ملک کا نظام حوالہ کے حوالے

کالا دھن دھن سفید (منی لانڈرنگ ) کرنے کے دھندے کے سرغنہ معین قریشی کو مدد پہنچانے کے معاملے میں سی بی آئی اپنے ایک اور سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے جا رہی ہے۔ اربوں روپے کا کالا دھن سفید کرنے کے معاملے میں پھنسے گوشت تاجر معین قریشی اور سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ اسی معامے میں سی بی آئی کے ایک اور سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے۔ جانچ کے دائرے میں سی بی آئی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور یو پی کیڈر کے سینئر آئی پی ایس آفیسر جاوید احمد، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں، مشہور فلم ساز مظفر علی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹر ( ای ڈی ) کے ہی ایک اعلیٰ آفیسر راجیشور سنگھ بھی ہیںجن کے معین قریشی سے جڑے ہونے کا پس منظر سامنے آیا ہے۔معین سے جڑے کانگریسی لیڈروں کی تو لمبی فہرست ہے۔ ان سب کی جانچ ہو رہی ہے۔ پچھلے دنوں ای ڈی کے لکھنو دفتر میں ہوئی چھاپا ماری اور ڈپٹی ڈائریکٹر این بی سنگھ کی گرفتاری تو بس ایک آغاز مانا جارہا ہے۔ اس چھاپے ماری کے ذریعہ سی بی آئی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں گھسنے اور ضروری دستاویز کھنگالنے کا موقع مل گیا۔ سی بی آئی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ گوشت تاجر معین قریشی کی سرگرمیوں کے بارے میں رامپور کے ایس ایس پی سے ملی کئی سرکاری اطلاعات کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے دبائے رکھا اور اس کی جانچ نہیں ہونے دی۔ ای ڈی کے پاس منی لانڈرنگ سے متعلق کئی شکایتیں زیر التوا ہیں جن کی جانچ نہیں کرائی گئی۔ منی لانڈرنگ میں ایک اہم فون کمپنی کے ملوث ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جسے ای ڈی کے اعلیٰ آفیسر نے کافی عرصے تک دبائے رکھا۔
لمبا جال
معین قریشی کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کی جتنی تہیں کھولتے جائیں، اتنی کہانیاں سامنے آتی جائیں گی۔ سی بی آئی کے آفیسر ہی کہتے ہیں کہ قریشی کے منی لاندڑنگ اور حوالہ کے گورکھ دھندے کے تار اتنے پھیلے ہیں کہ دہلی، ممبئی، اتر پردیش ، کولکاتہ اور کرناٹک کے سی بی آئی اور ای ڈی سے لے کر انٹر پول تک جاکر جڑتے ہیں۔ قریشی کے پاکستان اور انٹرنیشنل کنکشن تو ہیں ہی۔ یو پی کے این آر ایچ ایم گھوٹالے سے لے کر کرناٹک کے آئی اے ایس انوراگ تیورای کا پچھلے دنوں لکھنو میں ہوئے قتل کے فارمولے سب آپس میں مل رہے ہیں۔ اس معاملے کی دو الگ الگ سطحوں پر جانچ چل رہی ہے۔ سی بی آئی اپنی سطح پر جانچ کر رہی ہے اور ای ڈی اپنی سطح پر۔ حالانکہ دونوں ایجنسیوں میں ٹکرائو کی صورت حال بھی پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن دونوں جانچ ایجنسیوں کا آپسی ٹکرائو فی الحال ہماری خبر کا حصہ نہیں ہے۔ اس پر ہم کبھی بعد میں بات کریں گے۔ گوشت تاجر اور منی لانڈرنگ دھندے کے سرغنہ معین قریشی سے گہرے تعلقات پائے جانے کے سبب سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر امر پرتاب (اے پی ) سنگھ کے خلاف ایف آئی آر اور چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے۔ اب دوسرے سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے خلاف چارج شیٹ داخل کئے جانے کی تیاری ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جاچکی ہے۔ اس درمیان سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر (پالیسی ) رہے جاوید احمد بھی جانچ کے دائرے میں ہیں،کیونکہ ان کے وقت میں ہی معین قریشی کے دھندے کی جانچ کا مسئلہ سی بی آئی کے سامنے آیا تھا اور پہلے جھٹکے میں ٹال دیا گیا تھا۔ آپ یاد کرتے چلیں کہ سی بی آئی میں ان کے ایکسٹنشن کی مرکزی سرکار سے منظوری مل چکی تھی اور سینٹرل ویجلنس کمیشن جاوید احمد کے نام کو سی بی آئی کے اڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدہ کے لئے ہری جھنڈی دکھانے ہی جارہا تھا کہ اچانک وزارت داخلہ نے اس پر آبجیکشن لگا دیا اور ان کا نام واپس لے کر انہیں یو پی کیڈر میں واپس بھیج دیا۔ مرکز نے جاوید کا نام واپس لیے جانے کی وجوہات کا خلاصہ نہیں کیا تھا۔
اندرونی کہانی کچھ اور
سی بی آئی نے گزشتہ دنوں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے لکھنو آفس پر چھاپا مار کر ڈپٹی ڈائریکٹر این بی سنگھ کو گرفتار کیا۔ یہ چھاپہ ماری اخباروں کی سرخیاں بنیں۔ خبر یہی بنی کہ این آر ایچ ایم گھوٹالے میں ایک ملزم سریندر چودھری سے 50 لاکھ روپے رشوت مانگنے اور ایڈوانس کے بطور چار لاکھ روپے لینے کے الزام میں این بی سنگھ اور ان کے گُرگے سبھاش کو گرفتار کیا گیا لیکن اس گرفتاری کی جو اندرونی کہانی ہے ،وہ خبر نہیں بنی اور نہ اخباروں نے اس کی جانچ ہی کی۔ این بی سنگھ اسی مہینے یعنی جون میں ہی ریٹائر ہونے والے تھے۔ چار لاکھ روپے رشوت لینے کے لئے وہ خود ایک مقامی ہوٹل میں جارہے تھے، جہاں سے انہیں پکڑا گیا۔ ریٹائرمنٹ نزدیک ہوتے ہوئے بھی این بی سنگھ کا سینٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ سے ٹرانسفر کر دیا گیا تھا اور مارچ میں ہی ان سے این آر ایچ ایم گھوٹالے کی ساری فائلیں لے لی گئی تھیں، پھر بھی وہ ای ڈی کی آفس سے باقاعدہ ای ڈی کا کام کیسے دیکھ رہے تھے؟این آر ایچ ایم کا ملزم سریندر چودھری جب سرکاری گواہ بن چکا ہے، تب اسے ای ڈی کے آفیسر کو رشوت دینے کی ضرورت کیا تھی؟پھر اس اسپانسرڈ رشوت اور معاملے کا محرک کون ہے؟دراصل پورے معاملے کی اسکرپٹ کچھ اور تھی اور دکھائی کچھ اور گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے لکھنو دفتر میں کچھ ہی عرصہ پہلے ڈپٹی ڈائریکٹر این بی سنگھ اور جوائنٹ ڈائریکٹر راجیشور سنگھ کے بیچ ہوئی کہا سنی اور گالی گلوج ای ڈی میں عام چرچا کا موضوع رہی ہے۔دو افسروں کے بیچ تنا ئو اور اختلاف کا سبب کیا تھا؟جانچ کا موضوع یہ ہے ۔منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ میں ای ڈی کی کوتاہی، نوٹ بندی کے درمیان منی لانڈرنگ کی شکایتوں پر ای ڈی کی طرف سے کسی کارروائی کا نہ ہونا، منی لانڈرنگ دھندے میں ملوث ایک انٹرنیشنل فون کمپنی کا معاملہ رفع دفع کر دیا جانا، ایک بڑی مٹھائی کمپنی کی منی لانڈرنگ کے دھندے میں ملوث ہونے کو ہضم کر جانا، منی لانڈرنگ دھندے کے سرغنہ معین قریشی کے خلاف رامپور کے ایس ایس پی سے ملی سرکاری اطلاعات کو دبا دیا جانا جیسے کئی مسئلے ہیں جو ایک ساتھ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سی بی آئی آفیسر مانتے ہیں کہ اب ای ڈی میں گھسنے کا انہیں موقع مل گیا ہے، اب سارے معاملے کی جانچ ہوگی۔ سی بی آئی یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ ای ڈی کی فائلیں لکھنو کے ایک پاش کلب میں کیوں لے جائی جاتی تھیں اور کچھ خاص اعلیٰ نوکر شاہوں کے سامنے فائلیں کیوں کھولی جاتی تھیں۔ اس کلب کے عہدیدار جیل میں بند ایک بدنام مافیا سرغنہ کے اشارے پر چنے اور ہٹائے جاتے ہیں۔ اس مافیا سرغنہ کے بھی معین قریشی سے اچھے تعلقات بتائے گئے ہیں۔
سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا اور معین قریشی کے تعلق اتنے گہرے رہے ہیں کہ 15 مہینے میںدونوں کی 90ملاقاتیں سرکاری ریکارڈ میں درج ہیں۔ یہ حقیقت کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔ اے پی سنگھ سے بھی قریشی کی ایسی ہی ملاقاتیں سی بی آئی اور ای ڈی کی چھان بین میں ریکارڈیڈ ہیں ۔اے پی سنگھ اور قریشی کی قربت اتنی تھی کہ سنگھ کے گھر کے بیسمنٹ سے قریشی کا ایک دفتر چلتا تھا۔ اے پی سنگھ اور قریشی کے بیچ بلیک بیری میسیج کے تبادلے کی بات عام ہو چکی ہے۔ یہ سی بی آئی کی دستاویزی حقیقت ہے ۔ دوسرے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے سلسلے میں سی بی آئی کے دستاویز بتاتے ہیں کہ معین قریشی اپنی کار ( ڈی ایل 12 سی سی 1138) سے کئی بار سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا سے ملنے ان کے گھر گیا۔ قریشی کی بیوی نسرین قریشی بھی اپنی کار ( ڈی ایل 7 سی جی 3436) سے کم سے کم پانچ بار سنہا سے ملنے گئی۔ قریشی جوڑے کی دونوں کاریں ان کی کمپنی اے ایم کیو فروجین فوڈ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام اور سی 134، گرائونڈ فلور، ڈیفنس کالونی ، نئی دہلی کے پتے سے رجسٹرڈ ہیں۔یہ دونوں کاریں کئی بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر بھی جاتی رہی ہے، جن میں معین اور اس کی بیوی سوار رہی ہیں۔ معین قریشی کی بیٹی پرنیا قریشی کی شادی کانگریس لیڈر جتندر پرساد کے رشتہ دار ارجن پرساد سے ہوئی ہے۔
بہر حال سی بی آئی کے ڈائریکٹر رہتے ہوئے رنجیت سنہا نے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹوریٹ ٹیکسیز (سی بی ڈی ٹی ) پر دبائو ڈال کر معین قریشی کے خلاف ہو رہی چھان بین کا بیورا جاننے اور چھان بین کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ سی بی ڈی ٹی کے پاس رنجیت سنہا کا وہ خط بھی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے چھان بین کا بیوروا فراہم کرانے کا باضابطہ دبائو ڈالا تھا۔ بعد میں وزیر خزانہ بنے ارون جیٹلی نے سی بی ڈی ٹی کو ہدایت دے کر ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ اے پی سنگھ ہوں یا رنجیت سنہا، سسٹم میں معین قریشی کے ہاتھ اتنے اندر تک پہنچے ہوئے ہیں کہ منی لانڈرنگ کا پورا مسئلہ بغیر کسی نتیجے کے التوا میں ہی لٹکا رہ جائے گا، اسی بات کا اندیشہ ہے۔ امریکہ کے پنسیلوانیا میں اربوں روپے کی جال سازی کرنے والا جعفر نعیم صادق جب کولکاتہ کے رویندر سرنی علاقے میں پکڑا جاتا ہے تب وہ راز کھلتا ہے کہ وہ بھی معین قریشی کا ہی آدمی ہے۔ انٹر پول کی نوٹس پر جعفر پکڑا جاتاہے۔ بعد میں یہ راز کھلتا ہے کہ جعفر نعیم دبئی کے ونود کرنن اور سراج عبد الرزاق کا نام انٹر پول کی وانٹیڈ لسٹ اور اس کی تلاشی کے لئے جاری ریڈ کارنر نوٹس سے ہٹانے کے لئے انٹر پول کے اس وقت کے چیف رونالڈ کے نوبل سے قریشی نے سفارش کی تھی۔ نوبل نے یہ سرکاری طور پر قبول کیا ہے کہ اس کے معین قریشی خاندان اور سی بی آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر اے پی سنگھ سے نزدیکی تعلقات رہے ہیں لیکن نوبل نے انٹر پول کی لسٹ سے نام ہٹانے کے مسئلے کو سرے سے خارج کر دیا تھا۔ قریشی کی سفارش کو مسترد کرنے والے انٹر پول چیف رونالڈ کے نوبل کے بھائی جیمس ایل۔ نوبل جونئر اور ہندوستان سے فرار دھنے للت مودی بزنس پارٹنر ہیں۔ امریکہ میںدونوں کی بڑی شراکت داری ہے۔ یہ سی بی آئی کے ریکارڈ میں ہے۔ رونالڈ نوبل 2000 سے 2014 تک کی لمبی مدت تک انٹر پول کے جنرل سکریٹری رہے ہیں۔
مرکزی خفیہ ایجنسی کالے دھن کی آمدو رفت کا پورا نیٹ ورک جاننے کی کوشش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں منی لانڈرنگ اور حوالہ سینڈیکیٹ کے سرغنہ معین قریشی سے جڑے ان تمام لوگوں کے لنک کھنگالے جا رہے ہیں،جن کے کبھی نہ کبھی معین قریشی سے تعلقات رہے ہیں یا معین قریشی کی دولت ان کے دھندے میں لگی ہے۔ ان میں لیڈر، آفیسر، کاروباری اور فلمسازوں سے لے کر مافیا سرغنہ تک شامل ہیں۔
منی لانڈرنگ سرغنہ معین قریشی کے ساتھ تعلقات کی بات تو مشہور فلمساز مظفر علی بھی قبول نہیں کریںگے۔ جبکہ اصلیت یہی ہے کہ مظفر علی کی فلم ’’جانثار‘‘ میں معین قریشی کا پیسہ لگا اور معین کی بیٹی پرنیا قریشی اس فلم میں ہیروئن بنی۔جانثار فلم کے پروڈیوسر میں میرا علی کا نام دکھایا گیا لیکن سب جانتے ہیں کہ فلم میں معین قریشی نے پیسہ لگایا تھا۔ باپ معین قریشی کی طرح بیٹی پرنیا قریشی کو بھی قانون سے کھیلنے میںمزا آتاہے۔ امیزن انڈیا فیشن ویک 2016 کے درمیان میڈیا کے لئے ذاتی طور پر کاک ٹیل پارٹی ( بیش قیمتی شراب پینے و پلانے کی پارٹی ) دے کر پرنیا قریشی چرچا میں رہی۔ میڈیا والوں نے پہلے تو خوب دارو پی اور بعد میں نقطہ چینی کی کہ پرنیا قریشی فیشن ڈیزائن کونسل آف انڈیا کی ممبر نہیں ہیں تو پھر کاک ٹیل پارٹی کیسے دی۔ مزہ کی بات یہ ہے کہ اس کاک ٹیل پارٹی کا نام پرنیا نے رامپور کولا رکھا تھا۔ ہم آپ سوچیں گے کہ وہی اعظم خاں کا رامپورلیکن وہ کہیں گے نہیں ،معین قریشی کا رامپور ۔ اس کے پہلے بھی پرنیا قریشی اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اسمگلنگ کے الزام میں پکڑی اور قریب 40 لاکھ روپے کا جرمانہ لے کر چھوڑی جا چکی ہیں۔ معین کے نزدیکیوں کی لسٹ میں ایسے اور کئی نام ہیں۔ کانگریسیوں کے نام تو بھرے پڑے ہیں ۔سونیا گاندھی کا نام ان میں سب سے اوپر ہے۔ سابق مرکزی وزیر جتن پرساد تو معین قریشی کے رشتہ دار ہی ہیں۔ سینئر کانگریسی لیڈر احمد پٹیل، کمل ناتھ، آر پی این سنگھ، محمد اظہر الدین جیسے کئی لیڈر اس لسٹ میں شامل ہیں۔ یہ ان لیڈروں کے نام ہیں جو معین قریشی کے گھر پرباضاطہ اٹھنے بیٹھنے والے ہیں۔ سونیا کے گھر پر معین خاندان باضابطہ طور پر اٹھتا بیٹھتا رہا ہے۔

 

 

لکھنو میں بڑے آرام سے کھپ جاتا ہے کالا دھن
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنومنی لانڈرنگ اور حوالہ کے دھندے کیساتھ ساتھ نوکر شاہوں کے کالے دھن کے ایڈجسٹمنٹ کے لئے بھی آسان جگہ رہی ہے۔اسمارک گھوٹالہ، این آر ایچ ایم گھوٹالہ، بجلی گھوٹالہ جیسے تمام گھوٹالوں کی رقم منی لانڈرنگ کا دھندہ کرنے والے گروہ کے ذریعہ وہاں سے بلا روک ٹوک بیرون ملک جاتی رہی ہیں۔ لکھنو سے نیپال کے راستے کالا دھن بڑے آرام اور بلا کسی شورو غل کے جنوبی ایشائی ملکوں تک پہنچ جاتا ہے۔ مرکزی سرکار کا دھیان سوئزرلینڈ اور دیگر مغربی ملکوں پر لگا رہتا ہے اور ادھر جنوبی ایشیا کے چھوٹے موٹے ملکوں میں ملک کا پیسہ دھڑلے سے جاتا رہتاہے۔ چین کے تابع ہانگ کانگ کے علاوہ تھائی لینڈ اور ملیشیا میں بھی کھپا یا۔ اس کی چھان بین میں خفیہ ایجنسیاں کوئی دلچسپی نہیںلے رہی ہیں۔ لیڈروں کی آمدنی سے زیادہ جائیداد کی جانچ ان ملکوں میں ہوئی سرمایہ کاری کی چھان بین کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی ہے۔
بہر حال بد عنوان نوکرشاہ بھی لکھنو کا استعمال کالا دھن کھپانے میں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انگدیا کوریئر کمپنی کے ذریعہ 50لاکھ روپے کا بڑا کنسائنمنٹ لکھنو کے رہنے والے دھرْو کمار سنگھ کے نام سے آیا تھا۔ اس کی بھنک سی بی آئی کو پہلے ہی لگ چکی تھی۔یہ پیسہ کرکٹ فکسنگ اور سٹے سے جڑے دھندے بازوں کا تھا، جسے رشوت کے طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسروں کو اوبلائز کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس میں ای ڈی کے جوائنٹ ڈائریکٹر جے پی سنگھ اور دیگر افسروں اور ان سے جڑے سٹے باز بمل اگروال ،سونو جالان اور کچھ دیگر کا نام آیا تھا۔

 

 

سی بی آئی افسروں کو پٹانے والوں کو پکڑتی کیوں نہیں سرکار
ملک کا عجیب حال ہے کہ مرکزی سرکار سی بی آئی جیسی خفیہ ایجنسیوں کے افسروں کو پونجی، سنڈیکیٹوں اور سرغنائوں کی طر ف سے اوبلائج کئے جانے پر غصہ بھی دکھاتی ہے اور اسے روکتی بھی نہیں ہے۔ سی بی آئی کے افسروں کو پٹانے کا دو طریقہ استعمال میں لایا جارہا ہے۔یا تو انہیں موٹی رقم رشوت میں دی جاتی ہے یا انہیں سمینار اور پروگراموں میں بلا کر پُر کشش اعزاز دے کر اوبلائز کیا جاتاہے۔کئی کیپٹل انسٹی ٹیوٹس میں تو خاص طور پر سی بی آئی افسروں کو عالی شان تنخواہ پر نوکری دی جاتی ہے۔یہ ایسی کشش ہے کہ سی بی آئی آفیسر اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد کے جگاڑ میں اس کیپٹل انسٹی ٹیوٹ کو کو غیر اخلاقی مدد پہنچاتے رہتے ہیں۔ سی بی آئی کے افسروں کو پر کشش نوکری کا لالچ دینے میں جندل ادارہ سب سے اول ہے ۔جندل ادارہ کوئلہ گھوٹالے میں ملوث رہا ہے، لہٰذا وہ سی بی آئی افسروں کو زیادہ اہمیت سے اپنے یہاں نوکریاں دیتا رہا ہے۔ سی بی آئی جانچوں کے فیل ہونے کی وجوہات کا بھیانک سچ بھی یہی ہے۔
اب ہم اسے آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔ اس کے لئے تھوڑا فلیش بیک میں چلنا ہوگا۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رہے اشوینی کمار سی بی آئی سے ریٹائر ہونے کے بعد اور ناگالینڈ کا گورنر بنائے جانے کے پہلے نوین جندل کے ادارہ میں نوکری کر رہے تھے۔ سی بی آئی کے کئی سابق ڈائریکٹر اور سینئر نوکر شاہ جندل ادارہ میں ابھی بھی نوکری کررہے ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹروں کو ریٹائر ہوتے ہی جندل کے یہاں نوکری کیسے مل جاتی ہے؟اقتدار کے گلیارے میں پَیٹھ رکھنے والے سینئر نوکر شاہوں کو جندل سے جڑے اداروں میں اعلیٰعہدوں پر کیوں بیٹھایا جاتا ہے؟جندل کے اداروں سے طاقتور نوکر شاہوں کو شاندار اور پرکشش عزت افزائی کیوں ہوتی رہتی ہے؟ان پر مرکزی سرکار دھیان کیوں نہیں دے رہی؟یہ سوالات سامنے ہیں۔ کوئلہ گھوٹالے میں جندل گروپ کے ملوث ہونے اور گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ سے جڑی فائلوں کی پراسرار گمشدگی کے واقعہ کو دیکھتے ہوئے ان سوالوں کو سامنے رکھنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ صنعتکار اور طاقتور کانگریسی لیڈر نوین جندل کا کوئلہ گھوٹالے میں کردار جگ ظاہر ہے۔ یو پی اے قالین اقتدار سے ان کی نزدیکیان اور ان نزدیکیوں کے سبب کوئلہ گھوٹالے کی لیپا پوتی کی کرتوتیں آپ کو یاد ہی ہوں گی۔ گھوٹالے میں ملوث ہستیوں کی سازشی پہنچ کتنی گہری ہوتی ہے، یہ کوئلہ گھوٹالے سے جڑی فائلوں کے غائب ہونے کے بعد پورے ملک کو پتہ چلا تھا۔
اسکرپٹ کیسے لکھی گئی
خیر اب آپ اس خبر کے ذریعہ دیکھئے کہ پردے کے پیچھے اسکرپٹ کیسے لکھی جاتی ہے اور اسے کون لوگ لکھتے ہیں۔ کوئلہ گھوٹالے میں ملوث جندل گروپ کے ذریعہ مرکزی سرکار کے سینئر نوکر شاہوں کو راغب کرانے کا سلسلہ لمبے عرصے سے چل رہا ہے۔ آپ حقائق کو کھنگالیں گے تو آپ پائیں گے کہ جن نوکرشاہوں کو مرکزی سرکار اعزاز نہیں دے پائی ،انہیں جندل کے یہاں اعلیٰ عہدوں پر نوکری مل گئی۔ ایسا بھی ہوا کہ نوکری کرتے ہوئے بھی کئی نوکرشاہوں کو جندل کے اسٹیج سے اعزاز سے نوازا جاتا رہا۔ کانگریس کے بے حد قیریب رہے اشوینی کمار تب سی بی آئی کے ڈائریکٹر تھے، جب کوئلہ گھوٹالہ پورے شباب پر تھا ۔دو سال کی مقرر سروس کی مدت میں چار مہینے کی توسیع اشوینی کمار کے اقتدار میں رہنے کے ہنر کا ہی نتیجہ تھا۔ اشوینی کمار 2 اگست 2008 کو سی بی آئی کے ڈائریکٹر بنائے گئے تھے اور انہیں 2 اگست 2010 کوریٹار ہوجانا چاہئے تھا، لیکن انہیں توسیع دیا گیا۔ اقتدار کا ہدف پورا ہونے کے بعد اشوینی کمار نومبر 2010 کو سی بی آئی کے ڈائریکٹر عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ جیسے ہی ریٹائر ہوئے، انہیں جندل گروپ نے لپک لیا۔ جندل گروپ نے انہیں او پی جندل گلوبل بزنس اسکول کا پروفیسر مقرر کر دیا۔ بعد میں اس وقت کی مرکزی سرکار نے اشوینی کمار کو ناگالینڈ کا گورنر بنا دیا۔ کوئلہ گھوٹالہ، گھوٹالے کی لیپا پوتی ، اس میں جندل کا کردار اور جندل گروپ میں سی بی آئی ڈائریکٹروں کی تقرری کے رابطے آپس میں ملتے ہیں کہ نہیں، اس کی جانچ کا کام تو جانچ ایجنسیوں کا ہے۔ ہماری ذمہ داری تو اسے روشنی میں لانے بھر کی ہے۔
اشوینی کمار کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنائے جانے کے پیچھے کی کہانی کم دلچسپ نہیں ہے۔17سال سے زیادہ وقت سے سی بی آئی کو اپنی سروس د یتے رہے انتہائی ایماندار راجستھان کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر ایم ایل شرما کا ڈائریکٹر بننا طے ہو گیا تھا۔ نشان زد ڈائریکٹر کو وزیر اعظم کے ساتھ چائے پرمدعو کرنے کی روایت کے تحت شرما کو پی ایم او میں بلا لیا گیا تھا۔ ادھر سی بی آئی دفتر تک اس کی اطلاع پہنچ گئی تھی اور وہاں لڈو بھی بٹ گئے لیکن اچانک مرکزی سرکار نے ایم ایل شرما کا نام ہٹا کر ہماچل پردیش کے ڈی جی پی اشوینی کمار کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنا دیا۔ جبکہ شرما ان سے سینئر تھے۔ وہ پی ایم او سے رسوا ہو کر لوٹ آئے۔ شرما نے پریا درشینی مٹو قتل کیس اور اپہار سنیما حادثہ جیسے کئی اہم معاملے نمٹائے تھے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے انہیں آخری وقت پر سی بی آئی کا ڈائریکٹر بننے لائق نہیں سمجھا۔ کیونکہ شرما وہ نہیں کرسکتے تھے جو مرکزی سرکار سی بی آئی سے کرانا چاہتی تھی۔ اچانک ایم ایل شرما کو ہٹا کر اشوینی کمار کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر کیسے اور کیوں بنایا گیا ،یہ ملک کے سامنے، بعد کے واقعات نے صاف کردیا۔ اروشی قتل معاملہ لی لیپا پوتی کرنے اور سہراب الدین مڈبھیڑ معاملے میں امیت شاہ کو گھیرے میں لانے میں اشوینی کمار کا ہی کردار تھا لہٰذا کوئلہ گھوٹالے میں ان کا رول کیا رہا ہوگا،اسے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔ اشوینی کمار ایسے پہلے سی بی آئی ڈائریکٹر ہیں جو گورنر بنے۔
سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ڈی آر کارتی کین جندل گروپ کے او پی جندل گلوبل یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کے سینئر ممبر ہیں۔ کارتی کین 1998 میں سی بی آئی کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ اسی طرح 4 جنوری 1999 سے لے کر 30اپریل 2001 تک سی بی آئی کے ڈائریکٹر رہے آر کے راگھون بھی جندل گروپ کی سروس میں ہیں۔ راگھون او پی جندل گلوبل یونیورسٹی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے سینئر ممبر ہیں۔ سی بی آئی کے جن ڈائریکٹروں کوجندل اپنے گروپ میں تقرری نہیں دے پایا، انہیں اپنے تعلیمی اداروں سے اعزازات سے نوازتا رہا۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رہے امر پرتاپ ( اے پی ) سنگھ کو ریٹائر ہونے کے محض مہینے ،ڈیڑھ مہینے کے اندر مرکزی سرکار کے پبلک سروس کمیشن کا ممبر مقرر کرد یا گیا تھا۔ ادھرجندل گروپ ان کی اعزاز نوازی میں بھی پیچھے نہیں تھی۔ اوپی جندل گلوبل یونیورسٹی کے کئی تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں اے پی سنگھ شریک رہے۔ یہاں تک کہ راشٹریہ پولیس اکادمی تک میں اپنی دخل اندازی بنا چکے جندل وہاں بھی سینکڑوں سینئر آئی پی ایس افسروں کے اعزازات دینے کے لئے سمینار منعقد کراتا رہتا ہے اور اسی کے ذریعہ سینئر نوکر شاہی کو راغب کرتا رہتاہے۔ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر پی سی شرما کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ انہیں بھی ریٹائرمنٹ کے مہینے بھر کے اندر نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا ممبر بنا دیا گیا۔ جندل نے پی سی شرما کو بھی اپنے گروپ سے جوڑے رکھا اور تعلیمی اعزاز،او پی جندل گلوبل یونیورسٹی اور جندل گلوبل لاء اسکول کے ذریعہ ان کو دیا۔
اقتدار سے جڑے رہے سینئر نوکرشاہوں کی جندل سے نزدیکی واقعی نشان زد کرنے کے لائق ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق ممبر، ہندوستانی سرکار کی پالیسی بنانے اور اسے لاگو کرنے کی کمیٹی کے سابق ڈائریکٹر ، وزیر اعظم، کابینی سکریٹری اور صدر جمہوریہ تک کے میڈیا اور اطلاعات کے معاملوں کے ڈائریکٹر رہ چکے وائی ایس آر مورتی کو جندل نے او پی جندل گلوبل یونیورسٹی کا رجسٹرار بنا دیا۔ مورتی نہ صرف یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں بلکہ وہ مینجمنٹ بورڈ اور اکیڈمک کونسل کے ممبر بھی ہیں۔ ملک کے توانائی سکریٹری رہے رام وِنے شاہی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین رہے ارون کمار پوروار جندل اسٹیلس پرائیویٹ لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں ۔جندل ملک کا اکیلا ایسا کیپیٹل انسٹی ٹیوٹ ہے جس نے اقتدار سے جڑے سینئر نوکر شاہوں کو اپنے گروپ میں سروس میں رکھا۔ خاص طور پر سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر وں کو اپنی سروس میں رکھنے میں جندل کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جندل جیسے گروپوں میں دلچسپی رکھنے والے سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹروں یا سینئر افسروں پر کسی کی نگاہ نہیں جاتی، یہ بھی تو رشوت ہے۔ اس پر مرکزی سرکار کوئی لگام کیوں نہیں لگاتی؟بدعنوانی کے خلاف بڑی بڑی بولیاں بولنے والے برسر اقتدار لیڈر ان پر خاموشی طاری رہتی ہے۔

 

 

 

ساڑھے پانچ سو گھنٹے کی ریکارڈنگ اجاگر ہو تو طوفان آجائے گا
انکم ٹیکس محکمہ کی خفیہ برانچ نے معین قریشی کی مختلف ہستیوں سے ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت ٹیپ کی۔ اس کے بارے میں آئی ٹی انٹلی جنس کے ذرائع تھوڑی جھلک دکھاتے ہیں تو لگتا ہے کہ قریشی کا منی لانڈرنگ پر تسلط پوری سرکاری سسٹم کو برابر چیلنج دے رہا ہے ۔تقریباً ساڑھے پانچ سو گھنٹے کی ریکارڈنگ ہے ۔آئی ٹی کے آفیسر ہی کہتے ہیں کہ اسے ملک سن لے تو ہندوستانی جمہوری نظام کی اصلیت مستند طریقے سے سمجھ میں آجائے۔
منی لانڈرنگ معاملے میں انکم ٹیکس کی انٹلی جنس برانچ پہلے سے خفیہ جانچ کر رہی تھی۔ آئی ٹی انٹلی جنس نے معین قریشی کی مختلف لوگوں سے ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کو تقریباًساڑھے پانچ سو گھنٹے سنا تھا اور اسے ریکارڈ کیا تھا۔ اس میں مرکزی سرکار کے کئی وزیر، یو پی سمیت کئی ریاستی سرکاروں کے وزیر ، مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈر، سی بی آئی کے آفیسر ، بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے علمبردار، کئی فلمی ہستیاں شامل ہیں۔ آپ حیرت نہ کریں۔ ان میں بی جے پی کے بھی کئی لیڈروں کے نام شامل ہیں۔ ایک سینئر بی جے پی لیڈر کی بیٹی کا نام بھی ہے اور بی جے پی لیڈر کا بھی نام ہے جو معین قریشی کے بھائی کو رامپور سے ٹکٹ دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ اپنے آپ میں بہت بڑا انکشاف ہوگا۔ اگر اسے عام کر دیا جائے۔
منی لانڈرنگ معاملے میں معین قریشی کے جال میں پھنسے اور سی بی آئی کے دو دو ڈائریکٹروں کے اس کے ساتھ تعلقات اجاگر ہونے کے بعد ملک بھر میں چرچا ہوئی، مذمت کی تجویز جاری ہوئی اور اپنے اپنے طریقے سے لیڈروں نے اسے خوب بھنایا، لیکن کسی بھی لیڈر نے عوامی طور پر چرچا نہیں کی کہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی نے مرکزی سرکار کو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی نے ہندوستانی خفیہ ایجنسی کو آگاہ کرتے ہوئے یہ بتا دیا تھا کہ دبئی کے ایک بینک اکائونٹ سے 30کروڑ روپے ٹرانسفر ہوئے ہیں۔ اکائونٹ ہولڈر ہندوستانی ہے اور یہ پیسہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو رشوت دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ مرکزی سرکار نہ تو اس اکائونٹ کو ضبط کر پائی اور نہ اکائونٹ ہولڈر کو ہی پکڑا جاسکا۔
سی بی آئی کے دائریکٹر کے عہدہ پر رہتے ہوئے اے پی سنگھ اور رنجیت سنہا، دونوں معین قریشی کے فرم ایس ایم پروڈکشن کو سی بی آئی کے محکمہ جاتی پروگراموں کے انعقاد کا بھی ٹھیکہ دیتے رہے ہیں۔ اسے معین قریشی کی دوسری بیٹی سلویا قریشی چلاتی تھی۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کیساتھ معین قریشی کے انٹر پول کے چیف رونالڈ کے نوبل کے قریبی تعلقات کے بارے میں آپ نے اوپر جان لیا،ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے چلیں کہ سی بی آئی اور ای ڈی دونوں ایجنسیوں کے آفیسر فرانس کے آرکیٹکٹ جین لوئس ڈینائڈ کو معین قریشی کے حوالہ دھندے کے سنڈیکٹ کے سرگرم ممبر بتاتے ہیں۔ صرف بتاتے ہیں ، ان کا کچھ بگاڑ نہیں پاتے ہیں۔

 

 

شبہات کے گھیرے میں جوہر یونیورسٹی
معین قریشی کے کافی نزدیکی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں سے رہے ہیں۔ یہ تعلق اتنے گہرے رہے ہیں کہ اعظم خاں کی بنائی ہوئی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر معین قریشی چارٹر ہیلی کاپٹر سے رامپور آیا تھا۔ سی بی آئی گلیارے میں کانا پھُسی تھی کہ اعظم خاں کی یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کی منظوری دلانے میں معین قریشی نے یو پی کے مختصر مدتی گورنر عزیز قریشی سے سفارش کی تھی۔ فطری بات ہے کہ اس کی سرکاری توثیق چھان بین سے ہی ہوگی ،کیونکہ انٹر پول کے جنرل سکریٹری کی طرح کوئی یہ قبول تو کرے گا نہیں کہ معین سے ان کے دوستانہ رشتے رہے ہیں، یہ ہندوستانیوں کی خاصیت ہے۔ اسی سلسلے میں یاد کرتے چلیں کہ اتر پردیش کے دو سبکدوش ہونے والے گورنروں ٹی وی راجیشور اور بی ایل جوشی نے مولانا محمد جوہر علی یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کا درجہ دینے کے بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جوشی کے جانے کے بعد اور رام نائک کے گورنر بن کر آنے کے درمیان محض ایک مہینے کے لئے یو پی کے کارگزار گورنر بنائے گئے عزیز قریشی نے آناً فاناً مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کی منظوری کے بل پر دستخط کر دیئے۔ قریشی 17جون 2014 کو یو پی آئے، 17جولائی 2014 کو جوہر یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کی منظوری دی اور 21جولائی 2014 کو واپس دہرا دون چلے گئے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *