چمپارن ستیہ گرہ صدی پر موتیہاری میںسیمنار

انڈین میڈیا جرنلسٹ یونین کی سرپرستی میںچمپارن پریس کلب موتیہاری کی جانب سے چمپارن ستیہ گرہ صدی سال 2017 کے موقع پر ’’وشو شانتی اور مہاتما گاندھی‘‘ کے موضوع پر منعقد دو روزہ (8 اور 9 جولائی 2017) سیمنار کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبود رادھا موہن سنگھ نے کہا کہ صحافی کا کام سماج میں رونما ہونے والے اچھے برے واقعات کو سماج کے سامنے لانا ہے۔ نامساعد حالات میں مسائل سے نبردآزما ہوکر بھی صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ آزادی کے بعد جب ملک میںایمرجنسی لگی تب بھی صحافت نے اقتدار کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے لوگوں کوبیدار کرنے کا کام کیا ۔ مہاتما گاندھی اور مہاتما بدھ کی کرم بھومی چمپارن سے ایک بار پھر امن، عدم تشدد کا پیغام پوری دنیا میںجانا چاہیے۔ انھوںنے کہا کہ ملک میںکسانوں کی حالت و سمت کو بدلنے کا کام 1917 میںمہاتما گاندھی نے چمپارن میںآکر کیا۔ جس کے بعد انگریزوں کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ آج کے کسانوںکے حالات پر انھوںنے کہا کہ ملک کے کسان کی حالت و سمت بدلنے کی ضرورت ہے، جس سے ہندوستان جیسے ’کرشی پردھان دیش‘ میں کسان پھر سے خوش حال ہوسکیں ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کسانوںاور کاشت کاری کو خوش حال بنانے کے لیے سرکار کی بہت سی اسکیمیںچل رہی ہیں۔ صحافی اس کی جانکاری کسانوںتک پہنچانے میںبہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ ملک میںکئی طرح کی منفی طاقتیں بھی کام کر رہی ہیں اور صرف منفی واقعات اور خیالات کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے میںاگر ان منفی چیزوں کو میڈیا زیادہ ترجیح دے گا تو سماج میںمنفیت پھیلے گی۔ انھوں نے کہاکہ تعمیری واقعات اور باتوں کو زیادہ اہمیت دینا چاہیے، جس سے سماج میں مثبت خیالات کا پھیلاؤ ہوسکے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کسانوں کی بہبود اور گاؤوں کی خوش حالی کے بغیر ترقی مکمل نہیں ہوسکتی۔
اس موقع پر بہار اسمبلی کے اسپیکر وجے چودھری نے کہا کہ چمپارن کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ یہاںسے 1917 میںاٹھی آواز اتنی بلند ہوئی کہ انگریزوں کو بھارت چھوڑ کر جانا پڑا۔آج کے دور میں عالمی امن اور مہاتما گاندھی بڑا موضوع ہے۔ چمپارن میںگاندھی کا آنا اور یہاںکے کسانوں کا درد سن کر اس سرزمین کو عدم تشدد کی تجربہ گاہ بنانا بڑی بات ہے۔راجکمار شکل جیسے عام آدمی نے ،مضبوط ارادے کے دم پر گاندھی کو چمپارن آنے پر مجبور کیا۔ مہاتما گاندھی نے بعد میںلکھا ہے کہ میں اس پرعزم کسان کی وجہ سے چمپارن آیا، جس کے سبب پچکٹھیا یا تین کٹھیا کے رواج سے پریشان کسانوںکو نجات ملی۔ اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ پہلے انگریز امریکہ میںنیل کی کھیتی کرتے تھے لیکن 18 ویںصدی میں جب امریکہ میںتحریک آزادی شروع ہوئی اور یہاں کے کسان کا استحصال شروع ہوا۔

 

 

چمپارن کے پہلے صحافی پیر محمد مونس کا ذکر کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ 1917 میںچمپارن میںکیتھی زبان لکھی ا ور پڑھی جاتی تھی۔ اس وقت چمپارن کی حالت و سمت کو پیر محمد مونس دیوناگری میں لکھ کر ملک کے کئی اخبارات و رسائل میں دیتے تھے، جس کی بدولت چمپارن کے حالات سے لوگ واقف ہو پاتے تھے۔ اس دور کے صحافی گنیش شنکر ودیارتھی سے گاندھی جی کے بارے میں سن کر راجکمار شکل نے عہد کیا کہ گاندھی کو وہ چمپارن لائیں گے۔ اپنے مضبوط ارادے کی بدولت وہ کولکاتا گئے لیکن گاندھی جی نے وہاںکوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ بعد میںوہ کانگریس کے اجلاس میںلکھنؤ گئے اور گاندھی جی سے کہا کہ انھیںچمپارن چلناہوگا۔ بعد میںکانپور، سابرمتی آشرم گئے، وہاں گاندھی جی سے چمپارن آنے کا وچن لیا۔ بعد میںکولکاتا جاکر گاندھی کے ساتھ چمپارن لوٹے، یہیںسے چمپارن ستیہ گرہ کی شروعات ہوئی۔ اس طرح عام کسان کے غیر معمولی فیصلہ نے چمپارن سمیت ملک کی حالت و سمت بدل دی۔ گاندھی کے اس فیصلہ نے چمپارن میںموہن داس کرم چندگاندھی کو مہاتما بنادیا۔
رادھا کرشن سکاریا بی ایڈ کالج رادھا نگر موتیہاری میںمنعقد دو روزہ بین الاقوامی سیمنار کو خطاب کرتے ہوئے ممتاز صحافی و ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ مذہب اور سرحدی تنازع کے سبب ہی دو ملک آپس میںلڑتے ہیں۔ گاندھی کے خیالات کو سامنے رکھ کر ہی ہم خوبصورت اور مضبوط ہندوستان کا تصور کرسکتے ہیں۔ گاندھی پر چرچا ضروری ہے تاکہ نئی نسل ان کو سمجھے اور جانے۔ انھوںنے کہا کہ گاندھی جی کو چمپارن لانے میںصحافی پیر محمد مونس کا اہم کردار تھا۔ تب یہاںکیتھی زبان میںلکھا جاتا تھا۔ صحافی مونس نے دیو ناگری میںچمپارن کے کسانوں کی پیڑا اور نلہوں کے ذریعہ کیے جارہے استحصال کی جانکاری کانپور سے شائع ہونے والے اخبار ’پرتاپ‘ میںلکھ کر ملک کو دی۔
انھوںنے کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ایسے بے خوف صحافی کے نام پر ’پیر محمد مونس سمان‘ کی شروعات چمپارن پریس کلب نے کی ہے۔ انھوںنے کہا کہ اس وقت بھی صحافت میں دو اسٹریم کام کررہی تھیں۔ ایک گنیش شنکر ودیارتی جیسے صحافی جو ملک کے حالات کو دیکھ کر بے خوف ہوکر انگریزوںکے خلاف ’پرتاپ‘ کی اشاعت وادارت کررہے تھے۔ دوسری طرف درگاداس جیسے چاپلوس تھے جو صرف انگریزوں کی چاپلوسی میںلگے ہوئے تھے۔ گاندھی جی خود ’ہریجن‘ کے ایڈیٹر تھے۔ گنیش شنکر ودیارتھی جیسے صحافی عوامی بیداری کاکام کررہے تھے۔ شری بھارتیہ نے کہا کہ آج فخرسے سر اونچا ہوگیا کہ چمپارن پریس کلب نے گاندھی کے خیالات کو آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ چمپارن پریس کلب نے صحافیوں کو خاص طور سے صحافی تنظیموںکو راستہ دکھانے کا کام کیا ہے۔ میں درخواست کرتا ہوںکہ آپ لوگ اپنے اندر کی اس جوالا کو بجھنے نہیں دیجئے گا۔ انھوں نے کہا کہ چمپارن کے صحافی شکریہ کے مستحق ہیں۔
وہیںدوردرشن کے سینئر صحافی سدھانشو رنجن نے اپنے خطاب میںکہا کہ گاندھی جی کے بتائے ہوئے راستے پر آج کل زیادہ تر لیڈر نہیںچلتے ہیں مگر گاندھی جی کے نام کا استعمال خوب کرتے ہیں۔ سینئر صحافی راجیو مشرا نے کہا کہ آج دنیا میںجوتناؤ کے حالات پیدا ہوگئے ہیں ، اسے گاندھی جی کے اصولوںسے ختم کرکے عالمی امن کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ مشہور دانشور اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر آنند وردھن نے گاندھی کی زندگی اور ان کے کام کرنے کے انداز پر چرچاکرتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی قانون، ہمدردی اور انقلاب کے اصول پر چلتے تھے۔ ان کی حیات مہان کرم یوگی کی تھی۔

 

 

سیمنا رسے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی و مصنف سنجے کمار نے کہا کہ عالمی امن میںگاندھی جی کے کردار کو نظرانداز نہیںکیا جاسکتاہے۔ ان کے آدرش آج بھی پیغام دیتے ملتے ہیں۔ شری کمار نے کہا کہ گاندھی جی نے بغیر کسی کو ایک لاٹھی مارے نیل کے کسانوںکو انگریزی حکومت اور جاگیرداروں سے آزادی دلائی۔ انھوںنے کہا کہ آج ملک کے اندر جانور کے نام پر لوگوںکو مار دیا جاتا ہے۔ مشہور صحافی سنیل پانڈے نے سیمنار کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی آتما کچوٹتی ہوگی کہ ملک کے صحافی، صحافی نہ ہوکر صرف میڈیا کرمی ہوکر رہ گیا ہے۔ نوجوان دانشور صحافی دھیریندر کمار نے سیمنار میںموجود صحافیوں کے بیچ جرنلاسٹک بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیںاپنے مسائل کا حل خود اپنی سطح پر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گاندھی جی کے اس خیال کو آہنگ کریں جس میںانھوںنے کہا تھا کہ ہمیںتشدد اور بزدلی میںسے کسی ایک کو اپنانے کی ضرورت ہوتو ہم اپنی حفاظت کے لیے تشدد کو چنیں۔ وہیں انڈین میڈیا جرنلسٹ یونین کے قومی صدر بالاجی بھاسکر نے کہاکہ باہر میںبہار کا جو خاکہ کھینچا جاتا ہے، یہاںآکر ان غلط فہمیوں سے نجات مل گئی۔ وہیں آئی ایم جے یو دہلی کے نمائندے اور انڈین ایکسپریس کے پسندیدہ صحافی انل مشرا نے مجٹھیا کمیٹی کے پروویژنس کی تشریح کی۔ ملک اور بیرون ملک سے آئے کئی صحافیوں نے بھی سیمنار سے خطاب کیا۔
اس موقع پر متعدد ممتاز صحافیوں بشمول سنتوش بھارتیہ، سدھانشو رنجن، راجیو مشرا، سنجے کمار کو ’پیر محمد مونس ایوارڈ ‘ سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں چمپارن اور ملک کے دوسرے مقامات سے اس سیمنار میںاہم شرکاء کی بھی عزت افزائی کی گئی۔ توقع ہے کہ چمپارن ستیہ گرہ صدی کی تقریبات سے گاندھی جی کے عدم تشدد اور امن کے پیغام کو ایک بار پھر ملک میں پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *