ہندوستانی لنچنگ کو لے کر غیر ممالک میں تشویش

ہندوستان میں گئو رکشا کے نام پر فرقہ وارانہ عناصر کے ذریعہ مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے کے واقعات کے خلاف ملک بھر میں16 بڑے شہروں میں 28جون کو فلم پروڈیوسر صبا دیوان کی کال پر ’’ ناٹ ان مائی نیم ‘‘کے عنوان سے منعقد مظاہروں کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوں میں مظاہرے ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ امریکہ کے مختلف شہروں واشنگٹن ، ڈی سی، ساس ڈیاگو، سان جوس اور نیویارک، اور لند ن کے علاوہ ،بوسٹن، ٹرانٹو اور کراچی میں مختلف تنظیموں نے ہجومی تشدد پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی مرکزی حکومت کی توجہ اس طرف دلائی ہے۔ ہندوستان میں ’’ناٹ ان مائی نیم‘‘ کی طرز پر کئے گئے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
واشنگٹن اور سان ڈیا گو میں اس مظاہرے کا اہتمام ناڈین امریکن مسلم کونسل نے کی جبکہ جوس میں مختلف بین مذاہب اور کمیونٹی پر مشتمل تنظیمیں الائنس فار جسٹس اینڈ اکائونٹی بلٹی کے بینر تلے احتجاج کیا گیا اور نیویارک میں سائوتھ ایشیا سالیڈراتی انیشی ایٹو کے زیر اہتمام یہ مظاہرے ہوئے۔لندن میں ایس اے او ایس (اسکوٹش اگریکلچر آرگنائزیشن سوسائٹی )کے زیر اہتمام یہ مظاہرہ ہوا اور اس میں سینکڑوں طلباء نے شرکت کرکے ماب لنچنگ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
سائوس کے ماہر نفسیات نے اپنے ٹویٹ میں حکومت ہند کے وزیرا عظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ مودی پوری دنیا کا دورہ کررہے ہیں اور ڈیولپمنٹ ان کا اہم ایجنڈا ہے لیکن ہندوستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے ،اس سے ان کا یہ ایجنڈا دب کر رہ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی برطانیہ کے لوگوں کو ان حادثوں کے بارے میں پوری معلومات نہیں ہیں کہ ہندوستان میں ایک طبقہ کے ساتھ کیا ہورہا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے میڈیا میں ان سانحات کو اتنا کوریج نہیں دیا گیا ہے جتنا دیا جانا چاہئے لیکن ذرا غور کیجئے کہ اگر یہاں کے عوام کو ان سانحات کے بارے میں معلوم ہوگیا تو ہندوستانی حکومت کے بارے میں پورے طور پر ان کا تصور کیسا بنے گا؟
لندن کی ایک طالبہ ڈارا بروڈی کہتی ہیں کہ اگرچہ ہندوستان میں جو کچھ ہورہا ہے، اس کے بارے میں مجھے بہت کچھ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں اخلاق جس کو گئو کشی کے الزام میں مارا گیا ،کی وجہ سے میں سمجھ سکتی ہوں کہ وہاں کے حالات یقینا ڈرائونے ہیں۔ایک 52سالہ اکیڈمک کہتی ہیں کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے بنیاد پرستی کو بڑھاوا مل رہا ہے۔

 

 

حالانکہ عرب کے کسی ملک میں گئو کشی کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد کے خلاف باضابطہ کوئی مظاہرہ یا احتجاج کی خبر نہیں مل سکی ہے لیکن وہاں کے اخبارات کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر بے چینی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں جب بھی کوئی ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے اخبارات نہ صرف ان کو اہمیت کے ساتھ کوریج دیتے ہیں بلکہ اس پر عوامی رد عمل بھی خوب خوب سامنے آتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ عوامی سطح پر ہندوستان میں ہونے والے ہجومی تشدد کے تئیں بے چینی پائی جاتی ہے۔
سعودی عرب سے شائع ہونے والاایک اخبار ’’ التوصل ‘‘ نے جنید کے قتل پر جو عنوان لگایا ہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوامی سطح سے لے کر صحافیوں میں بھی شدید بے چینی ہے ۔مذکورہ اخبار نے اس خبر کو ’’ ایک حافظ قرآن کا شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل،مودی اور اس کی شدت پسند پارٹی کا منہ چڑا رہا ہے ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ یہ عنوان ہی بتا رہا ہے کہ عرب کے صحافیوں میں ہجومی تشدد کو لے کر ناراضگی پائی جارہی ہے۔مصر سے شائع ہونے والا ایک اخبار ’’مصر العربیہ ‘‘ گئو کشی کے نام پر ہجومی تشدد کے بارے میں ’’ مودی مسلمانوں پر ہورہے مظالم کو ناپسند کرتے ہیں ‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم اپنے عوام سے ہجومی تشدد سے باز رہنے کی مخالفت کرتے ہیں ،اس کے باوجود تشدد پسند اس عمل سے باز نہیں آرہے ہیں جبکہ اس عمل کی وجہ سے یوروپ سمیت عرب ممالک میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہورہی ہے۔
ظاہر ہے این ڈی اے حکومت میں ہمارا ملک دنیا بھر کے سرمایہ داروں کو یہاں آکر سرمایہ کاری کے لئے متوجہ کررہا ہے۔ متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ملکوں کے تاجروں کو یہاں آکر سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہاں جو صورت حال بنی ہوئی ہے، یہ ہمارے اس ایجنڈے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ظاہر ہے اس حقیقت کو وزیر اعظم نریندر مودی بھی بخوبی سمجھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بار بار اس طرح کے تشدد پر لگام لگانے کی بات کہی ہے مگر شر پسند عناصر وزیر اعظم کی اپیل کے بعد بھی شر انگیزی سے باز نہیں آرہے ہیں اور ہمارا ملک باہری دنیا میں بدنام ہورہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *