امرناتھ یاتریوں پر حملہ : سیکورٹی ایجنسیوں کی لاپرواہی کا ثبوت

61یاتریوںسے بھری بس پر دہشت گردوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیئے تو صرف20سیکنڈ میں 5خواتین سمیت 7افراد ہلاک اور 19زخمی ہوگئے۔ڈرائیورنے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس کو روکنے کے بجائے اسے تیزی سے بھگادیا ، جس کی وجہ سے صرف 20 سیکنڈ تک ہی یہ گاڑی گولیوں کی زد میں رہی ۔ اگر ڈرائیور نے حواس باختہ ہوکر گاڑی روک دی ہوتی تو شاید اس میں سوار ایک بھی امرناتھ یاتری زندہ نہیں بچ پاتا۔ بس جب کافی دور جاکر رک گئی تو اس میں سوار مسافروں کی چیخ و پکار نے آس پاس کے لوگوں کو متوجہ کیا۔ مقامی باشندگان کا کہنا ہے کہ یہ قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔

 

 

10جولائی کی رات جموں وکشمیر میں سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے خطرناک اور حساس علاقے یعنی جنوبی کشمیر میں رونما ہوئے اس واقعہ کی ساری تفصیلات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی وساطت سے سامنے آئی ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امرناتھ یاتریوں پر یہ دہشت گردانہ حملہ بنیادی طورپر جموں وکشمیر کی حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کی بدترین ناکامی کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ریاستی اور مرکزی سرکاریں اور سیکورٹی ایجنسیاں امرناتھ یاترا شروع ہوجانے سے ہفتوں پہلے سے یہ مالا جپنے لگی تھیں کہ یاترا کی حفاظت کے لئے غیر معمولی تیاریاں کی جاچکی ہیں۔ یاتریوں کی حفاظت کیلئے 40ہزار اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس سانحہ سے جڑی تفصیلات بتارہی ہیں کہ یہ واقعہ سیکورٹی ایجنسیوں کی لاپراہی سے رونما ہوا ہے۔ اندازہ لگائیں 61مسافروں سے بھری یہ بس امرناتھ یاترا کے قافلے میں رجسٹرڈ نہیں تھی۔ صرف بس ہی نہیں بلکہ اس میں سوار کسی بھی یاتری نے رجسٹریشن نہیں کروایا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی اصولوں کی رو سے ہر یاتری کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ رجسٹریشن کیلئے ملک بھر میں سینکڑوں کائونٹر کھولے جاچکے ہیں۔ صرف بس اور یاتری ہی رجسٹریشن کے بغیر نہیں تھے بلکہ’’ اوسائی ٹرائولز‘‘ نامی یہ ایجنسی جس کے ذریعے یہ یاتری کشمیر آئے تھے، بھی ریاست کی کسی ٹور اینڈ ٹریول ایسوسی ایشن میں شامل نہیں ہے لیکن ان سب کے باوجود یہ یاتری کشمیر آئے اور امرناتھ گپھا میں جاکر درشن بھی کئے اور پھر وہاں سے واپس بھی آئے ۔ کیا یہ سیکورٹی لِپس نہیں ہے؟ اگر بغیر رجسٹریشن 61افراد کا گروپ گپھا تک پہنچ سکتا ہے اوروہاں سے واپس بھی آسکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی جاسکتا ہے اور حکومت کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔یہ تو اس بس پر حملہ ہوا اور پتہ چلا کہ یہ بغیر رجسٹریشن کی تھی، نہ معلوم ان جیسے کتنے یاتری رجسٹریشن وغیرہ کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہاں آتے ہوں اور واپس چلے جاتے ہوں۔

 

 

بس پر یہ حملہ ٹھیک رات 8:25 بجے ہوا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے طے کئے گئے ضوابط کے مطابق امرناتھ یاتریوں کو شام سات بجے کے بعد چلنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بس ساڑھے آٹھ بجے جنوبی کشمیر کی شاہراہ پر کیسے جارہی تھی اور سیکورٹی ایجنسیوں کو اس کے بارے میں پتہ کیوں نہیں تھا؟
جس جگہ پر حملہ ہوا، اس سے صرف دو سو میٹر کی دوری پر ایک فوجی کیمپ ہے۔ کشمیر پولیس کے اسپیشل ٹاسک فورس کی ایک پوسٹ بھی پاس میں ہے، لیکن اس کے باوجود عینی شاہدین کے مطابق سیکورٹی فورسز حملے کے 25منٹ بعد موقع پر پہنچے ۔ کیا یہ سیکورٹی لِپس نہیں ہے؟
جموں وکشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) منیر احمد خان کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پہلے ہی اطلاع دی تھی کہ امرناتھ یاتریوں پر حملہ ہوسکتا ہے۔آئی جی نے صرف دو دن پہلے سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے نام ایک لیٹر میں انہیں مطلع کیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ملی ٹینٹ امرناتھ یاتریوں پر بہت بڑا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لیٹر میں لکھا گیا ہے کہ ملی ٹینٹ سو ،ڈیڑھ سو یاتریوں اور سو پولیس افسران کو مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ملک بھرمیں مذہبی منافرت پھیلائی جاسکے لیکن ا نٹیلی جنس ایجنسیوں کی اس اطلاع کے باوجود سیکورٹی ایجنسیاں یہ حملہ رکوانے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا لیکن پھر حکومت لاپرواہی کی مرتکب کیوں ہوئی؟

 

 

یہ وہ سوالات ہیں ، جن کا جواب بہر حال حکومت کو دینا پڑے گا۔کشمیر کی سول سوسائٹی اورٹریڈرس نے اس حملے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ حملے کے ایک دن بعد سری نگر کے پرتاپ پارک میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں، تاجران ، لیڈروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس حملے کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حملے نے عام کشمیریوں کودم بخود کردیا ہے۔ یہ گزشتہ تیس سال کے پر تشدد حالات میں امرناتھ یاتریوں پر اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا حملہ ہے۔
پہلا حملہ اگست2000ء میں پہلگام کے قریب یاتریوں کے بیس کیمپ پر ہوا تھا۔اس حملے میں 21یاتری، 6 عام کشمیری اور 2 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ اُس وقت بھی مرکز میں بی جے پی کی سرکار قائم تھی۔اس حملے کی تحقیقات ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی جس کی قیادت فوج کی پندرھویں کور کے کمانڈر کررہے تھے، نے کروائی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنیادی طور پر سیکورٹی فورسز اور پولیس تھی لیکن یاتری اس کی زد میں آگئے۔آج 17سال بعد یاتریوں پر دوبارہ حملہ ہوا تو کشمیری عوام نے کھل کر اس کی مذمت کی ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نوجوانوں نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ۔کشمیریت اور انسانیت پر حملہ قرار دیا گیا۔ مذہبی لیڈروں نے اسے ایک غیر اسلامی فعل قرار دیا۔ حریت لیڈروں نے بھی بیک زبان اس کی مذمت کی۔ تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور دیگر مکاتب فکر سے وابستہ انجمنوں نے بھی اپنے بیانات میں اس حملے کی شدید مخالفت کی۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت جلد از جلد اس کی تحقیق کرائے اور اس میں ملوث افراد کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائے۔ ساتھ ہی حکومت کو یہ بتانا پڑے گا انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیشگی اطلاعات کے باوجود سیکورٹی ایجنسیوں نے اس قدر لاپراہی کا مظاہرہ کیوں کیا؟ اصل تفصیلات تب ہی سامنے آئیں گی جب اس واقعہ کی بڑے پیمانے پر آزادنہ تحقیقات ہوں۔مستقبل میں کسی ایسی واردات کو ہونے سے روکنے کیلئے یہ تحقیقات کرنی ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *