سورہ طلاق کی روشنی میں طلاق پر کیا کہتا ہے قرآن؟

ڈاکٹر صبا یونس
اے اللہ کے بندو، اپنی عورتوں کو طلاقِ عدت کے لئے دو اور عدت کا وقت گزارنے کے بعد یا تو انہیں واپس اپنے نکاح میں لے لو یا باعزت الگ کر دو۔ لیکن عدت کے دوران انہیں نہ اپنے گھر سے نکالو ،نہ ہی غلط سلوک کرو، طلاق کے بارے میں بہت ہی خوبصورتی سے قرآن کی سورہ طلاق میں بتایا گیا ہے۔
طلاق کا جو صحیح طریقہ قرآن میں بتایا گیا ہے، وہ کچھ اس طرح ہے:اگر شوہر اپنی بیوی سے الگ ہونا چاہتا ہے، تو وہ اسے طلاق دے سکتا ہے۔لیکن دھیان رہے، طلاق کا استعمال پورے ہوش و حواس میں کیا گیاہو۔ طلاق بولنے کے بعد تین ماہ تک کا وقت عدت کی مدت ہوگی، جو تین حیض کا وقت بھی ہو سکتا ہے یا اگر عورت حمل سے ہو، تو بچہ پیدا ہونے کی مدت تک ہو سکتی ہے۔ اس وقت کے بعد اگر شوہر چاہے تو دوبارہ اپنی بیوی کو نکاح میںلے سکتا ہے،نہیں تو دوبارہ طلاق بول کر پھر عدت کی مدت گزاری جائے گی۔ اس مدت کے گزرجانے کے بعد بھی نکاح میں واپس لینے کی سہولت کھلی ہے۔ نہیں تو تیسری بار طلاق بولنے پر عدت کی مدت کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا اور اسکے بعد شوہر چاہ کر بھی بیوی کو نکاح میں واپس نہیں لے سکتا ۔ اب اگر بیوی چاہے تو وہ کسی بھی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔
تین طلاق بول کر نکاح ختم کرنے کا یہ جو معاملہ ابھی چل رہا ہے ، اصل میں طلاق کا ایسا کوئی طریقہ اسلام میں ہے ہی نہیں۔ یہ کچھ انسانوں کی بنائی ہوئی روایت ہے، جس پر مسلمانوں کا ایک چھوٹا اور جاہل طبقہ آنکھ بند کرکے عمل کررہا ہے۔ اگر قاعدے سے قرآن کو سمجھا جائے تو کہیں پر بھی ہمیں ایک جھٹکے سے نکاح ختم کرنے کی کوئی آیت نہیں ملے گی۔ اسلام میں تو عورتوں کے حق اور عزت کے لئے تمام سہولتیں ہیں۔
حلالہ پر جو بحث چل رہی ہے، اسے لے کر قرآن میں کیا بتایا گیا ہے، یہ جاننا بھی ضروری ہے۔ ایک لمبی کارکردگی اور لمبے وقت کے بعد جب طلاق مکمل ہو جاتی ہے ،تب عورت کسی بھی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح میں بندھ سکتی ہے۔ اگر دوسرے نکاح کے بعد اس کا شوہر مر جاتاہے یا کسی وجہ سے اس کی طلاق ہو جاتی ہے تو پھر وہی لمبی عدت کی کارکردگی چلتی ہے اور اس کے بعد وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجاتی ہے ۔یعنی اب اگر وہ چاہے تو اپنے پہلے شوہرسے نکاح کر سکتی ہے۔اسی کارکردگی کو حلالہ کہا گیا ہے۔
مطلب یہ واضح ہے کہ نہ تو تین بار طلاق بولنے سے فوراً طلاق ہو سکتی ہے اور نہ ہی پہلے شوہر سے فوری طور پر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ جو اسلام کو صحیح سے سمجھتے اور جانتے ہیں، وہ کبھی بھی جھٹکے والی اس تین طلاق کے عمل کا استعمال نہیں کرتے۔ اسلام میں تو عورت کو پھول کی طرح رکھنے کا حکم ہے۔کوئی بے جا نا انصافی نہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی لئے طلاق کے عمل کو بھی اتنا لمبا رکھا گیا ہے کہ اگر غلطی سے یا غصے سے طلاق بولا بھی ہے تو مرد اپنی غلطی کا کفارہ کر لے اور عدت کی مدت کے دوران نکاح بچا لے۔ وہ بھی ایک بار نہیں ،تین بار اسے یہ موقع دیا جاتاہے۔
اب ذرا سوچئے ، اسلام میں نکاح بچانے کی جو یہ بہترین سہولت دی گئی ہے ، وہاں اس جھٹکے والے تین طلاق کے کانسپٹ کا چلن ممکن ہی نہیں ہے ۔مسلمانوں کو ضرورت ہے، جہالت سے باہر نکلنے کی۔ ضرورت ہے، ترجمہ کے ساتھ خود قرآن پڑھنے کی۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عورتیں اپنا حق جانیںاور غلط رواج پھیلانے والوں کا بائیکاٹ کریں۔
(مضمون نکار سوشیالوجی کی پروفیسر اور سماجی کارکن ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *