الیکشن جیتنے کے لئے فوج کا استعمال بہت ہی سطحی سیاست ہے

ملک کی حالت ٹھیک نہیںہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، یہ خاص طو رسے زراعت پر مبنی معیشت ہے اور کسان ملک کی ریڑھ ہیں۔ لوگوںکی ایسی سوچ بن گئی ہے کہ زرعی شعبے پر مناسب دھیان نہیںدیا گیا ہے۔ سارا دھیان صنعت اور بڑے منصوبوں نے اپنی جانب مرکوز کرلیا ہے۔ بدقسمتی سے اب مسائل بڑھ جانے سے کسان تناؤ میںمبتلا ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت خود کشی کرنے والے کسانوں کی بڑھتی تعداد ہے۔ بے شک ملک کے الگ الگ حصوں میںکسانوں کی خود کشی کے الگ الگ اسباب ہیں۔ مثال کے طور پر مہاراشٹر کے کپاس کسان خوشحال ہیں، اس کے باوجود وہاں خود کشی کے واقعات ہوئے ہیں۔ ا س کے سماجی اور اقتصادی اسباب ہیں۔ لیکن ہندی زبان کے علاقے اترپردیش، مدھیہ پردیش وغیرہ میںپیداوار کم ہے۔ یہاںصرف کھیتی پر بھروسہ کرکے کسان عزت کی زندگی نہیںگزار سکتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سرکار نے دو طرح سے کسانوں کے مسائل میں اور اضافہ کردیا۔ پہلا، اقتدار میں آنے سے قبل وزیر اعظم نے کسانوں کی امیدیں یہ کہہ کر بڑھادیں کہ کسان کی لاگت میں50 فیصد کا فائدہ جوڑ کر منیمم سپورٹ پرائس طے کی جائے گی۔ اقتدار میں آنے کے بعد انھیں یہ احساس ہوا کہ یہ مشکل کام ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ ہم چھ سالوں میں کسانوں کی آمد نی دوگنی کردیں گے۔ اس وعدے کو بھی پورا نہیں کرنا تقریباً ناممکن ہے۔آمدنی دوگنی کرنے کے دو راستے ہیں: یا تو پیداوار دوگنی کیجئے (کوئی بھی بتا سکتا ہے یہ ناممکن ہے) یا پھر ایم ایس پی بڑھا دیجئے۔ یوپی اے سرکار قیمتوں میں80-100 روپے تک کا اضافہ کرتی تھی، یہ سرکار 10-20 روپے کا اضافہ کرتی ہے۔ اس سے کسانوں میں امید نہیں جاگتی ہے۔ سرکار کشمکش کی حالت میں ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتخابی وعدے کو پورا کرتے ہوئے زرعی قرضہ معاف کردیا۔ ایک بار پھر ماہر اقتصادیات، بینک ، ریزرو بینک کے اپنے شبہات ہیں کہ 30 ہزار کروڑ کے قرض معاف کرنے کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟ لیکن مسئلہ یہیںختم نہیں ہوتا ہے۔ اب اسی طرح کی مانگیںہرایک ریاست میں اٹھنے لگی ہیں اور سرکار کی بدقسمتی یہ ہے کہ زیادہ تر ریاستوں میں بی جے پی کی حکمرانی ہے۔ لہٰذا ان کے پاس یہ بھی بہانا نہیںہے۔
قرض معافی کا موجودہ دور آئے گا اور چلابھی جائے گا۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے اور یہ بات کسانوں کو بھی معلوم ہے۔ آپ نے قرض تو معاف کردیا لیکن کل کی آمدنی کا کیا؟ لہٰذا جب تک آپ ایم ایس سوامی ناتھن جیسے سائنسی نقطہ نظر رکھنے والے ماہرین زراعت کی خدمات نہیں لیں گے اور ان کی رپورٹ پر عمل نہیں کریں گے، تب تک زرعی شعبہ پر دباؤ بنارہے گا۔اس مسئلے پر کئی تھنک ٹینکس نے اپنی رپورٹ دی ہے، لیکن بدقسمتی سے اخباروں کی سرخیاںکارپوریٹ سیکٹر اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بٹور لیتی ہیں۔ کسان کبھی چرچا میںنہیں آتے ہیں۔ اس کے باوجود اناج کی پیداوار میںلگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مطمئن ہوجائیں۔ آبادی بڑھ رہی ہے اور آئندہ 10-20 سالوںمیں ہم زیادہ مصیبت میںپڑ جائیں گے۔ ایسے میں دنیا کا کوئی بھی ملک ہمیںاس مصیبت سے نجات نہیں دلا سکتا ہے کیونکہ ہم دنیا کی آبادی کے چھٹا حصہ ہیں۔ اگر ہم اپنے لیے اناج نہیںپیدا کرسکتے ہیں، تو ہمیںکوئی کھانانہیں دے سکتا۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے، تو ہم جانتے ہیںکہ انھوں نے کس قیمت پر ہمیںاناج دیا تھا۔ ہماری خود مختاری خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ بہت ہی اہم مدعے ہیں۔ میںچاہتا ہوںکہ وزیر اعظم اپنا دل بڑا کرکے الگ الگ آئیڈیا لوجی کے لوگوں، جس میں بایاں بازو، دایاں بازو اور اعتدال پسند خیالات کے لوگ شامل ہیں، سے چرچا کرتے اور الگ الگ سبجکٹ کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ان ماہر اقتصادیات سے بھی تبادلہ خیالات کرتے ،جو ان سے متفق نہیں ہیں، جس سے ایک اتفاق رائے بنتی۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک مشکل دور کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔

 

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ 2019 کا انتخاب نزدیک ہے۔ اب سرکار کے پاس وقت نہیںہے۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنے تین سال گزرچکے ہیں۔ اگلے دو سال میں وہ انتخابی تشہیر میںلگ جائیںگے۔لہٰذا وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیںلیںگے جو ملک کو طویل مدتی فائدہ پہنچائے۔ اب 2019 تک وہ لبھانے والے فیصلے ہی لیںگے۔ مجھے نہیںلگتا کہ ملک کو متحد رکھنے کے لیے طویل مدتی حل جیسامیچیور فیصلہ ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انتخاب جیتنے کے لیے بنیاد پرست آئیڈیالوجی کا استعمال کرنے میںبھی نہیںجھجکیں گے۔کشمیر کی مثال لے لیں ۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے وہ طاقت کا استعمال کریںگے اور الیکشن جیتنے کے لیے فوج کا استعمال کریںگے ۔ یہ بہت ہی سطحی سیاست ہے۔ بے شک اس کام کے لیے آر ایس ایس ان کی سراہنا کرے گا۔ تجارتی طبقہ، بنیا اور دائیںبازو کے لوگ سمجھیں گے کہ وہ ایک عظیم وزیر اعظم ہیں۔ لیکن عظیم وزیر اعظم لوگوںکو مارکر یا ان پر دباؤ بنا کر عظیم نہیں بنتا۔ یہاںمیںیہ ضرور کہوں گا کہ شری مودی وشو ہندو پریشد یا بجرنگ دل میںشامل لوگوںسے بہتر ہیں۔ انھوںنے ایسا کچھ نہیںکیا ہے جس کی اس حوالے سے میںتنقید کرسکوں۔ لیکن میںایک سوال ضرور پوچھوںگا ۔ ہم آئی ایس یا طالبان وغیرہ کے بارے میں سنتے رہتے ہیں، لیکن ایسے بہت کم ہندوستانی مسلمان ہوں گے جو دہشت گرد بنتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح سے ملک 70 سال تک چلا ہے، اس میںمسلمانوںنے یہ محسوس نہیںکیا ہے کہ ان کے ساتھ بھید بھاؤ ہوا، وہ غیر محفوظ یا مایوس ہیں(حالانکہ اس میںکوئی شک نہیں کہ وہ بہت خوشحال نہیںہیں)۔ ملک غریب ہے،اس لیے وہ بھی غریب ہیں۔ بیف، گائے، بھینس یا مندرو مسجد کے نام پر فی الحال وہ جو کررہے ہیں یا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر جاری رہا تو آئندہ 20سال میںہم دیکھیں گے کہ ہندوستانی لڑکے آئی ایس میں بھرتی ہونے لگیںگے۔انھیں یہ احساس نہیںہوتا کہ یہ ان لڑکوںکی غلطی نہیںہے یا ان مسلمانوںکی غلطی نہیںہے، یہ ہماری غلطی ہے یعنی جو لوگ اقتدار میںہیں،جو لوگ اکثریت میںہیں۔ انھیںیہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ جب تقسیم ہورہی تھی، تب جناح نے کہا تھا کہ ہماری طرف ہندو ہوںگے اور ان کی طرف مسلم ہوںگے اوردونوں کی حفاظت کے لیے ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریںگے۔ حالانکہ یہ پاکستان میں نہیںہوسکا، وہاںسے ہندوؤںکو بھگادیا گیا لیکن ہندوستان نے اپنے وعدے کو پورا کیا۔ ہم نے مسلمانوں کے ساتھ ٹھیک ٹھاک سلوک کیا ہے۔ آج بھی ہمارا آئین کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیںبرتتا ہے۔ یہ لوگ اسے پسند نہیںکرتے ہیں۔ مجھے نہیںمعلوم کہ آرا یس ایس اور ان کے اتحادی کیا چاہتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ بٹوارہ ایک غلطی تھی۔ میںان سے پوچھتا ہوںکہ مان لیجئے بٹوارہ نہیںہوا ہوتا،تو آج آپ 15 فیصد مسلمانوںکو سنبھال نہیں پارہے ہیں، تب 30 فیصد مسلمانوںکو کیسے سنبھال لیتے؟

 

دراصل آر ایس ایس کے لوگ تقسیم نہیںچاہتے تھے، وہ مسلمانوںکو دبا کر رکھنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوںپر ہندودبدبہ بنا رہے۔ کیا انھوںنے ہندوؤںسے پوچھا؟ ہم سبھی ہندو ہیں۔ہمیںہندو ہونے پر فخر ہے۔ میںفخر کرتا ہوںکہ میںہندو ہوں اور میں ایک سیکولر ہندو ہوں۔ میرا مذہب سکھاتا ہے کہ کسی کے ساتھ بھید بھاؤ مت کرو۔ اس بات کاا نھیں احساس نہیںہے۔ ان کی حکمرانی کے تین سال گزر چکے ہیں، دو سال ابھی باقی ہیں۔ اگر وہ ایک بار پھر جیت جاتے ہیں اور اسی ایجنڈے کو لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیںتو ملک گڑھے میں چلا جائے گا۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ ایسا نہیںہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *