بشیرہاٹ فساد: تل کا تاڑ بناکر پیش کیا گیا

 

مغربی بنگال گزشتہ دوتین سالوں سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی وجہ سے قومی میڈیا کی سرخیوں میں ہے، 2014کے بعد سے ہی بنگال کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے ۔ بنگال کی قدیم سیاسی جماعتوں کااثر و رسوخ ختم ہورہا ہے تو بی جے پی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بنگال میں اثر و رسوخ قائم کرنے کیلئے سرگرداں ہے ،کا دائرہ اثر تیزی بڑھ رہا ہے ۔سیاسی منظرنامہ کی اس تبدیلی نے بنگال کے عوام کی سوچ ، نظریہ ، رہن سہن، سماجی تانے بانے کو بھی متاثر کیا ہے۔گرچہ یہاں کے سماجی تانے بانے میں فرقہ وارا نہ ہم آہنگی کی جڑیں کافی مضبوط ہیں ۔اس کا قلع قمع بہت ہی آسان نہیں ہے تاہم تبدیلی نے دستک ضروری دی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال 30جون کوفیس بک پر ایک متنازع پوسٹ جس میں خانہ کعبہ کی توہین کی گئی تھی، کے وائرل ہونے کے بعد کلکتہ شہر سے محض 70-80کلو میٹر کی دوری پر واقع بشیر ہاٹ سب ڈویژن میں ہونے والے واقعات ہیں۔جہاں پر ایک احتجاج کو فرقہ وارانہ فسادات کا نام دیدیا گیا اور قومی میڈیا میںیہ خبریں چلنے لگیں کہ بنگال کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندئوغیر محفوظ ہیں اور کشمیری پنڈتوں کی طرح یہاں سے مقامی ہندئوں کو نکالاجارہا ہے‘ ۔
بشیر ہاٹ سب ڈویژن کے بادوریا تھانے کے مکر کھالی گائوںکے رہنے والے 12ویں جماعت کے طالب علم سوربھ سرکارکے فیس بک اکائونٹ پر بہت ہی متنازع ویڈیو پوسٹ ہونے کے بعد مسلم نوجوانوں کے ذریعہ ہنگامی آرائی ، توڑ پھوڑ اور بشیر ہاٹ سب ڈویژن کے مختلف مقامات پرروکاوٹیں کھڑی کیے جانے کا واقعہ (خیال رہے کہ قومی میڈیا اس کو ہی فرقہ ورانہ فسادات قرار دے رہا ہے)پولس انتظامیہ کی لاپرواہی، مسلم قیادت کی ناعاقبت اندیشی ، میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور بی جے پی جیسی قومی پارٹی کے لیڈروں کے ذریعہ فرضی فوٹوں کو پوسٹ کرکے ہندئوں کو اشتعال دلانے کی کوششوں پرکئی سوالات کھڑے کرتے ہیں ۔
راقم الحروف نے گزشتہ پندرہ سالوں میں متعدد فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ کی ہے۔ حال ہی میں درگا پوجا اور یوم عاشورہ کے موقع پر شمالی 24پرگنہ کے ہی حاجی نگر، ماڑ واری کل اور دیگرعلاقوں میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ کی ہے جس میں جگہ جگہ مکانات ، دوکانیں جلادی گی تھیں ، کئی علاقوں سے مسلمانوں کو اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑا تھا ۔مگر بشیر ہاٹ سب ڈویژن کے 100کلو میٹر کے قریب علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بھی کہیں پر بھی وہ منظر نامہ نظر نہیں آیا جو عام طور پر فرقہ وارانہ فسادات کے بعد تباہی و بربادی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ بادوریا تھانہ پر ضرور حملہ ہوا اور آس پاس کے دوکانیں کو نقصان پہنچایا گیا ۔اسی طرح بشیر ہاٹ شہر جہاں ہندئوں کی اکثریت ہے میں مسلم پھل فروشوں کی دوکانوں اور عدالت کے احاطے میں واقع مسجد پر معمولی حملے ہوئے مگر جتنے بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں نے توہین رسالت کے خلاف سڑک جام اور احتجاج کیا اورجس طریقے سے قومی میڈیا میں اس کی رپورٹنگ کی جارہی تھی اور اس کا موازنہ کشمیر اور گجرات فسادات سے کیا جارہا تھا ، اس اعتبار سے تباہی و بربادی کہیں پر بھی نظر نہیں آئی ۔

 

 

بشیر ہاٹ شہر میں موبائل ریچارج کا کارو بار کرنے والے سچن منڈل سے جب یہ سوال کیا کیا گیا کہ بشیر ہاٹ میں بھی کشمیر جیسے حالات ہیں، کیا یہاں سے ہندئوں کو نکالاجارہا ہے ؟ منڈل میرے سوالوں پر چونک گئے کہ میں کیا سوال پوچھ رہا ہوں؟ منڈل نے کہا کہ یہ سب سیاسی سازش ہے۔انگریزی اور ہندی نیوز چینلوں پر جو دکھلایا جارہا ہے، وہ حقیقت سے کہیں زیادہ ہے ۔ کسی بھی مذہب کی توہین نہیں ہونی چاہیے مگر توہین آمیز پوسٹ کرنے والے لڑکے کی گرفتار ی کے بعد مسلمانوں کو اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ان کے احتجاج کی وجہ سے علاقے کے امن و امان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔سچن منڈل کہتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں زیادہ تر کم عمر کے نوجوان تھے ۔وہ کسی کی بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ہمارے اس سوال پر کیا اس علاقے میں دوبارہ امن قائم ہوسکے گا، وہ کہتے ہیں کہ یہاں کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم کے درمیان اتحادوبھائی چارہ رہا ہے ۔ایک دو حادثے کی وجہ سے یہ ختم نہیں ہوسکتا ہے ۔ہاں اس کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔
ہم اس گائوں میں بھی گئے جہاں کے رہنے والے سوربھ سرکار نے متنازع پوسٹ کیا تھا۔بادوریا تھانے میں واقع مکر کھالی بستی انتہائی پسماندہ ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ،یہاں ہندئوں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے ۔سوربھ سرکار کا گھر جہاں پر واقع ہے وہاں سے محض چند قدموں کی دوری پر ہی ایک بڑی مسجد ہے ۔مسجد کے آس پاس کئی ہندئوں کے مکانات بھی ہیں ۔مسجد کے 65سالہ امام مولانا یٰسین نے بتایا کہ ’’فیس بک ‘‘ کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے ہیں، 2جولائی کی شام آچانک ایک بھیڑ یہاں جمع ہوگئی ۔اس وقت ہم لوگ مسجد میں مغرب کی نماز ادا کررہے تھے۔نماز کے بعد معلوم کیا کہ ہنگامہ آرائی کیوں ہورہی ہے؟ بھیڑ میں شامل نوجوانوں نے فیس بک کے پوسٹ کو دکھلایا جس میں پیغمبرؐاور خانہ کعبہ کی توہین کی گئی تھی۔ہم نے سوربھ سرکار کے گھر والوں سے بات کی ،ان لوگوں نے بھی غلطی کو تسلیم کیا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔اسی درمیان ہمیں معلوم ہوا کہ سوربھ سرکار کو پولس نے گرفتار کرلیا ہے، مگر بھیڑ ہنگامہ آرائی پر آمادہ تھی۔ مقامی لوگوں نے سوروپھ سرکار کے گھروالوں کو کچھ نہیں ہونے دیا ۔کچھ لوگوں نے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کی ۔مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے ۔مسجد کے امام کہتے ہیں کہ یہ سب باہری لوگ تھے۔گائوں میں ہندو مسلم پہلے بھی مل جل کر رہتے تھے اور اب بھی رہتے ہیں۔امام صاحب سے بات ہی کررہے تھے کہ سوربھ سرکار کا دوست سوچن سرکار جو مسجد کے دوسری جانب رہتا ہے وہ وہاں پہنچ گیا۔ہم نے سوچن سرکار سے پوچھا کہ اس گائوں میں رہنے میں ڈر نہیں لگ رہا ہے؟ ۔منڈل نے کہا کہ اب حالات نارمل ہوچکے ہیں ۔باہری لوگ تھے۔جنہوں نے ہنگامہ آرائی کی ۔منڈل نے بتایا کہ سوربھ سرکار نے فیس بک پر یہ پوسٹ نہیں کیا تھا۔اسکول کے ایک لڑکے سے سوروپ منڈل کا جھگڑا ہوگیا تھا۔وہ پہلے سوروپ کا دوست تھا۔اس لڑکے کو سوروپ کے فیس بک کا آئی ڈی اور پاس ورڈ معلوم تھا۔لہٰذا اس نے بدلہ لینے کیلئے یہ پوسٹ کیا ہے۔
بشیر ہاٹ سب ڈویژن کے واقعہ پر جس طریقہ سے حکومت نواز میڈیا نے رپورٹنگ کی ہے اور بی جے پی لیڈروں نے فرضی تصویریں اور ویڈیو کو پوسٹ کیا ہے اسے دیکھنے کے بعد ممتا بنرجی کے اس دعویٰ میں کہیں نہ کہیں صداقت نظر آتی ہے کہ یہ سازش کا حصہ ہے؟ ایک ایسے دور میں جب فیس بک اور دیگر سماجی ویب سائٹ کے اکائونٹ کا ہیک کرنا آسان ہو تو یہ ممکن ہے کہ ایک سازش کے تحت سوربھ سرکار کے فیس بک اکائونٹ ہیگ کرکے جان بوجھ کر یہ متنازع ویڈیو پوسٹ کیا گیا تاکہ مسلمانوں کو بھڑکایا جائے اور اس کا فائدہ حاصل کیا جائے۔نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے بھی میڈیا میں دیے گئے اپنے بیان میں اسی حقیقت کی جانب توجہ دلائی ہے مقامی انتظامیہ کی ناکامی
متنازع پوسٹ 30جون کو ہی وائرل ہونا شروع ہوگیاتھا ، اس کے اگلے دو دنوں تک مسلمانوں میں ناراضگی بڑھ رہی تھی۔ مقامی مسلم لیڈر شپ جس میں ایک خانقاہ کے دو پیر شامل ہیں اشتعال انگیز تقریریں کررہے تھے ۔مگر اس کے باوجود پولس انتظامیہ خاموش تھی۔سوربھ سرکار کی گرفتاری میں تاخیر برتی گئی ؟اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پولس اہلکار کو علاقے میں امن قائم کرنے کیلئے اتارنے میں تاخیر سے کام لیا گیا ۔دوسرے یہ کہ اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔اگر بروقت کارروائی ہوجاتی تو اتنابڑا واقعہ پیش نہیں آتا۔جب معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تو حکومت نے مقامی ممبر پارلیمنٹ ادریس علی، راجیہ سبھا کے ممبر احمد حسن عمران اور ریاستی وزیر مولانا صدیق اللہ چودھری کو میدان میں اتارا مگریہ بے اثر ثابت ہوئے ۔ناراض مسلم نوجوان ان لیڈروں کی بات سننے کو تیار نہیں ہوئے بلکہ ان لیڈروں پر بھی حملے ہوئے۔

 

 

مسلم لیڈر شپ کے بے اثری
بلاشبہ توہین رسالت کا معاملہ مسلمانوں کیلئے ہمیشہ سے حساس رہا ہے ۔ نبیؐ کی معمولی توہین بھی مسلمانوں کو ناقابل برداشت رہا ہے۔لیکن ایسے موقعوں پر مسلم لیڈر شپ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بھڑکنے سے روکیں۔ مغربی بنگال میں گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں اس طرح کا یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں توہین رسالت کے بعد مسلم نوجوان بے قابو ہوئے ہیں۔گزشتہ سال 3جنوری 2016کو مالدہ ضلع کے کالیا چک میں یہی صورت حال پیدا ہوگئی تھی ۔مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد توہین رسالت کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئی مگر بعد میں مجمع میںسماج دشمن عناصر داخل ہوگئے اور ان لوگوں نے مل کر کالیا چک پولس اسٹیشن میں آگ لگادی ۔اب بشیر ہاٹ سب ڈویژ ن میں بھی یہی صورت پیدا ہوئی ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب لیڈر شپ میں بھیڑ پر قابوپانے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ عوام کو بھڑکانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟۔ان حالات میںہندئوں اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کو پانٹنے کی کوشش کی شروعات مسلم لیڈر شپ کی طرف سے ہونی چاہیے کیوں کہ فرقہ پرست قوتیں عوام کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں اور اس کا نقصان مسلمانوں کو ہی اٹھانا پڑے گا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *