ایک نئی بغاوت کی زمین تیار کررہی ہے بیوروکریسی

جب فیصلے سیاسی نہیںہوتے، بلکہ بیورکریسی کے ذریعہ لئے جاتے ہیں تب ملک کو بڑی پریشانیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔ الزام ہمیشہ سیاست دانوں پر آتا ہے۔ نوکرشاہی اس سے دور کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ دراصل فیصلے تو سسٹم لیتا ہے، مطلب نوکرشاہی لیتا ہے۔ ہم حال کی تاریخ میں دیکھیں تو سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کو سسٹم نے پیدا کیا۔ انہیں مدد دی، بڑھایا، نام چاروں طرف پھیلایا، پھر وہی بھنڈرانوالے جب آگے بڑھ گئے، تب سسٹم نے کہا کہ وہہندوستان کے لئے خطرہ بن گئے ہیں اور بھنڈراوالے کو ختم کرنے کے لئے سورن مندر میں فوج بھیج دی۔ قصور اندرا گاندھی پر آیا۔ کن نوکرشاہوں نے ایسا فیصلہ لیا، یہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ اسی وقت دوسرا حادثہ سری لنکا میں ہوا۔ لٹّے اور اس کے لیڈر پربھاکرن کو ہمارے سسٹم نے پیدا کیا۔ الزام راجیو گاندھی پر آیا۔ کن نوکرشاہوں نے لٹّے اور پربھاکرن کو بڑا بنانے کا فیصلہ لیا، یہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ پہلے حادثے کے بعد اندرا گاندھی اور دوسرے حادثے کے بعد راجیو گاندھی کا قتل ہوا۔ اس وقت ہی سسٹم کشمیر اور نارتھ ایسٹ کو لے کر فیصلہ لے رہا ہے ۔
نارتھ ایسٹ میں جو ہوا، اس کی خبر بھی میڈیا میں نہیں آ رہی ہے۔ ناگائوں کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا، اس سمجھوتہ میں ہم نے فوج، کرنسی اور جیوڈیشری ان کو سونپ دی۔ سسٹم نے ایک نئے لفظ کا ایجاد کیا’شیئرنگ سورنیٹی ‘یعنی حاکمیت میں شراکت داری۔اس سمجھوتے کو پارلیمنٹ کے سامنے بھی نہیںرکھا گیا۔یہ کہہ دیا گیا کہ ایسا کرنا سیکورٹی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ آج ناگالینڈ میں ناگائوں کے پاس اپنی پانچ ہزار کی فوج ہے۔ ظاہر ہے، یہ فیصلہ وزیر اعظم سطح پر نہیں لیا گیا ہوگا۔ اس کا فیصلہ نوکر شاہوں نے لیا ہوگا اور وزارت داخلہ کے سامنے لیا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو سمجھایا گیا ہوگا کہ ناگالیند میں امن کے لئے یہ سمجھوتہ صحیح ہوگا اور اسے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے مان لیا۔
کشمیر کی صورت حال کی ذمہ داری بھی نوکرشاہوں پر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ لیڈروں کو فلشڈ کیا ہے۔چاہے جواہرلعل نہرو ، اندرا گاندھی، وی پی سنگھ، چندر شیکھر ،دیو گوڑا، اٹل بہاری واجپئی یا پھر منموہن سنگھ رہے ہوں اور اب نریندر مودی ، یہ سبھی لوگ کشمیر کو لے کر وہی زبان بولتے رہے، جو زبان نوکرشاہوں نے انہیں سکھائی ۔کشمیر کو دیکھنے والا ایک سیل ہے، جس میں ماہر کے طور پر بڑے نوکرشاہ رہتے ہیں۔ یہی لوگ کشمیر کے مسئلے کو الجھاتے چلے جارہے ہیں۔ ان دنوں کشمیر کا مسئلہ الجھتے الجھتے ایسی جگہ پہنچ گیا ہے، جہاں سے بھیانک تباہی کی طرف ایک راستہ جارہا ہے۔ دوسرا راستہ اب بھی ہے کہ ہم کشمیر کے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں،لیکن شاید زمین اپنے ساتھ رکھنے میں ہماری زیادہ دلچسپی ہے ،لوگوں کو ساتھ رکھنے میں ہماری دلچسپی نہیں ہے۔ نوکرشاہ دھیرے دھیرے کشمیر کو وہاں پہنچا رہے ہیں، جہاں براہ راست یا بالواسطہ غیر ملکی مداخلت سامنے نظر آرہی ہے۔

 

اس کے علاوہ ملک کے سامنے بہت سارے مسائل ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی سارے نکتے بھی بتائے ہیں۔ لیکن انتخاب کے اوپر عمل کرنا یا نہ کرنا سینئر نوکر شاہوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو سینئر نوکر شاہ ملک کو چلا رہے ہیں،وہ وزیر اعظم کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کو یاسجھائے گئے راستوں پر چلنا اپنا فرض نہیں سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر بھائی مودی نے جتنے بھی اعلانات کئے ،ان میں سے ایک بھی اپنے سر نہیں چڑھ سکے۔ کیونکہ نوکر شاہ انہیں سرچڑھانا ہی نہیں چاہتے۔ ایک سال پہلے پارلیمنٹ کے انیکسی میں سینئر نوکرشاہوں کا سمیلن ہوا۔ وہ ایک سال میں صرف ایک بار ہوتاہے۔ اتفاق سے میں وہاں تھا۔ جب سمیلن ختم ہونے کے بعد لنچ بریک ہوا ، تو مجھے سارے آئی اے ایس آفیسر ،چاہے وہ گجرات، تمل ناڈو، اترپردیش یا کرناٹک کے ہوں،تقریباً سبھی وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید کرتے دکھائی دیئے کہ ان کے سامنے کوئی صاف نقشہ نہیں ہے۔ہمیںکیسے کام کرنا چاہئے، اس کے بارے میں یہ سیکھ دے رہے ہیں۔یہ دیکھ کر میں حیران تھا، لیکن ایسا ہوا۔
وزیر اعظم نے اپنے سیاسی ساتھیوں کے ہاتھ سے، میرا مطلب مرکزی کابینہ کے وزیروں سے کمان چھین کر نوکرشاہوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیا۔ ہر وزیر ڈرا ہوا ہے۔وہ اپنے سکریٹری سے کچھ بھی کہنے میں ہچکتا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم دو دو بار یہ کہہ چکے ہیں کہ جو بھی نوکرشاہ چاہے، وہ ان سے سیدھے بات کرسکتاہے ۔اب وزیراعظم کا یہ حکم نوکر شاہوں کو کام کرنے میں تو موٹیویٹ نہیںکرسکا لیکن اپنے وزیر کو ڈرانے میں اس نے اس حکم کا بھرپور سہارا لیا۔ مرکزی کا بینہ میں صرف نتین گڈکری ، پٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان جیسے ایک ہی دو وزیر ہیں، جو اپنے سکریٹری سے بغیر ڈرے اپنی اسکیم کے اوپر کام کررہے ہیں۔باقی زیادہ تر وزیر سکریٹری کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے چوہا بلی کی طرف دیکھتا ہے۔
وزیروں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ اپنا رپورٹ کارڈ بھی اپنے سکریٹریوں کے رحم و کرم سے بنا رہے ہیں۔ میں سوال اس لئے کھڑا کھڑا کر رہا ہوں کہ وزیر اعظم کو آج نہیں تو کل یہ سوچنا پڑے گا کہ سیاسی آدمی، جو مرکزی کابینہ کا ممبر ہے، اس کا عوام کے ساتھ رابطہ رہتا ہے ۔کارکنان اس کے پاس آتے ہیں۔ اس کے حلقے کے عوام آتے ہیں۔ اپنی تکلیفیں بتاتے ہیں۔ پریشانیوں کو دور کرنے کے راستے بھی سجھاتے ہیں۔ لیکن نوکرشاہوں کے پاس تو کوئی نہیں جاتا۔ اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ جو فیصلے لے رہے ہیں، اس کا عوام کے اوپر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ آج ملک کی یہی صورت حال ہے۔ نوکرشاہ ایک طرح سے سوچ رہا ہے، کابینہ کے ممبر ایک طرح سے سوچ رہے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی ایک طرح سے سوچ رہے ہیں۔ دراصل وزیر اعظم کے پاس بھی لوگوں کی تکلیفوں یا ان کی جانکاریوں کے پہنچنے کا راستہ صرف اورصرف اخبار اور ٹیلی ویژن ہے۔ان کے کارکن ،عوام ان سے نہیں مل سکتے۔انہوں نے وہ سارے راستے بندکر دیئے ہیںجو گجرات میں کھلے تھے۔ اس وقت ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ عوام کے درمیان جائیں۔ وہ عوام کے بیچ جاتے ہیں،لیکن اپنی بات کہتے ہیں،عوام کی بات نہیں سنتے ہیں۔ ان کی پارٹی عوام کے بیچ مودی مودی کا نعرہ لگواکر وزیر اعظم کی فضیحت کررہی ہے۔ دراصل پارٹی نہیں فضیحت کررہی ہے، پارٹی میں کچھ ایسے لوگ فضیحت کروا رہے ہیںجن کا اسی صورت حال میں فائدہ ہے۔ یہ باتیں میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ نوکرشاہی اس ملک میں ایک نئی بغاوت کی زمین تیار کررہی ہے۔ وہ بغاورت ہے کسان بغاوت۔ہر ایک ریاست کا کسان ناخوش ہے۔ کسان وزیر اعظم مودی کی بات کے اوپر بھروسہ کر کے ووٹ دینے نکلا تھا۔ اس نے اتر پردیش میں بھی ووٹ دیا۔ اسے امید تھی کہ وزیر اعظم مودی اس کی زندگی سدھارنے کے لئے کچھ ضرور کریں گے۔ اپنے وعدوں کے اوپر عمل کریںگے لیکن نوکر شاہوں نے ان ساری امیدوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ اب پہلی بار ان جگہوں پربھی کسان خود کشی کررہا ہے، جہاں کبھی خود کشی ہوئی ہی نہیں تھی،جیسے جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ ، مدھیہ پردیش میں تو خود کشیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پچھلے ایک مہینے کے اندر 25سے زیادہ خود کشیاں مدھیہ پردیش میں ہو چکی ہیں۔ مہاراشٹر خود کشیوں کی فصل پیدا کرنے والا کھیت بنتا جارہا ہے۔ یہ خودکشیاں کسانوں میں غصہ پیدا کررہی ہیں اور کسان سرکار کے خلاف کھڑا ہے تو اس صورت حال کے پیدا کرنے کے لئے اگر کوئی ایک طبقہ ذمہ دار ہے تو وہ نوکر شاہ ہیں۔ وہ نوکر شاہ آئی اے ایس آفیسر ہو سکتے ہیں، آئی پی ایس آفیسر ہو سکتے ہیں ، راء ہو سکتی ہے اور شاید یہیں سے ایک راستہ نکلا ہے کہ انکم ٹیکس ،انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سی بی آئی ان سب کا ڈر دکھا کر وزیروں کو بھی قابو میں رکھیں اور مخالفین کو بھی قابو میں رکھیں۔

 

کسان بغاوت نہ ہو ،کسان قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں، ملک میں پُرتشدد آندولن نہ شروع ہو،اس کی ذمہ داری نبھانے کا کام خود وزیر اعظم کو کرناہوگا۔ سیاست دانوں کو کرناہوگا۔ وزیر اعظم کوہو سکتا ہے کہ نوکرشاہ یہ سمجھائیں کہ آپ اس میں مت دھیان دیجئے۔ جیسے نکسلواد کا مسئلہ ، لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے، ویسے کسانوں کے مسئلے بھی لاء اینڈآرڈر کا مسئلہ ہے۔ ہو سکتا ہے وزیر اعظم سمجھ بھی جائیں ۔لیکن میرا ذہن نہیں مانتا ہے کہ وزیر اعظم اتنے بھولے ہوںگے کہ وہ اس بات کے اندر چھپی ہوئی سازش کو نہ سمجھ پائیں۔ ہر بار درخواست وزیر اعظم سے اس لئے کرنا ہوتا ہے،کیونکہ باقی کابینہ کے ممبر تو صفر ہیں۔ کس نوکر شاہ سے درخواست کریں؟ اس لئے وزیر اعظم سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ ان اندرونی بغاوت کو سمجھ کر سسٹم یعنی نوکرشاہوں کی کاہلی کو سمجھ کر سیاسی فیصلہ لیں اور نئے پیدا ہونے والے مسئلے ، کسان مسئلے کو سلجھانے میں اپنی پوری طاقت لگائیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *