مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات آئندہ کتنی مؤثر ہوگی کانگریس کی یہ کامیابی

گزشتہدنوںمہاراشٹرمیںبھیونڈی،مالیگاؤںاورپنویل کارپوریشنوںکے انتخابات ہوئے ، جس کے حیرت انگیز نتائج آئے۔ بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی 90سیٹوں میں سے کانگریس 47سیٹیں جیتنے میںکامیاب ہوئی،وہیں بی جے پی 19 سیٹیں جیت کر دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی)،راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا(منسے) اور اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کا پوری طرح صفایا ہوگیا۔ ان تینون پارٹیوں کو بھیونڈی نظام پور کارپوریشن انتخابات میںایک سیٹ بھی حاصل کرنے میںکامیابی نہیں مل پائی۔
84سیٹوں والی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ یہاں کے کارپوریشن انتخابات میں کانگریس کو 28اور این سی پی کو 20 سیٹیں ملیں۔شیو سینا 13 اور بھارتیہ جنتاپارٹی محض 9 سیٹوں پر سمٹ گئی ۔ ان کے علاوہ مجلس اتحاد المسلمین نے بھی مالیگاؤں کے کارپوریشن انتخابات میں 7 سیٹوںپر فتح حاصل کی۔سب سے زیادہ شور مالیگاؤں کارپوریشن کا تھا۔ کیونکہ مالیگاؤں میں بی جے پی نے کل 56امیدوار کھڑے کیے، جن میںسے 29 مسلم امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیے گئے تھے۔ چونکہ بی جے پی مسلم امیدوار بنانے میںخاص دلچسپی نہیں رکھتی ہے او رمالیگاؤں میں اس نے 29 امیدوارکھڑے کئے تو اس بنیاد پر یہ الیکشن کافی سرخیوںمیںرہا۔واضح ہوکہ بی جے پی اس سے قبل اتنے زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہیںدے سکی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے مالیگاؤں میںاتنی بڑی تعداد میںمسلم امیدواروںکو ٹکٹ دیے۔
پنویل میونسپل کارپوریشن کا قیام پچھلے سال اکتوبر میںہوا تھا۔ یہاں پہلی بار پنویل میونسپل کارپوریشن کا انتخاب ہوا۔اور پہلے ہی میونسپل انتخابات میں بی جے پی تقریباً دو تہائی سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ یہاں کی 78 سیٹوں والی کارپوریشن میںبی جے پی کے 51 کارپوریٹر چنے گئے۔ شیت کاری کامگار نے 23 سیٹیں جیتیںجبکہ کانگریس اور این سی پی محض دو دو سیٹوں پر ہی سمٹ گئیں۔ شیوسینا اور مہار اشٹر نونرمان سینا کا تو اور بھی برا حال رہا، پنویل میونسپل کارپوریشن میںان کا کھاتہ تک بھی نہیںکھل پایا۔
بھیونڈی میں46 مسلم کارپوریٹروں کے منتخب ہونے سے پورے شہر میں خوشی کا ماحول ہے۔ مسلم کارپوریٹروں میں سے 43 کانگریس سے اور ایک ایک کارپورٹیر سماجوادی پارٹی، بی جے پی ، شیوسینا و آرپی آئی سے چنے گئے ہیں۔ 90 سیٹوںوالی کارپوریشن میںمیئر بنانے کے لیے46 کارپوریٹروں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ کانگریس کے پاس 47 کارپوریٹر ہیں۔ گویا 2012 کی طرح اس بار کانگریس کو میئر بنانے کے لیے کوئی دقت پیش نہیں آئے گی اور اسے کسی دوسری پارٹی کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔
مالیگاؤں میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن میئر کے لیے اسے دوسری پارٹیوں پر انحصار کرنا ہوگا، جبکہ پہلی بار بنی پنویل کارپوریشن میں بی جے پی کی بھاری اکثریت میں جیت ہونے کی وجہ سے میئر چننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔
مہاراشٹر میں ہوئے ان بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے کانگریس میں کافی اعتماد پیداکیا ہے۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہی ہے۔ خاص طور سے بھیونڈی کے الیکشن میںجس طرح کانگریس کو جیت ہوئی، اور مالیگاؤں میں بھی جس طرح وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، اس سے کانگریس کا حوصلہ بڑھنا فطری ہے۔ اب دیکھنا یہ کہ آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے وہ کیسی تیاری کرتی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی مضبوط طاقت سے کس طرح نمٹتی ہے۔

بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن
کل سیٹ: 90
کانگریس 47
بی جے پی 19
شیوسینا 12
آرپی آئی 4
کونارک 4
سماجوادی 2
آزاد 2

مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن
کل سیٹ: 84
کانگریس 28
این سی پی 20
شیو سنیا 13
بی جے پی 9
ایم آئی ایم 7
دیگر 7

پنویل میونسپل کارپوریشن
کل سیٹ: 78
بی جے پی 51
شیت کاری 23
کانگریس 2
این سی پی 2

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *