مسجد اقصیٰ میں میٹل ڈیٹیکٹر مسلمانوں نے صبرو تحمل کا بہترین مظاہرہ کیا

مسجد اقصیٰ کے دروازوں پراسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے میٹل ڈیٹکٹر لگانے پر مسلمانوں نے جس صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،وہ یقینا قابل تعریف ہے۔ڈیٹکٹر میٹل لگانے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان بیت المقدس کے اندر جو کچھ بھی کریں اور ان کی جو بھی نقل و حرکت ہو ، وہ اسرائیلی فوج کے علم میں رہے۔ اسرائیل کے اس عمل کی مسلمانوں نے سخت مخالفت کی اورمسجد اقصیٰ کے اندر نہ جاکر باہری حصے میں دیگر پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ ادا کی۔تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مسلمان مسجد اقصیٰ میں نہ جاکر اس کے باہری حصے میں نماز ادا کی۔پُرامن احتجاج کا یہ بہترین طریقہ ہے جسے فلسطین کے مسلمانوں نے اختیار کیا ہے۔
میٹل ڈیٹکٹر لگانے کے تعلق سے بیت المقدس اور فلسطین کے مفتی الشیخ مفتی حسین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی کے اندر اسرائیل کی تمام کاروائیاں مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور تمام اہل فلسطین نے اس کا بائیکاٹ بھی کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہل اسرائیل مسجد اقصی پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کے لئے دھیرے دھیرے کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے مسلمانوں کی تفتیش کرنے کے لئے ذلت آمیز نظام بنا رکھا ہے۔اس نے اپنے لوگوں کے لئے اسباط کا دروازہ کھول رکھا ہے جبکہ مسلمانوں کے لئے الیکٹرانک دروازے لگا دئے گئے ہیں۔‘‘غزہ کی پٹی میں علما رابطہ کونسل کے چیئر مین مروان ابو راس نے مسجد اقصی میں اذان اور نماز پر عائد کردہ اسرائیلی پابندیوں کو عالم اسلام کے لئے سنگین چیلنج قرار دیا اور کہا کہ عالم اسلام کو اپنے پہلے قبلہ کے دفاع کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گا۔ ابو ر اس مسلم ممالک کی حکومتوں کی طرف سے قبلہ اول پرپابندی پر خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی خاموشی صہیونی دشمن کو قبلہ اول کے خلاف اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے کا موقع دے رہی ہے‘‘۔
فلسطینیوں کا صحیح فیصلہ
پابندی لگانے کا عمل صحیح ہے یا غلط، اس سے قطع نظر فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کے اندر نماز پڑھنے کے لئے تشدد کا راستہ چھوڑ کر پُر امن طریقے سے باہر نماز ادا کرنے کا جو فیصلہ کیا، وہ قابل تعریف ہے کیونکہ تشدد کی راہ سے پیدا ہونے والا خون خرابہ انسانی جانوں کے اتلاف کا سبب بنتا ہے ۔ مسجد اقصیٰ کے منتظم اعلیٰ شیخ عمر قصوانی کا کہنا ہے کہ’’ ہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے نافذ کی گئیں ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں، ہم ان میٹل ڈیٹکٹرز سے ہوتے ہوئے مسجد میں داخل نہیں ہوں گے۔یہ نمازیوں کی توہین ہے۔اگر یہی طریقہ اختیار کرنا ہے تو اسرائیل کے لئے بھی رائج ہونا چاہئے،ہم دونوں قوموں کے لئے برابری کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
یاد رہے کہ 14 جولائی کو بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز جمعہ سے قبل فائرنگ کرکے 3 فلسطینیوں کو قتل کردیا تھا۔واقعہ کے حوالے سے اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ تینوں فلسطینیوں نے باب الاسباط سے نکل کر اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی جس سے 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔اس حملے کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کرتے ہوئے تاریخی شہر القدس کی مکمل ناکہ بندی کردی تھی۔16 جولائی کو اسرائیلی حکام نے کیمرے اور واک تھرو گیٹس نصب کرنے کے بعد مسجد کو نمازیوں کے لیے کھول دیا تاہم فلسطینی مسلمانوں نے نئے سیکیورٹی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی حکام کے اس اقدام کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسجد میں اندر جانے کے بجائے باب الاسباط کے باہر ہی نماز ادا کی۔قابل ذکر ہے کہ مسجد اقصیٰ طویل عرصے سے مسلمان اور سرائیل کے بیچ تنازع کا سبب بنا ہوا ہے اور اس تنازع نے ہزاروں انسانوں کی جانیں لی ہیں۔ اس تنازع کے حقائق کو جاننے کے لئے مسجد اقصیٰ ،اس کی تاریخی اور مذہبی حقیقت کو جاننا ضروری ہے ۔

 

 

مسجداقصی کا محل وقوع
مسجد اقصی ( قبلہ اول ، بیت المقدس) جس جگہ پر واقع ہے، اسے شہر القدس کہا جاتا ہے ۔ یہ شہر اس وقت اسرائیل کے قبضہ میں ہے ۔ بیت المقد س کے شمالی جانب رام اللہ ، دریائے اردن کا مغربی کنارہ ، حنین اور نابلس وغیرہ ہیں ، شمال مغرب اور مغربی جانب الرملہ ، تل ابیب ، یافا اور اِسدود وغیرہ ہیں۔مسجد اقصی شہر القدس کے مقام تل موریا پر واقع ہے، مذکورہ تمام علاقے فلسطین میں ہیں جن کا اکثر حصہ اسرائیل کے زیر تسلط اورایک تہائی حصہ فلسطینی مسلمانوں کے زیر کنٹرول ہے۔
حرم اقصیٰ کی بناوٹ
حرم اقصی ایک لاکھ چالیس ہزار مربع میٹر پر مشتمل وہ احاطہ ہے جس میں چودہ دروازے ہیں ان میں سے دس کھلے ہوئے ہیں اور چار بند ہیں ، کھلے دروازے کے بڑے بڑے گیٹ ہیں ، شمال میں تین دروازے کے نام (1) با ب الاسباط (2) باب حطہ (3) با ب شرف انبیاء یا با ب فیصل ہے۔ مغرب میں سات دروازوں کے نام (1) باب الغوانمہ ،(2) باب ناظر، (3) باب حدید یاباب ارغون ، ( 4) باب قطانین ، (5) باب مطہرہ ، (6) باب سلسلہ داؤد (7) باب مغاربہ یا باب النبی ہیں ۔ جو چار دروازے بند ہیں ان کے نام (1)باب سکینہ ،(2) باب رحمہ (3) باب توبہ (4) باب براق ہیں۔
حرم شریف پرانے شہر کے تقریباً پندرہ فیصد رقبہ پر پھیلا ہو ا ہے ، یہ دس کھلے دروازوں سے نکلی ہوئی گلیوں کے ذریعہ شہر سے گھرا ہوا ہے ، اس احاطہ میں صاف پانی کے 25 کنویں ہیں جن میں 8 کنویں قبہ الصخرہ والی مسجد کے احاطہ میں ہیں جبکہ17 کنویں مسجداقصی کے احاطہ میں ہیں ۔ دونوں کے درمیان وضو اور پانی کی سہولت ہے ۔ اذان دینے کے لئے چار دروازوں کے پاس منارے بنائے گئے ہیں ، یہ چار منارے باب مغاربہ ، سلسلہ ، غوالمہ، اسباط کے پاس ہیں۔حرم شریف میں گنبد صخرہ کو خاص مقام حاصل ہے۔
گنبد صخرہ اور مسجد اقصیٰ
مسجد اور گنبد صخرہ اسلامی تاریخ کی دو نمایاں نشانیاں اور امتیازی علامتیں ہیں ، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے ان دونوں کے سلسلہ میں پروپیگنڈوں کے نتیجہ میں غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔صخرہ وہی جگہ ہے جہاں تمام انبیاء اپنی سواریوں کوباندھا کرتے تھے جیساکہ حدیث میں حضور ؐ کے سفر معراج کے سلسلے میں آیا ہے کہ ’’ میں نے براق کو اس جگہ باندھا جس جگہ انبیاء اپنی سواریاں باندھتے تھے ، پھر مسجد میں داخل ہوکر نبیوں کو نماز پڑھائی اور اسکے بعد جبرئیل مجھے لیکر قریب کے آسمان کی طرف چڑھے ‘‘ چنانچہ اس جگہ کو مسلمانوں نے ابتدائے اسلام ہی سے متبرک سمجھا ہے ۔
عبد الملک کے زمانہ میں پہلی بار490 (72ھ) کو پہلی مرتبہ مقام صخرہ پر 16 ستون والا آٹھ پہلو گنبد بنایا گیا جس کی بلندی7 گز اور گولائی360 گز تھی ، اس کے چار دروازے اور65 کھڑکیاں تھیں ، پھر خلافت عباسیہ میں مامون کے دور میں گنبد صخرہ کی توسیع ہوئی۔ جعفر المقتدر کے زمانہ میں گنبد صخرہ کے چاروں دروازے صنوبر کے بنائے گئے ۔ فاطمی سلطان نے خوبصورت منبر لگایا تھا جسے صہیونیوں نے جلا دیا ۔عثمانیوں نے گنبد صخرہ کے زیریں حصہ میں سنہری کھڑکیاں نصب کرائیں اور گنبد کے گول ستونوں کو سنگ مرمر سے آراستہ کیا ۔
مسجداقصی کی مذہبی اہمیت
مسجد اقصی مسلمانوں کے نزدیک نہایت اہم مرتبہ رکھتی ہے ، وہ مسجدحرام اور مسجد نبوی کے بعد سب سے مقدس جگہ ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سفر اسراء یہیں پر آکر ختم ہوا اور یہیں سے آسمانوں کی معراج شروع ہوئی ۔یہاں ایک نمازکاثواب500 نمازوں کے برابر ہے ۔ یہیں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی ۔یہ دنیا میں خدا کی عبادت کا دوسرا مرکز اور گھر ہے جو مسجد حرام کے710 اور بعض روایات کے مطابق40 سال بعد بنایا گیا ۔ قابل ذکر ہے کہ جب مسجد اقصی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد اس کی چہار دیواری کی تمام تر عمارتیں اور صحن ہوتی ہے جس میں مسجداقصی کے ساتھ مسجد قبۃ الصخرہ بھی شامل ہے۔
یہودی اور سر زمین فلسطین
یہودیوں کے یہاں سر زمین فلسطین کی حیثیت فرائض اور ارکان کے درجے کی ہے، ہر یہودی پرلازم ہے کہ سر زمین اسرائیل میں رہے۔ یہ واجب تمام واجبات سے مقدم ہے ۔ان کی مذہبی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ’’سرزمین اسرائیل پاک ہے، بنی اسرائیل کے متقی افراد کو وہیں دفن کرنا چاہئے اور یہ ممکن نہ ہو تو وہاں کی کچھ مٹی کفن کے ساتھ رکھ دینا چاہئے ‘‘۔ ’’جو اسرائیلی بھی اسرائیل کی چار گز زمین میں چل لے گا ،وہ آخرت میں کامیاب ہو جائے گا‘‘۔بہرحال اسی بنیاد پرانکا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے قدرتی اور تاریخی حق کی بنیاد پر یہاں ارض قدس میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔

 

 

عیسائی اور سرزمین فلسطین
عیسائیوں کا یہ عقید ہ ہے کہ مسیح موعود اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک کہ سارے یہود ی فلسطین میں واپس نہیں آجاتے، شہر قدس میں سکونت نہیں اختیار کر لیتے اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر نہیں کر لیتے ۔پہلے یہ سب کچھ ہونا ہے ، پھر عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، جو یہودیوں کے مسیح کو قتل اور دو تہائی یہودیوں کو مار دیں گے۔ایک تہائی یہودی باقی رہ جائیں گے جن کوعیسائی بنایاجائے گا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ عیسائی بھی کندھے سے کندھا ملا کر اپنے دور عظمت کی طرف لوٹنے کا راستہ ہموار کر نے اور مسلمانوں کے خلاف صف آرا ئی میں مصروف ہیں۔ آج دونوں مذاہب کے پیروکاروں کا یہ مشترکہ عقیدہ ہے کہ ’’مذکورہ واقعات کا وقوع پذیر ہونا حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد میں ممدو معاون ثابت ہو گا ، لہٰذا یہودیوں پر لازم ہے کہ وہ عیسائیوں کی مدد حاصل کرکے مسجد اقصی کو جلد از جلد منہدم کر کے یہاں یہودی معبد ہیکل تعمیر کریں۔ مسجداقصی کو شہید کر کے اس کی جگہ ہیکل تعمیر کرنے کی یہود ی سازش کو دیگر یہودیوں تک پہنچانے کے لیے یہودی حکمرانوں نے ماسونیت(فری میسن) تحریک کے علاوہ صہیونی تحریک اور اس طرح کی دیگر لسانی اور نسلی بنیادوں پر قائم تنظیموں کی مدد حاصل کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق بیت المقدس کی سر زمین لوگوں کو خدا سے نزدیک کرتی ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *