داعش کا ہتھیار سوشل میڈیا

موجودہ دور میں جس طر ح دوسرے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے، اسی طرح دور جدید کی جنگوں میں بھی جدت آئی ہے۔ آج کل دنیا کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردوں نے بھی جنگ لڑنے کے لئے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کے لئے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا داعش کا اہم ہتھیار بن گیا ہے اور اس کا محاذ انٹرنیٹ خصوصاً سوشل میڈیا ہے۔ انتہا پسند بڑے منظم انداز میں، منصوبہ بندی کے ساتھ اسے محاذ جنگ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ وہ اسے نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑے خوش کن تصورات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کررہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں جبکہ نوجوان نہیں جانتے کہ یہ لوگ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں اور دوا کی شکل میں زہر بانٹ رہے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں تو اس خطرے کا خاصی حد تک اندازہ ہو چکا ہے اور وہ اس محاذ پر انتہا پسندوں کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں لیکن بدقسمی سے تیسری دنیا کے ممالک میں نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وہ اپنی کم علمی، کم مائیگی، بیچارگی، احساس محرومی کے سبب انتہا پسندوں کا محبوب ہدف ہیں اور بآسانی ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہم سب کو ایک جماعت ہو کر انتہا پسندی کی اس جنگ کے خلاف لڑنا ہو گا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کہیں یہ جنگ ہمارے گھروں، دفتروں، سکولوں اور کالجز تک تو نہیں پہنچ رہی۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں نہایت تدبر ، پورے وسائل اور قوت سے اسے روکنا ہوگا۔

 

دہشت گرد تنظیم داعش عراق و شام میں پسپا ہونے کے بعد ہتھیاروں کی بجائے انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ آن لائین پراپیگنڈہ اور بھرتیاں بھی کررہی ہے۔ یہ تنظیم 21 ویں صدی کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، اذیت، عصمت دری، انسانوں کو غلام بنانا اور عہد رفتہ کی یادگاروں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بہت سے محاذوں پر لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک ڈیجیٹل محاذ ہے اور انھیں اپنی کامیابیوں کی تشہیر اور بھرتی کے آلے کے طور پر کرتی ہے۔اصل میں ٹوئٹر نے دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹ بند کرنا شروع کر دیے تھے۔ اس کے مقابلے پر ٹیلی گرام زیادہ محفوظ تھی کہ اس کے پیغامات انکرپٹڈ ہوتے ہیں۔اسی دوران ٹیلی گرام نے ’چینل‘ نامی فیچر شروع کر دیا تھا جس کے تحت ایک صارف لاتعداد دوسرے صارفین کو پیغام بھیج سکتا ہے۔ جہادیوں نے جلد ہی اسے اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرنا شروع کر دیا۔تاہم ٹیلی گرام نے بھی دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹ بند کر دیے جس کے بعد سے اس تنظیم کو زیرِ زمین جانے پر مجبور ہونا پڑا۔
موصل کی جانب عراقی افواج کی پیش قدمی کے بعد شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی طرف سے پروپیگنڈہ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔موصل دولتِ اسلامیہ کے لیے بہت اہمیت ہے، اسی شہر میں گروہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے 2014 میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔عراقی اور کرد افواج کی جانب سے موصل کو آزاد کروانے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد سے دولتِ اسلامیہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی آئی ہے کہ اس کے ’دشمنوں‘ کی شہر کی جانب پیش قدمی بھاری جانی نقصان کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔اس کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کیجاتی ہے کہ شہر میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ یہ بتانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ جنگ کی وجہ سے شہری سہولتوں کو نقصان پہنچا ہے اور جنگجوؤں کو ’دشمنوں‘ سے بدلہ لینے کا عہد کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
ان میں سے کچھ رپورٹس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ موصل میں حالات دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں اور زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ایک ایسے ویڈیو میں بچوں کو گولیوں میں کھیلتے اور شہریوں کو بازاروں میں خرید وفرخت کرتے اور شہر میں ’سکیورٹی‘ کی صورتحال پر اظہارِ اطمینان کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

 

لیکن اس کے ساتھ گروہ نے یہ بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے شہر کے گرد و نواح پر کی جانے والی فضائی بمباری سے شہری سہولیات جیسے ہسپتال اور اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔دولتِ اسلامیہ نے اس چیز کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مختلف ’دشمنوں‘ کا جن میں عراقی اور کرد افواج کے علاوہ شیعہ ملیشیا بھی شامل ہیں، مقابلہ کر رہی ہے۔گروہ نے اپنے پیغامات میں اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ موصل کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا اور شہر پر حملے کی اس کے ’دشمنوں‘ کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
دولتِ اسلامیہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دشمنوں کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ان کی شہر کی جانب پیش قدمی بھی رک گئی ہے۔اگرچہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنے نقصانات کو چھپانے کی کوشش مسلسل کی جاتی رہی ہے اور بہت سے علاقوں میں اپنی شکست کو اس نے غیر اہم قرار دیا ہے لیکن کچھ علاقوں جیسے بارٹیلا میں اپنی شکست کو اس نے تسلیم بھی کیا ہے۔ان سب کے ساتھ دولتِ اسلامیہ نے اپنی پروپیگنڈہ ویڈیوز میں اپنے حامیوں کو دنیا بھر میں حملے کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔گویا کہ داعش جیسی منحوس تنظیمیں اب اپنے ناپاک عزائم کو برائے کار لانے کے لئے میدان میں تو کچل چکی ہے مگر سوشل میڈیا کا سہارا لے کر نوجوانوں کو بہکانے کی کوشش میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ داعشی موصل میں زبردست پسپائی کی وجہ سے اپنے زیادہ تر رہنمائوں کو المیادین کی جانب لے آئی ہے۔ یہ علاقہ زیر محاصرہ علاقے الرقہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اسی علاقے میں شدت پسند تنظیم نے اپنا پروپیگنڈہ مرکز بھی قائم کررکھا ہے، جہاں سے یہ یوروپ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اورسوشل میڈیا کے ذریعہ ترغیب کا کام انجام دیتی ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے میں شام اور عراق میں اس تنظیم کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے اور اس کے زیر قبضہ علاقے مسلسل بازیاب ہوتے جارہے ہیں۔ اس صورت حال نے اسے بہت پریشان کررکھا ہے اور اب ایک سہارا سوشل میڈیا کا رہ گیا ہے جس کے سہارے وہ دنیا بھر میں نوجوانوں کو گمراہ کرسکتا ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *