کون نقلی ،کون اصلی محبان وطن؟

میری ملاقات ہندوستانی فوج کے جانباز افسر کی بیوی سے ہوئی۔ اس بیوی نے اپنا ایک الگ درد میرے سامنے رکھا۔ میںآپ کے ساتھ اسے اس لیے بانٹنا چاہتا ہوں کہ آج ملک میں جس طرح کا ماحول بنایا گیا ہے، آپ کم سے کم اتنا محسوس کرسکیںکہ وہ ماحول فوج کے افسروںکے خاندانوں کو کتنا ڈرا رہا ہے۔ ہمارے ملک میںسوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینل، اگر ان کا بس چلے تو کل یہ پاکستان سے جنگ کرلیں اور زیادہ بس چلے تو کل یہ چین کے اوپر حملہ کردیں۔ ان کی نظر میںہم امریکہ کے بعد دنیا کے سب سے طاقتور ملک ہیں اور ہمارے آنکھ دکھانے سے چین خاموش ہوجائے گا اورپاکستان ڈر کر چادر تان کر سو جائے گا۔ ہو سکتا ہے ایسا ہویا کاش ایسا ہوتا۔ لیکن اس فوج کے بہادر افسر کی بیوی نے جو کہا، وہ ان سب سے الگ ہے۔
اس نے کہا کہ میںبہت ڈری ہوئی ہوں۔ جب میں سوشل میڈیا دیکھتی ہوںاور ٹیلی ویژن کی بحث سنتی ہوں ، تب سوچتی ہوںکہ اگر جنگ ہوئی تو میرے شوہر کو بھی اس مورچہ پرجانا پڑ سکتا ہے۔ وہ لوٹے گا یا نہیں ، اس کو لے کر میرے دل میںشبہ ہے۔ لیکن میںابھی تک یہ نہیںسمجھ پارہی ہوں کہ ایسی کون سی صورت حال پاکستان سرحد اور چین کی سرحد پر ہوگئی کہ جسے بات چیت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاستداں اگر ناکام ہورہے ہیں تو اس کا سبب ملک کو پتہ چلنا چاہیے۔ کیا ان میںبات چیت کرنے کی صلاحیت نہیںہے۔ان کی بات چیت میںدلیل نہیںہے یا وہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میںنہیںکرسکتے۔ اس بہادر عورت کا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ اپنا بیٹا بھی فوج میںبھیجنا چاہتی ہے۔ اس کے شوہر بھی فوج میں ہیں۔ اس کے والد بھی فوج کے افسر رہے ہیں۔ اس کے رشتہ دار بھی فوج میںہیں۔ اس عورت کے دل میںسوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سیاست کے ذریعہ سرحد کے جن سوالوں کو حل کرسکتے ہیں، ڈپلومیسی کے ذریعہ عالمی رائے عامہ اپنے حق میں کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیںکرپارہے ہیں اور ملک میںیہ جھوٹا ماحول کیوں بنا رہے ہیں کہ ساری دنیا ہمارے ساتھ ہے اور ہم نے پاکستان اور چین کو الگ تھلگ کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی آن پر کوئی بات آجائے تو فوج کاایک ایک سپاہی سرحد پر جانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن جس طرح کا ماحول ملک میںبنایا جارہا ہے، اس سے فوج کے سپاہی اور افسرکافی غصہ میںہیں۔
اس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ ایک اخبار میںکام کرتے ہیں۔ کیا آپ ملک کے لوگوں سے میری طرف سے یہ پوچھ سکتے ہیںکہ کسی کو کارگل میں ہوئے شہیدوںکا کوئی نام یاد ہے۔ کیا آپ لوگوںسے ایمانداری سے یہ سوال کرسکتے ہیں اور وہ ایمانداری سے یہ بتائیںکہ وہ کتنے شہیدوںکے گھر میںسال میںایک بار بھی جاتے ہیں۔ کیا آپ یہ میری طرف سے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ جب ہولی ہوتی ہے، دیوالی ہوتی ہے،جب ہم خوشیوں میںناچتے ہیں، گاتے ہیں یا 15 اگست ، 26 جنوری مناتے ہیں، تو ہم کتنے شہیدوںکے خاندانوں کو اعزاز دیتے ہیں۔ وہ شہید چاہے کارگل کے رہے ہوںیا دہشت گردی سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہوں ،کیا انھیںذرا بھی اس بات کا علم ہے کہ ان شہیدوںکے خاندان کس طرح سے جی رہے ہیں۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ تو اخبار والے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شہید خاندانوں کی ان کے گاؤں میںکیا حالت ہے؟ ان کی زمین پر کس نے قبضہ کرلیا ہے؟ اور جب وہ پولیس تھانے میںجاتے ہیں تو ان کی کس طرح بے عزتی ہوتی ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ سالا مرنے والا تو مرگیا وبال چھوڑ گیا۔ کیا یہ ہمارے شہیدوں کے ساتھ جو ہورہا ہے،اس کا اور فیس بک پر یا پورے سوشل میڈیا پر جس میںٹویٹر بھی شامل ہے، جیسا ماحول بنایا جارہا ہے ۔کیا دونوں میں کوئی تعلیم فوج کے خاندانوں کو نہیںملتی۔ فوجی افسر کی اس بیوی نے مجھ سے یہ بھی سوال پوچھا کہ کارگل کے شہید کا نام میںاس لیے لے رہی ہوں کہ وہ سب سے تازہ مثال ہے۔ ہندوپاک جنگ میں1965 اور 1971 میںشہید ہوئے جوانوں کے خاندانوں کی بات تو میںکر ہی نہیںرہی ہوں کیونکہ وہ لوگ ہمارے ان نام نہاد محبان وطن کے مظالم سے اتنے زیادہ دکھی ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی بات ہی نہیں کہتے۔ لیکن جگہ جگہ ایسے قصوںکی بھرمار ہے کہ کارگل میںشہید ہوئے خاندان اپنے ہی سماج کی اذیت جھیل رہے ہیں اور ان میں سے بہتوں کا یہ کہنا ہے کہ کاش ہم دیش پریم میں اتنے اندھے نہ ہوئے ہوتے۔ اب میںعام قارئین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس فوجی افسر کی بیوی کا درد کیا آپ کے پاس تک پہنچ پارہا ہے؟ کیا ٓپ بھی اپنے آس پاس کسی شہید کے خاندان کے ساتھ سماج کے ذریعہ ، پولیس کے ذریعہ ، ضلع انتظامیہ کے ذریعہ،کیے جارہے غیر انسانی برتاؤ کو دیکھ کر نظرانداز تو نہیںکررہے ہیں۔ لیکن ایسا ہورہا ہے۔
اس بہادر فوجی افسر کی بیوی نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ اس نے کہا کہ اس وقت ملک میں گایوں کی حفاظت کے نام پر جس طرح سے قتل ہورہے ہیں، لوگوںکو مارا پیٹا جارہا ہے، کیا ان لوگوں کی پہچان ،ہندوستان کے وزیر اعظم جس زبان کا استعمال کر رہے ہیں، اس سے ہوسکتی ہے؟ کیا وزیر اعظم کی زبان ان گئو رکشکوں کے نام پر جرم کرنے والے لوگوںکو روکنے کا کام ریاستی سرکاریں کیوںنہیںکررہی ہیں؟ کیا اس لیے کہ ریاستی سرکاریں جانتی ہیںکہ وزیر اعظم یہ صرف کہہ رہے ہیں، کرنے کے لیے نہیںکہہ رہے ہیں۔ کیونکہ کرنے والی زبان وہ ہوتی ہے جو سپریم کورٹ کے سارے احکام کواور تشاویش کو نظرانداز کرکے آدھار کارڈ میں استعمال کی گئی۔ لیکن یہ ایسا کیا کمال ہے یا اس زبان میںایسی کون سی کمزوری ہے کہ وزیر اعظم کے کہنے کے باوجود گئو رکشا کے نام پر جرم کرنے والے لوگ ڈر نہیںرہے ہیں۔

 

 

اس عورت نے یہ بھی پوچھا کہ جو لوگ گئو رکشا کے نام پر سڑک پر کسی کو بھی پکڑ کر مار رہے ہیں، پیٹ رہے ہیں، لوگوںکے گھروں میں گھس کر جوان لڑکیاں کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، ان کو بے عزت کررہے ہیں۔ یہ گائے کی حفاظت کے نام پر آندولن کرنے والے لوگ یاسماج کو بانٹنے والے لوگ کیا اس ملک میںماںبہنوں پر ہونے والے مظالم کو روک پارہے ہیں۔جواپنی ماں بہنوں پر ہونے والے مظالم کو نہ روک پائے اور گائے کی حفاظت کے نام پر سڑک پر نکل کر پھسپھسائے، اس سے زیادہ نقلی دیش پریمی کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ اس میں میںنے ایک چیز اور کہی کہ سارے نام نہاد دیش پریمی جو شہید ہوئے ہیں، ان کے گھر تو جاتے ہی نہیں ہیں، جو فوج کے سپاہی ابھی زندہ ہیں اور فوج میںاور ملک میں کہاں ان کی ڈیوٹی لگی ہوگی، ان کے گھر والے نہیں جانتے۔ جو بارڈر پر ہیںچاہے پاکستان کا بارڈر ہو یاچین کا ۔ کیا ان کے گھروںپران میں سے کوئی یہ جاکر پوچھتا ہے کہ تمہارے گھر کا مسئلہ کیا ہے، تمہارے بچے اسکول میں ہیں، ان کی فیس وقت پر جارہی ہے، تمہیں تمہارا پڑوسی تو پریشان نہیںکررہا ہے، تمہاری زمین کے اوپر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش تو نہیںکررہا ہے۔ تمہاری بہنوںاور بیویوں کو کوئی چھیڑ تو نہیں رہا ہے۔ فوجی افسر کی اس عورت نے کہا کہ ایسی مجھے ایک بھی مثال نہیںملی جہاں مجھے لوگوںنے کہا ہو کہ سماج کی طرف سے ہمیںیہ تعاون مل رہا ہے۔ بہت ساری جگہوںپر ضلع انتظامیہ، فوج میںکام کرنے والے موجودہ سپاہیوں کے گھروالوں کے مسئلے کو اس لیے نہیں حل کرتے کہ وہ رشوت نہیںدے پاتے۔ پولیس افسر انھیں گری ہوئی نظر سے دیکھتے ہیں اور اب تو اخباروں میںبھی خبریںآنے لگی ہیں کہ پولیس کے لوگ فوجی افسروں کے ساتھ کیسا سلوک کررہے ہیں۔
یہ سوال مجھے جھنجھوڑ گیا۔اور جب میں نے اپنی سطح پر پتہ کیا تو مجھے 99 فیصد سچائی اس بہادر فوجی افسر، جسے کئی فوج کے میڈل مل چکے ہیں،اس کی بیوی کے باتوں میںملی۔ میںآپ سے کچھ کہنے کی حالت میںنہیںہوں کیونکہ میںبھی اسی سماج کا حصہ ہوںجو نقلی دیش پریم میںپاگل ہورہا ہے۔ اور جو سچ مچ دیش بھکت ہیں، جو شہید ہوئے ہیں یا جو شہید ہونے کے راستے پر ہیں، انھیںنظر انداز کررہا ہے۔ یہ ہمارے ہی ملک میںہوسکتا ہے۔ اس ملک میںجہاںفوج کی بہادری بھی سیاست کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ اس بہادر عورت نے کہا کہ میںجانتی ہوں کہ میرے سوال آپ کو پسند نہیںآئیں گے۔ آپ سوچیںگے کہ میںبزدلی کی بات کررہی ہوں۔ لیکن میںیہ سوال کرتی ہوںکہ آپ کے خاندان کے کتنے لوگ فوج میں ہیں۔ جن کے خاندان فوج میںہیں ،ان کے خاندانوںسے پوچھئے کہ نقلی دیش پریم انھیںصرف اس لیے پریشان کررہا ہے کیونکہ اگر جنگ الیکشن جیتنے کے لیے ہو یا جنگ اپنی انا کی تسکین کے لیے ہو۔ جب لاشیں گھر میںآتی ہیں تو گھروالوںکو صرف سیاستدانوںکے چہرے یاد آتے ہیں اور انھیںلگتا ہے کہ ہمارا بیٹا، ہمارا بھائی اور ہمارا شوہر شہید ہوا ہے۔ وہ سیاستدانوں کی ناکامی جس کی وجہ سے شہید ہوا ہے۔ جنگ آخری راستہ ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے ملک میںجنگ پہلا راستہ بنا دی گئی ہے۔ اس کی مثال دیکھنے کے لیے کہیںدور جانے کی ضرورت نہیںہے صرف ٹی وی چینلوں کے مباحثوں کو اور سوشل میڈیا میںچل رہے جھوٹ، فیک نیوز اور پاگل پن کے ابال کو دیکھنا کافی ہے۔

 

 

میں سانس روک کر ان ساری باتوں کو سنتا رہا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ اس عورت کے حوصلے کو سلام کریں گے کہ وہ اتنا سوچتی ہے۔ وہ سماجی طور پر فوج کے سپاہیوں اور افسروں کے بیچ کام کر رہی فوجی بیویوں کے ایک بڑے دستے کا حصہ ہیں۔ اس نے جو کہا، اگر آپ اس کاایک بھی کر سکیںتو واقعی آپ سچ مچ محب وطن کہلانے کے لائق ہیں ۔ کارگل میںجو شہید ہوئے،کارگل میںجو معذور ہوئے یا اس کے بعد کشمیر میںشہید ہونیوالے خاندانوں کے تئیں صرف دکھاوے کی تعزیت مت دکھائیے۔ بلکہ ان کے گھر جاکر یہ دیکھئے کہ وہ کس حالت میںجی رہے ہیں۔ اگر انھیںمدد کی ضرورت ہے تو فوراً مدد کیجئے۔ ان نقلی محبان وطن کی طرح اپنے چہرے کوسنگ دل مت بنائیے جو ان شہیدوں کی شہادت کے جذبہ کو یا جو شہید ہونے کے راستے پر سرحد پر ڈٹے ہیں،ان کا دیش پریم کے نام پر توہین مت کیجئے۔ ان کے بچوںکی پڑھائی، ان کے خاندان کی بیماری میںان کا ساتھ،سرکاری افسروں کے اوپر دباؤ کہ ان کے مسائل حل کریں اور ساتھ ہی پولیس افسروں میںیہ ڈر پیدا کیجئے کہ وہ کسی بھی فوج کے سپاہی کے خاندان کو چاہے وہ شہید کا خاندان ہو یا اس وقت فوج میںکام کرنے والے کسی فوجی کا خاندان ہو، اس کے تئیںتوہین آمیز شرمناک سلوک کرنے کی ہمت نہ کرے۔ کیا میری اتنی سی بات آپ مانیںگے۔صرف وہ نہیںمانیں گے جو نقلی دیش پریمی ہیں جو اپنے ماںکی والد کی حفاظت نہیںکرسکتے،انھیںبڑھاپے میںچھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن وہ گائے کے نام پر سڑک پر خالص مجرمانہ فعل کی قیادت کرتے ہیں۔ لیکن جو سچ مچ ہندوستان کو پیار کرتے ہیں، ان لوگوںتک میں یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی شہیدوں کے خاندانوں کا اور فوج میںموجودہ کام کرنے والے خاندانوں کو اپنا خاندان مانئے۔ اس گھر کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹیاں مانئے اوران کی حفاظت سماج کے مجرمانہ عناصر سے کیجئے، جن میںزیادہ تر وہ لوگ ہیں جو آج سڑک پرجرم کا ننگا ناچ کررہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *