امریکہ میں3 لاکھ مقیم ہندوستانیوں کو خطرہ

ڈونالڈ ٹرمپ جب سے امریکہ کے اقتدار پر آئے ہیں کچھ نہ کچھ ایسا اعلان کردیتے ہیں جس سے ٹھہری ہوئی سیاست میں طوفان آجاتا ہے۔ سابق صدر براک اوباما نے ’’ڈاپا‘‘ پالیسی کے تحت امریکہ میںغیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو راحت دی تھی،ٹرمپ نے اس پالیسی کو ختم کردیا ہے ۔اس کی وجہ سے تین لاکھ ہندوستانیوں سمیت کل 40 لاکھ افراد متاثر ہوںگے۔البتہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کی وجہ سے توقع ہے کہ ان مقیم ہندوستانیوں کے لئے کوئی راستہ نکلے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو امریکہ کے تعلقات مختلف نشیب و فراز سے گزرے ہیں۔اجمالی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ دونوں کے بیچ خوشگوار تعلقات رہے ہیں جوکہ ہندوستان کی اپنی خارجہ پالیسی میں نرم رویہ کا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ ڈونالڈ کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ اڑیل مزاج ہیں اور ہمیشہ ایک بزنس مین کی طرح سوچتے ہیں۔ لہٰذا ہر تعلق کو نفع و نقصان کی ترازو میں تولنا ان کی عادت ہے ۔اپنے اسی مزاج کی وجہ سے انہوں نے پچھلے دنوں پیرس ماحولیاتی معاہدے سے الگ ہوتے ہوئے ہندوستان کو تکلیف پہنچانے والا بیان دے دیا تھا جس کو وزیر اعظم نریندر مودی نے نہایت حکمت عملی سے مثبت رخ دے کر معاملہ کو طول دینے سے بچا لیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے پیرس معاہدے سے الگ ہونے سے متعلق اپنے بیان میں ہندوستان پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’’اس نے غیر ملکی امداد کی شکل میں اربوں ڈالر حاصل کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں‘‘۔ظاہر ہے کہ ٹرمپ کی ان باتوں کا جواب ہندوستان سخت انداز میں بھی دے سکتا تھا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بارے میں براہِ راست جواب دینے سے بچتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ہم پیرس معاہدے سے قطع نظر مستقبل کی نسلوں کو ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کے اپنے عہد کے پابند ہیں‘‘۔

 

تجارت کو فروغ
بہر کیف وجہ جو بھی ہو لیکن اس خوشگوار تعلق نے ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو 100 ارب ڈالر سے سے آگے بڑھا دیا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ گزشتہ 15 برسوں میں امریکی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن ہندوستانی اشیا کی برآمدات نہیں کے برابر ہے ۔
ان خوشگوار تعلقات کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ ایک تاجر کی نظر سے سب سے پہلے اپنا اور امریکیوں کا فائدہ دیکھتے ہیں ۔ان کے اسی نظریہ کی وجہ سے اس وقت امریکہ میں مقیم تین لاکھ ہندوستانیوں کو امریکہ سے باہر نکالے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایچ ون بی ویزا کے سلسلے میں آئی ٹی ماہرین اور کمپنیوں کی تشویشات میں اضافہ ہورہاہے ۔ H-1B ویز ا وہ ویزا ہوتا ہے جو غیر ملکی ماہرین کو امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس ویزے کو بہت بڑے پیمانے پر ہندوستانی سافٹ ویئر کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ H-1B ویزوں میں ہندوستان کا حصہ بہت زیادہ ہے، 2014 میں اس سلسلے میں جاری ہونے والے ویزوں میں دو تہائی سے زیادہ ہندوستانیوں کے استعمال میں آئے تھے ۔اگر امیگریشن اور آؤٹ سورسنگ کے بارے میں ٹرمپ امریکہ کی پالیسیوں میں ڈھلتی ہیں تو ہندوستان کے 150 ارب ڈالر مالیت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو، جو پہلے ہی سست روی کا مقابلہ کررہا ہے، مزید مسائل میں الجھ سکتے ہیں۔اہم تجزیہ کار اور مبصروں کا کہنا ہے کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ بھارت کا مشہور زمانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ اور ہندوستان کو مصنوعات سازی کے ایک مرکز میں تبدیل کرنے کی وزیراعظم نریندر مودی کی توقعات کو دھچکا لگ سکتا ہے اگر منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی ان پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے آگے بڑھتے ہیں جن کے بارے میں وہ اپنی انتخابی مہم میں وعدے کرتے رہے ہیں، یعنی ملک میں داخلے پر سخت پابندیاں اور روزگار کے مواقعوں کو امریکہ واپس لانا۔

 

 

ہندوستان پر انحصار
امریکہ اپنی ضرورت کا 60 فی صد سافٹ ویئر ہندوستان سے برآمد کرتا ہے اور وہاں لاکھوں ملازمتوں پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن ٹرمپ ان تمام تشویشات سے بے فکر اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی کئی ایسے فیصلے لئے ہیں جن سے امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک کے بیچ دوریاں پیدا ہوئی ہیں۔ایسے ہی فیصلوں میں سے ایک حالیہ فیصلہ امریکہ میں مقیم لوگوں کی رعایت کو ختم کرنا ہے ۔اس سے تین لاکھ ہندوستانیوں سمیت تقریباً 40 لاکھ غیر قانونی طور پر رہنے والے لوگوں کو امریکہ سے نکالے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
سابق صدر براک اوباما نے 2014 میں ڈاپا ‘پالیسی کے تحت ناجائز طور پر رہنے والے غیر مقیم لوگوں کو راحت دی تھی۔ اس پالیسی سے ان چالیس لاکھ لوگوں کو راحت ملنی تھی جو 2010 سے امریکہ میں رہ رہے ہیں اور جن کی اولادیں امریکہ میں پیدا ہوئیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اب ایسے خاندانوں پر امریکہ سے نکالے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ 2012 کی ’ڈیکا ‘ پالسی کو قائم رہنے دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے نابالغ بچوں کو عارضی طور پر راحت ملے گی۔ انہیںامریکی اسکولوں میں تعلیم مکمل ہونے تک ٹھہرنے کی جازت ہوگی۔حقوق انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے احکامات سے انسانی بحران پیدا ہوگا ،کیونکہ ناجائز طورپر رہنے و الوں کے بچے امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ امریکہ کے شہری ہیں۔ ایسے میں ان کے والدین کو نکالا گیاتو زبردست انسانی بحران پیدا ہوجائے گا۔

 

کیوبا پر پھر پابندی
ٹرمپ کے اڑیل مزاج ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سابق صدر اوبامہ کے بیرونی ممالک سے کئے ہوئے کئی معاہدوںکو بالکل خارج کردیا۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے اوباما کی جانب سے تاریخی کیوبا معاہدے کو گمراہ کرنے والابتاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ یہی نہیں اس معاہدے کو ختم کرنے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کیوبا پر نئی سفری اور تجارتی پابندی بھی لگادی ہے۔ دراصل ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ کیوبا پر لگی سفری اور تجارتی پابندیوں پر جو ڈھیل دی تھی، اس سے کیوبا کے لوگوں کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔یہ یکطرفہ معاہدہ تھا جس کو قابل عمل نہیں سمجھا جاسکتا ۔ حالانکہ ٹرمپ نے کیوبا میں امریکی سفارتکانے کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ 2014 میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں بہتری دیکھنے کو ملی تھی۔لیکن ٹرمپ کے اس رویے کی وجہ سے دونوں ملکوں میں ایک بار پھر ٹھن سکتا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ ہندوستان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ہندوستان کیوبا نہیں ہے جہاں وہ یکطرفہ فیصلہ کرکے کسی بھی معاہدے کو ختم کرسکتے ہیں۔ ہندوستان ان کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ اس وقت امریکی مصنوعات کی برآمدات کے لئے ایک نیا بازار چاہتاہے اور یہ بالکل واضح ہے کہ عالمی منڈی میں ہندوستان کو مصنوعات کھپانے کا ایک بہترین مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ایسی صورت میں امریکہ کوئی بھی ایسا فیصلہ کرنے سے گریز کرے گا جس کا راست اثر ہندوستان پر پڑے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی طرح کی کوئی کھٹاس آئے۔
دونوں ملکوںکے سربراہان مودی اور ٹرمپ کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ہر ملاقات میں دونوں طرف کے رہنمائوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیا ہے ۔بہر کیف جہاں ایک طرف امریکہ کو اپنی مصنوعات کی کھپت کے لئے ہندوستان جیسے ایک مارکیٹ کی ضرورت ہے وہیں ہندوستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مودی نے اپنے دور اقتدار میں دنیا کے کئی بڑے ملکوں کا دورہ کرکے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لئے بڑی یقین دہانیاں حاصل کی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *