جاگ اٹھا ہے کسان

کسانوں کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں بچا تھا۔ ملک میں آزادی کے بعد سے لے کر آج تک کسانوں کی سب سے زیادہ نظر اندازی ہوئی اور کسانوں کی سب سے زیادہ موتیں ہوئیں۔کسان چاہے خود کشی سے مرا ہو یا پولیس نے اسے گولی ماری ہو۔ مدھیہ پردیش کے مندسور میں پولیس کی گولی سے تقریباً نصف درجن کسانوں کے مارے جانے کے بعد لوگوں کو سرکار کی ترجیحات سمجھ میں آئی اور ’جے جوان، جے کسان‘کے نعرے کی اصلیت کسانوں کے خون کے ساتھ بہتی دکھائی پڑی۔ کسانوں کو حکومت نے بیوقوف بنایا، کسانوں کو لیڈروں نے بیوقوف بنایا اور کسانوں کو کسان نیتائوں نے بیوقوف بنایا۔ صنعتکاروں نے اپنی مصنوعات کی قیمت اپنی مرضی سے طے کرنے کا حق لے لیا، لیکن کسان آج تک اپنی پیداوار کی قیمت خود طے نہیں کر پائے۔ سرکار نے فصلوں کی مینیمم سپورٹ پرائس طے نہیں کی اور کسان اپنی پیداوار کھیتوں میں ہی چھوڑ کر اسی کھیت میں پھانسی لگا لینے پر مجبور ہوتے رہے۔
کسان آندولنوں سے جڑے اتر پردیش کے سینئر کسان لیڈر شیو جی رائے کہتے ہیں کہ ملک میں تشدد پر آمادہ ہونے کے بعد ہی سرکاریں دھیان دیتی ہیں۔یہ ایک طرح سے آخری ہتھیار ہو چکا ہے۔ جاٹوں نے اسے آزمایاتو کامیاب رہے۔ گوجروں نے آزمایا،کامیا ب رہے۔ایک وقت کسان لیڈر مہندر سنگھ ٹکیٹ بھی جب جب مشتعل ہوئے تب تب سرکار ان کے آگے جھکی۔رائے نے کہا کہ کشمیر سے لے کر شمال مشرقی اور جنوبی سے لے کر شمالی ہندوستان تک جس طبقے نے تشدد کا راستہ کھولا ہے،اسی راستے پر مدھیہ پردیش اور مہا راشٹر چلا، اتر پردیش کے کسان بھی سڑک پر مشتعل ہو کر اترنے کا ذہن بنا رہے ہیں۔

 

سازشیں شرو ع ہوگئیں
پولیس فائرنگ میں کسانوں کے مارے جانے کے بعد بھڑکے تشدد کو سرکار اور سرکار کے ایجنٹ مجرمانہ شکل دینے کے چکرمیں لگے ہوئے ہیں۔آگ زنی اور تشدد کو دوسرا رخ دینے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پھر سازش ہو رہی ہے کہ کسانوں کی بنیادی مانگیں سرکاری سازشوں میں غائب ہوجائیں ۔اس کے لئے کسانوںکے بیچ الگ الگ قسم کی سیاست داخل کرنے کی کوشش تیز ہوگئی ہے۔مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے مظاہرہ کرنے والے کسان کہتے ہیں کہ کسان جب سڑکوں پر دودھ بہانے لگے اور اپنی فصلیں برباد کرنے لگے تو سمجھنا چاہئے کہ اب انتہا ہو چکی ہے، کیونکہ کسانوں کے لئے اپنی فصل برباد کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی سرکار ہے ۔مدھیہ پردیش میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے متعلق بھارتیہ کسان سنگھ وہاںکے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے ساتھ میٹنگ کے بعد آندولن ختم کرنے کا اعلان کر دیتا ہے تو آندولن میں پیش پیش بھارتیہ کسان یونین اور راشٹریہ کسان مزدور سنگھ جد و جہد جاری رکھنے کا اعلان کرتا ہے۔ کسانوں کے آندولن نے جب مشتعل شکل اختیار کر لی تب دونوں ریاستوں کے وزراء اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان اور دویندر فڑنویس نے کسانوں کی پیدا وار کی واجب قیمت طے کرنے ، قرض معاف کرنے اور دیگر مانگو ں پر کام کرنے کا یکے بعد دیگر کئی اعلان کرنا شروع کیا۔ اس کے لئے دونوں وزراء اعلیٰ نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔شیو راج نے ٹویٹر پر کہا کہ تین چار دن کے اندر8 روپے کلو کے ریٹ سے پیاز کی خرید شروع ہو جائے گی اور مہینے کے آخر تک جاری رہے گی۔یہ بھی کہا گیا کہ سرکار مونگ کی دال کم سے کم سپورٹ پرائس پر خریدے گی۔ وزیر اعلیٰ چوہان نے کہا کہ کم سے کم سپورٹنگ پرائس پر زرعی پیداوار خریدنے کے لئے ایک ہزار کروڑ کاپرائس بیلنس فنڈ بنایاجائے گا۔ منڈی میں کسانوں کو 50فیصد نقد ادائیگی فوری ہوگی اور باقی 50 فیصد ان کے بینک کھاتے میں جائے گا۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کسانوں کی فلا ح کے لئے بڑی بڑی باتیں کہتے رہے ہیں۔ وہ خود کو بھی کسان ہی کہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ریاست میں تشکیل شدہ کسان کمیشن کو تحلیل کیوں کر دیا۔ مدھیہ پریش میں 19 ستمبر 2006 کو جب ریاستی کسان کمیشن کی تشکیل کی گئی تھی تب ریاست کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان ہی تھے اور 31دسمبر 2010 کو کسان کمیشن کو تحلیل کر دیا گیا۔ تب بھی وزیر اعلیٰ چوہان ہی تھے۔ اس وقت چوہان نے دلیل دی تھی کہ کمیشن صرف سفارشی ادارہ ہے۔ ایسا کہہ کر کمیشن کی سفارشیں طاق پر رکھ دی گئی تھی۔ شیو راج سرکار نے کمیشن کوآئینی درجہ دینے کے بجائے اسے تحلیل ہی کر دیا۔ مدھیہ پردیش میں کسان کمیشن نے اپنے چار سال ،تین ماہ کے دور کار میں سات رپورٹ ریاستی سرکار کو سونپے تھے۔ ان میں 811 سفارشیں کی گئی تھیں،لیکن ان میں سے زیادہ تر کوڑے دان میں ڈال دی گئیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دویندر فڑنویس نے بھی کہا کہ 31اکتوبر سے پہلے کسانوں کا قرض معاف کر دیا جائے گا۔ مہاراشٹر سرکار پانچ ایکڑ زمین والے قریب سوا کروڑ کسانوں کا قرض معاف کرے گی جس کے لئے مہاراشٹر سرکار کو 30ہزار کروڑ روپے کی ضرورت پڑے گی۔لیکن ان سرکاری یقین دہانیوں کے مقابلے ہم یہ بھی جانتے چلیں کہ ہفتہ ،دس دن کے کسان آندولن میں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ مہاراشٹر کے لاسلا گن میں پیاز کی سب سے بڑی منڈی میں ہی اکیلے 100 کروڑ سے زیادہ کے کاروبار کو نقصان پہنچا۔ کسان آندولن کی وجہ سے صرف مہاراشٹر میں اب تک 5 لاکھ لیٹر دودھ کا نقصان ہو چکا ہے ۔بڑی تعداد میں پیاز اور دیگر سبزیاں برباد ہوئیں۔ مدھیہ پردیش میں بھی کسان آندولن میں ہزاروں لیٹر دودھ بہا دیئے گئے اور سبزیاں برباد کر دی گئیں۔

 

 

کسان آندولن کی شروعات

کسان آندولن کی شروعات مہاراشٹر کے احمد نگر میں پون تانبا گائو ں سے ہوئی۔ وہاں کے کسانوں نے 22مارچ کو ہی آندولن کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پون تانبا کی منڈی احمد نگر اور ناسک سرحد پر سب سے بڑی منڈی ہے،جہاں سے آس پاس کے کئی شہروں اور قصبوں میں دودھ ، پھل اور سبزی کی سپلائی ہوتی ہے۔ کسانوں کی قرض معافی کے مسئلے پر مہاراشٹر اور مرکزی سرکار کی وعدہ خلافی کے خلاف شروع ہوئے کسان آندلنوں نے پورے ملک میں کسانوں کو بیدار کر دیا۔ مہاراشٹر میں کئی سال سے مانسون خراب ہونے کے سبب پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی اور کسانوں کی صورت حال کافی خراب ہو گئی۔ اس سال جب فصل اچھی ہوئی تو کسانوں کو اس کی مناسب قیمت نہیں ملی۔ اس وجہ سے کسانوں نے یہ بھی طے کیا کہ خریف کے وقت وہ صرف اپنی ضرورت کے مطابق ہی اناج پیدا کریں گے۔
پون تانبا کے کسانوں نے ایک جون سے کسان کرانتی مورچہ کے نام سے آندولن شروع کیا۔ مغربی مہاراشٹر کے کسانوں نے آندولن شروع کیا۔ ناسک اور احمد نگر آندولن کا مرکز بنا اور اس نے بڑی تیزی سے پورے مہاراشٹر اور پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش تک آندولن کی آگ پھیلا دی۔ مدھیہ پردیش میں 2جون سے شروع ہوئے آندولن نے اندور ، دھار، اجین، نیمچ، مندسور، رتلام،کھنڈوا اور کھرگون تک کے کسانوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ۔مدھیہ پردیش میں تو تقریباً دو دہائی بعد ایسا آندولن ہوا۔ اس سے پہلے بیتول ضلع کے ملتائی گائوں میں 1998 میں کسانوں نے مشتعل آندولن کیا تھا۔ 12 جنوری 1998 کو احتجاج کے دوران 18 کسانوں کی موت ہوئی تھی۔ اس وقت مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سرکار تھی۔
مہاراشٹر کے کسانوں کی مانگ ہے کہ ان کا قرض معاف کیا جائے اور سرکار زرعی پیداوار کا کم سے کم سپورٹ پرائس ،لاگت پرائس سے 50 فیصد زیادہ طے کرے۔ 60سال اور اس سے زیادہ عمر کے کسانوں کو پنشن ملے۔ کسانوں کو بغیر بیاز کے قرض کی تجویز ہو اور دودھ کی قیمت 50روپے فی لیٹر کیا جائے۔ مہاراشٹر کے کسانوں کی یہ بھی مانگ ہے کہ مناسب سینچائی آلات کے لئے کسانوں کو پوری سبسڈی ملے۔ دوسری طرف مدھیہ پردیش کے کسان قرض معافی کے علاوہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ اور کسانوں پر درج معاملوں کو فوری طور پر واپس لینے کی مانگ کررہے ہیں۔
مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کسان آندولن کی خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے کی بھی مانگ کررہے ہیں۔ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ یہ سفارش کرتی ہے کہ فصل اگانے میں کسانوں کی جتنی لاگت لگتی ہے، اس سے 50 فیصد زیادہ قیمت اسے ملنی چاہئے۔ مہاراشٹر کے کسانوں کا آندولن پورے ملک کے لئے تشویش کا سبب اس لئے بھی بنا ہوا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ پیاز مہاراشٹر میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف مہاراشٹر دودھ پیدا کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے۔ دودھ پیداوار اور پیاز پیداوار میں مدھیہ پردیش کا دوسرا مقام ہے۔ مدھیہ پردیش میں زیادہ تر کھیتی برسات پر منحصر ہے۔ لگاتار دو سال کے سوکھے نے کسانوں کو معاشی اعتبار سے کھوکھلا بنا دیا۔ کسانوں نے کھیتی کے لئے زیادہ بیاز پر قرض لیا، لیکن فصل نہ ہونے کی وجہ سے قرض نہیں چکا پائے۔
اس وجہ سے مدھیہ پردیش میں کئی کسانوں نے خود کشی کر لی۔ ارہر اور سویا بین کے معاملے میں مہاراشٹر کے کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ سبزیوں میں تو کیا مہاراشٹر ، کیا مدھیہ پردیش اور کیا اتر پردیش،سب جگہ کسان بری طرح مارے گئے۔ سبزیاں پھینکنی پڑیں۔ پیاز ٹماٹر کوڑیوں کے بھائو بکا۔ مدھیہ پردیش میں تو سینکڑوں کسانوں نے اپنے کھیتوں میں پیاز کی کھڑی فصل جتوا دی۔ اندور میں تو پیاز کی قیمت تین روپے فی کلو سے پچاس پیسے فی کلو تک پہنچ گئی۔ ملک میں پیاز پیداوار میں مہاراشٹر کے بعد مدھیہ پردیش کا ہی درجہ ہے۔ اندور، رتلام ، کھنڈوا، نیمچ،دھار اور اجین میںبڑے پیمانے پر پیاز کی کھیتی ہوتی ہے۔

 

 

آلو کا حال
یہی حال آلو کا ہوا ہے۔ یو پی سے لے کر مدھیہ پردیش اور پنجاب تک کسانوں نے آلو کوڑیوں کے بھائو بیچا۔ پنجاب میں تو 70 آلو کسانوں نے خود کشی کر لی۔ اتر پردیش میں بھی کسانوں کو اپنا آلو سڑکوں پر پھینک دینا پڑا۔ اتر پردیش کا فرخ آباد علاقہ، آلو پیداوار کے لئے ملک بھر میں اول ہے۔ لیکن آلو کی فصل یہاں کے کسانوں کی موت کا سامان بن گیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کم سے کم سپورٹنگ پرائس پر آلو خریدنے کا اعلان کیا لیکن یہ اعلان زمینی حقیقت نہیں بن پایا ۔ یوگی سرکار نے 478 روپے فی کوئنٹل کے ریٹ پر ایک لاکھ میٹرک ٹن آلو خریدنے کا اعلان تو کیا،لیکن وہ ہدف کو نہیں پاسکا۔ ملک کے ویزر اعظم نریندر مودی جس وقت نوٹ بندی لاگو کر رہے تھے، اس وقت ملک میں زبردست آلو پیدا ہو رہا تھا۔ لیکن نوٹ بندی میں آلو کسان ایسا بے موت مرا کہ اسے 50 پیسے کلو تک آلو بیچنا پڑا ۔ یو پی اور پنجاب کے کسانوں کی ایک جیسی حالت ہوئی۔
حالت یہ ہے کہ جس طرح اتر پردیش کے گنا کسانوں نے گنے کی کھیتی چھوڑ دی، اسی طرح اتر پردیش کے آلو بیلٹ کے کسان آلو کی کھیتی چھوڑ دینے کا ذہن بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی پیداوار کی لاگت سے پچاس فیصد زیادہ سپورٹ پرائس طے کرنے کی مانگ دھیرے دھیرے پورے ملک میں زور پکڑتی جارہی ہے۔ مرکز اورریاستوں کی سرکاروں کو یہ ماننا ہی پڑے گا کہ لاگت اور مہنگائی کے مد نظر کسانوںکو ان کی زرعی پیدوار کا ملنے والابھائو کافی کم ہے۔ سرکار کو کھیتی کو منافع کا دھندہ بنانے کے لئے ہر زرعی پیداوار کا سپورٹ پرائس مقرر کرنا ہی پڑے گا۔ کم سے کم سپورٹنگ پرائس سے مطلب اس قیمت سے ہے جو سرکار کسی اشیائے خورنی کے بدلے کسان کو ادائیگی کی گارنٹی دیتی ہے۔ سرکا ر نے گیہوں ،دھان اور گنا سمیت کئی زرعی پیداوار کا سپورٹنگ پرائس طے کر رکھا ہے، لیکن وہ کسان کی لاگت کے مقابلے میں کافی کم ہے،جس کے سبب کسانوں کو مجبور ہو کر خود کشی کرنا پڑ رہا ہے۔ کسانوں کو اپنی فصل کی لاگت حاصل کرنا بھی مشکل ہو رہاہے۔
زرعی ماہرین کہتے ہیں کہ 1970 میں گیہوں 76روہے کوئنٹل تھا، وہ 2015 میں تقریبا 1450 روپے کوئنٹل ہوا اور 2017 میں 1650 روپے فی کوئنٹل ہو گیا، جبکہ اس عرصے میں سرکاری ملازمو ں کی اصل تنخواہ اور ڈی اے قریب دو سو گنا بڑھ گئی۔ مرکز ی اور ریاستی اہلکاروں کی تنخواہ اور بھتوں میں اناپ شناپ اضافہ ہوا، لیکن کسانوں کی آمدنی تھمی کی تھمی رہ گئی۔ اسے لاگت کی رقم بھی نہیں مل پائی، سرکاروں نے کسانوں کو نظر انداز کرکے بڑا جرم کیا ہے۔ چپراسی کی تنخواہ قابل گزر بسر ہونے سے لے کر باوقار حد تک پہنچ گئی لیکن کسانوں کو اس ملک میں بھکاری بنا کر رکھ دیاگیا۔ سوامی ناتھن کمیشن کابھی کہنا ہے کہ 1925 میں 10 گرام سونے کا ویلو 18روپے اور ایک کوئنٹل گیہوں 16روپے کا ہوتا تھا۔ 1960 میں 10 گرام سونا 111 روپے اور ایک کوئنٹل گیہوں 41 روپے کا تھا۔ موجودہ وقت میں جب 10گرام سونے کاویلو 32000 روپے ہے تو ایک کوئنٹل گیہوں محض 1285 روپے کا ہے۔ 1965 میں مرکزی سرکار کے فرسٹ کلاس ملازم کے ایک مہینے کی تنخواہ سے6 کوئنٹل گیہوں خریدا جاسکتا تھا۔ آج اس مرکزی ملازم کی ایک ماہ کی تنخواہ سے 30 کوئنٹل گیہوں خریدا جاسکتاہے۔ یہ مقابلہ جاتی اعدادو شمار ثابت کرتاہے کہ سرکار کسانوں کی محنت کی قدر دانی کس طریقے سے کرتی چلی آرہی ہے۔ سرکار زرعی پیداوار کا جو سپورٹ پرائس اعلان کرتی ہے وہ ملک کی تقریباً 60فیصد سے زیادہ آبادی کے وقار اور مساوات سے جینے کے بنیادی حق کی سیدھے طور پر خلاف ورزی ہے۔

 

 

کسان آندولن کے سیاست پر اثرات
بہر حال مہاراشٹر کے کسان آندولن کو لے کر وہاں کی سیاست بھی آپس میں ٹھن گئی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن میں شامل شیو سینا کسانوںکے ایشو پر سرکار سے الگ کھڑی ہے تو بی جے پی سرکار کے وزیر بھی کسان تحریک کا کھلا سپورٹ کررہے ہیں۔ شیو سینا ممبر پارلیمنٹ سنجے رائوت کسان آندولنوں کے سپورٹ میں لگاتار بیان جاری کررہے ہیں اور کسانوں کی قرض معافی کے مسئلے پر فڑنویس سرکار کی ضد کی مذمت کررہے ہیں۔ فارمر آرگنائزیشن کے لیڈر اور فڑنویس سرکار میں ریاستی وزیر سد بھائو کھوت کسان آندولن میں شریک ہیں۔ کسان آندولن کو مہاراشٹر کے 15سے 20 کسان تنظیموں کا سپورٹ حاصل ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے بھی کہا کہ کسانوں کا آندولن دیش بھر میں پھیلے گا۔ اپنی پیداوار کا مناسب بھائو پانے اور قرض معافی کولے کر مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے جو کسان سڑک پر اترے ہیں، ان کے ساتھ پورے ملک کا کسان ہے، کسانوںکا یہ آندولن پورے ملک میں پھیلے گا۔
مرکز اور ریاستی سرکاروں کی کسان مخالف پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اناج پیدا کرنے والوںکو سڑک پر اتر نا پڑا ہے۔ ابھی وقت ہے کہ سرکار کسانوں کے مسائل پر دھیان دے جس سے کسانوں کو ان کی پیداوار کا صحیح دام مل سکے۔ ٹکیٹ نے کہا کہ اتر پردیش میں بھی کسانوں کی صورت حال بہت قابل رحم ہے، اس کو لے کر بھی یہاں کے کسان آندولن کریں گے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری نے کسانوں کے آندولن کو پارٹی کی حمایت ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مرکز کی بی جے پی سرکار کو کسانوں کی ذرا بھی فکر نہیں ہے اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں کسانوں کے ساتھ نا زیبا سلوک کیا جارہا ہے۔ چودھری نے مند سور میں کسانوں پر پولیس فائرنگ کی تیکھے تیور میں مذمت کی۔ سماج وادی پارٹی نے کہا کہ بی جے پی کی کسان مخالف پالیسی کے سبب تین سال میں لاکھوں کسانوں نے خود کشی کی۔ اتر پردیش میں ہر مہینے قرض سے دبے 50 کسان پھانسی پر لٹک کر جان دے رہے ہیں۔راشٹریہ لوک دل کے سینئر لیڈر انیل دوبے نے بھی کہا کہ اتر پردیش کے کسان بھی سرکاری نظر اندازی سے عاجز آچکے ہیں اور زور دار آندولن کا بیک گرائونڈ تیار ہو رہا ہے۔ گنا کسان پہلے سے اپنے کروڑوں کے بقائے کو لے کر پریشان ہیں، لیکن سرکا ر جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے۔ سبزیاں پیدا کرنے والے کسان اب کوڑیاں کے مول اپنی سبزیاں بیچنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔رالود لیڈر نے کہا کہ کسانوں کا آندولن پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اتر پردیش کے قریب قریب سارے کسان لیڈر کہتے ہیں چھوٹے اور درمیانی کسانوں کا قرض معاف کر کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے کسانوںکو راحت تو دی لیکن اس سے کسانوں کا بڑا فائدہ قطعی نہیں ہورہا ہے۔ حالانکہ یوگی سرکار کے فیصلے نے مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کسانوں کو اپنی آواز اٹھانے کا موقع دے دیا،کیونکہ ان دونوں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ بھی کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کافی عرصے سے کررہے تھے۔
مہاراشٹرمیں کسان کی حالت ابتر
ملک میں سب سے زیادہ کسانوں کی خود کشی مہاراشٹر میں ہی ہوتی ہے۔ مراٹھا واڑہ اور وِدربھ کے کسانوںکی قبرگاہ کہا جانے لگا ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے سوکھے اور حکومت کی نظر اندازی کی مار جھیل رہے مہاراشٹر کے کسانوں کی حالت قابل رحم ہے ۔ملک میں کسانوں کی خود کشی کے معاملوں میں مہاراشٹر کا اوسط 45 ہے۔ گزشتہ دو دہائی میں مہاراشٹر کے 28 ضلع خشک سالی، اولہ اور بارش جیسی قدرتی آفتوں سے متاثر رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے کسان سب سے زیادہ کیلا ، کپاس، سنترہ، ناسپاتی،سویابین اور پیاز جیسی نقدی فصلیں اگاتے ہیںجس میں لاگت سب سے زیادہ آتی ہے، اس کی بروقت قیمت نہیں ملی تو پیداوار برباد ہو جاتی ہے۔ مرکزی وزارت برائے زراعت کا سرکاری اعدادو شمار ہے کہ مہاراشٹر کے 40 لاکھ 67 ہزار 200 کسان پریوار قرض میں ڈوبے ہیں۔ گزشتہ دو دہائی میں سب سے زیادہ 64 ہزار کسانوں نے مہاراشٹر میں خود کشی کی۔ ویسے ملک بھر میں کسانوں کی حالت تشویشناک ہے۔
مرکز کیوں نہیں لاگو کرتا سوامی ناتھ کمیشن کی سفارشیں
ملک میں ہرِت کرانتی کے فادر کہنے جانے والے پروفیسر ایم ایس سوامی ناتھن کی صدارت میں 18 نومبر 2004 کو ایک کمیشن کی تشکیل کی گئی تھی۔ تب مرکز میں کانگریس کی سرکار تھی۔ زرعی شعبے میں بنیادی تبدیلی اور سدھار کی صورت حال کے تجزیہ کرنے کے لئے تشکیل دی گئی سوامی ناتھن کمیشن ( نیشنل کمیشن فار فارمرس) نے 2004سے 2006 کے بیچ اپنی رپورٹیں پیش کیں۔کمیشن نے کسانوں کے بڑھتے مسائل اور ان کی خود کشی پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ کمیشن نے کسی فصل کی پیداوار پر آنے والے خرچ کا ڈیڑھ گنا زیادہ دام کسانوں کو دیئے جانے کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے یہ بھی کہاتھا کہ اضافی اور بیکار زمینوں کو ضرورت مندوں کے بیچ بانٹا جائے۔ کمیشن کی سفارشوں میں سب سے خاص بات یہ تھی کہ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر زرعی کام کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کو کسی بھی قیمت پر زرعی زمین اور جنگلاتی زمین نہیں دی جائے۔ کمیشن نے جنگل میں آدیواسیوں اور چرواہوں کو جانے اور قدرتی وسائل پر مقامی ہونے کے حق پر بھی زور دیا تھا۔ زرعی زمین کی خرید و فروخت کے لئے بھی کمیشن نے سخت قانون لاگو کرنے کی وکالت کی تھی۔لیکن افسوس یہ ہے کہ کانگریس سرکار نے سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا اور بی جے پی سرکا ر نے بھی اس فائل کی دھول جھاڑنے کی زحمت نہیں کی۔

 

 

انا آئے کسانوں کی حمایت میں
سینئر سماجی کارکن انا ہزارے نے مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کسان آندولن کے تئیں اپنی حمایت ظاہر کی ہے۔لیکن ساتھ ہی تشدد سے دور رہنے کی بھی اپیل کی ہے۔ انا نے کہا کہ سرکار کسانوں کو لے کر کوئی مثبت فیصلہ نہیں لے رہی ہے، اس لئے کسان قانون کو ہاتھ میں لینے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں ۔ انا نے سرکارسرکار اور کسانوں کے درمیان ثالثی کرنے کے لئے بھی تجویز دی اور کسانوں سے اپیل کی کہ ہڑتال کے دوران قومی جائیداد کا نقصان نہ ہو اور آندولن پُرامن طریقے سے آگے بڑھے۔ آندولن پُرامن رہا تو سرکار کو کسانوں کی مانگوں کے آگے جھکنا ہی پڑے گا۔ انا نے کہا کہ آنے والے وقت میں کسانوں کے مسائل کو لے کر سیاست سے الگ ایک وسیع آندولن کی سمت طے کرنا ضروری ہے۔
راشٹریہ کسان کمیشن کی تجویز
نیشنل حقوق انسانی کمیشن ، نیشنل شیڈولڈ کاسٹ ؍ شیڈولڈ ٹرائبس، نیشنل مائنارٹی کمیشن کی طرز پر مرکزی سرکار ،نیشنل کسان کمیشن کی تشکیل کیوں نہیں کرتی۔ یہ سوال پارلیمنٹ سے سڑک تک لگاتار اٹھتے رہے ہیں لیکن مرکزی سرکار نہ اس کا جواب دیتی ہے اور نہ ہی اس کی تشکیل کے لئے کوئی پہل کرتی ہے۔ جنتا دل (یو ) کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی راجیہ سبھا میں لگاتار یہ مانگ کرتے رہے ہیں کہ راشٹریہ کسان کمیشن کی تشکیل ہو، جسے آئینی حق ملے اور جو کسانوں کی فلاح اور ان کے تحفظ کے لئے ٹھوس کام کر سکے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ 2004 میں پروفیسر ایم ایس سوامی ناتھن کی صدارت میں جو کسان کمیشن بنا، وہ بھی غیر فعال کر دیا گیا اور اس کی سفارشیں بھی لاگو نہیں کی گئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *