عظمیٰ احمد معاملہ ہندو پاک تعلقات کے لئے خوش آئند

ایک ایسے وقت جب ہندو پاک تعلقات کو گہن لگا ہوا ہے،کوئی بھی واقعہ جو کہ ان دونوں ملکوں کے لوگوں کے دلوں کو جوڑتا ہے، اہم اور غیر معمولی بن جاتاہے۔ ہندوستانی خاتون عظمیٰ احمد کی پاکستان سے 25مئی کو وطن واپسی پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے جس والہانہ انداز میں پاکستان کے ڈپلومیٹس اور عدلیہ کا شکریہ ادا کیا، وہ یقینا باہمی افہام و تفہیم کا نادر واقعہ ہے۔وہ بھی ایک ایسے وقت جبکہ دونوں ممالک کے دو طرفہ سیاسی تعلقات کی موجودہ حالت اچھی نہیں ہے۔ کلبھوشن جادھو کا معاملہ مزید الجھتا ہی جارہاہے اور سرحد پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ ہند نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہا کہ ’’ آج عظمیٰ یہاں ہیں تو صرف اس لئے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ وزارتوں نے ہماری بھرپور مدد کی ‘‘۔ ان کا اس بات پر زور تھا کہ ہندوستانی ہائی کمیشن کو پاکستان کی وزارت خارجہ سے انسانی بنیاد پر حمایت ملی۔
یہی بات اس وقت ہوئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیرسٹر شاہ نواز (نون)نے ایک وکیل ہی نہیں بلکہ باپ کی طرح عظمیٰ کا مقدمہ لڑا اور ان کے حق میں فیصلہ کرایا۔بینچ کی سربراہی کررہے جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی رول اس معاملہ میں بہت ہی قابل ذکر ہے۔ جب عظمی کے شوہر طاہر علی نے یہ دلیل دے کر انہیں الجھانا چاہا کہ یہ پاکستان کی عزت (پرسٹیج) کا معاملہ ہے تب انہوں نے بڑے ہی واضح اور غیر مبہم انداز میں حیرت سے یہ سوال پوچھا کہ یہ معاملہ ہندوستان یا پاکستان کی عزت سے کیوں اور کس طرح متعلق ہے؟اور پھر اپنا بے باک فیصلہ سنایا۔

 
عظمی احمد ایک بچی کی ماں ہیں۔ ملیشیا میں ملازمت کے دوران ان کی طاہر علی سے دوستی ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ یکم مئی کو سرحد کراس کرکے پاکستان آئیں جہاں ان کے دوست طاہر علی نے ڈرگ کھلا کر انہیں مدہوش کردیا اور پھر بعد میں 3مئی کو زورو زبردستی سے ان سے شادی بھی کرلی اور انہیں زود کوب کرنے لگا۔ بعد ازاں وہ ہندوستانی ہائی کمیشن پہنچی اور وہاں پناہ لی۔ نیز وہاں پورا واقعہ سنا کر اپنے وطن ہندوستان واپس لوٹنے کی خواہش کی۔ تب جاکر پاکستانی افسروں کے تعاون سے ہندوستانی سفارت خانہ نے ان کے ملزم شوہر کے خلاف قانونی لڑائی لڑی۔ اس طرح عظمیٰ احمد اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنے وطن واپس لوٹنے کے حق میں فیصلہ کے بعد ہندوستان آگئیں۔
عظمیٰ تو اب وطن واپس آگئی ہیں مگر اس واقعہ سے جو حقیقت کھل کر سامنے آئی، وہ یہ ہے کہ ان دونوں پڑوس کے ممالک میں لوگوں کے دل اب بھی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ،بھلے ان دونوں ملکوں کی سیاست نے انہیں دور کررکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً اس کا مختلف شکلوں اور انداز میں اظہار ہوتا رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کی اساس ایک ہے، تہذیب و تمدن کا ایک پس منظر ہے، دونوں نے ایک ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑی ہے اور دونوں ملکوں کے لوگوں کا لب و لہجہ ، لباس، رہن سہن سب کچھ ایک ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ایک بات یہ بھی ہے کہ دونوں ملکوں کی ایک قابل ذکر آبادی کی نسل اور خاندانی بیک گرائونڈ اور اسی کے ساتھ ساتھ سوچ بھی ایک ہے۔یہاں کا آرٹ و کلچر وہاں قابل ذکر ہوتا ہے تو وہاں کا ارٹ و کلچر یہاں پسند کیا جاتا ہے۔وہاں کا لٹریچر خواہ وہ مذہبی ہو یا ادبی یا عمومی، یہاں کے لوگ اس کے منتظر رہتے ہیں جس کا مظاہرہ ورلڈ بک فیئر میں دیکھنے کو ملتا ہے اور جس میں پہلے دن ہی وہاں کی بیشتر کتابیں جھو منتر ہوکر اسٹال سے غائب ہوجاتی ہیں۔
بھلے اس بات پر کسی کو حیرت ہو مگر یہ سچ ہے کہ ہندوستان کی مذہبی کتابوں پُران، منواسمرتی ، چاروں وید، گیتا اور رامائن کے جتنے مستند اردو ترجمے پاکستان میں ہوئے ہیں، اتنے ہندوستان میں بھی نہیں ہوئے ہیں۔دونوں ممالک کے علماء ایک دوسرے کے یہاں عزت و احترام سے دیکھے جاتے ہیں۔ شعراء و ادیبوں و دیگر ماہرین کا بھی یہی حال ہے۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی اقدار و دیگر لحاظ سے ان دونوں میں جو مماثلت ہے ، وہ انہیں ہمیشہ قریب لاتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی دونوں ملکوں کے درمیان خراب اور کشیدہ تعلقات کے وقت بھی وہاں کے لوگ یہاں آتے ہیں اور یہاں کے لوگ وہاں جاتے ہیں تو انہیں یہ نہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے وطن میں نہیں ہیں۔ یہ جو ذہنی ہم آہنگی ہے اور مشترک سوچ ہے، دراصل اس کا مظاہرہ مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے۔عظمیٰ احمد کے معاملہ میںبھی اس کا مظاہرہ ہوا۔ حق و انصاف کی بات آئی،ایک خاتون پر ظلم و جبر کا معاملہ آیا اور اس کی مرضی کی بات آئی تو جج صاحب نے اس کے شوہر نامدار کی ایک نہیں سنی اور اس کی اس بات کو سیدھے مسترد کردیا کہ یہ پاکستان کی عزت یا پرسٹیج کا معاملہ ہے۔ یعنی انہیں حب الوطنی کا جھانسہ بھی متاثر نہیں کرسکا اور پھر انہوں نے عظمیٰ کے حق میں وہی فیصلہ سنایا جو اس کے دل کی آواز تھی اور جس کا اس کے وطن میں انتظار کیا جارہا تھا۔
سوال یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک جو کہ مشترک سوچ رکھتے ہیں، آخر کب تک دور کے پڑوسی بنے رہیں گے؟معروف بزرگ کالم نویس کلدیپ نیر جو کہ چند برسوں میں سنچری پوری کرلیں گے، اپنے آپ کو ہندو پاک تعلقات کے معاملے میں ’ لاعلاج امید پرست ‘ (Incurable Optimist ) مانتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنی حیات میں ان دونوں ملکوں کو قریب آتے ضرور دیکھیںگے۔ انہوں نے ’’چوتھی دنیا‘‘ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ احمد جیسے معاملہ میں وہاں کی ڈپلومیسی اور عدلیہ کے لوگوں کا جو عملی مظاہرہ ہوا،وہ انہیں اور زیادہ پُرامید کردیتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ سب یقینا خوش آئند ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *