کشمیر اور نارتھ ایسٹ پر الگ الگ معیار کیوں ؟

ہم ایک بہت دلچسپ دور سے گزررہے ہیں۔حالانکہ ملک کے حالات ٹھیک نہیںہیں۔ راجستھان ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریٹائر ہونے سے قبل اپنے فیصلے میں کہا کہ گائے کو قومی جانور ڈکلیئر کردینا چاہیے۔ انھوںنے مور کو لے کر بھی ایک تبصرہ کیا۔ اس احمقانہ تبصرے سے میں حیرا ن ہوںکہ یہ شخص ہائی کورٹ تک کیسے پہنچ گیا؟ بہرحال پریس کے ذریعہ ایسی بات کو بڑے پیمانے پر کوریج دینا، جو فیصلے کا حصہ نہیں ہے، سمجھ سے پرے ہے۔ گائے بے شک ایک حساس موضوع ہے۔ حکومت ہند کو اس پر کوئی پالیسی وضع کرنی چاہیے، جس کا ذکر میں پہلے بھی کرچکا ہوں، پھر اس کے بعد اس پر عوامی بحث ہونی چاہیے۔ نریندر مودی کی سرکار نارتھ ایسٹ میںیا گوا میں بیف پر پابندی نہیںلگا سکتی کیونکہ انھوںنے خود ہی ایسی بات کہی ہے۔ لہٰذا اس مدعے پر ایک واضح قومی پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ گئو رکشکوں کا منمانہ رویہ یا عدلیہ سمیت دیگر اداروںاور تنظیموں کے ذریعہ تبصرے کا سلسلہ ختم ہوسکے۔ میںامید کرتا ہوںکہ نریندر مودی اس طرف کوئی قدم اٹھائیں گے۔
دوسرا تشویشناک مدعا ناگا سمجھوتہ پر دستخط کی خبر ہے۔ اگست 2015 میں نریندر مودی اور این ایس سی این – آئی ایم (ایساک موئیوا) کے بیچ جلد بازی میںایک ایگریمنٹ (ایم او یو) پر دستخط ہو ئے تھے۔ یہاں تک کہ وزیر داخلہ کو اس کی جانکاری نہیں تھی۔ بعد میںانھیںدستخط کرنے اور فوٹو کھنچوانے کے لیے بلایا گیا تھا۔ آج تک کسی کو نہیںمعلوم تھا کہ اس ایم او یو کا موضوع کیا تھا؟ لوگ پوچھ رہے تھے اور سرکار گول مول جواب دے رہی تھی۔ لیکن اب جو خبریں سامنے آئی ہیں، اگر ان پر بھروسہ کیا جائے تو سرکار نے ناگاؤں کو بڑی رعایتیں دی ہیں۔ ان رعایتوں میںشاید عدلیہ اور مالیات سے متعلق رعایتیں شامل ہیں۔ لیکن مجھے مواد کا علم نہیں ہے۔ ایک طرح سے یہ حل کی طرف اٹھایا گیا ایک قدم تھا لیکن معاملہ یہ نہیںہے۔
ناگا مسئلہ جواہر لعل نہرو اور اے زیڈ پھیزو (جو اس وقت ناگا چیف تھے) کے زمانے سے اٹکا ہوا ہے۔ حکومت ہند آئین ہند کے تحت مسئلے کا حل کرنا چاہتی تھی۔ لیکن ناگااس کے لیے تیار نہیںہوئے تھے۔ آخر میں1980 اور 1990 کی دہائی میں ایساک موئیوا گروپ نے سمجھداری دکھائی اور کئی دور کے مذاکرا ت کیے ۔اس میںاہم مذاکرات کار ہندوستان کے سابق داخلہ سکریٹری شری کے پدمنابھیا تھے۔ اسی وقت سے یہ لگنے لگا تھا کہ کوئی نہ کوئی بیچ کا راستہ نکال لیا جائے گا۔ 2015 میںجب اچانک مودی نے ایم او یو پر دستخط کیے تو لوگوں کو یہ جلد بازی سمجھ میں نہیں آئی۔ سمجھوتہ کے بعد ایساک کی موت ہوگئی۔ اب ہمیںیہ نہیںمعلوم کہ اس سمجھوتہ پر کن کن لوگوںکے دستخط ہیں۔ آئی ایم گروپ کے دستخط ہیںیا دوسرے گروپ کے یا پھر دونوں نے ساجھا طور پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مرکز میں ایک ذمہ دار سرکار ہے،اس لیے میںیہ امید کرتا ہوں کہ انھوںنے کچھ ایسا نہیںکیا ہوگا، جس سے ملک کی خود مختاری متاثر ہوئی ہو۔
ایک سرحدی ریاست ہونے کے سبب ناگالینڈ کو الگ طریقے سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے کچھ حد تک خود مختاری دی جاسکتی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر ، جس سے آپ نے خود مختاری کا وعدہ کیا ہے، اس کی خود مختاری کو تو آپ نے کمزور کردیا ہے۔ ایساا بھی نہیںہوا، بلکہ یہ کام کانگریس کے پورے دور حکومت کے دوران ہوا تھا۔ کشمیر کے معاملے میںسرکار کہہ رہی ہے کہ یہ سیکورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ پاکستان سے بات چیت نہیںکرنا چاہتی۔ آپ کشمیر کے لیے ایک معیار اور دوسری ریاستوںکے لیے دوسرا معیار استعمال نہیں کرسکتے۔ اگر آپ کو دو معیار استعمال کرنے ہی ہیں تو اس کے لیے ایک جیسے پیٹرن ہونے چاہئیں۔ میں سمجھتا ہوں ، وقت آگیا ہے کہ سرکار پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے اور ان مدعوں پر بحث کرے۔ سرکار وہاں واضح کرے کہ ان نسلی گروپوں کے مسائل کو سلجھانے کے اس کے پیٹرن اور نقطہ نظر کیا ہیں۔ ان گروپوں میں ناگالینڈ، اروناچل پردیش او رمیزورم شامل ہیں۔، کشمیر ایک الگ طرح کا مدعاہے۔ ہندوستان ایک بہت بڑا اور بہت اہم ملک ہے اور وہ اس طرح سے برتاؤ نہیںکرسکتا۔

 
ایک طرف، دلائی لامہ کے اروناچل دورے کی وجہ سے چین غصہ میں ہے۔ ظاہر ہے ، چین کا غصہ جائز نہیںہے، ہندوستان کا موقف صحیح ہے۔ لیکن دوسری طرف ، ہم کشمیر پر اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ یہ سیکورٹی کا معاملہ ہے او رامن قائم کرنے کے لیے ہمیں جتنی ضرورت ہوگی، اتنے لوگوں کو مار دیںگے۔ کشمیر کی ایک طویل تاریخ ہے، پرانے سمجھوتے ہیں۔ کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کی بات کہیگئی تھی، لیکن اس معاملے میں پاکستان نے غلطی کی۔ اگر اس نے اپنی فوج واپس بلالی ہوتی،جیسا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹین نے انھیں مشورہ دیا تھا، تو ریفرنڈم ہوگیا ہوتا۔ ماؤنٹ بیٹین نے یہ بھی کہا تھا کہ ریفرنڈم میںلوگ پاکستان جانا پسند کریںگے۔ لیکن پاکستان پُراعتماد نہیں تھا، اس لیے اس سے غلطی ہوئی۔ اس کی غلطی کو ہندوستان نے لپک لیا اور کہا کہ آپ اپنی فوج واپس نہیںبلائیں گے تو ریفرنڈم نہیںہوگا۔ دونوںملکوںکے ذریعہ اپنا اپنا موقف مضبوط کرنا تو ٹھیک ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
میں امید کرتا ہوں کہ نریندر مودی کے صلاح کاروں میں عقلمند لوگ موجود ہوں گے۔ میںیہ بھی امید کرتا ہوںکہ ناگا سمجھوتہ سے کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ آخر ملک ہمیشہ قائم رہنے والی حقیقت ہے۔ سرکاریں ہر پانچ سال میں آتی جاتی رہتی ہیں۔مودی کی مدت کار دو سال میں ختم ہونے والی ہے۔ اگر وہ دوبارہ چن لیے جاتے ہیں تو سات سال میں ختم ہوگی۔ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ لیکن ملک ہمیشہ کے لیے ہے۔ جو بھی کرنا ہو، آپ کو ہرکسی کو اعتماد میں لینا ہوگا۔پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیے،آن کیمرہ سیشن چلائیے، اس میںکچھ بھی گڑ بڑ نہیں ہے۔ بھلے ہی کارروائی کے دوران پریس کو باہر کردیجئے لیکن اس بات پر اتفاق رائے بنائیے کہ کیسے ہندوستان کے ان ناراض ، غیر مطمئن اور ناخوش شہریوںسے نمٹا جائے۔ آخر وہ ہندوستان کے شہری ہیں۔ اس سرکار کا رخ یہ ہے کہ حریت سے بات مت کرو،پاکستان سے بات مت کرو۔ جمہوریت میں بات نہ کرنا مسئلہ کا کوئی حل نہیںہے۔بات چیت سے ہی حل نکلے گا۔ بھلے ہی طویل مدت کے بعد نکلے لیکن یہ طے ہے کہ بغیر بات چیت کے مسئلے کا حل کبھی نہیںنکلے گا۔ ہم سرکار اور ناگا سمجھوتہ کی جانکاریوںکا بے تابی سے انتظار کررہے ہیں۔ تاکہ ہمیںپتہ چل سکے کہ ہم صحیح راستہ پر ہیںیا نہیں۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ یہ جانکاریاںباہر آئیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *