یوم شہادت 8جولائی کی یاد میں 1857 کے عظیم مجاہد پیر علی

تحریک آزادی کے متوالے شہید پیر علی کو پٹنہ کے لان جسے بعد میں گاندھی میدان کہا گیا ،میں 8 جولائی 1857 کو سر عام پھانسی دے دی گئی۔ ان کا گناہ صرف اتنا تھا کہ وہ انگریزوں سے اپنے ملک کی آزادی چاہتے تھے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری موجودہ نسل نیز سرکاریں آزادی کے ان متوالوں کی شہادت کو بھلا بیٹھی ہے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پیر علی کی طرح بہت سے مجاہدین گوشہ گمنامی میں چلے گئے ہیں۔شہید پیر علی نے جیل میںکیسی کیسی اذیتیں برداشت کی اور پھانسی کے پھندے پر جانے سے پہلے ان کی اور کیا قربانیاں ہیں، پر روشنی ڈالتی ہوئی یہ تحریر۔

 

مفتی محمد رضوان عالم قاسمی
جمہوریت اور سیکولر ازم باشندگان ہند کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگا کر اور اپنی پیاری زندگی اندھیرے زندانوں میں کاٹنے والے جاں نثاروں کی تعداد تو بے شمار ہیں جن میں اکثر تقسیم ملک اور گردش لیل و نہار کا شکار ہو کر گم ہو چکے ہیں اور جو چند تاریخ کے صفحات نہیں بلکہ کتابوں کے اوراق پر زندہ ہیں، ان کے ساتھ بھی جمہوریت یا آزادی کی سالگرہ کے موقع پر وہ انصاف نہیں کیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں انہی آزادی ہند کے عظیم متوالوں میں مولانا پیر علی بھی ہیں جو پیر علی سے مشہور ہیں۔ شہر عظیم آباد ( قدیم پٹنہ ) علماء صادق پور کی سرفروشانہ جدوجہد سے تحریک آزادی کے متوالوں کا مرکز بن چکا تھا مختلف علاقوں کے پرجوش مجاہدین بہار آکر اس میں شامل ہو رہے تھے۔
لکھنؤ کے قریب قصبہ نہٹور یوپی کے رہنے والے انقلابی مجاہد مولانا پیر علی بھی پٹنہ آئے اور بخشی محلہ پٹنہ سٹی میں کرائے کا ایک مکان لیا اور صدر گلی کے موڑ پر بظاہر کتاب کی ایک دوکان کھولی لیکن حقیقت میں ان کی یہ دوکان آزادی کے متوالوں اور عوامی رابطہ کا مرکز تھی جہاں لوگوں کے دلوں میں جوش و ولولہ بھرا جاتا اور خفیہ خط و کتابت ہوتی تھی جس میں خاص طور پر شہر عظیم آباد کے رئیس لطف علی خان، ڈمری کے مشہور زمین دار علی کریم، ترہت کے ریٹائر پولیس افسر وارث علی، ریٹائرڈ پٹرول انسپکٹر مہدی علی، مولانا یحی علی، مولوی رجب علی، مولوی قاسم شیر، مولوی واعظ الحق، شاہ محمد حسین، حاجی محمد جان عرف گھسیٹا خلیفہ، بدھن مہتو، نندو کہار،بھگو چمار، نتھو دھوبی، نندلال دربان اور بہاری یکہ بان پابندی سے شریک ہوتے اور انتہائی جوش و خروش کے ساتھ ملک کو آزاد کرانے کا جذبہ ظاہر کیا جاتا ۔خود ان کا مکان بھی مجاہدین آزادی کا مرکز بن چکا تھا۔ انگیز افسروں کے جاسوس ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔لہٰذا شہید پیر علی کی سرگرمیوں کا پردہ فاش ہو گیا اور 3 جولائی 1857 کو انگریز افسر ویلیم ٹیلر نے ایک شازس رچ کر شہر کے خاص لوگوں کو بلوایا جس میں شہید پیر علی کے رفقاء بھی تھے، ان میں بعض لوگوں کو گرفتار کر لیا جن میں مولوی الٰہی بخش، مولوی واعظ الحق اور شاہ محمد حسین وغیرہ تھے۔ یہ خبر پھیلتے ہی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور دوسرے ہی دن مولانا پیر علی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف نعرے لگاتا ہوا ایک زبردست احتجاجی جلوس نکلا ۔

 

اس جلوس میں سب سے آگے ایک ہاتھ میں اپنی پستول اور دوسرے ہاتھ میں علم آزادی لئے مولانا پیر علی چل رہے تھے۔ احتجاجی جلوس کی خبر جب ویلیم ٹیلر کو ہوئی تو اس نے جلوس کو منزل تک پہنچنے سے روکنے اور احتجاجیوں کو گرفتار کرنے کا حکم سکھ پلٹن کو جاری کیا۔ سپاہیوں کے آتے ہی بڑی بے رحمی سے لوگوں کو مارا پیٹا گیا ۔یہ دیکھ کر مولانا پیر علی نے اپنی پستول سے گولی چلا دی جس سے موقع پر ہی انگریز افسر ڈاکٹر لین مارا گیا ۔اس سے سکھ پلٹن کے سپاہیوں کا غصہ بھڑک اٹھا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی جس سے بڑی تعداد میں مجاہدین شہید ہونے اور پٹنہ سیٹی کی صدر گلی خون سے لال ہو گئی لیکن کسی طرح پیر علی وہاں سے غائب ہو گئے لیکن جاسوسی کے نیٹ ورک نے بہت جلد ان کا پتہ لگا لیا اور گرفتار کر لیے گئے گرفتاری کے بعد مولانا پیر علی سمیت دیگر 43/ لوگوں پر بغاوت کا مقدمہ چلا کر سبھوں کو پھانسی دے دیا گیا۔
مولانا پیر علی کو پھانسی سے قبل جیل میں بڑی بے دردی سے پیٹا جاتا۔ بدن سے خون رستا اور کپڑے چتھڑے چتھڑے ہو کر زخم پر چپک جاتے ۔اس شدید تکلیفوں میں پھانسی کا حکم سنایا گیا مگر ان سب کے باوجود ان کے چہرے پر مسکراہٹ سکون و اطمینان جھلکتی رہی اور 8 جولائی 1857 کو اس آزادی کے متوالے کو پٹنہ گاندھی میدان کے شمال مغربی کونے پر پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے قبل انہوں نے انگریزوں کو مخاطب کر کے کہا تھا’’ سن لو : آج تم مجھے اور میرے ساتھیوں کو پھانسی تو دے سکتے ہو مگر یاد رکھو ہمارے خون کی چھینٹوں سے اتنے مجاہدین پیدا ہوں گے کہ وہ تمہاری حکومت کو نیست و نابود کر دیں گے ‘‘۔ شہید مولانا پیر علی کی ہمت، جواں مردی اور وطن پرستی سے متاثر ہو کر انگریز افسر ویلیم ٹیلر نے کہا تھا کہ بہار کے مجاہدین میں پیر علی جیسا بے خوف، نڈر اور بہادر نہیں دیکھا ۔

 

واضح رہے کہ گاندھی میدان کو پہلے شہید پیر علی میدان کہا جاتا تھا ،بعد میں نام بدل کر گاندھی میدان کیا گیا ۔ اللہ بھلا کرے معزز وزیر اعلی جناب نتیش کمار جی کا جنہوں نے شہید مولانا پیر علی کا تھوڑا سا قرض چکاتے ہوئے گاندھی میدان میں شہید پیر علی پارک بنوا دیا ہے لیکن ان جیسے عظیم متوالوں کو یاد کرنا ، ملک و ملت اور نئی نسل کو ہر طرح کے تعصب سے اوپر اٹھ کر حقائق سے آگاہ کرنا جن کے قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں آزادی ملی ،سبھوں کی ذمہ داری ہے تاکہ کثرت میں وحدت اور گنگا جمنی تہذیب کی لو باقی رہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو اجاگر کرنے میں جہاں حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی ہے، وہیں مسلمانوں کے کوٹے سے ممبر اسمبلی، ممبر پارلیمنٹ، وزیر، مختلف کمیٹیوں اور نگموں کے صدور بننے والوں کی عدم دلچسپی ناقابل معافی جرم ہے۔ ورنہ گمنام مجاہدین آزادی کی بات تو الگ رہے چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مولانا مظہر الحق جیسی عظیم ہستی جنہوں ملک کی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کر دیا، کے نام پر بنی عربی فارسی یونیورسٹی کو آج تک اپنا مکان اور اپنا کیمپس نصیب نہ ہو سکا اور نصاب کے مطابق تعلیم، ملحقہ اداروں میں اساتذہ کی تقرری اور یونیورسٹی کے ایکٹ کے مطابق عربی و فارسی ( ایک کو چھوڑ کر ) کا وائس چانسلر نہ مل سکا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *