اڈوانی کی تنہائی ہندوستانی سیاست کی تنہائی ہے

رویش کمار
لال کرشن اڈوانی کی تنہائی ہندوستانی سیاست کی تنہائی ہے۔ ہندو کاسٹ سسٹم کے پیترپروشوں کی تنہائی ایسی ہی ہوتی ہے۔ جس مکان کو زندگی بھر بناتا ہے،بن جانے کے بعد خود مکان سے باہر ہوجاتا ہے۔ وہ آنگن میں نہیں رہتا ہے۔ گھر کی دہلیز پر رہتا ہے۔ سارا دن اور کئی سال اس انتظار میں کاٹ دیتا ہے کہ اندر سے کوئی پکارے گا۔ بیٹا نہیں توبہو پکارے گی، بہو نہیں تو پوتا پکارے گا۔ جب کوئی نہیں پکارتا ہے تو خود ہی پکارنے لگتا ہے۔ گلا کھکھارنے لگتا ہے۔ گھر کے اندر جاتا بھی ہے لیکن کسی کو نہیں پاکر اسی دہلیزپر لوٹ آتا ہے۔ بیچ بیچ میں سنیاس لینے اور ہری دوار چلے جانے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔ مگر پھر وہیں ڈیرا جمائے رہتا ہے۔
گزشتہ تین سال کے دوران جب بھی اڈوانی کو دیکھا ہے، ایک گنہگار کی طرح نظر آئے ہیں۔ بولنا چاہتے ہیں مگر کسی انجان ڈر سے چپ ہوجاتے ہیں۔ جب بھی چینلوں کے کیمروں کے سامنے آئے، بولنے سے نظریںچرانے لگے۔ آپ اڈوانی کے تمام ویڈیوز نکال کر دیکھئے۔ ایسا لگتا ہے ان کی آواز چلی گئی ہے۔ جیسے کسی نے انھیں شیشے کے بکس میں بند کردیا ہے۔ اس میں دھیرے دھیرے پانی بھر رہا ہے اور وہ بچانے کی اپیل بھی نہیںکرپارہے ہیں۔ ان کی چیخ باہر نہیںآ پارہی ہے۔ ان کے سامنے سے کیمرہ گزرجاتا ہے۔ اڈوانی ہوکر بھی نہیںہوتے ہیں۔

 

کیا اڈوانی کی تنہائی اس پرانی قمیض کی طرح ہے جو بہت دنوں سے رسی پر سوکھ رہی ہے مگر کوئی اتارنے والا بھی نہیںہے۔ بارش میںکبھی بھیگتی ہے،تو دھوپ میںسکڑ جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے قمیض میلی ہونے لگتی ہے۔پھر رسی سے اتر کر نیچے کہیںگری ملتی ہے۔جہاںتھوڑی سی دھول جمی ہوتی ہے، تھوڑا پانی ہوتا ہے۔ قمیض کو پتہ ہے کہ دھونے والے کے پاس اور بھی قمیض ہے،نئی قمیض ہے۔
کیا اڈوانی تنہائی میں روتے ہوں گے یا کمرے میں بیٹھے بیٹھے کبھی چیخنے لگتے ہوں گے،کسی کو پکارنے لگتے ہوں گے؟ بیچ بیچ میںاٹھ کر اپنے کمرے میں چلنے لگتے ہوں گے یا کسی ڈر کی آہٹ سن کر واپس کرسی پر لوٹ آتے ہوں گے؟ بیٹی کے علاوہ دادا کو کون پکارتا ہوگا؟ کیا کوئی وزیر اعلیٰ ، مرکزی وزیر یا عام لیڈر ان سے ملنے آتا ہوگا؟ آج ہر وزیر نہانے سے لے کر کھانے تک کی تصویر ٹویٹ کردیتا ہے۔ دوسری پارٹی کے لیڈروں کی جینتی کی تصویر بھی ٹویٹ کردیتا ہے۔ ان لیڈروںکی ٹائم لائن پر سب ہوں گے مگر اڈوانی نظر نہیںآئیں گے۔ سب کو پتہ ہے اب اڈوانی سے ملنے کا مطلب اڈوانی ہوجاناہے۔
روز صبح اٹھ کر وہ تنہائی میں کس کی شبیہ دیکھتے ہوںگے،حال کی یا تاریخ کی۔ کیا وہ دن بھر اخبار پڑھتے ہوں گے یا نیوز چینل دیکھتے ہوں گے۔ فون کی گھنٹیوں کا انتظار کرتے ہوںگے؟ ان سے ملنے کون آتا ہوگا؟ نہ تو وہ مودی مودی کرتے ہیں، نہ ہی کوئی اڈوانی اڈوانی کرتا ہے۔ آخر وہ مودی مودی کیوںنہیں کرتے ہیں، اگر یہی کرنا ریلیونٹ ہونا ہے تو اسے کرنے میں کیا دقت ہے؟ کیا ان کی کوئی نجی مخالفت ہے، ہے تو وہ اسے درج کیوں نہیں کرتے ہیں؟
پارلیمانی انتخاب سے قبل اڈوانی نے ایک بلاگ بھی بنایا تھا۔ دنیا میں کتنا کچھ ہورہا ہے۔ اس پر تو وہ لکھ ہی سکتے ہیں۔ اتنے لوگ جہاں تہاں لیکچر دے رہے ہیں، وہاں اڈوانی بھی جاسکتے ہیں۔ قیادت اور تنظیم پر کتنا کچھ بول سکتے ہیں۔ کچھ نہیںتو ان کی سرکاری رہائش گاہ میںپھول ہوںگے، پودے ہوںگے، پیڑ ہوں گے، ان سے ہی ان کا ناتہ بن گیا ہوگا،ان پر ہی لکھ سکتے تھے۔ فلم کا ریویو لکھ سکتے ہیں۔ وہ اڈوانی کے علاوہ بھی اڈوانی ہوسکتے تھے۔ وہ ہوکر بھی کیوںنہیںہیں؟
اڈوانی نے اپنی رہائش گاہ میںپریس کانفرنس کے لیے باقاعدہ ایک ہال بنوایاتھا۔ تب اپنی ریلیونسی کو لیکر کتنے پُر اعتماد رہے ہوں گے۔اس ہال میںکتنے پروگرام ہوئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیںکہ وہ دن میںایک بار اس ہال میںلوٹتے ہوںگے۔ کیمرے اور سوالوںکے شور سنتے ہوں گے۔ سنا ہے کچھ آوازیں دیواروںپر اپنا گھر بنا لیتی ہیں۔ جہاںوہ صدیوںتک گونجتی رہتی ہیں۔ کیا وہ ہال اب بھی ہوگا وہاں؟

 

اڈوانی اپنی تنہائی کے حال میں ایسے بیٹھے نظر آتے ہیںجیسے ان کی کوئی تاریخ نہ ہو۔ بی جے پی آج اپنے حال میں شاید ایک نئی تاریخ دیکھ رہی ہے۔ اڈوانی اس تاریخ کے حال میںنہیں ہیں۔ جیسے وہ تاریخ میںبھی نہیں تھے۔ وہ دہلی میں نہیں، انڈمان میںلگتے ہیں۔ جہاںسمندر کی لہروں کی بے رحمی سیلولر کی دیواروںسے ٹکراتی رہتی ہے۔ دور دور تک کوئی کنارہ نظر نہیں آتا ہے۔ کہیں وہ کوئی ڈائری تو نہیں لکھ رہے ہیں؟ دہلی کے انڈمان کی ڈائری۔
اقتدار سے وجود مٹا کانگریس کا، لیکن نام مٹ گیا اڈوانی کا۔ سونیا گاندھی سے اب بھی لوگ گاہے بگاہے ملنے چلے جاتے ہیں۔ صدر جمہوریہ کے امیدوار کا نام طے ہوجاتا ہے تو وزیر اعظم سونیا گاندھی کو فون کرتے ہیں، جن کی پارٹی سے وہ بھارت کو مکت کرانا چاہتے ہیں۔ کیا انھوں نے اڈوانی جی کو بھی فون کیا ہوگا؟ آج کی بی جے پی اڈوانی مکت بی جے پی ہے۔ اس بی جے پی میں آج کانگریس ہے، ایس پی ہے، بی ایس پی ہے سب ہے۔ بانی اڈوانی نہیں ہیں۔ کیا کسی نے ایسا بھی کوئی ٹویٹ دیکھا ہے کہ وزیر اعظم نے اڈوانی کو بھی صدر جمہوریہ کے امیدوار کے بارے میںبتایا ہے؟ کیا رام ناتھ کووند مارگ درشک منڈل سے بھی ملنے جائیںگے؟ مارگ درشک منڈل، جس کا نہ کوئی درشک ہے، نہ کوئی مارگ۔
بی جے پی کا یہ بانی بے گھر کی زندگی جی رہا ہے۔ وہ نہ اب ثقافت میں ہے نہ ہی قوم پرستی کی روایت میں ہے۔ مجھے اڈوانی پر رحم کرنے والے پسند نہیں ہیں، نہ ہی ان کا مذاق اڑانے والے۔ اڈوانی ہم سب کی قسمت ہیں۔ ہم سب کو ایک دن اپنی زندگی میں اڈوانی ہی ہونا ہے۔اقتدار سے، ادارے سے اور سماج سے۔ میںان کی چپی کو اپنے اندر بھی پڑھنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کی سیاست میں سنیاسی ہونے کا دعویٰ کرنے والا ریلیونٹ ہورہا ہے او رسنیاس سے بچنے والے اڈوانی ارّیلیونٹ ہورہے ہیں ۔ اڈوانی ایک واقعہ کی طرح رونما ہورہے ہیں، جسے حادثہ کی شکل میںنہیںدیکھا جانا چاہیے۔

 

جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اپوزیشن اڈوانی کو اپنا امیدوار بنا دے، تو وہ اڈوانی کی ڈسپلنڈ لائف کی توہین کررہے ہیں۔ انھیں یہ پتہ نہیں ہے کہ اپوزیشن کی حالت بھی اڈوانی جیسی ہے۔ اڈوانی کے ساتھ بے دردی ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بھی کررہے ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں، وہ تو کر ہی رہے ہیں۔ اڈوانی کا ایک قصور ہے۔ انھوں نے زندہ ہونے کی ایک بنیادی شرط پر عمل نہیں کیا ہے۔ وہ شرط ہے بولنا۔ اگر سیاست میں رہتے ہوئے بول نہیںرہے ہیںتو وہ بھی سیاست کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں۔ تب جب سیاست ان کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ انھیںزور سے چیخنا چاہیے۔ رونا چاہیے تاکہ آواز باہر تک آئے۔اگر بغاوت نہیںہے تو وہ بھی کہنا چاہیے۔ کہنا چاہیے کہ میںخوش ہوں۔ میںڈرتا نہیںہوں۔ یہ چپی میرا انتخاب ہے، نہ کہ کسی کے ڈر کے سبب ہے۔
اڈوانی کی چپی ہمارے وقت کی سب سے شاندار اسکرپٹ ہے۔اس اسکرپٹ کو کلائمکس کا انتظار ہے۔ کُہاسے سے گھری دہلی کے راج پتھ پر ایک سیدھا تنا ہوا بوڑھا چلا آرہا ہے۔ لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دینے لگی ہے۔ وہ قریب آتاجارہا ہے۔ اس کی بغل سے ٹینکوں کا قافلہ تیزی سے گزر رہاہے۔ ثقافتی قوم پرستی پر ان کے دیے گئے پرانے بھاشن گونج رہے ہیں۔ ٹینکوںنے قوم پرستی کو سنبھال لیا ہے اور ثقافت نے گائے۔ پیترپروش اڈوانی ٹینکوں کے قافلے کے بیچ ٹھٹکے سے کھڑے ہیں۔ دھیرے دھیرے بولنے لگتے ہیں۔ زور زور سے بولنے لگتے ہیں۔ رونے لگتے ہیں۔ مگر ان کی آواز ٹینکوں کے شور میں کھوئی جارہی ہے۔ قافلہ اتنا لمبا ہے کہ پھر چپ ہوجاتے ہیں۔
فلم کا کیمرہ ٹینک سے ہٹ کر اب اس بوڑھے کو صاف صاف دیکھنے لگتا ہے۔ کلوز اَپ میں اڈوانی دکھائی دیتے ہیں۔ بی جے پی کے بانی اڈوانی۔ گروودت کی شال اوڑھے ہوئے راج پتھ پر کیا کررہے ہیں؟ یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے، باہیں پھیلائے ہوئے رائے سینا ہلز کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ صدر جمہوریہ کا قافلہ پارلیمنٹ کی طرف جارہا ہے۔ لال رنگ کی وردی میں سپاہی گھوڑوں پر بیٹھے ہیں۔
دھیرے دھیرے فریم میں ایک شخص داخل ہوتا ہے۔ دیپک چوپڑہ، اڈوانی کے رتھ کاسارتھی۔ اڈوانی کی تنہائی کا بے مثال ساتھی۔ دیپک چوپڑہ اڈوانی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کے پاس ڈائری ہے۔ اس ڈائری میں اڈوانی سے ملنے کے لیے وقت مانگنے والوں کے نام ہیں۔ اب وہی نام ان دنوں کسی اور سے مل رہے ہیں۔ رائے سینا ہلز سے ایک رپورٹر بھاگتا ہوا قریب آتا ہے۔ دیپک جی آپ اڈوانی کے ساتھ کیوں ہیں؟ آپ ان سب کے ساتھ کیوںنہیںہیں جو اس وقت پارلیمنٹ میں ہیں۔
کیمرہ دیپک چوپڑہ کے چہرے پر ہے۔ ان کے ہونٹ آدھے کھلے رہ جاتے ہیں۔ آنکھوںمیں ایک لامتناہی گہرائی ہے۔ جس کی کھائی میں اقتدار کی ایک کرسی ٹوٹی پڑی ہے۔ کچھ پرانے فریم ہیں، جن میں اڈوانی جی بڑے بڑے لیڈروںسے مل رہے ہیں ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں، آنکھیں بند ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔ ہر فریم میں دیپک چوپڑہ ہیں۔
رپورٹر کو جواب مل جاتا ہے ۔ وہ اب دوسرا سوال کرتا ہے، کیا اڈوانی جی اب بھی بولیں گے؟ کیا وہ اکیلے ہیں؟ کیا وہ روتے ہیں۔، کیا وہ دن بھر چپ رہتے ہیں۔ کیا ان سے کوئی ملنے آتا ہے۔ بانی بے گھری کیوںجھیل رہا ہے؟کیا یہ سب کانگریس کی سازش ہے؟ دیپک چوپڑہ چپ ہیں۔
اسی منظر پر ڈائریکٹر’ کٹ ‘کہتا ہے۔ مگر پیک اَپ نہیںکہتا۔ اپنی ٹیم سے کہتا ہے، انتظار کرو۔ دیکھو، یہ بوڑھا راج پتھ سے کس طرف مڑتا ہے، مڑتا بھی ہے یا نہیں، ابد تک کھڑا رہتا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کہتا ہے، سر ہم سائلنس شوٹ کریںگے یا ساؤنڈ؟ ڈائریکٹر کہتا ہے، ساؤنڈ شوٹ کرنا ہوتی تو میںپارلیمنٹ میںہوتا جہاںنئے صدر جمہوریہ کا استقبال ہورہا ہے، جہاں نئے نئے نعرے لگ رہے ہیں۔ میں سائلنس شوٹ کرنے آیا ہوں۔ اس ڈر کو کیپچر کرنے جو اس وقت اڈوانی کے چہرے پر ہے۔ وہ ڈر ہی ان کی چپی ہے۔ کیمرے کے کلوز اَپ میں اڈوانی کے بلاگ کا پیج آتا ہے۔ اس پر لکھا ہے ’اے مین آف ورڈس اینڈ ایکشن‘۔ سر فلم کا یہی ٹائٹل ہوگیا کیا؟ نہیں فلم کا ٹائٹل ہوگا’ اے مین آف نو ورڈس نو ایکشن‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *