجلنگ ہلز کے لوگوں کے ذریعہ مجوزہ ریاست) کی مانگ دوبارہ زندہ ہوگئی کیونکہ وہ اس زبان کو اپنانے کے لیے مجبور نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے 1980 سے چلی آرہی تحریک اور تیز ہوگئی۔ اسی طرح جنوبی ہند کی ریاستوں میںہندی کی مزاحمت بہت گہری ہے کیونکہ مختلف کمیونٹیز کی پہچان زبان سے جڑی ہوئی ہے۔ جنوبی ہند نے بی جے پی کی اس تجویز کو کہ ہندی کو قومی زبان بنایا جائے، کو خارج کردیا اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیںکر سکتے کہ پاکستان کی تقسیم کے لیے زبان دیگر عوامل کے بیچ ایک سبب بنی۔

 

کشمیری زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پیش کیے جانے سے کورس میں آیا ایک بڑا فرق بھر گیا ہے۔ کشمیری زبان پرائمری سے درجہ 8 تک لازمی تھی اور دیگر سبھی مضامین کی طرح درجہ 10 کے بعد ایک متبادل مضمون تھی۔ اس امنگی جدوجہد کے راستے میں نہ صرف تکنیکی مدعے بلکہ نوکرشاہوں کی مزاحمت بھی آئی لیکن موجودہ وزیر تعلیم الطاف بخاری نے راستہ نکال ہی لیا۔
طویل عرصہ سے نوکرشاہوں کا تعصب کشمیری زبان کو اپنا صحیح مقام دینے میں آڑے آرہا تھا۔ کشمیر کی سب سے پرانی، سب سے بڑی ثقافتی اور ادبی تنظیم ادبی مرکز کامراج نے ایک طویل جدوجہد کی قیادت کی۔اس کے بعد سال 2000 میںاس دور کی فاروق عبداللہ سرکار کے ذریعہ اسکولوں میںاسے پھر سے شروع کیا گیا تھا۔ سرکار اور نجی اسکول کی کلاسوں میں اس زبان کو واپس لانے میں ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگ گیا لیکن یہ تب بھی درجہ نو اور دس جیسے اہم درجہ میں نہیں آپائی تھی۔
کشمیری جموں اور کشمیر ریاست میںسب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور اکثریتی آبادی کی مادر ی زبان ہے۔ یہ 22 ضلعوںمیںسے 18 میںبولی جاتی ہے۔ مظفرآباد کے اے جے کے میڈیکل کالج کے ایک فیکلٹی ممبرڈاکٹر محسن کی زبان و ادب میںدلچسپی ہے۔ انھوںنے سروے کیا۔ اس سروے کے مطابق 14 اگست 1947 سے قبل کی ریاست میںکشمیری بولنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 1947 کی علاقائی زبان کی آبادی میںتبدیلی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر شکیل جموں و کشمیر میںضلع سطح پر سودیشی زبان بولنے والوںکی تعداد کا انداہ لگانا چاہتے تھے۔ مطالعے کے مطابق پہلے کی جموںو کشمیر ریاست کے لوگ اکثریتی سماج ہونے کے سبب کئی سودیشی زبان سے متعلق ہیں۔
اپنی طرح کا یہ پہلا مطالعہ جون 2014 میںعام کیا گیا۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری تقریباً 35 فیصد لوگوںکے ذریعہ بولی جاتی ہے۔ اس کے بعد پہاڑی/ پوتھواری (24 فیصد) اور ڈوگری (18 فیصد) ہے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میںانگریزی اور دیگر زبانوں کے اثر سے غالباً علاقائی زبان بولنے والوں کی تعداد میںگراوٹ آئی ہے۔ آبادی کا 80 فیصد حصہ کشمیری پڑھ اور لکھ نہیں سکتا تھا۔ انگریز ی کا اثر بڑھ رہا تھا۔
یہ رجحان اب بدل رہا ہے جب سے کشمیری کو 8 ویںدرجہ میںپڑھایا جانے لگا۔ المیہ یہ ہے کہ بچوںکو اس زبان کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے،جو حقیقت میںان کی مادری زبان ہے۔ ان کے والدین اپنی انگریزی اور اردو میں مہارت کو لے کر فکرمند رہتے ہیں۔ وہ اس یقین کے تحت محنت کرتے ہیں کہ دنیا میں مسابقت کرنے اور ایلیٹ اسکولوں میںداخلہ پانے کے لیے یہ ضروری ہے۔
کشمیری کے لیے اصل چیلنج سماج سے ہی آتا ہے۔ اسے پہچان کی علامت کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔ بچوں کو قصوروار نہیںٹھہرایا جانا چاہیے۔ یہ سسٹم ہی ہے جو انھیں اپنی زبان کو گلے لگانے کی اجازت نہیںدیتا ہے۔ اس زبان کے زوال کے لیے ذمہ دار ہے بدلتے تعلیمی نظام کی مانگ، جو روایتی ثقافتی قدروں کے مطابق نہیں ہے۔ کشمیری زبان کی جدوجہد کا یہی سبب ہے۔
کشمیری اس علاقے کی سب سے پرانی اور سب سے امیر زبانوں میںسے ایک فارسی اور سنسکرت کی بہن زبان مانی جاتی ہے۔ چودھویںصدی کے کشمیری سنت اور شاعر لال دید اپنی شاعری کے لیے تحریری لفظ کا استعمال کرنے والے پہلے شخص تھے۔ ان کے بعد کشمیری سنت شیخ العالم تھے۔ لیکن کشمیری ایک زبان کے طور پر بہت پہلے سے وجود میںتھی۔ تاریخ نویس مانتے ہیںکہ یہ 2000 سال پرانی ہے اور اس کا رسم الخط 900 سال پرانا ہے۔ یہ اسے جنوبی ایشیا کی کئی مقبول زبانوں (اردو، ہندی) کے مقابلے میںپرانی بناتی ہے ۔ مشہور ادیب محمد یوسف ٹینگ کے مطابق، کشمیری زبان کے نشان 400 عیسوی قبل تک ملتے ہیں اور یہاں تک کہ یہ چرک اخلاق میںبھی پائی جاسکتی ہے۔ یہ قدیم ہندوستانی علاج کا ایک وسیع متن ہے جس کا کریڈٹ چرک کو دیا جاتا ہے۔

 

 

ہماری اپنی تاریخی کتابوں میں، کشمیری لفظ راجترنگنی میں(ریور آف کنگ) میں ملتا ہے، جسے 1148 میں کشمیری برہمن کلہن کے ذریعہ سنسکرت میںلکھا گیا ہے۔ یہ کشمیر کی تاریخ کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ اپنی طرح کا سب سے اچھا اور سب سے مستند کام مانا گیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق ، یہ کتاب کشمیر کی تاریخ کے پورے دور کو اپنے میںسمیٹے ہوئے ہے۔
اس خطرے کو سمجھنا اہم ہے جو 2500 سے زیادہ زبانوں کے سامنے ہے۔ یونیسکو کے ذریعہ 2009 میںپیرس ہیڈکوارٹر سے جاری دنیا کی خطرناک زبانوںکے وسیع ڈیٹا بیس میںاس مدعے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کے مطابق 2500 زبانیںخطرے میں ہیں، جن میں 500 سے زیادہ تقریباً خطرناک حالت میں ہیں۔ 199 ایسی زبانیںہیں جسے بولنے والوں کی تعداد 10سے بھی کم ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایکواڈور کی انڈووا زبان کو بولنے والوں کی تعداد محض 10 ہے۔ حال ہی میںمقامی لوگوں کے ذریعہ اسے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔ اب تک انھوں نے تقریباً 150لفظ اکٹھے کیے ہیں اور تلاش جاری ہے۔ ایک اور چونکانے والے بات پتہ چلی ہے کہ دنیا بھر میں ایک درجن سے زیادہ زبانوںکے پاس ایک مادری زبان بولنے والا ہی ہے۔ کچھ زبانیں جلدہی مریں گی جبکہ دیگر کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے نوجوان نسل بے چین ہے۔
نویںاور دسویں درجہ میںکشمیری زبان لائے جانے سے یہ امید کی جارہی ہے کہ کشمیری زبان کی ترقی ہوگی۔ حالانکہ چیلنجز بھی رہیںگے لیکن موجودہ قدم اپنے قدیم اعزاز کو بحال کرنے میںایک لمبا راستہ طے کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *