احادیث رسول کی بے مثال شخصیت مولانا یونس

حدیث کی خدمت اوراحادیث کے سلسلہ میں مولانا محمد یونسؒ کی معلومات کا دائرہ بہت ہی وسیع تھا جس کا اندازہ صرف اسی سے کیا جاسکتاہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریا بھی بعض علمی سوالات آپ سے کرتے تھے،حضرت مولاناابو الحسن علی میاں ندویؒ، حضرت مولاناعبیداللہ بلیاویؒ اور خداجانے کتنے اعاظم رجال نے تحقیقی سلسلہ میں آپ سے رجوع کیا تھا گویاآپ معرفت متون حدیث واسماء رجال کی شناخت بن چکے تھے اورمظاہر کاوہ تفوق جواس کو حدیث کے سلسلہ میں حاصل تھا،آپ نے اس کو تمام اقداروروایات کے ساتھ برقراررکھاہوا تھا۔
ایک محدث کے لئے جوشرائط ہوسکتی ہیں حضرت والاکے اندربحمداللہ وہ تمام شرائط اور صفات ومیزات بدرجہ ٔاتم موجودتھے ، احوال زمانہ پر اطلاع جو ایک عالم دین کیلئے انتہائی ضروری ہے ، حضرت شیخ کو وافر مقدار میں حاصل تھی ۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایک گوشہ نشین ، زاہدوقانع،اورمستغنی شخص کتب حدیث وتفسیراوراس کے متعلقہ علوم وفنون پرکامل دسترس کے علاوہ مختلف ملکوں کے حالات ،ماحول اوروہاں کی اقداروروایات اور تحریکات تک سے واقف تھا، چنانچہ اس کی صرف دومثالیں تحریرہیں۔
’’سری لنکا ‘‘کے ایک شیخ الحدیث بغرض حصول اجازت حدیث حاضر خدمت ہوئے ،حضرت والا نے ایک حدیث کی تلاوت فرماکراجازت عنایت فرمائی ،اس کے بعدسری لنکاکی شخصیات و حالات ، مزاج ، رہن سہن ،بودوباش پربھی گفتگو فرمائی ۔
’’ملیشیا ‘‘کے ایک محدث حاضر خدمت ہوئے ان کو اجازت حدیث عطا فرمائی پھر وہاں کی تحریکات ، مذاق ومعیار ،شخصیات ، جغرافیائی کیفیات اور حالات کا اس طرح تجزیہ کیا جیسے وہ نگاہ کے سامنے ہوں ، مجلس میں بیٹھنے والے متحیر تھے کہ ایک گوشہ نشیں پوری دنیا کے حالات پر کس طرح نظر رکھتا ہے ‘‘ (الیواقیت ص:۱/۱۸)

 

 

تقویٰ اورپرہیزگاری میں بھی آپ مثالی شخصیت کے حامل ہیں ،مدرسہ کے خلفشارکے بعدسے آپ نے تنخواہ لینا ترک فرمادیا۔آپ الحمدللہ ملک وبیرون ملک کے اسفارکے علاوہ حج وزیارت کی سعادت سے کم وبیش ہرسال مشرف ہوتے رہتے ہیں۔
ملی ہمدردی وخیرخواہی کے سلسلہ میں آپ کے بے شمار واقعات ہیں،چنانچہ دوسال پہلے مظفرنگرفسادات میں سیکڑوں مسلمان شہیداورہزاروں افرادبے گھر ہوگئے تھے ،مدرسہ نے مصیبت زدگان کے لئے اہل خیرسے تعاون کی اپیل کی ،فسادزدہ لوگوں تک براہ راست امدادی سامان پہنچانے کانظام بنایاگیا،سہارنپورکے غیور،باہمت وباحمیت مسلمان جوالحمدللہ مدرسہ کی ہرآوازپراٹھ کھڑے ہوتے ہیں اس موقع پربھی انہوں نے دامے ، درمے ،قدمے ،سخنے تعاون کیا،مہمان خانے کے کشادہ ہال اوروسیع صحن سازوسامان سے بھرگئے ،کتنی ہی مرتبہ بڑے بڑے ٹرکوں کے ذریعہ مدرسہ کے عملہ کووہاں بھیج کرسامان تقسیم کرایاگیا۔جب یہ خبر شیخ الحدیث مولانامحمدیونس علیہ الرحمہ تک کشاں کشاں پہنچی توحضرت والانے اپناتمام نیا پراناسامان یہاں بھجوانے کے علاوہ فسادزدگان کیلئے خطیررقم بھی ارسال فرمائی،اسی طرح دوران سفرحضرت والاکوجوہدایااورتحائف ملتے ہیں وہ کتنے ہی اہمیت کے حامل کیوں نہ ہوں ، مختلف مدارس میں تقسیم فرمانے کا معمول ہے جوخداددادجود وسخاکا رہین منت ہے ۔
ملک وبیرون ملک کے مختلف علماء کبارنے آپ سے وقتاًفوقتاًجوعلمی سوالات کئے اورآپ نے ان کے محققانہ جوابات تحریرفرمائے وہ تمام جوابات کاپیوں کی شکل میں محفوظ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض اہل علم کواس کی توفیق عطافرمائی کہ انہوں نے ان علمی شہ پاروں کو یکجامرتب ومدون کرکے شائع کردیاہے۔چنانچہ مولانامحمدایوب سورتی کی کوششوں سے یہ بیش قیمت مجموعہ’’الیواقیت الغالیہ فی تخریج احادیث العالیہ‘‘کے نام سے کئی جلدوں میں شائع ہوچکاہے اوربعض اہل علم کی کوششوں سے فن کے اعتبارسے الگ الگ اجزاء شائع ہورہے ہیں۔ اس سلسلہ میں’’ نوادرالحدیث‘‘ کے نام سے ایک جزء بھی شائع ہوچکاہے۔اس کے علاوہ کئی مفیدتالیفات اورتقاریرشائع ہوچکی ہیں جن میں ’’تخریج احادیث مجموعہ چہل حدیث‘‘ ’’فیوض سبحانی‘‘وغیرہ منظر عام پر آچکی ہیں۔بہت سے علمی شہ پارے ہنوزپردۂ خفامیں ہیں جن میں سے مقدمہ ہدایہ،سوانح حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، مقدمہ بخاری،الیواقیت واللٰالی،جزء حیات الانبیائ،تخریج احادیث اصول الشاشی،مقدمہ مشکوٰۃ،مقدمہ ابوداؤد،جزء معراج، جزء المحراب،جزء رفع الیدین،جزء قراء ت،ارشادالقاصدالی ماتکررفی البخاری واسنادواحد،قابل ذکر ہیں ۔

 

 

تعلیم وتعلم کے بابرکت سلسلہ کے علاوہ بیعت وارشادکامبارک سلسلہ بھی جاری تھا اورملک وبیرون ملک کی بعض اہم مقتدرشخصیات آپ کے ذریعہ سلوک کی منزلیں طے کررہی تھیں،خلفاء ومجازین کی بھی ایک بڑی تعداد ہے ۔
راقم الحروف کو بھی حضرت کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل رہا اورحضرت سے غیر معمولی استفادہ کاموقع ملا ہے ، طبعی طورپر ان سے زمانہ طالب علمی سے ہی مناسبت رہی ،احقر کوحدیث شریف سے شغف اوراس سے مناسبت در حقیقت فقیہ الاسلام مفتی مظفرحسین ؒ ، شیخ الادب حضرت مولانا اطہرحسین ؒ کی توجہات سامیہ کے علاوہ شیخ کے تلمذ اوران سے استفادہ کاہی نتیجہ ہے ۔طبعی مناسبت اورقلبی انسیت کاثمرہ ہے کہ ہفتہ عشرہ میںعموماً زیارت منامی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ بعض منامات میں حضرت کے احوال رفیعہ سے آگاہی کاحصول بھی اسی مناسبت کا نتیجہ ہے ۔ گزشتہ سالوں میں علالت کے دوران جب مدینہ منورہ میں زیر علاج تھے ،لوگوں پر مایوسی طاری تھی اورحضرت کی مزید حیات کی بظاہر کوئی امیدنہ تھی ،اس وقت احقر کو دعا کی سعادت نصیب ہوتی رہی اوراسی ضمن میں منجانب اللہ یہ بشارت مل گئی کہ ابھی حضرت والا بقیدحیات رہ کر مزید خدمت حدیث کا مبارک مشغلہ جاری رکھیں گے ۔
افسوس کہ آسمان علم وہدایت کا یہ نیر تاباں 11؍جولائی2017ء میڈی گرام ہسپتال سہارنپورمیں ہمیشہ ہمیش کے لئے غروب ہوگیا ۔
چراغ لاکھ ہیں لیکن کسی کے بجھتے ہی
برائے نام بھی محفل میں روشنی نہ رہی
(مضمون نگار ناظم و متولی مظاہر علوم وقف سہارنپور اور مولانا محمد یونس ؒ کے رفیق کار رہے ہیں )
٭٭٭

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *