بچہ چوری کے نام پر بربریت

شمالی مشرقی مصر کے بلبیس شہر میں ایک عورت اپنی بے گناہی کی دوہائی دے کر ہجوم سے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن بھیڑ پر تو جیسے جنون سوار ہے۔اسے بجلی کے کھمبوں میں باندھ د یا جاتا ہے ۔وہ اپنا بچائو کرتی ہے لیکن لوگ اس پر رحم کرنے کے بجائے نہ صرف تھپر اور گھونسہ رسید کرتے ہیں بلکہ گندی گندی گالیاں دے کر اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بروقت پولیس وہاں نہ پہنچتی تو شاید لوگ اس کی جان ہی لے لیتی اور وہ بے چاری کسی کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کئے ہی ملک عدم کو چل بسی ہوتی۔
ابھی گزشتہ دنوں کی بات ہے کہ مصر کی پولیس نے ایک خاتون کو تشدد کے بعد اسے بجلی کے کھمبے کے ساتھ باندھنے کے الزام میں 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ حال ہی میں شمال مشرقی مصر کے بلبیس شہر میں اس وقت پیش آیا جب ایک مشتعل ھجوم نے ایک خاتون پر بچہ چوری کرنے کا الزام عاید کرنے کے بعد اسے پکڑ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ رسیوں کیساتھ باندھ دیا۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور پائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقی گورنریٹ کیسیکورٹی ڈاریکٹر میجر جنرل رضا طبلیہ نے اپنے بیان میں یہ بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ لوگوں کے ایک ہجوم نے ایک خاتون کو کھمبے کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور وہ سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے خاتون پر ایک گھر کے سامنے سے بچے کو اغوا کرنے کا الزام عاید کیا تھا جو کہ غلط ثابت ہوا ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خاتون نے گھر کے سامنے کھیلتے بچے کو اغوا کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور نکلی۔ اس نے کسی بچے کو اغوا کی کوشش نہیں کی۔ تاہم شبہ میں مقامی نوجوانوں کے ایک گروپ نے خاتون کو روکا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک کھمبے کے ساتھ باندھ دیا۔مشتعل ہجوم نہ صرف خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا بلکہ اس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں۔ پولیس نے خاتون سے توہین آمیز سلوک کرنے میں ملوث 13 ملزمان کوحراست میں لے کر ان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

 

عجیب بات تو یہ ہے کہ جب کچھ لوگ کسی فرد پر زیادتی کرتے ہیں تو بقیہ لوگ تماشہ بیں بن کر یا پھر اس ہجوم کا حصہ بن کر اس ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔بارہا دیکھا گیا ہے کہ جب کچھ لوگ ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد کرتے ہیں تو اس پر روک لگانے اور مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے سب اپنی اپنی راہ لے لیتے ہیں اس کا منفی اثر یہ پڑتا ہے کہ ایسی ذہنیت کے افراد کو تشدد روا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔حالانکہ ہجومی تشدد کی پوری دنیا میں مذمت ہورہی ہے ،اس کے باجود یہ تشدد کسی نہ کسی شکل میں سامنے آرہا ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مجرموں کے خلاف ہندوستان میں دنیا کے کئی ملکوں میں موثر قانون موجود نہیں ہے جس کا فائدہ تشدد کرنے والے اٹھاتے ہیں اور بے گناہ اپنی جان سے جاتے ہیں یا پھر نفیساتی یا جسمانی طور پر شدید اذیت برداشت کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *