نتیش کمار راہل گاندھی کے لئے سب سے بڑے چیلنج

راہل گاندھی کی پریشانی یہ ہے کہ وہ آئیڈیا کے نام پر ،جدو جہد کے نام پر لوگوں کے تئیں اپنے جذبات دکھانے کے نام پر وہ کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں ۔ جیسی کانگریس پارٹی کی تنظیم ہے ،اس میں صرف اور صرف سونیا گاندھی کی چلے گی اور سونیا گاندھی صرف اور صرف راہل گاندھی کو اپنا جانشیں بنانا چاہتی ہیں۔ سونیا گاندھی کو یا راہل گاندھی کو اس طرح اپوزیشن کے لیڈروں سے رابطہ رکھنا چاہئے، وہ ممکنہ طور پر خود کانگریس پارٹی کو اس لئے مٹا رہی ہیں کیونکہ وہ کبھی بھی اس بھرم سے نہیں ابھری ہیں کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی کا یہ ماننا ہے کہ 2019 میں اگر لوگوں کو بی جے پی سے مایوسی ہوتی ہے تو ان کے سامنے سوائے کانگریس پارٹی کو ووٹ دینے کے اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ کانگریس کے علاوہ باقی جتنی بھی پارٹیاں ہیں، وہ ساری علاقائی پارٹیاں ہیں اور ان کا اثر صرف اور صرف اپنی ریاست میں ہے۔

 

یہ دوسری بات ہے کہ کانگریس بھی اب ایک بڑی علاقائی پارٹی کی شکل میں بدل چکی ہے۔ اس لئے اس کی زبان ،اس کا رویہ ،اس کے رابطہ کرنے کا طریقہ ایک طرف علاقائی پارٹیوں جیسا ہو گیا ہے اور دوسری طرف وہ علاقائی پارٹیوں کے کسی بھی لیڈر کے امکانات کو ختم کرنے کی پالیسی پر لگاتار چل رہی ہے۔ نتیش کمار راہل گاندھی کے لئے سب سے بڑے چیلنج کی شکل میں سامنے کھڑے ہیں۔ اس لئے کانگریس پارٹی کبھی بھی نتیش کمار کو اپوزیشن کے لیڈر کی شکل میں پروجیکٹ نہیں کر سکتی ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ خود کانگریس پارٹی نہ آگے بڑھ رہی ہے ،نہ مسائل کے اوپر عوام کو منظم کررہی ہے اور نہ ہی اپنے یہاں کانگریس کارکنوں کی اس مانگ پر دھیان دے رہی ہے کہ پرینکا گاندھی کو کانگریس کی کمان سونپی جائے اور نہ ہی نتیش کمار کی قیادت میں اپنے کو لانے کی سوچ کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ کانگریس میں نظریہ کی سطح پر اور پالیسی کی سطح پر کوئی ایسا گروپ نہیں ہے جو سونیا گاندھی کو یا راہل گاندھی کو رائے دے سکے۔ بس ایک دھارا ہے جو سکڑ رہی ہے، سمٹ رہی ہے لیکن چل رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *