نتیش چیلنجز کو سمجھیں

نتیش کمار کے اپنے دربار میں کچھ لوگ ہیں جو بہت چھوٹی سطح پر بی جے پی کے بڑے لیڈروں سے رشتہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ دوسری بات ہے کہ نتیش کمار کے خود کے رشتے بی جے پی کے چیف ڈپلومیٹ ارون جیٹلی سے ہیں۔ دونوں ہم عمر ہیں۔ بہار آندولن میں اہم کردار نبھا چکے ہیں اور ارون جیٹلی ذاتی طورپر نتیش کمار کی بہت عزت کرتے ہیں۔ جب سرکار تھی تب بی جے پی کے لیڈر کے ناطے نہیں بلکہ نتیش کمار کے دوست ہونے کے ناطے ارون جیٹلی نے اس وقت کے بہار کے گٹھ بندھن کو چلانے میں بہت اہم رول ادا کیا تھا لیکن ملک کی صنعتی دنیا نتیش کمار کو ملک کے لئے بہت صحیح آدمی نہیں مانتی ۔
بیرونی طاقتیں جو ہندوستان کی سیاست کو متاثر کرتی ہیں، جن میں امریکہ ہو یا چین ، یہ دونوں ہی نتیش کمار کو اپنے مفاد کے لئے موزوں نہیں مانتے۔ان دونوں بڑی طاقتوں کے ایسے لوگ جو ہندوستان کی سیاست کا نہ صرف تجزیہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی تلاش میں بھی لگے رہتے ہیں جو انہیں ہندوستان کی سیاست پر کنٹرول کرنے میں تعاون دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کی اہمیت ان دونوں بڑی طاقتوں کو الگ الگ ہندوستانی سیاست پر حاوی ہونے دینے میں ایک رکاوٹ کا کام کرے گی اور نتیش کمار ان کے لئے اس طرح کا ہتھیار نہیں بن سکتے جس طرح کا ہتھیار ابھی تک ہندوستان کی بلندی پر بیٹھے لوگ بنتے چلے آئے ہیں۔

 

 

نتیش کمار کے سامنے چیلنجز اور بند دروازے، ان کے ان دوست نما دشمنوں کو اس لئے پریشان نہیں کررہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ نتیش کمار میں وہ ہمت ہی نہیں ہے کہ وہ ملک میں گھومیں اور ایک طرف بی جے پی کے لئے اور دوسری طرف کانگریس کے لئے ملک میں چیلنج بن سکیں ۔نتیش کمار کے سامنے ملک میں اجلاس کرنے کے کئی مواقع آئے، نتیش کمار کے سامنے کئی ریاستوں کے عوام کی طرف سے کئی تجاویز آئیں لیکن نتیش کمار کہیں گئے نہیں۔اس لئے ایک طرف بی جے پی کے لیڈروں کو اور دوسری طرف کانگریس کے لیڈروں کو یہ لگتا ہے کہ نتیش کمار صرف بہار میں رہ کر اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔دہلی کی گدی انہیں راغب نہیں کرتی، اس لئے وہ مطمئن ہیں۔
نتیش کمار کی ایک بڑی کمزوری ان کی اپنی پارٹی میں ایسے لوگوں کا فقدان ہے جو انہیں ملک کے فلک پر قائم کرسکیں۔ نتیش کے پاس قومی سطح پر دو ، تین یا چار لوگوں کے علاوہ کوئی ایسے لوگ نہیں ہیں جو انہیں جانکاری دے سکیں اور رابطہ بھی رکھ سکیں۔ہو سکتا ہے نتیش کمار اس لئے بھی بہار سے باہر نہ نکلنا چاہتے ہوں، لیکن نتیش کمار ایسے لوگوں کی تلاش بھی نہیںکرنا چاہتے۔ کانگریس کے لوگ اور بی جے پی کے لوگ ابھی یہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ یہ نتیش کمار کی پالیسی ہے یا کمزوری ہے یا وہ سیاسی طور سے عزائم کھو چکے ہیں۔

 

 

لیکن آج کی سیاست میں نتیش کمار اکیلے آدمی ہیں جن میں امکانات بھی ہیں، امکانات پوری کرنے کی صلاحیت بھی ہے لیکن امکانات کو تباہ کرنے میں بھی وہ اتنے ہی موثر ہیں۔نتیش کمار کا کوئی بیان ملک کے حالات کو لے کر، کشمیر کو لے کر، ملک کی خارجہ پالیسی کو لے کر، سیکورٹی پالیسی کو لے کر، ملک کی داخلہ پالیسی کو لے کر، ملک کی صنعتی پالیسی کو لے کر، ملک کے کسانوں کی پالیسی کو لے کر اور نوجوانوں کے حالات کو لے کر لوگوں کے سامنے اہمیت کے ساتھ نہیں آئے ہیں۔اس لئے اس ملک کے لوگوںکو بھی ایک تذبذب ہے کہ ان سوالوںپر نتیش کمار کیا سوچتے ہیں؟ نتیش کمار کی یہ سوچ تب سامنے آئے جب وہ ان سوالوں کے اوپر ملک میں گھومیں اور اپنی رائے رکھیں لیکن وہ یہ نہیں کررہے ہیں اور یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ وہ ایسا کیوں نہیں کررہے ہیں؟یہ سوال بی جے پی کے سامنے بھی ہے اور کانگریس کے سامنے بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *