ارونا چل کے سابق سی ایم کا سوسائڈ نوٹارونا چل کے سابق سی ایم کا سوسائڈ نوٹ نائب صدر اور وزیراعظم خاموش کیوں؟

اروناچل کے وزیر اعلیٰ کالیکھوپُل نے خود کشی کے پہلے کھول دی تھی لیڈروں اور ججوں کی پول۔سپریم کورٹ، سیاسی پارٹیوں اور میڈیا نے دبا دیا کالیکھو پل کا سنسنی خیز سوسائڈ نوٹ ۔ سوسائڈ نوٹ جیسے ٹھوس آخری ثبوت پیش کئے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے نہیں کی سنوائی۔پہلی بار’’ چوتھی دنیا ‘‘ ہو بہو چھاپ رہا ہے  وزیر اعلیٰ کالیکھو پل کا 60 صفحات کا سوسائڈ نوٹ۔
میں نے ایک بہت ہی غریب اور پچھڑے ہوئے گھر میں جنم لیا ۔ میں نے عمر بھر دُکھ دیکھے ہیں۔ دُکھ سہا ہے اور بہت بار دکھ پر جیت بھی پائی ہے لیکن خالق نے میری  پیدائش  سے ہی ہر ایک قدم پر میری سخت آزمائش لی ہے۔ عام لوگوں کو ماں باپ سے لاڈ و پیار ملتا ہے ،تعلیم ملتی ہے، سمجھ ملتی ہے۔وہیں میری پیدائش کے 13 مہینے بعد ہی ماں کا سایہ چھن گیا اور جب میں 6 سال کا ہوا تو والد بھی بھگوان کو پیارے ہو گئے۔ میرے اپنے کوئی نہیں ہیں۔ماں باپ اور خاندان کے پیار سے میں ہمیشہ محروم رہا ہوں۔خود اپنے پیروں پر کھڑا ہوا ہوںمیں سمجھتا ہوں کہ اس دنیا میں میں اکیلے ہی آیا ہوں اور اکیلے ہی جائوں گا ۔میں مانتا ہوں کہ اس دنیا میں ہر انسان ماں کے پیٹ سے ننگا ہی آتا ہے اور ننگا ہی جاتا ہے ( کوئی بھی یہاں سے کچھ بھی لے کر نہیں جاتا ہے )۔ مطلب پیدائش سے ہر کوئی خالی ہاتھ ہی آتا ہے اور ایک دن خالی ہاتھ ہی چلا جاتا ہے۔ اگر ہر انسان اس بات کو سمجھ لے تو کبھی بھی، کہیں بھی، مذہب، ذات ، اونچ نیچ، امیر غریب  کے نام پر جھگڑے نہیں ہوںگے اور نہ ہی مال و دولت ، زمین وجائیداد ، اقتدار ، طاقت اور وقار کی لڑائی ہوگی۔ میں جانتا ہوں کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ نام، ذات، مذہب ، سماج، زبان، خطہ، مال و دولت، زمین جائیداد کچھ بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر آتا ہے لیکن آج انسان ان باتوں کو بھولتا چلا جارہا ہے ۔ وہ ان چیزوں کے لئے مرنے مارنے تک کو تیار ہو جا رہا ہے جبکہ اس اٹل سچ کو بھول جاتا ہے کہ میں صرف ایک آتما ہوں۔ میں نے زندگی کو ہمیشہ سے سچ دکھانے والے آئینے کی طرح دیکھا ہے۔ میں یہ مانتا ہوں کہ اس دنیا میں میرا کچھ بھی نہیں ہے۔ اپنے جسم کے علاوہ ،ہم جو بھی چاہتے ہیں، گھر میں جو بھی سامان ہے، روپیہ پیسہ ،مال و دولت ، گاڑی ،گھوڑا، زمین و جائیداد ، طاقت و اقتدار اور وقار ،جن کے اوپر میں ۔۔۔میں ۔۔۔میں اور میرا ۔۔۔۔میرا ۔۔۔ میرا کہہ کر اس کے لئے ہم لڑتے ہیں اور ہم مالک بنتے ہیں، وہ اصل میں میرا ہے ہی نہیں۔جو آج میرا ہے، وہ کل کسی اور کا تھا،  پرسوں کسی اور کا ہو جائے گا۔ بدلائو ہی کائنات کا نظام ہے۔ لیکن بدلائو کو نظام کے تحت اور صحیح ڈھنگ سے ہونا چاہئے۔ میں نے بچپن سے ہی زندگی سے لڑنا سیکھ لیا تھا۔ پھر چاہے وہ لڑائی روٹی کی ہو یا اپنے حق کی۔ بچپن میں ایک وقت کی روٹی کے لئے میں میلوں دور راستہ طے کر کے جنگل سے لکڑیاں لاتا تھا۔ غریبی اور لاچاری کی مار جھیلتے  ہوئے میں نے دن میں ڈیڑھ روپے مزدوری پر بڑھئی کا کام کیا ہے جس سے میں 45 روپے مہینے کماتا تھا۔ آج بھی بڑھئی گری کا سامان میرے پاس رکھا ہوا ہے۔میں  بچپن  میں باقاعدگی سے اسکول نہیں جاپایا لیکن اپنی بڑھئی گری کے کام کے ساتھ ساتھ میں نے ’’ایڈلٹ ایجوکیشن سینٹر، والاّ‘‘ سے پڑھائی کی۔ میری محنت اور لگن دیکھ کر اسکول انتظامیہ نے میرا امتحان لیا اور مجھے سیدھے کلاس 6 میں داخلہ دے دیا گیا۔ پھر نے میں جب دن کے اسکول میںداخلہ لیا، تب 6سے 8 کلاس تک کیجوئول نوکری بھی کی۔ دن میں پڑھتا اور رات میں چوکیداری کرتا تھا، جس میں صبح 5 بجے راشٹریہ جھنڈا لہراتا تھا اور شام کو 5 بجے جھنڈا اتار لیتا تھا۔ اس میں مجھے 212 روپے مہینے  کی آمدنی ہوتی تھی۔ اپنی زندگی میں میں نے سب سے پہلے 400 روپے میں ایک او بی ٹی گھر بنانے کا ٹھیکہ لیا تھا جس کے بعد اپنے ضلع اور ریاست میں بہت سی سڑکیں، سرکاری مکانوں اور پلوں کی تعمیر کی۔ 11,12 کلاس تک پہنچتے پہنچتے میرے پاس خود کی جپسی گاڑی اور چار ٹرک گاڑی تھی جسے میں کاروبار کے کام میں لگاتا تھا۔ کالج پہنچنے تک میرا کاروبار کافی آگے بڑھ گیا، میرے پاس گاڑی ، گھوڑا ، نوکر چاکر اور خود کا ایک چھوٹا سا پکا مکان بھی تھا، جس میں تین کمرے تھے۔ آج 23سال تک وزیر کے عہدہ پر رہتے ہوئے بھی میں نے اس سے آگے ایک بھی کمرا نہیں بڑھایا ہے۔کھوپا میں ایک چھوٹا سا گھر ہے، جسے میں 1990 میں تین سوکیا ایس بی آئی بینک سے پرنسل لون لے کر بنایا تھا۔ ہیولیانگ میں ایک گھر ہے، جسے میں نے بھارتیہ اسٹیٹ  بینک تیجو سے لون لے کر بنایا تھا۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے میرے  پاس  آرا مشین اور کاشٹھ کلا  یا ووڈ ورک کی فیکٹری بھی تھی، جس سے مجھے ہر سال46لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔ میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہی کروڑ پتی بن گیا تھا۔ اس پر میں نے کبھی گھمنڈ نہیں کیا۔ بھگوان گواہ ہے کہ میں نے کبھی مال و دولت ، گھر ، بنگلہ ، گاڑی ،گھوڑا ، نوکر چاکر ،اقتدار اور وقار کو اپنی جاگیر نہیں سمجھا اور نہ ہی ان چیزوں پر کبھی فخر و غرور کیا ہے۔

 

 

میں نے ہمیشہ سے ہی انسانیت کی  حفاظت  اور غریبوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا ہے اور اب تک انہی کے حق کے لئے کام کررہا ہوں۔ میں بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں خود اپنے پیروں پرکھڑا ہوا ہوں،لیکن میں نے کبھی اس بات پر گمان نہیں کیا۔ میں نے اپنے روپیوں سے ہمیشہ غریب، لاچار ، ،بے سہارا اور ضرورتمند لوگوں کی مدد کی ہے۔ آج بھی میں 96 غریب لڑکے ،لڑکیوں کو پڑھانے کے ساتھ ا ن کا سالانہ خرچ بھی اٹھاتا ہوں۔ 26دسمبر 1994 کو جب میں سیاست سے جڑا، اس کے اگلے ہی دن میں نے اپنے دو بزنس ٹریڈنگ لائسنس کو ڈی سی دفتر میں واپس کر کے سرینڈر کردیا ۔کیونکہ جب میں سیاست میں آگیا ، تو اسے کاروبار کے ساتھ ملانا نہیں چاہتا تھا۔ میں کبھی بھی سیاست میں نہیں آنا چاہتا تھا، لیکن مجھے عوام نے زبردستی سیاست میں اتارا ہے۔ لوگ سیاست میں اپنے مفاد کے لئے آتے ہیں،لیکن اگر کوئی اسے ایمانداری سے اپنائے تو اس سے اچھی خدمت اور بھلائی کا کام کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔کیونکہ ایک لیڈر کے کہہ دینے سے ،ایک فون کر دینے سے، ایک سفارش کر دینے سے یا کسی اجلاس میں  تجویز رکھ دینے سے سماج اور عوام کا کام ہو جاتا ہے، تو اس سے بڑا اور اچھا بھلائی یا خوشی کا کام کیا ہو سکتا ہے؟ 2007 میں بھی مجھے وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا تھا، لیکن اس وقت میں نے منع کر دیا تھا۔ 2011 میں بھی مجھے پھر سے وزیر اعلیٰ عہدہ کے لئے دعویداری دی گئی، جسے میں نے پھر سے ٹھکرادیا۔ میں جانتا تھا کہ میرے ساتھی ایم ایل اے اور وزیر مجھے سسٹم، پالیسی ، قانون اور آئین  کے تحت چلنے نہیں دیں گے۔لوگوں کی خدمت کے لئے سی ایم بناجب تیسری بار مجھے وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا تو میں نے اسے قبول  کرلیا ۔ میری خواہش ،میرا خواب اور میری کوشش تھی کہ میری پسماندہ ریاست اور غریب عوام ہر شعبے میں آگے بڑھیں۔ سڑک ٹریفک ٹھیک ہو، لوگوں کواصلی شفاف اور باقاعدہ پانی ملے اور اچھی اور اعلیٰ تعلیم ملے۔میں چاہتا تھا کہ لوگوں کو بہتر اور مفت ہیلتھ سروس ملے اور بغیر رکے 24 گھنٹے ہر گھر، ہر خاندان کو بجلی ملے، ہر ذات اور سماج کو امن اور محفوظ ماحول ملے ، لوگوں کے رہن سہن کی سطح  اور ان کی آمدنی بڑھے، سبھی لوگ اعلیٰ درجے کے اور ترقی پذیر ہوں، ریاست کے ہر گھر میں خوشحالی ہو اور عام آدمی ہر طرح سے آگے بڑھے۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اور ان کاموں  کو ان کا اپنا مقام دینے کے لئے میں نے اپنے تن ،من ،دماغ ، فکر ، سوچ، عقل ، سخت محنت اور لگن سے ریاست کو اونچائی دینے اور عوام کی بھلائی ، ترقی اور بہتر کل کے لئے ہر گھڑی ہر پل کام کیا لیکن شاید میرے ساتھی وزیروں اور ایم ایل ایز کو یہ بات منظور نہیں تھی۔ کیونکہ ان کے لئے وزیر اور  ایم ایل اے بننے کا مطلب کچھ اور ہی ہوتا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میں سیاست سے دور رہنا چاہتاتھا۔ میں نے اپنے 23  سالوں کی سیاست میں الگ الگ وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے ریاست کی ترقی میں ہر ممکن شراکت داری دی ہے۔ اپنے اسمبلی حلقے اور پوری ریاست میں کام کیا ہے لیکن ان کاموں پر ہر کسی کی نظر نہیں گئی۔ اپنے 23سال کی سیاسی زندگی میں میں نے بہت سے وزراء اعلیٰ  کے ساتھ کام کیا، لیکن اپنے تجربہ سے میں نے دیکھا اور سمجھا کہ کسی بھی وزیر اعلیٰ اور وزیر کی اسکیم واضح نہیں تھی، وہ کسی بھی اسکیم کو صحیح سے ترجیح نہیں دے پائے۔ انہوں نے ہمیشہ سیاست کی نظروں سے ہی فیصلہ لیا، ہمیشہ عوام کے مفاد کو نظر انداز کیا۔ ایم ایل اے اور وزیر  ہمیشہ آپس میں حساب و کتاب کر کے ایک دوسرے کو فائدہ دینے اور خوش کرنے میں ہی لگے رہے۔ جبکہ میری تشریح  یہ ہے کہ لیڈر بننے کا مطلب صرف اپنے گھر ،خاندان، سگے رشتہ داروں اور دوستوں کو فائدہ پہنچانا نہیں ہوتا۔ وزیر ، ایم ایل اے اور بڑے آفیسر ایک دوسرے کی مدد کے لئے نہیں آئے ہیں، بلکہ ریاست کی مکمل ترقی اور غریب عوام کی خدمت کے لئے انہیں منتخب کیا جاتا ہے۔ اپنے 23 سال کی سیاسی زندگی میں میں نے لیڈروں کو اس کے بالکل برعکس ہی کام کرتے دیکھا ہے۔ وہ لوگ صرف ایک دوسرے کو یا بڑے لیڈر، بڑے آفیسر اور بڑے کاروباریوں کو ہی مدد اور فائدہ پہنچانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ ساڑھے چار مہینے کے اپنے وزیر اعلیٰ ہونے کے  عرصے میں میں نے اپنا سکھ، چین، گھر ،خاندان، نیند ، آرام کو تیاگ کر 24گھنٹے عوام کے حق میں کام کیا۔ میں نے صحیح معنی میں راج دھرم کی تعمیل کی ہے۔ اتنا ہی نہیں، میں نے ریاست میں مختلف محکموں میں صحت، تعلیم، پولیس اور قانون میں 11,000 سے زیادہ عہدوں کی جگہ نکالی تھی، جنہیں بالکل شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے لاگو کیا تھا۔ میں نے پلان، نان پلان فنڈ کو صحیح اور منصوبہ بند طریقے سے پیش کیا تھا۔ میں نے ریاست میں ٹرانسفر، پوسٹنگ، پروموشن اور ایوئنٹ منٹ  کے لئے  وزیروں  کو پیسے لینے سے منع کیا تھا، جس کا  شاید انہیں برا لگا۔پلان فنڈ،نان پلان فنڈ، کنٹریکٹ ورک ، ٹینڈر ورک اور بل پے منٹ میں   کمیشن لینے کے لئے بھی ممانعت تھی ۔شاید یہ بات بھی انہیں بری لگی۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ 14-15 لاکھ کی آبادی والی ریاست میں 60 ایم ایل اے کو منتخب کیا جاتا ہے۔ان میں سے 12وزیر بنتے ہیں۔ میں سوچتاہوں کہ وہ 60 ایم ایل اے اعلیٰ تعلیم یافتہ ، سماجی، بہتر قیادت اور اعلیٰ سوچ کے ساتھ ساتھ سبھی طرح سے اچھے انسان ہوں۔ وہ عوام کی خدمت اور حفاظت  کو اپنا دھرم مانتے ہوں، انسانیت کو اپنا ایمان اور عوام کی بھلائی کو اپنا  فرض  سمجھتے ہوں۔ ہمارے لیڈروں کو خاندان، طبقہ ، ذات ، دھرم اور سماج سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہئے لیکن ایسے لیڈروں کی آج جیسے کمی ہی آگئی ہے۔ آج ریاست میں ہر ایک لیڈر اپنی جیب بھر رہا ہے۔ اپنی خود غرضی پوری کررہا ہے۔ عوامی مفاد سے زیادہ وہ اپنے لئے، اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے بارے میں زیادہ سوچ رہا ہے۔ میں نے محسوس ہی نہیں کیا،بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے۔ اس بات سے میں بہت ہی پریشان اور غمزدہ ہوں ،اس ریاست کی پسماندگی کاسبب بھی یہی ہے۔ ریاست میں وزیر ، ایم ایل اے باہمی تعاون سے خود کو ہی آگے بڑھاتے ہیں اور غریب عوام کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہیں وزیر اعلیٰ بڑے لیڈروں، بڑے افسروں ، بڑے کاروباری کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے۔ ایسی حالت میں ریاست، سماج اور عوام کا کیا ہوگا؟لیڈروں نے سیاست کو دھندہ بنا لیا ہے۔ریاست میں سڑک، پانی ، بجلی، قانون، تعلیم، صحت اور صفائی انتظامات کو ہموار کرنے پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی لیڈروں کو شک کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ یہاں ہر ایک ایم ایل اے کو وزیر بننا ہے، وہ بھی ورک ڈپارٹمنٹ میں، جہاں انہیں زیادہ اور موٹی کمائی ہو۔ سبھی کو زیادہ سے زیادہ نقد پیسہ چاہئے۔ لیڈروں اور ایم ایل ایز نے اسے اپنا دھندہ بنا لیا ہے۔ یہی سب وجہ ہے کہ ریاست میں سرکار بار بار بدلتی ہے جس کا نقصان  عوام  اور ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سرکار بدلنے سے بہت سی اسکیمیں اور پروگرام بدلتے ہیں جس سے ترقی کی راہ اور رفتار رک جاتی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اس بات سے میں بہت ہی پریشان اور غمزدہ ہوں ۔میں لوگوں میں بیداری لانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ غور وفکر کریں،ان باتوں کو سمجھیں اور اپنی سوچ سمجھ ، کام ،کاج ،ہائو بھائو اور نیتوں کو بدلیں تاکہ ہم اپنی ریاست اور ملک کے سنہرے مستقبل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکیں۔آج عوام کو وزیروں اور ایم ایل ایز سے پوچھنا چاہئے کہ پانچ سال میں ان کے پاس مال و دولت، زمین و جائیداد اور بنگلہ، گاڑی کہاں سے آگئے؟عوام کو بدعنوانوں کو پہچاننا  چاہئے اور سوال کرنا چاہئے کہ ایم ایل اے یا وزیر بننے سے پیسہ بنانے کا کیا سرٹیفکیٹ مل جاتاہے؟یا پیسہ چھاپنے کی فیکٹری اور مشین مل جاتی ہے؟میں مانتا ہوں کہ جنتا جناردن ہے اور انہیں سچ کو پہچاننا چاہئے۔ دورجی کھانڈو فوج کے عام سپاہی تھے،ایم ایل اے بننے کے بعد بھی ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ لیکن جب وہ ریلیف وزیر بنے تب انہوں نے سرکاری جائیدادوں کو بھاری 50 فیصد میں بیچ کر اپنی جیب میں بھران شروع کر دیا۔ جب وہ وزیر برائے توانائی بنے، تب انہوں نے ارونا چل پردیش میں ہائیڈرو پروجیکٹ اسکیم میں ندی نالوں کو بیچ کر پیسے غبن کئے۔ انہوں نے 30لاکھ فی میگا واٹ کے حساب سے کمپنی کا پروجیکٹ بیچ کر موٹی کمائی کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے لاغر سرکار کو گرا دیا اور خود وزیر اعلیٰ بن گئے۔ آج ان کے (دورجی کھانڈو ) توانگ، ایٹا نگر، گوہاٹی، دہلی، کولکتاتہ اوربنگلور میں بڑے بڑے عالی شان مکان اور بنگلے ہیں۔ بہت سے فارمس ہائوس ، ہوٹلیں اور کمرشیل اسٹیٹ ہیں۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ دورجی کھانڈو نے گھوٹالے کرکے 1700 کروڑ روپے سے زیادہ دولت کمایا، جائیداد بنائی لیکن آج وہ تو اس دنیا میں نہیں ہیں پھریہ مال و دولت کیا کام آیا؟اس سے زندگی تو نہیں خرید سکتے اور نہ ہی اس مال و دولت کو دوسری دنیا میں لے جاسکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی کو محنت مزدوری کرکے اپنی  قسمت میں جو ہے اور اپنی ضرورت تک ہی کمائی کرنی چاہئے، سوشل میڈیا ، فیس بک اور وہائٹس ایپ پر لوگ کہہ رہے ہیں اور پوچھ بھی رہے ہیں کہ پیما کھانڈو کے پاس آج 1700 کروڑ نقد پیسہ ہے، وہ پیسہ کہاں سے آیا؟عوام یہ خود سوچیں اور غور کریں کہ وزیر بننے سے پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے؟ان کے پاس کوئی پیسہ بنانے کی مشین یا فیکٹری تو نہیں تھی اور نہ ہی کوبیر کا کوئی خزانہ تھا۔ پھر اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟وہ عوام کا پیسہ ہے۔ وزیر بنے یہ لوگ انہی پیسوں کا رعب دکھا کر عوام کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور لوگ اس کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ آج عوام کو اس کا جواب مانگنا چاہئے اور اس معاملے کی چھان بین ہونی چاہئے ۔ سپریم  کورٹ میں چل رہے کیس کا پورا خرچ نبام توکی اور پیما کھانڈو نے مل کر اٹھایا تھا جس کا فیصلہ میرے خلاف دیا گیا تھا۔ یہ رقم تقریباً 90 کروڑ روپے تھی۔ اس کیس میں میرے حق  میں فیصلہ دینے کے لئے مجھے بھی فون کیا گیا اور مجھ سے 86 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی لیکن مجھے اور میرے ضمیر کو یہ منظور نہیں تھا۔ میں نے بدعنوانی نہیں کی،میں کمایا نہیں اور نہ ہی ریاست کو کنویں میں گرانے کی میری خواہش تھی۔ میں اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے سرکار اور عوام کے پیسے کابے جا   استعمال کیوں  کروں؟

 

 

 

اس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔راحت کا پیسہ لیڈروں کی جیب میں توانگ میں آج سے ہی نہیں بلکہ برسوں سے ترقی کے نام پر بہت سا پیسہ جارہا ہے،لیکن وہاں پیسوں کا بے جا استعمال ہوا ہے اور لیڈروں نے اپنی جیبیں بھری ہیں۔ 2005 سے ریلیف فنڈ کے نام سے وہاں بہت پیسہ جارہا ہے۔ عوام آر ٹی آئی سے اس کی جانکاری لے سکتے ہیں۔ پروجیکٹ کا دورہ کرنے پر وہاں زمین پر کچھ بھی نہیںملے گا۔ سیاحت  کے نام پر بہت پیسہ جارہا ہے،  اربن ڈیولپمنٹ کے نام پر بہت پیسہ جارہا ہے،  پاور کے سیکٹر میں بہت پیسہ جارہا ہے۔ کٹپی ہائیڈرو پروجیکٹ  کے نام سے 2010-11 میں بغیر سینکشن اور بغیر کام کے 27کروڑ روپے ’’ ایل او سی ‘‘ (لائن آف کنٹرول ) کیا گیا، بغیر بل کے پیسے اٹھائے گئے۔ان پیسوں کا غبن کیا گیا۔ اسی طرح کھانتانگ اور موکتو ہائیڈرو پروجیکٹ کے نام سے بھی جھوٹا بل بنا کر 70کروڑ سے بھی زیادہ پیسوں کا غبن کیا گیا۔ پبلک ڈسٹریبیوشن سسٹم میں ہوئے بھیانک گھوٹالے ( پی ڈی ایس اسکَیم ) کی اصلی جڑ نابام توکی اور دورجی کھانڈو ہیں، انہوں  نے اس گھوٹالے کی شروعات کی تھی۔ گونگو اپانگ جب وزیر اعلیٰ تھے، تب ریاست میں پی ڈی ایس کا سال بھر کا کام 61 لاکھ روپے میں ہی ہو جاتا تھا۔ گونگو اپانگ اسے سدھارنا چاہتے تھے، لیکن سبھی نے مل کر انہیں پھنسایا تھا۔ جب نئی سرکار بنی تب نبام توکی فوڈ اینڈ  سول سپلائی منسٹر تھے۔توکی نے ریاست میں سر پر اناج ڈھو کر لے جانے کا  نظام  ( ہیڈ لوڈ سسٹم )  کی شروعات کی تھی۔ ایک سال میں ہی پی ڈی ایس کا کام 68 کروڑ روپے تک بڑھ گیا تھا۔وہیں اگلے ہی سال اس کام کی لاگت 164 کروڑ روپے تک بڑھ گئی تھی۔ اس پر مرکزی سرکار کو ریاستی سرکار پر شک ہو گیا تھا اور انہوں نے ایف سی آئی کو جانچ اور آڈٹ کرنے کا حکم دیا جس میں ریاستی سرکار کو قصوروار پایا گیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے پے منٹ روک دیا تھا۔ پی ڈی ایس گھوٹالہ کھلنے پر گونگو اپانگ نے ’’ ہیڈ لوڈ ‘‘ کا کام بند کروا دیا، جس سے یہ پے منٹ وہیں رک گیا تھا۔  پی ڈی ایس  ہندوستانی سرکار کی اسکیم تھی، جس کا پیسہ ایف سی آئی کے ذریعہ ہندوستانی سرکار سے ہی آتا ہے۔ ریاستی سرکار کے پیسوں سے اس کا پے منٹ ہوتا تھا۔ جب 2007 میں دورجی کھانڈو وزیر اعلیٰ بنے تب انہوں نے پبلک ڈسٹریبیوشن کے کام سے متعلق اپنے ہی ٹھیکہ داروں کو اپنی ہی سرکار کے خلاف  کیس  کرنے کے لئے اکسایا اور اس کام کے لئے ان کی مدد بھی کی۔ اس کیس میں ریاستی سرکار فاسٹ ٹریک کورٹ ، سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی کئی بار جان بوجھ کر ہارتی گئی۔ دورجی کھانڈو کی قیادت میں ریاستی سرکار نے کورٹ میں جان بوجھ کر صحیح ریکارڈ اور جانکاری نہیں دی تھی اور بہت سی فائل اور ریکارڈ کو مٹا دیا گیا۔ 50 فیصد حصہ لے کر دورجی کھانڈو نے ہی پرائیویٹ پارٹیوں کو ریاستی سرکار کے خلاف عدالتی حکم (کورٹ ڈکری) لینے میں مدد کی تھی اور پہلا  پی ڈی ایس پے منٹ انہی کے وقت میں ہوا تھا۔ 30 نومبر 2011 تک جب میں ریاست کا وزیر خزانہ تھا، تب عدالتی  حکم  ہونے پر بھی، میں نے اور وزیر زراعت سیتانگ سینا نے پے منٹ نہیں دیا تھا۔ صرف پی ڈی ایس پے منٹ دینے کے سبب ہی نبام توکی نے مجھے وزیر خزانہ کے عہدہ سے ہٹایا تھا۔ میرے وزیر خزانہ کے عہدہ سے ہٹتے ہی چوئونا مین وزیر خزانہ بنے اور چار دنوں کے اندر ہی 4/12/2011 کو نبام توکی اور چوئونا مین نے پی ڈی ایم کنٹریکٹر سے پیسوں میں 50فیصد کی حصہ داری لے کر ’’ ہیڈ لوڈ ‘‘ کی ادائیگی کر دی۔ اپنے 23 سال کی سیاسی زندگی میں میں نے پی ڈی ایس بل کی فوٹو کاپی پر پے منٹ ہوتے پہلی بار دیکھا تھا۔ ایسا کسی اور ریاست میں نہیں ہوتا ہے۔ 600 کروڑ روپے سے بھی زیادہ روپے کا پی ڈی ایس پے منٹ ہوا۔ ان روپے کو ریاست کے ڈیولپمنٹ فنڈ سے دیا گیا تھا جبکہ یہ مرکزی  سرکار کی اسکیم تھی اور مرکزی  سرکار نے اس میں گھوٹالہ دیکھ کر ایک بھی پیسہ ریاستی سرکار کو نہیں دیا تھا ۔پی ڈی ایس گھوٹالے کے اہم قصوروار دورجی کھانڈو ، پیما کھانڈو، نبام توکی اور چوئوونا مین ہی ہیں۔ فائل اور حقائق کو غائب کر دیا گیا جب میں وزیر اعلیٰ بنا ،تب میں نے اس کیس کی جانچ کی اور ریاستی سرکار کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ ہماری سرکار نے ایف سی آئی کے خلاف کیس کیا، ہندوستانی سرکار کے خلاف کسی کیا اور سپریم کورٹ  میں پھر سے غور کرنے کی درخواست بھی داخل کی تھی۔ مجھے اس بات  کا بہت ہی افسوس ہے کہ ریاست کے سابق وزیروں، سابق وزیر اعلیٰ اور افسروں نے مل کر سبھی فائل ، ڈاکومنٹس اور ضروری حقائق کو غائب کر دیا اور مٹا دیا جس کی وجہ سے میں ریاستی سرکار کو اس کیس میں بچا نہیں سکا۔ اس کیس میں چیف سکریٹری، سکریٹری، ڈائریکٹرس اور افسروں کوجیل تک ہونے والی ہے۔آج اس پی ڈی ایس کے کیس میں حقیقی ٹھیکہ داروں کو پیسہ نہیں ملا، جبکہ انہوں  نے صحیح ٹینڈر بھرا اور صحیح کام بھی کیا، مناسب قیمت کی دکانوں  ( فیئر پرائس شاپس) تک چاول بھی پہنچایا تھا۔ وہیں دوسری طرف پی ڈی ایس اسکَیم میں پیما کھانڈو کا نام شامل ہے جس کا  آج بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کیس چل رہاہے۔ گولڈن جوبلی گرام سیلف ایمپلائڈ ،منصوبہ (ایس جی ایس وائی ) کے چاول گھوٹالے میں بھی دورجی کھانڈو اور پیما کھانڈو خود پھنسے ہوئے ہیں۔ آج اس کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ اگر دورجی کھانڈو زندہ ہوتے، تو ابھی جیل میں ہوتے۔ پیما کھانڈو آج وزیر اعلیٰ ہیں ۔پھر بھی اس کیس میں بہت جلد جیل جائیں گے۔ ایس جی ایس وائی ہی  غلط تھا،  کیونکہ  اس منصوبہ میں ایک بھی چاول کا دانہ گائوں تک نہیں پہنچا اور نہ لوگوں کو چاول ملا۔ یہ سارا چاول آسام میں بیچا گیا۔  وہ ایک گھوٹالہ ہے جو چاول گیا ہی نہیں، اس کے لئے جھوٹا ٹرانسپوٹیشن  بل بنایا گیا، یہ دوسرا گھوٹالہ ہے۔ ان  باپ و بیٹوں نے گھوٹالوں پر گھوٹالے کئے ہیں۔اس گھوٹالے پر کوئی بھی عام آدمی یا عوام پیما کھانڈو سے آج پوچھیں کہ اس منصوبے میں مرکز سے کتنا چاول آیا تھا؟کس کے لئے آیا تھا؟کب آیا تھا؟اور کس کو چاول ملا؟اور اس چاو گھوٹالے میں کتنے پیسوں کی کمائی ہوئی؟میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان سوالوں کے جوابات پیما کھانڈو کے پاس نہیں ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی جواب ہے ،ان کے پاس آج ڈھیر سارا نقد پیسہ ہے، جن کے پیچھے عوام بھاگتے ہیں۔لیکن یہ بات عوام کو جاننا اور سمجھنا چاہئے کہ یہ ان سب گھوٹالوں کا پیسہ ہے۔کمزور ، بدعنوان ، بدمعاش اور لٹریروں کو ترجیح دینا کانگریس پارٹی کی پالیسی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو کانگریس لیڈر بناتی ہے تاکہ وہ سرکار اور عوام کے پیسوں کو مل کر لوٹیں اور کانگریس اعلیٰ کمان کو پہنچاتے رہیںجس سے لگاتار ان کی کمائی ہوتی رہے۔ گھوٹالوں اور بدعنوانیوں کا پتہ ہوتے ہوئے بھی لیڈروں اور ایم ایل ایز نے آج تک کچھ نہیںکیا۔کیونکہ ایم ایل ایز اور وزیروں کو بھی پی کے تھونگن ، گوگانگ، دورجی کھانڈو، نبام توکی اور پیما کھانڈو جیسے ہی بدعنوان وزیر اعلیٰ چاہئے جن کے خلاف سی بی آئی جانچ چل رہی ہے۔ ہائی کورٹ ،سپریم  کورٹ م میںکیس چل رہے ہیں لیکن یہی لوگ افسروں، عدالتوں اور ججوں کو پیسہ دے سکتے ہیں۔ اپنے وزیر اعلیٰ ہونے کے دور میں میں نے ہرضلع کو سوشل اینڈ انفراسٹرکچرل ڈیولپمنٹ فنڈ ( ایس آئی ڈی ایف ) ، رورل انجینئرنگ اور نان پلان میں برابر فنڈ دیا تھا۔ اس کے بعد بھی پیما کھانڈو اور ان کے دونوں بھائیوں نے ایک پروجیکٹ میں مجھ سے فوری طور سے 6 کروڑ روپے ہائی ڈرو پروجیکٹ مینٹننس کے لئے مانگے تھے جسے میں نے پورا دیا۔ ان پیسوں کو ابھی کام میں ہی نہیں لایا گیا تھا کہ انہوں نے فوڈ ریلیف میں مجھ سے پیسے مانگے۔ انہوں نے 10کروڑ کی اور مانگ کی تھی۔ اس وقت ریاست میں فلاڈ ریلیف کے لئے کل 14کروڑ روپے ہی تھے، پھر بھی میں نے سب سے زیادہ 6کروڑ روپے توانگ میں دیئے تھے۔ ارونا چل جیسی چھوٹی ریاست  میں  ہمارے پاس این ڈی آر ایف میں صرف 51کروڑ روپے ہی تھے جسے 20ضلعوں اور    6ایم ایل ایز کو ضرورت ہونے پر دینا تھا اور اس وقت  بہت سے ضلعے  سیلاب سے متاثر تھے۔ وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے مجھے ہر  ضلع  اور 60ایم ایل ایز کو برابر دیکھنا تھا لیکن پیما کھانڈو اور ان کے دونوں بھائیوں نے مجھ سے 100.88 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی۔ میں نے انہیں ریاست کی صورت حال کے بارے میں بتایا اور سمجھایا لیکن اس بات سے وہ مجھ سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے میرے خلاف چال چل دی تھی۔ توانگ گولی باری کے پیچھے بھی پیما کھانڈوایک ا ور بات میں بتانا چاہوں گا کہ 2 مئی کو توانگ میں ہوئی گولی باری کے سانحہ کے پیچھے بھی پیما کھانڈو کا ہی ہاتھ ہے۔ گرفتار ہوئے لاما آدمی کو پیما کھانڈو نے بیل نہیں دینے دی تھی۔ اس سانحہ کے ذمہ دار بھی پیما کھانڈو ہی ہیں۔ ڈی سی اور ایس پی توانگ کی ہوئی فون پر بات چیت میں پیما کھانڈو کا ذکر ہے۔ توانگ میں ہوئی گولی باری کے سانحہ میں پیما کھانڈو نے ڈی سی، اے ڈی سی اور مجسٹریٹ پر بیل نہ دینے کا دبائو بنایا تھا۔ مجھے اور چیف سکریٹری کو اس سانحہ کے معاملے میں  افسروں پر کارروائی نہ کرنے کا بھی دبائو ڈالا تھا۔ اس کے باوجود ہم نے افسروں پر کارروائی کی، شاید اس بات کا انہیں برا  لگا ہو۔ اس سانحہ میں کتنے لوگوں کی جانیں گئیں، کتنے لوگ سنگین طور سے زخمی ہوئے تھے، ان کا آج بھی شیلانگ اور گوہاٹی میں علاج چل رہا ہے۔ جبکہ میں خود مرنے والوں کے رشتہ داروں سے ملا، سنگین طور سے زخمی ہوئے لوگوں سے بھی توانگ، شیلانگ اور گواہائی میں مل کر ہر ممکن مدد کی تھی۔ جبکہ پیما کھانڈو کو اس سانحہ پر کوئی دکھ اور فکر نہیں تھی۔ لوگوں کو سوچ کر فیصلہ کرنا  چاہئے  کہ کون صحیح اور کون غلط ہے؟ایم ایل اے سے وزیر بنے اور وزیر اعلیٰ کا فاصلہ نبام توکی نے بہت ہی کم وقت میں طے کرلیا۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے ان کے پاس کچھ  بھی  نہیں تھا اور آج آدھے ایٹا نگر ، نہار لاگون میں ان کی زمینیں اور جائیدادیں ہیں۔ وہیں کولکاتہ ، دہلی اور بنگلور میں بھی ان کے عالیشان بنگلے ، فارم ہاوس اور زمینیں ہیں۔ سوشل میڈیا ، فیس بک ، وہائٹس ایپ پر فوٹو اور ویڈیو کے ساتھ ان کی جائیداد کا بیورو دستیاب ہے۔ ان کا کالا چٹھا کچھ اس طرح ہے:گوہاٹی ہائی کورٹ نے نبام توکی کے خلاف کی گئی سنوائی میں انہیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے سی بی آئی جانچ کے حکم دیئے تھے لیکن اسی کیس میں توکی نے سپریم کورٹ کے جسٹس ایچ ایل دتو کو 28کروڑ روپے رشوت دے کر اسٹے لے لیا اور آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔اروناچل پردیش میں ہوئے پی ڈی ایس اسکَیم پر سپریم کورٹ کے جسٹس التمش کبیر نے کنٹریکٹروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا جبکہ مرکزی سرکار اور ایف سی آئی نے بھی اس فیصلے کو غلط ٹھہرایا تھا۔ فوڈ اینڈ سول سپلائی کے ڈائریکٹر این این اوسیک کے بینک کھاتے سے نبام توکی کے کھاتے میں  30لاکھ روپے ٹرانسفر کئے گئے تھے۔ اس بات کو گوہائی ہائی کورٹ نے بھی مانا ہے جس کا ریکارڈ ہائی کورٹ  اور سپریم کورٹ کے پاس بھی ہے۔ اس کیس میں بھی رشوت دے کر کورٹ  کا فیصلہ خریدا گیا تھا۔ نبام توکی نے  پی ڈی ایس گھوٹالے کی شروعات کی تھیفوڈ اینڈ سول سپلائی کے وزیر رہتے وقت نبام توکی نے ہی پی ڈی ایس گھوٹالے کی شروعات کی تھی۔ سڑک راستہ ہونے پربھی ’’ ہیڈ لوڈ ‘‘  کا جھوٹافارمولہ ایجاد کیا ۔20کلو میٹر کو 46کلو میٹر کا راستہ بتایا اور 40کلو میٹر کو 90 کلو میٹر کا راستہ بتا کر پیسوں کا غبن کیا تھا۔ جہاں آبادی ہی نہیں تھی، وہاں چاول کا کوٹا بڑھایا گیا۔ چاول پر لون دکھاکر کوٹا بڑھایا گیا اور بھاری مقدار میں پیسوں کا غبن کیا۔ جہاں چاول ، چینی اور گیہوں گیا ہی نہیں ، وہاں  جھوٹا بل بناکر گھوٹالہ کیاگیا۔ کورنگ کومے اور سوبان سیری کے چاول کے کوٹے کو ایف سی آئی بس ڈپو سے نکال کر لکھیم پور (آسام ) میں بیچا گیا تھا۔ توانگ، مشرقی کامینگ اور مغربی کامینگ کے چاول کے کوٹے کو تیج پور (آسام )  میں بیچا گیا تھا۔ مشرقی و مغربی سیانگ کے چاول کے کوٹے کو دھیماجی  (آسام ) میں بیچا گیا۔ ایک ہی بل سے بار بار جھوٹا بل بناکر 6-7 بار روپے  نکالے گئے۔ ریاست میں جس وقت 61 لاکھ روپے میں بھر کے پی ڈی ایس چاول کی سپلائی ہوتی تھی، وہیں نبام توکی کے وزیر رہتے ہوئے یہ رقم 168 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ پرانے کاموں اور فوٹو دکھا کر نبام توکی نے 70فیصد تک ریلیف فنڈ کا گھوٹالہ کیا تھا۔ ان پیسوں کا نبام توکی نے بے جا استعمال کیا اور عوام اور مرکزی سرکار کو گمراہ کیا۔ اس کی پی آئی ایف آج گوہاٹی ہائی کوٹ میں چل رہی ہے۔ ریاست میں ایسے گھوٹالے کر کے وہ اپنی جائیداد بڑھاتے ہیں،  اس سے عدالت میں انصاف خریدتے ہیں،  کانگریس اعلیٰ کمان کو خریدتے ہیں اور میڈیا کو بھی خریدتے ہیں جسے عوام خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں۔ریاست میں نان پلان فنڈ الاٹ کرکے 60فیصد  فنڈ  واپس لے کر بے جا استعمال کیا گیاجس کی وجہ سے ریاست میں مرکز کی بہت سی اسکیمیں آج بھی بند پڑی ہیں جس کے سبب ریاست میں  2013-14 اور 2015 تک لگاتار اُوَر ڈرافٹ کا مسئلہ ہوتا رہا اور  جس کے سبب سرکاری افسروں کی تنخواہ، بھتے، میڈیکل بل، گورمنٹ پراویڈنٹ فنڈ؍ نیو پنشن اسکیم، طلباء کے بھتے اور ٹھیکہ داروں کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوپاتی تھی۔ اس پر بھی سرکاری آفیسر ، طلبائ، ٹھیکہ دار اور عوام انہیں برداشت کرتے گئے۔ کبھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھایایا اور نہ ہی اس کی مخالفت کرنے کی کبھی ہمت دکھائی جس سے بدعنوان لوگوں  کے حوصلے بلند ہوتے گئے اور وہ ریاست میں زیادہ بدعنوانی کرتے گئے۔13ویں  مالیاتی کمیشن ( ٹی ایف سی )کے سارے پیسوں کا بے جا استعمال ہوا ہے۔ اسپیشل پلان اسسٹنٹس (ایس پی اے ) کے پیسوں کا بے جا استعمال ہوا ہے جس کا کام آج بھی بند پڑا ہے۔ اسپیشل سینٹرل اسسٹنٹس ( ایس سی اے )  فنڈ کا بے جا استعمال ہوا ہے۔ ریاست کے پاس فنڈ نہیں ہے ، پھر بھی بھولے بھالے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کہا گیا کہ سول ڈپازٹ میں فنڈ ہے۔ جب میں وزیر اعلیٰ بنا، تو سب سے پہلے چھان بین کرکے پتہ لگایا لیکن وہاں کوئی پیسہ نہیں تھا۔ دورجی کھانڈو جہاں  ریلیف فنڈ اور نان پلان فنڈ میں 60فیصد دلالی ؍ رشو ت لیتے تھے، وہیں نبام توکی نے اس میں 10فیصد اضافہ کیا اور 70 فیصد دلالی لے کر ریاست کے فنڈ کو لوٹا۔ یہی سب وجہ ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ریاست میں اُوَرڈرافٹ کا مسئلہ چل رہا تھا اور ریاستی بجٹ بھی گھاٹے میں چل رہا تھا۔ نبام توکی نے اپنی بیوی نبام نیامی کے نام پر ریاست کے سبھی شہروں مثلاً زیرو، پاسی گھاٹ، تیجو، ایٹانگر، ہوائی سمیت سبھی ضلعوں میں سرکاری ٹھیکہ  داری کے کام کئے۔ وہیں ان کے بھائی اوررشتہ دار نبام تگام، نبام آکا، نبام ہاری اورنبام ماری نے بھی بہت سی سرکاری اسکیموں اور منصوبوں میں الگ الگ کام کر کے ریاست کے خزانے کو لوٹا تھا۔ ریاست میں ان سبھی گھاٹے اور گھوٹالوں  کے ذمہ دار نبام توکی ہی ہیں جنہوں نے ریاست کو کنوئیں میں دھکیل دیا اور بھولے عوام کو بیوقوف بنایا۔ نبام توکی کی حرکتوں کی میں نے مخالفت کی سوشل میڈیا، فیس بک اور دہائٹس ایپ پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ پیسے کہاں سے آئے؟لیکن اگر ان سے سچ پوچھا گیا تو یہ آپ سے نظر ملاکر وہ بات بھی نہیں کر سکیں گے۔نبام  توکی کی انہی حرکتوں سے تنگ آکر میں نے اور ریاست کے   زیادہ تر   ایم ایل ایز نے ایک سُر میں ان کی مخالفت کی۔  ان کی سرکار اقلیت میں ہونے پر بھی انہوں  نے اپنے اسپیکر بھائی نبام ریبیا کے ساتھ مل کر اور ان کی مدد سے دو ایم ایل ایز کو معطل کر دیا اور اپنی سرکار چلاتے رہے۔اسمبلی اسپیکر پر امپیچ منٹ کا معاملہ ہونے پر بھی نبام ریبیا اپنے عہدہ پر بنے رہے، جبکہ 14 دنوں کے اندر ہی اس پر کارروائی ہونی  چاہئے تھی۔ وہیں نان کنفیڈنس موشن پر ووٹنگ ہونے پر بھی نبام توکی سی ایم عہدہ پر بنے رہے، جبکہ گورنر نے انہیں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا۔ 13جنوری 2016 کو گوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے کے بعد بھی وہ اپنی سرکار چلاتے رہے اور ریاست کو لوٹتے رہے۔ ایسے میں نبام توکی کو اپنا استعفیٰ پیش کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ایک ریاست میں گورنر ہی سب سے بڑے ہوتے ہیں۔ گورنر کی ہی اجازت سے وزیر اعلیٰ اور وزیر طے ہوتے ہیں۔ ٹرانسفر ، پوسٹنگ اور اپوائنٹ منٹ بھی گورنر کی ہدایت و رہنمائی میں کئے جاتے ہیں۔لیکن نبام توکی نے ہمیشہ قانون ، انصاف اور عوام کا مذاق اڑیا۔ میں نے اپنے 23 سال کی سیاسی زندگی میں پانچ وزراء اعلیٰ کے ساتھ کام کیا، لیکن نبام توکی جیسا بد عنوان اور خراب سسٹم کہیں نہیں دیکھا۔ ا ن کی سرکار نے ریاست میں بند، ہڑتال اور دنگے کروائے، عوام کو ذات، مذہب اور علاقہ کے نام پر بانٹا اور ان میں لڑائیاں کروائیں۔ انہوں نے سرکار ، قانون،جمہوریت ، آئین، عدالت اور عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور ہمیشہ ان کی توہین کی۔ انہوں نے ہمیشہ ذات ، مذہب، سماج، ،زبان اور علاقہ کے نام پر سیاست کی ہے۔ جس انسان نے عوام کی خدمت کے بجائے اپنا گھر بھرا ہے، آج عوام کو اس سے جواب مانگنا چاہئے کہ جو بھی زمین جائیداد، مال و دولت انہوں نے بنایا ہے،وہ کہاںسے آئے؟کیا کہیں پیسہ چھاپنے کی مشین ملی تھی  یا پیسوں کی فیکٹری ملی تھی؟ ان پر کڑی کارروائی ہونی چاہئے اور عوام کو اس کا حق ملنا چاہئے ۔چوئونا مین سب سے زیادہ بد عنوان۔چوئونا مین ریاست کے بڑے وزیروں میں سے سب سے زیادہ بدعنوان ہیں۔ مین جس محکمہ میں بھی  گئے، وہاں بدنامی کے چھینٹیں اپنے دامن پر جھیلے ہیں۔میں ان کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے رکھتا ہوں۔ ارونا چل کے رول ڈیولپمنٹ منسٹری میں کبھی کوئی لین دین نہیں کیا گیا تھا،لیکن چوئونامین نے ایک پی ڈی ( پروجیکٹ ڈائریکٹر)سے 10لاکھ روپے لے کر اس کی شروعات کی تھی۔ اے پی او کی پوسٹنگ کے لئے پانچ لاکھ روپے رشوت لیتے تھے۔ بی ڈی او کے لئے تین لاکھ روپے رشوت لیتے تھے۔ رورل ورکس ڈپارٹمنٹ ( آر ڈبلیو ڈی ) اور وزیر اعظم گرامن سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائی )  میں بھی ٹھیکہ داروں سے پرسنٹیز طے کر کے رشوت لیتے تھے۔ چوئونا مین ٹرانسفر اور پروموشن کے لئے بھی رشوت لیتے تھے۔ اس کے لئے ان کا ریٹ ہی طے تھا ۔ ایگزیکٹیو  انجینئرنگ  کے لئے 15لاکھ روپے، اسسٹنٹ انجینئرنگ  کے لئے 5 لاکھ روپے، جونئیر انجینئرنگ  کے لئے 3لاکھ روپے۔وزیر تعلیم بننے پر چوئونامین نے 3 سے 4 لاکھ روپے لے کر لوگوں کو بغیر انٹرویو کے ٹیچر کی نوکری دی تھی۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور پبلک ورک ڈپارٹمنٹ  (پی ڈبلیو ڈی ) میں بھی ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر 10-5 لاکھ روپے رشوت لے کر ڈھیر سارا پیسہ کمایا تھا۔ لائن آف کریڈٹ  کے لئے بھی چوئونا مین نے پیسوں کی مانگ کی تھی جس کے سبب بہت سے افسروں نے ڈویژن میں جانے سے منع کر دیا تھا اور ناراض بھی ہو گئے تھے ۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمہ میں وزیر رہتے وقت جاربامگاملین سرکار میں ریلیف فنڈ کے 46 کروڑ روپے کی دلالی کرکے 15 ہی دنوں میں مین نے الفا اور انڈر گرائونڈ طاقتوں کی مدد سے گاملین سرکار کو گرا دیا تھا۔ چوئونا مین کے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمہ میں وزیر رہتے وقت،مرکزی سرکار نے واٹر سپلائی کے لئے 67کروڑ روپے دیئے تھے، بغیر کام کئے ہی ان پیسوں کا بے جا استعمال کیاگیا جس کا ریکارڈ آر ٹی آئی سے لیا گیا ہے اور یہ آج بھی آر ٹی آئیکے دفتر کے پاس موجود ہے۔ پھر نبام توکی سرکار میں وزیر خزانہ بننے پر انہوں نے ریاست کو بھاری مالی بحران کی سوغات دے دی۔ ڈیولپمنٹ پلان فنڈ کو نان پلان میں ڈال کر فنڈ کا بے جا استعمال کیا گیا جس کی بدولت مین کے دور کار میں ریاست میں اُور ڈرافٹ کا بھاری مسئلہ تھا۔ انہوں  نے ریاست میں ہمیشہ ہی ایسے محکمہ چنے جن میں زیادہ ٹرانسفر ، پوسٹنگ ہوتی ہو۔ زیادہ تر وہ پلاننگ، فائننس اور پی ڈبلیوڈی میں رہنے کی مانگ ہی کرتے رہے، تاکہ ان کی زیادہ سے زیادہ کمائی ہو سکے۔ کیا  ایسے  لیڈروں کے ہاتھ میں ریاست محفوظ ہے؟آج ہر کہیں زمینیں، جائیدادیں،چائے باغ، سنترہ باغ اور ربڑ بگان خرید کر نمسائی ضلع کی آدھی جائیداد انہوں  نے اپنے نام کر رکھا ہے۔ چوئونا مین نے دہلی، کولکتانہ،بنگلور اور گوہاٹی میں عالی شان بنگلے، کمرشیل اسٹیٹ اور جائیدادیں بنارکھی ہیں۔عوام جواب مانگیں کہ ریاست اور عوام کواس طرح کیوں گمراہ کیا گیا؟ایم ایل ایز  یا وزیر بننا پیسوں کی فیکٹری چلانا تو نہیں ہے، پھر اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟کیا یہی ہیں کانگریس کے اصلی لیڈر؟عوام کو کیوں دھوکہ میں رکھا گیا اور عوام کی زندگی سے کیوں  کھیلا گیا؟اربوں کے مالک کااپنا گھر بھی نہیں تھا کاریکھو کیری کبھی تیجو سے ایم ایل اے تھے۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ اپنے بڑے بھائی جو کہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں انجینئر تھے، انہی کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے پہلے اسمبلی انتخاب میں ایک پرانے اسکوٹر سے کمپین شروع کیا تھا اور ایم ایل بننے کے 3-4 سالوں میں ہی ہر کہیں زمین اور جائیداد خرید کر آدھے تیجو کے مالک ہو گئے۔ اب ان کے پاس عالی شان بنگلے، شاندار گاڑیاں اور نوابوں کے ٹھاٹ باٹ  ہے۔ آج ایٹا نگر، دہلی، کولکاتا بنگلور میں  کاریکھو کیری کے عالیشان بنگلے اور جائیدادیں ہیں ۔آج ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ پیسے کیسے اور کہاں سے آئے؟لوگ ان کے پیسوں کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں، ریاست میں ایم ایل اے بننا کسی لاٹری لگنے جیساہے۔ جہاں ہر کوئی راتوں رات کروڑ پتی بن جاتاہے ۔ریاست میںایسے اور بھی بہت سے ایم ایل ایز ہیں جو ایم ایل اے بننے پر ریاست کو لوٹتے ہیں۔ جیسے کہ جب اس بار سپریم  کورٹ  کا آرڈر آیا، تب مجھ سے کئی ایم ایل ایز نے 15کروڑ روپے نقد مانگے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اپنی سرکار بچانی ہے، تو ہمیں اتنے پیسے دیں لیکن میں یہاں پیسہ بنانے یا پیسہ بانٹنے کے لئے نہیں آیا، بلکہ عوام کے سرکاری خزانے کو بچانے اور  تحفظ دینے  آیا تھا۔ صحیح وقت اور صحیح ڈھنگ سے ضرورتمندوں کی اسکیموں کو آگے بڑھانے اور عوام کی خدمت اور ان کے حق میں ترقی کرنے کے لئے آیا تھا۔ جب بھی کبھی ریاست میں سیاسی بحران کی صورت حال ہوتی ہے، تو یہ ایم ایل اے دونوں طرف سے 10-15کروڑ روپے لوٹتے ہیں۔ ایسا کرکے یہ اپنے آپ کو نیلام کرتے ہیں، بیچتے ہیں۔ریاست میں ایسا کب تک چلتا رہے گا؟عوام کو ایم ایل ایز  سے سوال کرنا چاہئے ،ان کے خلاف عوامی آندولن  کرنا چاہئے۔ آج کے سبھی ایم ایل ایز بدعنوان ہیں ۔ انہیں اسمبلی میں جانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ عوام کو ان سے استعفیٰ  مانگنا چاہئے، تاکہ یہ ایک نئی اور بہتر سرکار چن سکیںجس سے ریاست کا فائدہ ہو سکے۔ (خاص کر مجھے افسوس ہے، اپنے اچھے دوست پی ڈی سوناجی کا کام میں پورا نہیں کر پایا، ان کی مانگ تھی 10کروڑ ، نقد، لیکن 11/07/2016 کو میں انہیں 4 کروڑ ہی دے پایا )۔ریاست میں صحیح سوچ وچار کے ساتھ، مضبوط قوت ارادی، واضح نقطہ نظر کے ساتھ اور صاف پالیسی پر مرکوز پالیسیوں کے ساتھ اگر ہم صرف ترقی کے مقصد سے اور غریب عوام کی خدمت کے جذبے سے کام کریں تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے ساڑھے چار مہینے کے وزیراعلیٰ رہنے کے دوران جو کام کرکے دکھایا، وہ ایک مثال ہے کہ ہم کیسے ایک ریاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور اسے ترقی دے سکتے ہیں۔لیکن میرے ایم ایل ایز ساتھیوں نے مجھے ایسا کرنے نہیں دیا اور یہ کسی کو بھی کرنے نہیں دیںگے۔کیونکہ اپنے 25-30 سال کی سیاسی زندگی میں میں ایم ایل ایز کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ریاست کے ایسے بدعنوان اور بدمعاش ایم ایل  ایز اور لیڈروں  کے ساتھ کام کر پانا مشکل ہے۔ یہ لوگ کبھی نہیں بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی سدھر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو سمجھانے، سبق سکھانے اور احساس دلانے کا وقت آگیا ہے، تاکہ یہ پھر کبھی عوام کے ساتھ کھلواڑ  نہیں کرسکیں۔ میں ایسا اس لئے کہہ رہاں کہ اگر ریاست میں 4مہینوں میں 3-4 بار سرکار بدلے گی تو ریاست کو بہت نقصان ہوتا ہے جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا،  وہیں عوام بغیر سمجھے ہر بار نئے وزراء اعلیٰ اور وزیروں کو جے جے کار کرتے ہیں، جبکہ میں سمجھتا ہوں  کہ یہ ان کے ساتھ دھوکہ ہے۔اس لئے میں عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس پیغام اور قربانی کو سنجیدگی سے لیں،اپنے لیڈروں سے حساب و کتاب مانگیں، ان کی سخت مخالفت کریں ،گائوں ،قصبوں ،شہر اور ضلعوں میں ان بدعنوان لیڈروں کے خلاف بڑے عوامی آندولن ہوں اور گورنر اور مرکزی سرکار سے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی مانگ ہو اور ریاست میں پہلے جیسی مرکز کے زیر انتظام حکومت بنے۔ تاکہ ریاست میں ترقی ہو، عوام کو ان کا برابر حق مل سکے اور ریاست میں امن ، سکھ اور شانتی بحال ہو سکے۔ ریاست میں صحیح وقت پر پھر سے انتخاب ہو جس میں نئے چہروں ، اچھے  پڑھے لکھے، نیک انسان ، اچھی سوچ،خیال والے اور اپنی زندگی میںجنھوں نے جدوجہد کی ہو، انھیںریاست کے غریب عوام کا فائدہ اورترقی ہوسکے۔ جہاںتک کانگریس پارٹی کا حوالہ ہے، میںایک طالب علم رہتے ہوئے اس سے جڑا تھا اور آج کانگریس میں رہتے ہوئے مجھے 33 سال ہوگئے ہیں ۔ کانگریس سے جڑنے کے پیچھے ایک وجہ تھی۔ وہ مان مریاداؤں،  نظریات، آدرشوں اور حب الوطنی کا دور تھا۔ 7 مارچ 1986 کو شری راجیو گاندھی تیجو آئے تھے،ان کا استقبال کرنے کے لیے میںہاتھ میں ترنگا جھنڈا لیے کھڑا تھا۔ میںنے ترنگا جھنڈا راجیو جی کی نذر کیا اور انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اچھے سے پڑھو اور اچھے آدمی بنو۔ اس دن انھوںنے اپنے خطاب میں 3 باتیںکہی تھیں:ارونا چل ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دہلی دور ہے لیکن میرے دل سے دور نہیں ہو۔ ہم مرکز سے سو روپے بھیجتے ہیں لیکن یہاں صرف 25 روپے ہی پہنچتے ہیں۔ ہم بدعنوانی کے خلاف لڑیں گے۔شری راجیو گاندھی کی ان سب باتوںکا مجھ پر گہر ااثر پڑا اور میںکانگریس سے جڑ گیا۔ آج میں1995 سے لگاتار ہیؤلیانگ سے منتخب ہو رہا ہوں اور ریاست میں سب سے زیادہ ووٹوںسے جیتتا آرہا ہوں۔ لیکن آج دکھ ہوتا ہے کہ اتنے بڑے کانگریس خاندان کو عوام کی خدمت کرنے والے نہیں ،بلکہ بدعنوان اور بدمعاش لوگ چاہئیں۔ آج لیڈر سیوک نہیں، دلال بن گئے ہیں، بزنس کرکے صرف اپنا مفاد ہی دیکھ رہے ہیں۔ تب کی بات اور تھی، جب سیاست میںاصولوں، پالیسیوں اور نظریات پر بحث ہوتی تھی۔ آج لیڈر ریزرویشن، فنڈ، دھرم – مذہب، ذات، علاقے کے نام پر لوگوں کو بانٹ کر ووٹ بٹورنے کا کام کرتے ہیں اور غریبوں کی لاچاری پرسیاست ہوتی ہے۔ وہ بھی ایک دور تھا، یہ بھی ایک دور ہے۔ سال 2008  میںدورجی کھانڈو کے کہنے پر اور مجبوری میںخود چار بار موتی لال ووہرا کو روپے پہنچانے گیا تھا، جو کل 37 کروڑ روپے تھے۔ سال 2009 میںریاست کو ایڈوانس 200 کروڑ روپے کے لین دین کے لیے دوجی کھانڈو کے کہنے پر میں نے شری پرنب مکھرجی (تب وزیر خزانہ) کو 6 کروڑ روپے ’واتایل‘ 802/7، کوی بھارتی سرنی، کولکاتا700029- کے پتہ پر دیے تھے۔ سال 2015-16 کے بیچ میں 13 مہینوںکے لیے دہلی میں تھا، جس میں میں کانگریس کے درج ذیل لیڈروں سے ملا۔نارائن سامی سے 13 بار، کمل ناتھ سے 4 بار، سلمان خورشید سے 5 بار اور غلام نبی آزاد سے بھی 5 بار ملا تھا۔ لیکن سونیا گاندھی اور راہل گاندھی مجھ سے نہیں ملے۔ ایک طرف سلمان خورشید اور غلام نبی آزاد نے میری بات صحیح سے سنی اور مدد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نارائن سامی نے نے 110 کروڑ روپے پارٹی فنڈ اور خود کے لیے مانگے تھے، جو انھوںنے اپنے نجی اسٹاف بی ایس یادو کے ذریعہ مانگے تھے۔ ساگر رتنا (ساؤتھ انڈین ریسٹورینٹ) میں کئی بار مجھے بلایا اور اپنی مانگ بتائی۔ کپل سبل نے مجھ سے 9 کروڑ روپے مانگے تھے۔ جب کمل ناتھ سے نلا تب انھوں نے بھی 130 کروڑ روپے دینے کے لیے مجھ سے کہا تھا،جو انھوں نے انوپم گرگ، می مگلانی اور نوین گپتا سے کہلوا کر مانگے تھے۔ان سبھی باتوںکا مجھے بہت ہی دکھ ہوا تھا۔ میںبہت دنوں تک گہری سوچ اور تشویش میںڈوبا رہا۔ پارٹی نے میرے خلاف بہت زہر اگلا پھر بھی میں3 بار کورٹ کیس جیت کر آج بھی کانگریس سے جڑا ہوں۔ سچ پوچھو تو میںنے کانگریس کا اصلی چہرہ دیکھا ہے اور اب کانگریس میں اور سیاست میں رہنے کی میری خواہش ہی نہیں ہے۔ کانگریس کے بڑے لیڈروں نے اپنا راج دھرم نہیںنبھایا اور نہ ہی نبھا رہے ہیں۔ میںخود کو بہت ہی بدقسمت سمجھتا ہوں کہ میںاتنے سالوںتک اندھیرے میںچلتا رہا، ایسی پارٹی سے جڑا رہا، جس نے مجھے خون، مشقت، پسینے اور آنسو کے علاوہ کچھ نہیںدیا۔ مجھے کہنے میںشرم محسوس ہوتی ہے لیکن کانگریس ایسی پارٹی ہے، جس کا پورا ڈھانچہ ہی بدعنوان ہے۔انصاف اور قانون کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوںکہ جمہوریت میں قانون اور انصاف کی اہمیت سب سے اوپر رہتی ہے۔ اگر قانون اور عدالت نہ ہوتو جمہوریت کا چلنا ممکن نہیںہے۔ عدالت کا کام ہے، عام جنتا،غریب اور بے سہارا لوگوں کو ان کا حق دلانا، ان کی مددکرنا اور بچاؤ کرنا۔ لیکن میں نے اس کے بالکل الٹا ہوتا دیکھا ہے۔ انصاف کے دلالوں کو دیکھا ہے اور انصاف کو بکتے ہوئے دیکھا ہے۔ آج قانون خود انصاف کا دلال بن بیٹھا ہے۔اروناچل ریاست میںہوئے پی ڈی ایس گھوٹالے کے معاملے کو ریاستی سرکار نے قبول کیاکہ غلط ہوا، ایف سی آئی نے مانا کہ غلط ہوا، مرکزی سرکار نے بھی کہا کہ غلط ہوا لیکن سپریم کورٹ نے الزاموںکو کھلا چھوڑ دیا ار ان کا پورا پیمینٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس التمش کبیر نے 36 کروڑ روپے رشوت لے کر غلط فیصلہ دیا تھا۔ انھوںنے اپنے بیٹے کے ذریعہ سمجھوتہ کیا تھاجبکہ وہ فیصلہ غلط تھا۔ التمش کبیر اپنے فیصلوںکے سبب پہلے بھی تنازعوںمیںرہے ہیں۔ موجودہ عدالتی معاملے16-17 دسمبر کو ہوئے اسمبلی سیشن میںنبام تُکی سرکار کو ووٹ آف کانفیڈنس سے ہٹایا گیا۔ اس پر نبام تُکی کورٹ سے اسٹے لے کر آگئے اور ان کی سرکار چلتی رہی۔ اس کے ساتھ اسپیکر نبام ربیا بھی اپنے عہدے پر بنے رہے۔ اتنا کچھ ہونے پر بھی ہم نے سرکار نہیںبنائی۔ 13 جنوری کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس اسٹے کو خارج کردیا اور پٹیشن بھی خارج کردیا۔ اس پر نبام تُکی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس کے بعد بھی ان کی سرکار چلتی رہی۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی ہم نے سرکار نہیں بنائی۔ اس کے بعد ریاست میں لاء اینڈ آرڈر بگڑتا گیا۔ ریاست میں امن، نظم نہیں رہا۔ ہر دن ہڑتالیں ہونے لگیں۔ فنانشیل کرائسس آگیا اور ریاست کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی گئی۔ 16-17 دسمبر کے اسمبلی سیشن کو ویلڈ نہیں مانا گیا، جس کی وجہ سے گزشتہ چھ مہینے اسمبلی سیشن نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے ریاست میںآئینی بحران بھی پیدا ہوگیا۔ ریاست میںبڑھتی ہوئی وارداتوں اور واقعات کو دیکھ کر 26 جنوری کو ریاست میںپریسیڈنٹ رول لگایا گیا۔ ریاست میںپریسیڈنٹ رول ہٹنے کے بعد ہم نے 33 اراکین اسمبلی کے ساتھ نئی سرکار بنانے کی پیشکش کی۔ اس پر گورنر نے ہمیں سرکار بنانے کی دعوت دی اور 10 دنوں میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیا۔ سات دنوں میں ہی یعنی 25 فروری کو ہم نے ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔ ہماری سرکار کہیں بھی غلط اسباب سے نہیںبنی تھی۔ ہم نے ہمیشہ آئین، قانون، انصاف اور پالیسی کو مانتے ہوئے کام کیا اور سرکار بنائی۔جبکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ دیا گیا فیصلہ اس طرح ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے گورنر کے سابقہ حکم اور اراکین اسمبلی کو بھیجے گئے ان کے پیغام کو خارج کردیا۔ پہلے اور دوسرے ) 1 اور 2) کو دھیان میںر کھتے ہوئے (1617) کو ہوئے سیشن کو خارج کردیا۔ پہلے،دوسرے اور تیسرے کو دھیان میںرکھتے ہوئے ا سمبلی کے فیصلے کو خارج کیا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں میری سرکار کے بارے میںکوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ سپریم کورٹ نے ریاست میںنافذ پریسیڈنٹ رول کے بارے میںبھی کچھ نہیں کہا۔ 25 فروری کو اسمبلی میںہوئے فلور ٹیسٹ ، جو کہ چھٹی اسمبلی کا ساتواں سیشن تھا، کے بارے میںبھی کوئی تبصرہ نہیںکیا۔ ا س کے بعد اسمبلی کا بجٹ سیشن ہوا، بجٹ پاس ہوا، جو چھٹی اسمبلی کا آٹھواں سیشن تھا۔ اس پر بھی سپریم کورٹ نے کچھ نہیںکہا۔ اس کیس میںدیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل غلط تھا، ہمارے آئین میں دیے گئے یہ قوانین بہت ہی عام ہیں اور بچہ بچہ ان قوانین سے واقف ہے۔  Article 174-The Governor shall from time to time summon the House or each House of the Legislature of the state to meet at such time and place as he  thinks fit-  گورنرکو یہ پاور ہے کہ وہ اسمبلی کو باقاعدہ وقفہ سے چلائیں۔ گونر اسمبلی میںکوئی رکاوٹ ہونے پر اپنے حساب سے وقت اور جگہ طے کرکے سیشن بلاسکتے ہیں۔Article 175- The Governor may send message to the House or House of the Legislative of the state, whether with respect to a bill then pending in the Legislature or otherwise, and a House to which any message is so sent shall with all convenient dispatch consider any matter required by the message to be taken into consideration-  گورنر اسمبلی کے دونوںہاؤس کو اپنا میسیج بھیج سکتے ہیں، سیشن میںبھیجے گئے میسیج کو ہر سال میںعمل میں لانا ہوگا۔ آرٹیکل -163وزیر اعلیٰ یا ان کے پریشد گورنر سے صلاح لیتے ہیں۔ اگر کسی بھی طرح کا کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے تو گورنر کا فیصلہ ہی اٹل اور ویلڈ ہوگا۔ اس کے لیے گورنر کے فیصلے کو کسی بھی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔  ہمارے ملک کے آئین میں بتائے گئے ان قوانین کے مطابق، کسی ریاست میںسرکار گرے یا مائنارٹی میںہونے اور ریاست میںکسی طرح کا بحران پیدانے پر گونر کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ریاست میں اسمبلی کا سیشن بلاکر ، وزیر اعلیٰ کو اکثریت ثابت کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔اس کیس میں صرف نبام تُکی کو ہی ہٹانے کی بات نہیںتھی، بلکہ اسپیکر نبام کو بھی ہٹانے کی تجویز  تھی۔ یہ جان کر نبام ربیا نے ایک مہینے کی جگہ دو مہینوں سے بھی زیادہ وقت دے کر اسمبلی سیشن بلایا، جبکہ ایسا پہلے کبھی نہیںہوا تھا۔ ایسا کر کے وہ اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کرنے میںاپنے بھائی نبام تُکی کی مدد کررہے تھے۔ جبکہ اسپیکر کو ہٹانے کے نوٹس اور تجویز آنے پر صرف 14 دن بعد ہی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس بات کو دھیان میںرکھتے ہوئے گورنر نے اسمبلی سیشن کو پہلے طلب کیا۔ گورنر نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا،اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔سپریم کورٹ سے ایسا فیصلہ ملنے پر میرا عدالت سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ مجھے دکھ تو اس بات کا ہے کہ اروناچل ریاست کے اراکین اسمبلی تو بکے ہوئے ہیں اور بکتے ہیں،کانگریس بھی بکی ہوئی ہے، لیکن سپریم کورٹ کے جج بھی بکے ہوئے ہوںگے، یہ میںنے کبھی نہیں سوچا تھا۔ انھوں نے فیصلہ میرے حق میں دینے کے لیے مجھ سے اور میرے قریبیوںسے کئی بار رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھ  سے86 کروڑ روپے کی رشوت مانگی تھی، جبکہ میں ایک عام اور غریب آدمی ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ، جس سے میں سپریم کورٹ ، سپریم کورٹ کے جج اور اس کے فیصلے کو خود خرید سکوں اور نہ ہی خریدنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ وزیر اعلیٰ کی جو کرسی ہے،وہ عوام کی خدمت اور حفاظت کے لیے ہے، جس کو میںخرید کر حاصل نہیںکرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے میںکورٹ میںدوبارہ نہیںگیا اور نہ ہی دوبارہ عرضی ڈالی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کے چھوٹے بیٹے ویریندر نے میرے آدمیوں سے رابطہ کرکے مجھ سے 49 کروڑ مانگے۔ وہیں جسٹس دیپک مشرا کے بھائی آدتیہ مشرا نے مجھ سے 37 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی۔ کپل سبل کی بھی سپریم کورٹ میںاپنی لابی ہے۔ ہر وکیل، ہر جج انھیں کے اشارے پر رشوت لے کر ، جھوٹے فیصلے کرتے ہیں اور ناچتے ہیں۔ کپل سبل نے چارٹرڈ جہاز سے گوہاٹی آکر آدھے گھنٹے میںہی ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لے لیا تھا جبکہ پہلے کورٹ نے اسی کیس کو خارج کردیا تھا۔ اس پر میںپرشانت تیواری کے ساتھ کپل سبل سے چار بار ملا۔ میںنے سبل جی کو نبام تُرکی کی ساری حقیقت بتائی۔ جب میںکپل سبل سے ان کے گھر پر -1) جور باغ،میٹرو اسٹیشن کے پاس، اربندو مارگ، نئی دہلی) ملا تب انھوںنے مجھ سے 9 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی اور انھوںنے ایڈوانس میںچار کروڑ روپے دینے کی مانگ کی۔ یہ بات طے ہونے کے بعد، انھوںنے گوہاٹی ہائی کورٹ میں باقاعدگی سے کورٹ میںجانا ہی چھوڑ دیا۔ گوہاٹی ہائی کورٹ میںجہاںکانگریس کا وکیلوں اور ججوں پر دباؤ نہیںتھا، وہاں ہم نے یہ کیس جیتا تھا۔ بعد میںہمیںیہ پتہ چلا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کپل سبل کو راجیہ سبھا میں بھیجنے کا لالچ دے کر نبام تُکی کا کیس دوبارہ لڑنے کو کہا تھا۔ کپل سبل نے ہی سپریم کورٹ میںججوںکو پیسے دیے کر سارا کھیل رچا اور نبام تُکی کو جھوٹی جیت دلائی۔ بدلے میںآج وہ راجیہ سبھا کے ممبر بن گئے ہیں۔ میںنے اپنی 31 سال کی سیاسی زندگی میںدیکھا ہے کہ عدالت میںکانگریس کے ہی وکیل اور جج ہیں، جو آپس میںملے ہوئے ہیں۔  مجھ سے 12 جولائی کی رات 9 بجے تک رابطہ کیا گیا کہ اگر میںایڈوانس نو کروڑ روپے دے دوں تو فیصلے کو ایک مہینے تک ٹالا جاسکتا ہے اور میرے حق میںفیصلہ دینے  کے لیے  باقی 77 کروڑ روپے دینے کی بات کہی گئی۔ لیکن میں نے ان کی ایک نہیںسنی اور پیسے دینے کے لیے راضی نہ ہوا۔ انصاف کو ڈگمگاتا دیکھ کر ہی میں نے فیصلے پر کوئی ردعمل نہیںکیا اور نہ ہی فیصلے کی واپسی پر غور کرنے کی کوئی عرضی داخل کی کیونکہ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ انصاف اور جج بک چکے ہیں۔ آج 25 جولائی تک جسٹس کیہر کی طرف سے رام اوتار شرما مجھ سے رابطہ کرکے سپریم کورٹ کا فیصلہ بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر کب اور کسیے پٹیشن ڈالنا ہے، اس کا کام بھی انھوںنے خود ہی اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس کے لیے انھوںنے مجھ سے 31 کروڑ روپے مانگے ہیں۔ ملک و عوام قانون کے ان دلالوں، سوداگروںاور بدعنوان غداروں کو پہچانیں اور اپنے ضمیر سے انصاف کے ترازو پر سچ، جھوٹ، صحیح اور غلط کا فیصلہ کریں۔ سرکار کو جج کے فیصلے پربھی نگرانی رکھنی چاہیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دینے کے لیے کوئی قانون بنانا چاہیے۔ تاکہ اس قانون کی مدد سے عدالت میں ہورہی بدعنوانی کو روکا جاسکے۔ جلدسے جلد اس طرح کا قانون بنایا جانا چاہیے، جس سے ملک اور عوام کے  حقمیںانصاف ہوسکے۔    آج ملک میںوکیل اور جج بدعنوان ہیں۔ جج کا کام آئین کا صحیح مطلب بتانا ہے، نہ کہ اسے جھوٹ بتاکر پیش کرنا اور نہ اس پر جھوٹا فیصلہ کرنا ہے۔ سچ کڑوا ہوتا ہے لیکن سچ مجھے اس حالت میںملے گا، مجھے نہیںپتہ تھا۔ اس سچ کا سامنا کرکے میری روح اندر تک کانپ گئی ہے۔ میرا انصاف سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ اس ملک کے بارے میںفکر ہوتی ہے کہ یہاںکے بھولے بھالے عوام کا کیا ہوگا؟ دوستو! میںنے جو بھی باتیںبتائی ہیں، وہ صد فیصد صحیح ہیں۔ میںنے یہ باتیں اپنے ضمیر سے کہی ہیں، میںنے انھیںکہیںبھی بڑھا چڑھا کر، مرچ مسالہ ملاکر پیش نہیںکیا ہے اور نہ ہی حقائق سے کوئی چھیڑچھاڑ کی ہے۔ آج جو باتیں ہم فلموں میںدیکھتے اور کہانیوں میںپڑھتے سنتے آرہے ہیں، انھیں ہم حقیقت میںدیکھ رہے ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پیسہ بولتا ہے۔ جہاںکہیںبھی واقعہ رونما ہوتا ہے،وہ ایک بار ہی ہوتا ہے، جیسے جیسے کمپلینٹ، انکوائری،کورٹ کیس ہیئرنگ ہوتی ہے،ویسے ویسے  کیفیت اور حالات نہیں بدلتے، پھر ججوںکی رائے اور فیصلے کیوں بدلتے ہیں۔ اس ملک میںآئین کے قانون کی ایک ہی کتاب ہے جو لوور کورٹ،سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میںرکھی ہے اور اس کے باہر بھی دیس و دنیامیںدستیاب ہے، جسے وکیلوں اور ججوںکے علاوہ اور بھی لوگ پڑھتے ہیں،سمجھتے ہیں۔  جب قانون کی کتاب نہیںبدلتی، تو ججوںکے فیصلے کیسے بدل جاتے ہیں؟ کیس میںہارجیت کا فیصلہ باربار کیوںبدلتا ہے؟ کسی بھی کیس میںبدلتا ہوا فیصلہ ہمیںیہ بتاتا ہے کہ قانون کے جج بکے ہوئے ہیں۔ لیکن ان فیصلوں سے سچ نہیںبدلتا ہے،سچ تو اٹل اور امر ہے ، جسے بھگوان بھی مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔میںنے اپنی چھوٹی سی زندگی میں، بچپن سے ہی گاؤں کا پیار اور اعتماد جیتا ہے۔ اسٹوڈنٹ لائف سے ہی سبھی الیکشن جیتے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی میںمیںنے کبھی ہار کا چہرہ نہیںدیکھا۔ 1995 میں اپنے پہلے اسمبلی الیکشن سے ہی میںوزیر بنایا گیا۔ ہر عہدے پر کام کرتے ہوئے، میںنے بدنامی کے بغیر شدت اور محنت سے کام کیا ہے۔ جس سے میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میںسماج، برادری، علاقہ اور ریاست کی ترقی میںاور لوگوںکی خدمت میںبہت سا تعاون دیا ہے۔میرا پیغام اس ریاست اور ملک کی نادان اور بھولے عوام کو میرا پیغام آسان اور صاف ہے۔ میں میری پیاری جنتا سے اپیل اور عاجزی کے ساتھ  درخواست کرتا ہوں کہ ہمیشہ ریاست اور سماج کے حق میںہی اپنا بیش قیمت ووٹ دیں۔ کبھی کسی کے دباؤ میںاپنے آنے والے کل کو مت ماریں اور نہ ہی کسی  دبنگ کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیں۔ الیکشن کے وقت بانٹے گئے شراب اور پیسوں کے لیے اپنے مستقبل اور آنے والی نسل کو دلدل میں نہ دھکیلیں اور نہ ہی اپنے حق کے لیے کسی سے کوئی سمجھوتہ کریں۔ اپنا ووٹ دینے سے قبل ایک بار اپنے بچوں کو دیکھ لیں اور ان کے مستقبل کے بارے میںسوچ لیں، میںپکا دعویٰ کرتا ہوںکہ آپ کا ووٹ صحیح امیدوار کو ہی جائے گا۔ عوام کو امیدواروں کے کھوکھلے اانتخابی جملوں کو پہچاننا چاہیے ۔ ووٹ مانگنے پر ان سے سچ ، غلط پر سوال کرنا چاہیے ار جہاں تک ہو سکے ان کی بیتی زندگی ، ان کے اخلاق اور ان کے رویے کو دیکھ کر ہی ووٹ دینا چاہیے۔  میں نے کافی بار یہ دیکھا ہے کہ سماج کے بہت سے ایماندار لوگ ووٹ دینے سے کتراتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے ایک ووٹ دینے سے کوئی فرق نہیںپڑتا جبکہ یہ سوچ غلط ہے۔ عوام کا یک ایک ووٹ ہیرے جتنا قیمتی اور بیش قیمت ہوتا ہے، کیونکہ اس ووٹ میںجمہوریت کی وہ طاقت ہوتی ہے جو ہر دبنگ اور تاناشاہ کو اکھاڑ پھینکنے  کی استطاعت رکھتی  ہے۔    عوام یہ طے کریں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے حق میںآنے والے امیدوار کو ہی ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔ پھر چاہے وہ کسی بھی قوم، مذہب یا سماج کا ہو۔ عوام کو پڑھے لکھے، سنسکاری، بلند خیالوںسے بھرپور، قومی فکر،اپنی زندگی میںجس نے سخت جدوجہد کی ہو، اپنی زندگی میںدکھ دیکھا اور برداشت کیا ہو،ایسے محب وطن امیدوار کو چننا چاہیے۔ جس سے سماج کے ہر طبقہ کو فائدہ ہوسکے اور ریاست و ملک صحیح سمت میںآگے بڑھ سکے۔طلبہ کو میرا پیغام اتنا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی پوری لگن، محنت اور ایمانداری کے ساتھ کریں۔ آپ اپنی پڑھائی کو ہی پوجا سمجھیں اور پوری شردھا اور شکتی کے ساتھ اپنے ہدف کو حاصل کریں۔ آپ اسٹوڈنٹ لائف میںجوعلم اور سمجھ حاصل کرتے  ہیں، وہی علم اور حکمت زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتی ہے۔ ہر  وقتعلم حاصل کرنا، علم بانٹنا اورعلم میں ہی  ڈوبے رہنے کی آپ کی کوشش ہونی چاہیے ۔ اس وقت آپ  مٹی کے  ایک کچے گھڑے کی مانند ہوتے ہو، جسے کسی بھی  طرح  گھماکر شیپ دی جاسکتی ہے لیکن اگر پکنے پر شیپ دی گئی تو گھڑا پھوٹ سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت کو پہچان کر آپ اپنی زندگی کو عظیم بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم کسی بھی عظیم انسان کی زندگی میں جھانکیں تو ہم پائیں گے کہ وہ اپنی اسٹوڈنٹ لائف میںہی سب سے زیادہ جدوجہد کرکے آگے بڑھے۔ آپ کو صرف اپنے کریئر اور ہدف کے بارے میںہی سوچنا چاہیے اور اسے حاصل کرنے کے لیے جی توڑ محنت کرنی چاہیے۔ یہاںآپ کو سیاست اور تجارت سے دور رہنا چاہیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کا دماغ پڑھائی سے ہٹ سکتا ہے ا ور آپ تعلیم میںپچھڑ سکتے ہیں۔ہمارے ملک میں کافی پہلے سے ودیا آشرم کی روایت چلی  آرہی  ہے، جس میںطلبہ اپنا گھر خاندان، عیش و آرا م چھوڑ کر آشرم میںپڑھنے جاتے تھے۔ جہاں وہ شاستر، اسلحہ اور سیاست کی تعلیم لیتے تھے۔ آج ہمیںبھی کچھ ایسی ہی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے، جہاںہم اپنے بچوںکو ان کے حساب سے کھیل، موسیقی، شاستر، سائنس،ریاضی اور سیاست کا شعور دے سکیں اور ان کے سنہرے مسقتبل کی  تمنا کرسکیں۔ میرا آپ سے یہی کہنا ہے کہ اپنے قیمتی وقت اور زندگی کو ایک سمت و ہدف دے کر ایک عظیم نسل بنانے میںاپنا اہم کردار نبھائیں۔ اپنے اس وقت میںسیاست میںنہ آئیں اور نہ ا س کی بری چالوںمیںپھنسیں،ایسا کرکے آپ  اپنے کریئر کو برباد کرسکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ طلبہ ایک نان پالیٹکل پریشر گروپ ہے، جس کا کام ہمیشہ سرکار، لیڈر اور افسروںپر دھیان اور نگرانی رکھنا اور انھیںغلط کرام کرنے سے روکنا ہے اور جنتا و سماج کے حق میںآواز اٹھانا ہے۔ ریاست اور سرکار میںہورہے غلط کاموں کے خلاف اور بدعنوان نظام کے خلاف اگر اسٹوڈنٹ یونین آواز نہیں اٹھائیں گی تو کون اٹھائے گا؟ عوام اور سماج کو کون صحیح سمت دے گا؟ ایک بار اپنی پڑھائی مکمل کرکے آپ کسی بھی شعبے اور پیشے میںجاسکتے ہیں۔غیر سرکاری اداروں (این جی اوز) کے حوالے سے میںکہنا چاہوں گا کہ ایک این جی او چلانے کا صحیح مطلب قوم کی فکر کرنا ہوتا ہے۔ لوگوںمیںبیداری پیدا کرنا، لوگوںکے مفاد کے بارے میںسوچنا اور ملک میںصحیح اور غلط پر اپنے خیالات رکھنا ہوتا ہے ۔ سماج، ریاست اور قومی مفاد میںایک سرکار سے زیادہ این جی او کا رول ہوتا ہے۔ این جی او کو ایک سرکار سے زیادہ خدمت کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ ایک اعتماد، لگن، محنت، ایمانداری اور جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ لیکن میںنے ریاست میںزیادہ تر این جی اوز کو پیسے کماتے، افسروںکو بلیک میل کرتے اور عوامی مفاد کے پیسوں کو غبن کرتے دیکھا ہے۔ سماجی کارکنوںکو اپنا کام چھوڑکردوسروںکے کام میں ٹانگ اڑاتے زیادہ دیکھا ہے۔ سرکار اور افسروںکی دلالی میںوہ بری طرح سے ملوث ہیں یا یوںکہوں کہ ان کی اپنی الگ ہی لابی ہے،جس سے وہ لوگوںسے پیسے لوٹنے میںلگے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ریاست میںسماجی کارکنوںکی عزت نہیںکی جاتی اور نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ اپنی کھوئی ہوئی شبیہ کو واپس پانے کے لیے آپ سبھی سماجی کارکنوں کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔ آپ کا اہم مقصد انسانیت کی حفاظت کرنا، بدعنوانی،غلط پالیسیوں،بھید بھاؤ،اونچ نیچ، صحیح اور غلط، بدمعاشوں،غریبوںو پسماندہ ذات کو ستانے اور سزا دینے والوںکے خلاف لڑنا ہے۔ میںدرخواست کرتا ہوںکہ بھلائی کی اس راہ میںآپ کے قدم کبھی نہیںڈگمگائیںگے۔   میںلیڈروںکو سمجھانا نہیں چاہتا، لیکن اپنے اصولوںکے چلتے جو کچھ دیکھا اور تجربہ کیا ہے،اس پر  من میںاٹھ رہے خیالات کو ضرور بتانا چاہوں ۔ لیڈروںاور وزیروںکو میرا یہ کہنا ہے کہ اگر آپ سیاست میںآنے کے بارے میںسوچتے ہیں تو عوام کو اپنے خاندان کی طرح سمجھیںاور ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر ان کی  ہر طرح سے مدد کرنے کی کوشش کریں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر عوام کے پیار، تعاون اور آشیرواد کے کوئی لیڈر نہیںبن سکتا۔ کیونکہ انتخابی ماحول اور انتخابی ریلیوںکے دوران امیدواروںسے بھی زیادہ ان کے کارکن اور ووٹ دینے والے ووٹر بڑی ہی آشا اور امید کے ساتھ کام کرتے ہیں، زیادہ دوڑ دھورپ کرتے ہیں، گھر خاندان تک بٹ جاتے ہیں، آپس میںلڑتے جھگڑتے ہیں،خون خرابوںتک بات پہنچنے پر بھی وہ امیدواروںکا ساتھ نہیںچھوڑتے ۔ صرف اس لیے کہ ان کا امیدوار الیکشن میںجیت کر ان کے  مفادکے لیے کام کرے گا۔ اچھی سڑکیں،صاف ستھرا ور مسلسل پینے کا پانی، بہتر تعلیم،، بہتر صحت، نوجوانوںکو نوکری، اچھے رہن سہن، کھان پان، علاقے کی اقتصادی طور پر ترقی، سماج میںقانون اور امن کا ماحول پیدا کرنے اور علاقے کے آل راؤنڈ ڈیولپمنٹ کے لیے کام کرے گا۔ سیاست میں آنے کا مطلب کمائی کرنا نہیں ہے بلکہ یہ مقصدہمیشہ ہونا چاہیے کہ ہم لوگوں کی خدمت کے لیے آئے ہیں ۔ اگر ہمیںکمائی ہی کرنی ہے تو ہمیں لیڈر بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ کمائی کرنے کے بہت سے طریقے ہیں، جیسے کھیتی، تجارت، نوکری، ٹھیکیداری، کھیل کود اور ناچ گانے سے بھی پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ ان سب کے بارے میں تو ہر کوئی عام آدمی بھی سوچ سکتا ہے اور کر سکتا ہے۔ لیکن اصل سیاست تو اس سماجی دھرم کا نام ہے، جس میںآپ اپنا سکھ چین،دھن دولت، نیندو آرام سب کچھ ترک کرکے سماج کے ہر طبقے کو اپنا کر عوام کی بھلائی کرنے آتے ہیں۔ ہمیںسیاست میںدھرم،ذات، علاقہ، زبان کے نام پر لوگوںکو گمراہ نہیںکرنا چاہیے، بانٹنا نہیںچاہیے، لڑنا لڑانا بھی نہیںچاہیے، بلکہ ہمیں قومی اتحاد،سالمیت، خیر سگالی اور خود مختاری کے حق میںسکھ شانتی بنائے رکھنی چاہیے۔  لیکن میںاس بات سے اداس ہوں کہ اروناچل ریاست میں لیڈر بننے کے بعد وہ عوام کو بھول کر خود کی ہی خدمت کرنے میںلگ جاتے ہیں۔ نوکری کی کہیں پوسٹ نکلنے پر وہ اپنے ہی خاندان، رشتہ داروں اور ذات برادری کو ہی چنتے ہیں۔ کچھ پوسٹ بچنے پر وہ انھیںدوسرے کو دیتے ہیں،  وہ بھی پیسے لے کر۔ ایسی نوکری تو کسی ضرورت مند،غریب اور ہر طرح سے پچھڑے ہوئے لوگوںکو ہی ملنی چاہیے۔ اگر یہ غریب انسان کو نوکری دے بھی دیتے ہیں تو ان سے رشوت مانگتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، رشوت لے کر وہ افسروںکا ٹرانسفر بھی کردیتے ہیں، جس سے اچھے اور قابل لوگوںکو کام کرکے اپنا ہنر دکھانے کا موقع نہیں مل پاتا ہے۔ کسی کا پروموشن کرنے پر بھی یہ رشوت مانگتے ہیں۔ریاست میں ٹھیکہ نکلنے پر ایم ایل اے اور وزیر اپنی بیوی اور بچوںکے نام پر ٹھیکہ لیتے ہیں۔ کسی اور کو ٹھیکہ دینے پر بھی اس میںاپنی حصہ داری رکھتے ہیں۔ایسے میںاچھے اورنیک کنٹریکٹروں کا کیا ہوگا؟ کام وقت پر پورا نہ ہوگا اورنہ ہی کام میںکوئی کوالٹی رہے گی۔  ریاست میںاسکیم عوام کی ضرورت کے حساب سے نہیں بلکہ وزیروںاور اراکین اسمبلی کے پیسے کمانے کے مطلب سے بنائی جاتی ہے۔نیتا لوگ ٹینڈر پہلے ہی طے کرکے، پیسوں کا حصہ بھی طے کر لیتے ہیںکہ کس کو کتناپرسنٹ ملے گا۔ ریاست میںاسکیم سینکشن ہونے پر کام میںپروگریس نہیںآتی بلکہ وزیروں اور اراکین اسمبلی کے خزانے میںاضافہ ہوتا ہے، جسے وہ مل جل کر ہضم کرلیتے ہیں۔ پروجیکٹ ختم ہونے سے قبل ہی لیڈروںکی بلڈنگیںبن جاتی ہیں۔ اصل میں اسکیم سینکشن ہونے کے بعد ٹھیکے کا کام ایک سال میں پورا ہوجانا چاہیے لیکن اروناچل مںایک پروجیکٹ کو 8-9 سال تک لمبا کھینچا جاتا ہے تاکہ اراکین اسمبلی اور وزیر زیادہ سے زیادہ اپنی جیب بھر سکیں۔ مثال کے طور پر، آپ ریاست میںسکریٹریٹ بلڈنگ، اسمبلی بلڈنگ اور اسٹیٹ ہاسپٹل ، ایم ایل اے کاٹیج، کنونشن ہال کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان پروجیکٹوں کو چلتے ہوئے آج 11 سال سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے۔ سکریٹریٹ بلڈنگ نے ریاست میںچار وزرائے اعلیٰ کو دیکھا ہے۔ جن میںگینگانگ اپانگ، دورجی کھانڈو،جوربم گاملین اور نبام تُکی شامل ہیں۔ لیکن ایک بھی وزیر اعلیٰ اس کام کو مکمل کرانے کے قابل نہیںتھے۔ ان سبھی کی مدت کار میںگھوٹالے ہوئے۔ اسی اسکیم کے فنڈ کو 3-4 بار بڑھایا گیا، پھر بھی یہ کام اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔اپنے وزیر اعلیٰ کی مدت کار کے اندر میں نے ضروری فنڈ اور الٹی میٹم دے کر چار مہینوں میں ہی سکریٹریٹ بلڈنگ کے کام کو پورا کرایا، جس میں وزیر اعلیٰ اور وزیروںکے دفتر شفٹنگ کوتیار ہیں۔ اتنا ہی نہیںبلکہ اس کے ساتھ اسمبلی بلڈنگ اور اسٹیٹ ہاسپٹل اور دیگر کام کو بھی میں نے پورا کرانے کے لیے ضروی فنڈ دے کر الٹی میٹم دیا تھا، جسے اگست کے  مہینے میںشفٹ کیا جانا تھا۔ میںنے اپنی پوری محنت، جوش اور حوصلے کے ساتھ کام کیا تھا اور وہ میرا فرض تھا۔ میں نے اس ریاست میںکام کرنے کی ایک مثال پیش کی ہے اور میںچاہتا ہوںکہ آگے بھی پروجیکٹ اور اسکیموںکو ایسے ہی پورا کیا جائے۔میں نے اپنے اسمبلی حلقہ کے انجاں ضلع میں 11 مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر صحیح وقت پر اور صحیح فنڈ سے کرائی۔ پہاڑی اور بارڈر ایریا ہونے کے باوجود ہم نے ڈیولپمنٹ کیا، جس کے سبب ضلع کے ڈی سی ہیڈکوارٹر اور سی او ہیڈکوارٹر میںآج 24 گھنٹے بجلی نظام فراہم ہے، جبکہ ریاست کی راجدھانی ایٹانگر اور سب سے پرانے شہروں،پاسی گھاٹ، جیرو، آلوو تیجو میںآج بھی بجلی کی کمی ہے۔ میں نے ہوائی ضلع ہیڈکوارٹر میںاربن واٹر سپلائی اسکیم منظور کرائی تھی۔ 14 کروڑ کی اس اسکیم کو پورا کرنا آسان نہیں تھا۔ پہاڑی علاقے کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن پھر بھی اس کام کو دو سال میںہی پورا کرادیا تھا ۔ آج علاقے کے دو شہر اور پانچ بستیوں کو اس اسکیم کا فائدہ مل رہا ہے۔ تیجو میںبھی پانی کی ایسی ہی اسکیم کو میںنے اور اسکیم سکریٹری لوکھنڈے نے منظور کرایا تھا۔ فلیٹ علاقے ہونے کے بعد بھی 24 کروڑ روپے کے فنڈ کو ختم کرکے اسے آج تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔ اس فنڈ کا ویسٹج ہوا۔سابق ایم ایل اے کاریکھو کیری اور اس کے انجینئر بھائی نے پیسوںکا ویسٹج کیا تھا۔ تیجو میںآج بھی پانی سپلائی میں لوگوںکو تکلیف برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔اسی طرح تیجو شہر میںسڑک سدھارنے کی بہت سی اسکیمیںتھیں،جسے الگ الگ ذرائع مثال کے طور پر، ایس پی اے، ٹی ایف سی، نابارڈ اور نان پلان فنڈ سے چار سالوں میں 29 کروڑ روپے کا فنڈ دیا گیا تھا جبکہ اس طرف کچھ بھی کام نہیںکیا گیا اور پیسوں کی بربادی ہوئی۔ سڑک کا بننا اور مرمت کرنا بھی بھی باقی ہے۔ ریاست کے ایسے ہی اور بھی بہت سے ضلعوں میں ، اسمبلی حلقوںاور قصبوں میںاسکیمیں بنیں، پروجیکٹ سینکشن کیے گئے، پیسہ خرچ بھی ہوگیا ،لیکن کام پورا نہیںہوا۔ اس ریاست میںکہیںکوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ ایم ایل اے اور وزیر مل جل کر آگے بڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے ریاست میںبہت  سی اسکیمیںآگے نہیںبڑھ پاتیں اور درمیان میں ہی لٹک جاتی ہیں۔ جن کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور ریاست ترقی نہیںکرپاتی ہے۔ یہاں وزیر اعلیٰ سے لے سبھی وزراء اور اراکین اسمبلی بدعنوان ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کی بری حالت ہوتی ہے۔ آج کے دور میںعوام ملک میں ہورہی بدعنوانی کا خود شکار ہیں، وہ اسے دیکھتے ہیں، برداشت کرتے ہیں لیکن آواز نہیںاٹھاتے ہیں، جبکہ سرکار کو وہی چنتے ہیں۔ ایسی حالت میں سچائی کا مرنا تو طے ہے۔ آج عوام کو متحد ہوکر ایک آواز میںبدعنوان نظام کی مخالفت کرنی چاہیے۔  آج افسروں کے لیے قاعدہ – قانون، اسکیم اور سسٹم بنا ہوا ہے، جس کے حساب سے انھیںکام کرنا چاہیے۔ انھیںعوام کی خدمت- سہولت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ لیڈروں اور بڑے افسروںکو اپنا تعاون دیتے ہیں، ان کے اور اپنے مفاد میںکام کرتے ہیں اور ان کے دباؤمیںکام کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں ریاست اور عوام کے بارے میںکون سوچے گا؟ کون ان کے مفادات کو آگے بڑھائے گا؟ عام لوگ جائیں تو کہاںجائیں؟ پولیس اور انتظامیہ کا کام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے، ان کے صحیح اور غلط کو پہچاننا ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنا ہے۔ لیکن آج یہ لیڈروںکی چاپلوسی کرتے ہیں،ان کے ساتھ مل کر سیاست کرتے ہیں اور صرف ان ہی کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے میں عوام کا کیا ہوگا اور کون بچائے گا؟ آج عدالت کا کام سچ کا فیصلہ کرنا،جھوٹے اور بدعنوان لوگوںکو سزا دینا ہے، پھر چاہے وہ افسر، لیڈر اور وزیر ہی کیوںنہ ہو۔ لیکن آج لوور کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ کے وکیل اور جج تک بکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سچے، بھولے،  بے قصور، محنتی اور اچھے سلوک والے لوگوں کا کیا ہوگا؟ کون ان کی سنے گا؟ کون انھین سچا فیصلہ دے گا اور کون ان کی حفاظت کرے گا؟ یہ سب سے زیادہ دکھ کی بات ہے کہ انصاف اور عدالت بکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں صرف بھگوان ہی لوگوںکی حفاظت کرسکتے ہیں۔ لیکن بھگوان ووٹ دینے تو نہیں آئیں گے ، بدعنوان نظام کو صحیح کرنے خود تو نہیں آئیں گے۔ ہے بھگوان آپ سے پرارتھنا ہے کہ اس بھولی جنتا کو بدھی-گیان دیں، سوچ سمجھ دیں، ہمت طاقت دیں، تاکہ وہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاسکیں، لڑ سکیں اور بدعنوان دماغ اور خیالات والے لیڈروں کو اکھاڑ سکیں۔اگر اوپر بیٹھے لوگ ہی صحیح نہیںہیں تو کیسے ہم کسی کو اس کا الزام دے سکتے ہیں۔ ریاست کے بڑے وزیر دورجی کھانڈو، نبام تُکی، چوؤنامین، پیما کھانڈو اور بہت سے وزراء اور اراکین اسمبلی نے ہمیشہ اپنی خودغرضی دیکھی ہے اور پنا گھر بھرا ہے۔ میں ریاست میں ہو رہی اس بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتا تھا،سرکاری اسکیموں اور عوام کے پیسوںکو ترقی کے کاموں میں استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اپنی ریاست اورعوام کو ملک کی دیگر ریاستوںاوردنیا کے برابر اور اس سے بھی آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ لیکن شاید یہ بات میرے ساتھی اراکین اسمبلی کو اچھی نہیں لگی۔میںپوچھتا ہوں کہ عوام کب جاگیںگے اور کب انھیںہوش آئے گا۔ کب تک عوام انتخابات میں لیڈروں کی مہنگی کاروںکو دیکھ کر ، شراب اور تھوڑ ے سے پیسے لے کر اور ان کے جھوٹے وعدوں کو سچ مان کر ووٹ دیتے رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام خود ہی بے وقوف بنے رہنا چاہتے ہیں، وہ سچ سے دور بھاگتے ہیں۔ عوام اپنے آپ طے کریںکہ انھیں کیا کرنا ہے۔ میرا کام تو عوام کو سچ بتانا تھا، لیکن فیصلہ عوام کے ہاتھ میںہی ہے۔  اپنے 23 سالہ سیاسی سفر میںالگ الگ وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے میں نے ریاست اور عوام کے مفاد میں جو کام کیے، جس محکمے میںبھی کام کیا یا اپنے اسمبلی حلقہ میںکام کیا، وہ شاید آپ کو دکھائی نہیںدیا۔ لیکن اپنے ساڑھے چار مہینے کی وزیر اعلیٰ کی مدت کار میں میںنے جو کام کیا، وہ ریاست اور عوام کے مفاد میںکیاگیاتھا۔جسے آپ سبھی نے دیکھا،سنا،سمجھااورسراہاہے۔ میں اروناچل پردیش اور ملک کے عوام کا خاص طور سے نوجوان نسل کوشکریہ ادا کرتا ہوںکہ سوشل میڈیا، وہاٹس ایپ اور ٹویٹر پر 17 لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں نے ہماری سرکار کے کاموں، پالیسیوں،اسکیموں اور فیصلوںکی حمایت کی اور سراہا ہے۔ان باتوں کو بتانے میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیںہے، نہ ہی مجھے کسی سے کوئی خوف ہے، نہ میںکمزور ہوں اور نہ میںاس کو اپناسرینڈر مانتا ہوں۔ ان باتوں کو کہنے کے پیچھے میرا ارادہ عوام کو جگانا ہے،انھیںسرکار،سماج، ریاست اور ملک میںہورہے ناٹکوں ، لوٹ پاٹ اور بدعنوان نظام کے سچ کے بارے میںبتانا ہے۔ لیکن لوگوںکی یادداشت بہت کمزور ہے، وہ کوئی بھی بات جلد ہی بھول جاتے ہیں۔ اس لیے ان ہی باتوں کو دھیان میںرکھتے ہوئے میںنے عوام کو یاد دلانے، جگانے،یقین دلانے، سمجھانے اور غور کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ میںنے اپنی چھوٹی سی زندگی میں سب کچھ  سہا  ہے، دیکھا ہے،تجربہ کیا ہے، بہت جدوجہد کی اور کئی بار اوروںکی خوشی اور سماج کے مفاد کے لیے قربانی بھی دی ہے۔ لیکن میںکبھی ہارا نہیں اور نہ میں نے کبھی ہارمانی ہے۔میںنے ہمیشہ ہی ریاست اور عوام کے مفاد میںفیصلہ لیا ہے۔ میںنے اپنا سکھ چین، وقت-صحت،دھن –  دولت، نیند-آرام،گھر-  خاندان اور اپنے آپ کو تیاگ کر عوام کو وقف کیا ہے۔ میں نے اپنی ہر سانس، ہر لمحہ، ہر وقت اور سب کچھ عوام کے مفادات کے لیے تیاگا ہے۔ میرے اس پیغام، ایثار  اور  قربانی  کو اگر تھوڑے سے لوگ احساس کرکے، غور کرکے او رسمجھ کر اپنے میں کچھ بھی سدھارتے ہیں،اپنے کرم اور سوچ وچار میںپاکیزگی لاتے ہیں، لوٹ – لالچ کو، مانگنے- چھیننے کو، لڑنے- جھگڑنے کو چھوڑتے ہیں اور سماج، ریاست اور ملک کے مفاد میںتھوڑی شراکت کردیتے ہیںاور کچھا اچھا کرم کرتے ہیں ،تو یہ بامعنی بات ہوگی۔ میںچاہتا ہوںکہ میرے دل کی یہ بات ، سوچ- وچار، تجربہ اور پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، تاکہ میںآپ کو سمجھ سکوں، جگا سکوں اور سچائی کی لڑائی میںآپ کو ہمت اور طاقت دے سکوں۔‘‘کالیکھو پُل 08-08-2016

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *