ٹرمپ ٹاور کے آگے افطار

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ الیکشن جیتنے سے پہلے سے ہی مسلمانوں کی نظر میںکھٹک رہے تھے،جب وہ امریکہ کے صدر ہوگئے تو انہوں نے چھ مسلم ملکوں کے مہاجرین کے امریکہ میں انٹری پر پابندی لگانے کی بات کہی۔اس کو وہاں کی نچلی عدالت نے رد کردیا تھا ،وہ اپنے اس سوچ میں اتنے بضد ہیں کہ اب سپریم کورٹ گئے ہیں تاکہ چھ مسلم ملکوں کے مہاجرین کو امریکہ میں داخلہ سے روکا جائے۔ظاہر ہے مسلمانوں کو ٹرمپ کا یہ انداز قطعی پسند نہیں ہے لہٰذا امریکہ کے کچھ مسلمانوں نے اپنی اس ناراضگی کا اظہار بڑے عجیب اندا ز میں کیا ہے،وہ یہ کہ تقریبا 100 مسلمان ٹرمپ ٹاور کے باہر جمع ہوکر افطار کیا اور کھلے میںنماز ادا کی۔ اس موقع پر کئی غیر مسلم حامی بھی موجود تھے۔شرکاء سڑک کنارے بیٹھ گئے اور چاول، چکن اور پیزا پر مشتمل افطاری کی۔دوسری جانب اس موقع پر پولیس بھی موجود تھی جو گروپ کی کڑی نگرانی کر رہی تھی، جیسا کہ ٹرمپ ٹاور کے اطراف ہر گروپ پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔اس موقع پر ایک 26 سالہ مسلمان امریکی خاتون فاتوماتا واگاہ لوگوں کو یہ بتارہی تھیں کہ ہم اپنے اس عمل سے مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جانے والی منفی بیان بازی کی مذمت کے ساتھ ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک یہودی پناہ گزینوں کی تنظیم کی سرگرم کارکن 31 سالہ میگی گلاس بھی وہاں موجود تھیں، جن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مسلمان پڑوسیوں اور دوستوں کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں آئی ہیں۔اس ایونٹ کا انعقاد کرنے والی لنڈا سارسور کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا کہ بحیثیت ایک کمیونٹی یہی وقت ہے ایک دوسرے کے قریب آنے کا اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا’، ساتھ ہی انھوں نے ایونٹ کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *