پھر سلگ رہا ہے آسام

وہی آسام جس نے 1983 میں غیر ملکی شہر یت کے پیچیدہ ایشو کو لے کر نیلی اور چائولکوا کا بھیانک قتل عام دیکھا، آج ایک بار پھر سخت خطرے میں ہے اور سلگ رہا ہے۔ ایک طرف 1985 کے آسام معاہدہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج درپیش ہے اور ’’کٹ اف ڈیٹ‘‘1971 کے بجائے 1951 کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف گوہاٹی ہائی کورٹ کے اپریل 2017 کے فیصلہ سے پنچایت سرٹیفکیٹ کے مسترد ہوجانے کی وجہ سے 48 لاکھ خواتین و دیگر کی شہریت ختم ہوگئی ہے اور جس کا معاملہ بھی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، تیسری طرف غیر ملکی قرار دیئے جانے کے بعد ان افراد کی بڑی تعداد ڈیٹنشن کیمپوں میں آہ و بکا کررہی ہے ، چوتھی طرف مرکز اور ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آجانے کے بعد نیشنل رجسٹر آ ف سیٹیزنز (این آر سی) تیار کرنے کا کام رکا ہو اہے اور پانچویں طرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندوئوں ،سکھوں، جینیوں، بدھسٹوں، عیسائیوں اورپارسیوں جیسی اقلیتوں جو کہ ہندوستان میں پناہ گزیں ہیں، کوہندوستانی شہریت فراہم کرنے کے لئے شہریت سے متعلق قانون کے شیڈیول 3 میں ترمیم کرکے رہائشی مدت کو 12 برس سے 7 برس کردیا گیا ہے۔ نذر قارئین ہے یہ تمام نکات جن کے سبب بنگالی نسل مسلمانوںکی شہریت ایک بہت بڑا انسانی مسئلہ بن گیاہے۔
بنگلہ زبان بولنے والے افراد کو لے کر غیر ملکی شہریت کا مسئلہ 1978-79 سے زور پکڑا اور پھر شدت اختیار کرتا چلا گیا۔ایجی ٹیشن کی شروعات تو آل آسام اسٹوڈنٹس یونین ( آسو ) اور آل آسام گن سنگرام پریشد (آگسپ) کیذریعے ہوئی مگر پھر اس میں کچھ فرقہ پرست عناصر پیش پیش ہوگئے اور تب قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1983 میں نیلی اور چائولکوا کے قتل عام اس کے نقطہ عروج تھے ۔1985 میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دور میں 14 اگست کو آسو، آسام حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت یہ طے پایا کہ آسام میں شہریت کی بنیاد 25 مارچ 1971 کو مانی جائے گی۔ یعنی جو شخص اس تاریخ سے قبل آسام میں آکر بس گیا اور اس کے پاس قانونی دستاویز ہوں گے، تو اسے شہری مانا جائے گا۔
معاہدہ کے بعد آسام میں امن قائم ہوگیا۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوئے تو آسو کے لیڈروں پر مشتمل سیاسی پارٹی آسام گن پریشد ( اے جی پی ) نے اکثریت حاصل کرکے سرکار بنائی ۔ آسام معاہدہ جو کہ راجیو گاندھی کی موجودگی میں مرکز، آسام حکومت اور ایجی ٹیشن چلانے والی تنظیم کی باہمی رضامندی سے ہوا تھا اور اسے تمام سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں نے بھی قبول کیا تھا، اسی لئے اس کے فوراً بعد مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل کے ذریعے سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں سیکشن 6-A داخل کرکے اسے منظوری دے دی۔ اس ترمیم کو تمام سیاسی پارٹیوں بشمول کانگریس، بی جے پی ، بایاں بازو اور سبھی غیر سیاسی اور سماجی تنظیموںنے بھی قبول کیا۔
اس طرح 1978-79 میں اٹھا شہریت کا یہ ایشو 1985 کے آسام معاہدہ کے ساتھ ہی ایک طرح سے ختم ہوگیا۔ مگر یہ ایک بار پھر اس وقت زندہ ہوگیا جب 2009اور 2012 میں آسام سن ملیٹا مہاسنگھ و دیگر 13تنظیموں نے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل 274/2009 اور پی آئی ایل 562/2012 داخل کی اور شہریت کی بنیاد 25مارچ 1971 کے بجائے 1951 کی ووٹر لسٹ کو بنانے کا مطالبہ کیا۔ اتنا ہی نہیں ، اس میں 1985 کے آسام معاہدہ کی قانونی حیثیت اور پھر پارلیمنٹ کے ذریعے سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں سیکشن 6A کے اندراج کو بھی چیلنج کیا گیا جس کی وجہ سے ایک بار پھر آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت کا خطرہ منڈلانے لگا۔ 2012کے بعد حالات اتنے سنگین ہوگئے کہ اس وقت کی کانگریس حکومت کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی کو یہ کہنا پڑا کہ ’ آسام بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے ‘۔دراصل یہ وہ وقت تھا جب جمعیت علماء ہند، آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی و دیگر تنظیموں و اداروں نے آسام معاہدہ کی حمایت میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کیں۔ آسام میں شہریت سے متعلق یہ مقدمات پہلے سپریم کورٹ کی ڈویژن بینچ کے پاس تھے۔پھر بعد میں ان تمام مقدمات کو سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل ایک آئینی بینچ کے حوالے کردیا گیا۔ آئندہ جولائی سے ان تمام مقدمات کی سماعت کا باضابطہ آغاز ہوگا۔
ظاہرسی بات ہے کہ اب یہ پورا معاملہ سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے۔مگر اس معاملہ کا ایک رخ اور ہے جو کہ اس سے بھی زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ عیاں رہے کہ سب کی رضامندی سے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی ) تیار کرنے کا جو کام مرکز اور ریاست میں کانگریس اقتدار کے وقت میں شروع کیا گیا تھا، اسے بھی بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی روک دیا جبکہ 90فیصد کام مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد گوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعے منورہ بیگم نامی ایک خاتون کے معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو شہریت کا دستاویز ماننے سے انکار کرنے کے بعد ایک اور نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ اس طرح اب تقریباً 48لاکھ شادی شدہ خواتین کی شہریت خطرے میںپڑگئی ہے۔ اس تعلق سے بھی متعدد تنظیموں بشمول جمعیت علمائے ہند نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے چیلنج کیا۔ گزشتہ دنوں آسام میں غیر ملکی شہری معاملہ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرض داشتوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے این آر سی کو پارٹی بناتے ہوئے اسٹیٹ کو آرڈینیٹر کو نوٹس جاری کرکے اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے تمام عرض داشتوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہوئے عرضداشت دہندوں کی جانب سے اسٹے مانگے جانے پر بھی نوٹس جاری کرکے این آر سی کے کوآرڈینیٹر سے جواب طلب کیا کہ اس معاملہ میں اسٹے کیوں نہ دے دیا جائے؟
آئیے، ذرا دیکھتے ہیں کہ این آر سی کا معاملہ آخر ہے کیا؟دراصل مرکز اور ریاست کی کانگریس سرکاروں نے اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے آسام میں این آر سی تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس میں شہریت کے ثبوت کے طور پر دیگر دستاویز کے ساتھ پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو بھی قبول کرنے کا پروویژن تھا اور اسی کی بنیاد پر قومی شہری رجسٹر تیار کیا جارہا تھا۔ یہ کام پایہ تکمیل کو بحسن و خوبی پہنچ ہی رہا تھا کہ پہلے مرکز اور پھر ریاست میں بھی بی جے پی اقتدار میں آگئی اور این آر سی کے لئے پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو ثبوت کے طور پر ماننے سے انکار کردیا۔ ایسے میں وہ خواتین جن کی شادیاں اب سے 40-50 برس پہلے ہو چکی ہیں اور وہ شادی کرکے دوسرے گائوں اور شہر چلی گئی ہیں، ان کے پاس ہندوستانی شہری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں لوگ عام طور سے بچوں اور بچیوں کا برتھ سرٹیفکیٹ باضابطہ حاصل نہیں کرتے تھے۔علاوہ ازیں لڑکیاں پانچویں یا چھٹی کلاس تک ہی اسکول جاپاتی تھیں اور ڈراپ آئوٹ ہوجاتی تھیں۔ اس لئے ان کے پاس اسکول کا کوئی سرٹیفکیٹ بھی کسی ثبوت کے طور پر موجود نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس حالت میں صرف پنچایت ہی یہ سرٹیفکیٹ دے سکتی ہے کہ فلاں عورت ،فلاں شخص کی بیٹی، بہو یا بہن ہے لیکن اب اسے آسام کی بی جے پی ریاستی حکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور گوہاٹی کورٹ بھی اس معاملہ کی تصدیق کرچکا ہے۔
بی جے پی ریاستی سرکار کے دور میں
اب آئیے، اس مسئلہ کے ایک اور رخ کو دیکھیں۔وہ یہ ہے کہ انتظامیہ کے لوگ راتوں کو دروازے توڑ کر گھروں میں داخل ہوجاتے ہیں، پھرپوچھتے ہیں کہ فلاں نام کی عورت کون ہے؟سامنے آنے پر اسے غیر ملکی بتاتے ہوئے حرست میں لے لیا جاتاہے اور جبرا ً ڈیٹینشن کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں ان عورتوں کو عادی مجرموں کے ساتھ قید و بند میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں نہ صرف ان کے معصوم بچوں کو ان سے الگ کردیا جاتا ہے بلکہ ڈبٹینشن کیمپوں میں ان کے گھر والوں سے ملنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی ہے۔ اس طرح کے واقعات ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد باضابطہ ہورہے ہیں اور دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔
گوہاٹی ہائی کورٹ کے معروف وکیل نظر الحق مزار بھوئیاں نے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کو بتایا کہ فی الوقت ڈی ووٹرس یعنی ڈائوٹ فل ووٹرس گو آل پورا ( مرد )، کوکراجھار (خاتون )، سلچر، ڈبرو گڑھ (مرد) جورہٹ اور تیز پور (مرد و خواتین دونوں ) کی جیلوں کے اندر الگ الگ بیرکوں میں رکھے گئے ہیں۔
2015 میں انتخابات ہارنے اور اقتدار سے ہٹنے سے قبل ترون گگوئی کی کانگریس حکومت نے اعلان کردہ غیر ملکی ڈیٹینشن سینٹر کو قائم کرنے کے لئے نچلے آسام کے گوآل پارہ ضلع میں 125 ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔مزار بھوئیاں کے مطابق، ایک برس قبل یہاں 489 افراد تھے جن میں ’بنگلہ دیشی‘ کہے جانے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی۔ ایک دوسرے وکیل اے ایس تپیدار جو کہ غیر ملکی قرار دیئے گئے متعدد افراد کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، کا تو احساس ہے کہ بی جے پی کے ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد ان ڈبٹیشن کیمپوں میں مسلمان ہی زیادہ ہیں اور وہی نشانے پر ہیں۔ انہوں نے بھی ’’ چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ 2014 کی پارلیمانی انتخابی مہم کے دوران آسام میں اپنی پہلی عوامی ریلی میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہندو بنگلہ دیشیوں کو کیمپوں سے نکالا جائے گا اور انہیں شہریت دی جائے گی۔ انہوں نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور پھر بعض ترمیمات کے بعد 3اے ، فار ینر ز امنڈمنٹ آرڈر 2016 ( جی ایس آر 703(ای ) مورخہ 18مارچ 2017) اور رجسٹریشن آف فارینرز امندمٹ رولز 2016 ( جی ایس آر 327 ( ای ) مورخہ 18مارچ میںغیر ملکیوں کی بعض قسموں کو مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ اس طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کی بعض اقلیتوں کی مانند ہندو بنگلہ دیشی تو اس قانون کی زد میں آنے سے بچ گئے اور زیادہ تر غاز صرف ’بنگلہ دیشیوں ‘ کے نام پر مسلمانوں پر ہی گرنے لگی اوریہ لوگ بارڈر پولیس کے ذریعہ اٹھائے جانے لگے اور ڈیٹینشن کیمپوں میں پہنچائے جانے لگے‘‘۔ تپیدارتو قرار دیئے گئے غیر ملکیوں کے ڈبٹینشن کو حقوق انسانی کی سراسر خلاف ورزی مانتے ہیں اور انہوں نے اس تعلق سے متعدد حقوق انسانی تنظیموں کو مکتوب بھی بھیجے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ان افراد کو ضمانت کا بھی موقع نہیں فراہم کیا جاتاہے اور نہ ہی یہ عدالتوں میں مقدمات لڑ سکتے ہیں‘‘۔
گوہاٹی کے ہی ایک اور وکیل امان ودود نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ جو افراد غیر ملکی قرارد دیئے گئے ہیں، ان کی ڈیٹینشن سینٹروں میں تعداد روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فی الوقت آسام کے متعدد ڈیٹینشن سینٹروں میں اس طرح کے ایک ہزار لوگ موجود ہیں۔ ایک ماہ قبل کو کرا جھار سینٹرل جیل کے ڈیٹینشن سینٹر میں 125 سے زیادہ غیر ملکی قرار دی گئی خواتین موجود تھیں۔ اسی طرح تیز پور ڈیٹینشن سینٹر میں 75 خواتین اور 80 سے زائد مرد غیر ملکی قرار دیئے جانے کے بعد قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں‘‘۔ ودود کا صاف طور پر کہنا ہے کہ چندے معدود کو چھوڑ کر یہ سبھی غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد ہندوستانی شہری ہیں۔ ان کے مطابق ، خود ان کے پاس ایسے افراد کے معاملے ہیں جن کے بارے میں وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسی ملک کے شہری ہیں۔
واضح رہے کہ 1998 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آسام کی انتخابی فہرست تیار کرائی تھی۔ اس وقت ان لوگوں کے لئے جو کہ ہندوستانی شہریت کا ضروری ثبوت فراہم نہیں کرسکے تھے ، کے معاملوں کو ’’ڈی ‘‘ خانہ میں رکھا گیا تھا۔ 2004 میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ڈی ووٹرس کو ان کے معاملے کے نمٹانے تک ڈیٹینشن کیمپوں میں بھیجا جائے۔ دسمبر 2016 تک 2لاکھ 69 ہزار 522معاملوں میں 80ہزار 194 افراد کے معاملے نمٹائے گئے اور انہیں فارینر ٹریبونل کے ذریعے ’غیر ملکی ‘ قرار دیا گیا۔ اس تعلق سے ودود کہتے ہیں کہ ہندوستانی شہریوں کو غیر ملکیوں کے طور پر چارج شیٹ کیا جارہا ہے۔ عموماً دستاویز میں ناموں اور تاریخوں میں غلطیوں کے چلے جانے سے بھی بہت سے افراد غیر ملکی قرارد یئے جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2012میں حکومت آسام نے وہائٹ پیپر نکالاتھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ 92فیصد سے زیادہ ڈی ووٹرس صحیح ہندوستانی شہری پائے گئے۔
جہاں تک گوہاٹی ہائی کوٹ کے آرڈر کا معاملہ ہے، اس سے یقینا پورا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ اپنے 28فروری 2017 کے فیصلہ میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے این آر سی کی تیاری کے لئے پنچایت کی جانب سے 48لاکھ شادی شدہ خواتین کو فراہم کئے گئے رہائشی سرٹیفکیٹ پر ہی سوال اٹھایا ہے۔ اس سے 48 لاکھ افراد کی شہریت متاثر ہوگئی ہے۔ مذکورہ ہائی کورٹ کے آرڈر میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ’لنک ڈاکیومنٹ‘ کے طورپر استعمال کئے جارہے پنچایت سکریٹری کے ذریعے ایشو کئے گئے رہائشی (ریسڈینسی) سرٹیفکیٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ محض ایک ’’ نجی ڈاکیومنٹ ‘‘ ہے۔ ہائی کورٹ نے ان دستاویز کے استعمال کو غیر آئینی بھی قرار دیا اور کہا کہ ان کا استعمال کرنا ’قومی مفاد کے خلاف ‘ ہوگا۔
اس طرح ایسا لگتا ہے کہ آسام کی غیر ملکی شہریت کا ایشو اس سے متعلق مختلف معاملات کے ایک ساتھ اٹھنے اور وہ بھی مرکز اور ریاست میں بیک وقت بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آجانے سے بہت ہی سنگین اور خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے ۔
آسام کی تقریباً 48 لاکھ خواتین اور دیگر افراد کی شہریت خطرے میں ہے۔چونکہ یہ معاملہ بہت ہی حساس ہے اور ماضی میں 1983 میںنیلی اور چائو لکوا قتل عام کی شکل میں اپنا بھیانک چہرہ دکھا چکا ہے، لہٰذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مرکز اس سلسلے میں بہت ہی احتیاط سے قدم اٹھائے۔ویسے یہ تمام معاملے بشمول 1985 کا آسام معاہدہ اور گوہاٹی ہائی کورٹ کا ڈی ووٹرس ایشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ توقع ہے کہ سپریم کورٹ سے جولائی میں شروع ہورہی سماعت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ ایسا آئے گا جس سے لاکھوں افراد کی شہریت پر لٹکتی ہوئی تلوار ہٹائی جاسکے گی۔

مولانا بدرا لدین اجمل قاسمی دھوبری سے منتخب رکن لوک سبھا اور جمعیت العلماء ہند آسام کے صدر ہیں۔ ان سے ’’چوتھی دنیا‘‘کی بات چیت پر مبنی خیالات نذر قارئیں ہیں۔

گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے سے 48 لاکھ خواتین کی شہریت ختم ہوگئی ہے
اس وقت ریاست آسام کاسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری افسران سادے لباس میں رات کو بغیر کسی خاتون آفیسر کے آتے ہیں اور بنگلہ زبان بولنے والی خاتون کے گھرمیں گھس کر اس سے آئڈنٹی کارڈ (آئی ڈی کارڈ) مانگتے ہیں۔اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی ہیں تو وہ انہیں زبردستی گھسیٹ کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھالیتے ہیں، پھر انہیں انجان جگہ پر لے جاکر ڈیٹنشن کیمپوں میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر ان ڈیٹنشن کیمپوں میں ان خواتین سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی ہے۔ ریاست میں اس طرح کے ہزاروں واقعات ہورہے ہیں۔ موجودہ حالا ت میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص زبان بولنے والی ایک مخصوص کمیونٹی نشانے پر ہے۔
اپریل 2017 میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے بینچ کے ذریعہ دھوبڑی میں فارینرز ٹریبونل کے حکم کی روشنی میں منورہ بیگم کی پٹیشن کے مسترد کئے جانے کے بعد اس قسم کے واقعات کی تعداد مستقل بڑھتی ہی جارہی ہے۔ٹریبونل نے اپنے آرڈر مورخہ 17 مارچ 2016 میں منورہ بیگم کو غیر ملکی قرار دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق پنچایت سکریٹری کے ذریعے جاری کئے گئے ریسی ڈینسی سرٹیفکیٹ شہریت کو ثابت کرنے کے لئے ’’ لنک ڈاکیومنٹ‘‘ کے طور پر استعمال نہیں کئے جاسکتے ہیں۔
جہاں تک لنک ڈاکیومنٹ کا تعلق ہے، اس سلسلے میں عرض یہ کرنا ہے کہ 1985 میں اس وقت کے و اعظم راجیو گاندھی کی قیادت میں آسام کی تمام متعلقہ پارٹیوں کے ذریعہ ایک معاہدہ پر دستخط ہوا تھا۔ یہ معاہدہ 1985 کا آسام معاہدہ کہلاتا ہے۔ اس معاہد ہ کے مطابق صرف وہ لوگ جو کہ یہاں 24مارچ 1971 کی نصف شب تک آگئے، وہی قانونی طور پر شہری تسلیم کئے جاسکتے ہیں لیکن وہ لوگ جو کہ اس تاریخ کے بعد یہاں پیدا ہوئے اور ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، انہیں لنک ڈاکیومنٹ کی ضرورت پڑے گی جس سے یہ ثابت ہو کہ ان کے والدین یہاں ریاست میں ’’کٹ اف ڈیٹ ‘ سے قبل سے موجود تھے۔ وہ خواتین جو کہ 24 مارچ 1971 کے بعد پیدا ہوئیں اور ان کے پاس اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ نہیں ہے، عموماً شادی اور دوسرے گائوں منتقل ہونے کی صورت میں پنچایت سے ریسی ڈنس سرٹیفکیٹ لے لیتی ہیں جو کہ لنک ڈاکیومنٹ ہوتاہے۔
میرے اندازہ کے مطابق گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد تقریباً48لاکھ شادی شدہ خواتین ریاست میں غیر قانونی مائیگرینٹ بن چکی ہیں صرف اس لئے کہ وہ ’کٹ اف ڈیٹ ‘ کے بعد پیدا ہوئیں اور ان کے پاس لنک ڈاکیومنٹ کے طورپر محض پنچایت سرٹیفکیٹ موجود تھا۔ اس طرح کے متعدد معاملے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ میں نے بھی اس سلسلے میں پٹیشن دائر کررکھا ہے۔ آسام میں غیر نونی مائیگرینٹس کا ایشو بہت پرانا ہے اور اس کو لے کر متعدد فسادات اور پُر تشدد واقعات گزشتہ چند دہائیوں میں ہو چکے ہیں جس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ہم لوگ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ ہم ان تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں جو کہ پریشانیاں جھیل رہے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *