سماجوادی پارٹی کا دور حکومت یوپی اسمبلی سکریٹریٹ کی تقرریوں کا سچ

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سابقہ سرکارکے دور حکومت میں اترپردیش اسمبلی سکریٹریٹ میںکی گئی تقرریوںمیں دھاندلی کی جانچ کرائی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ غیر قانونی تقرریاںمنسوخ کی جائیں گی اور قصور وار پائے گئے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ ادھر، الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی یوپی اسمبلی سکریٹریٹ میںہوئیں غیر قانونی تقرریوں کی جانچ کرانے کی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ دو اطلاعات ہیں جو خبر کی طرح سامنے دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کے اندر کا جو’ لوچا‘ہے، اصلی خبر وہ ہے۔ نظام حکومت کو اپنے چنگل میںجکڑے لوگوں نے ہائی کورٹ اور وزیر اعلیٰ دونوں کو اپنی سہولت کے مطابق پھرکی پر رکھ کر گھمادیا۔ ہائی کورٹ کا حکم بھی رہ گیا اور وزیر اعلیٰ کی بات بھی رہ گئی اور گھوٹالے بازوں نے اپنے بچاؤ کا مکار راستہ بھی نکال لیا۔
بے ضابطگیوں کی جانچ
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 29 مئی 2017 کو اپنے انیکسی دفتر میں ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ اسمبلی سکریٹریٹ میںہوئی تقرریوں میں بے ضابطگیوں کی جانچ چیف سکریٹری سطح کے افسر سے کرائی جارہی ہے۔ ادھر، الہ آباد ہائی کورٹ کے جج امریشور پرتاپ شاہی اور دیا شنکر ترپاٹھی نے 18 مئی 2017 کے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ اترپردیش سرکار اپنی سطح پر اسمبلی سکریٹریٹ میںہوئی تقرریوں میںدھاندلی کی شکایتوں کی جانچ کرے گی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے دوسرے حصہ میں لکھا ہے کہ ریاستی سرکار اور اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری (بالترتیب مدعا علیہ نمبر 1 اور 2) شکایتوں کی جانچ کرے اور اگر جانچ میں شکایتوںکی تصدیق ہوتی ہے تب اس کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بس گھپلہ کرنے والوں کو اس معاملے میں ’لوچا‘ دکھائی دے گیا۔ اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری پردیپ دوبے (ریسپانڈنٹ نمبر 2- ) نے معاملے کو آناناً فاناً لپک لیا اور تقرریوں میںدھاندلی کی جانچ شروع کردی۔ ریاستی سرکار (ریسپانڈنٹ نمبر 1-) ہکا بکا رہ گئی۔
پردیپ دوبے نے موقع ہی نہیںدیا کہ ریاستی سرکار اس معاملے میں اپنی سطح سے جانچ شروع کرے، جبکہ ہائی کورٹ نے صاف صاف کہا تھا کہ ریاستی سرکار اپنی سطح پر جانچ کرائے۔ دوبے نے حکومت کو یہ بتایا بھی نہیںکہ تقرری تنازع میںوہ خود ایک فریق ہیں، لہٰذا جانچ سرکاری سطح پر کسی دیگر قابل افسر سے کرائی جائے۔ خیر اخلاقیات کی اتنی اونچی سطح ہی ہوتی تو گھوٹالہ کیوںہوتا؟ ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی جمہوریت کی مین اسٹریم جیسا ہی ہے، جانچ کے لیے تو کہا لیکن کوئی وقت کی حد مقرر نہیںکی یعنی جانچ کرتے رہو مسلسل۔
اب اس پورے معاملے کا ایک اور افسوسناک پہلو دیکھیے سماجوادی دور حکومت کے اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے اور اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری پردیپ دوبے نے مل کر سیکڑوں غیر قانونی تقرریاں کیں۔ اس بارے میں سرکار، گورنر سے لے کر مختلف عدالتوں تک شکایتیں گئیں۔ عام لوگوں نے بھی جانا کہ تقرری گھوٹالے کے مرکز میں اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے اور چیف سکریٹری پردیپ دوبے ہیں۔ لیکن یہ ہندوستانی جمہوریت اور عدالتی نظام کی اصل شکل ہے کہ گھوٹالے کی جانچ بھی وہی کرے گا، جو گھوٹالہ کرنے کا ملزم ہے۔ عجیب قسم کی دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ تقرری گھوٹالے کے ملزم پردیپ دوبے ریٹائر ہوچکے لیکن’ سسٹم‘ کو تو ایسے ہی لوگ پسندہیں۔ لہٰذا پردیپ دوبے اس 15 اپریل کو 60 سال کی عمر حاصل کرلینے کے بعد بھی اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری کے عہدے پر براجمان ہیں، اسی جگہ جس جگہ اسمبلی اسپیکر کی پیٹھ پر دانشور اور ایماندار شبیہ کے ہردے نارائن دیکشت براجمان ہوچکے ہیں۔ لیکن ’یہ اقتدار کا گلیارہ ہے، ذرا سنبھل کر چلئے ‘ابدی پیغام کی طرف دیکشت جی نے بھی دھیان نہیں دیا اور نہ اپنی شبیہ کا ہی دھیان رکھااور تقرری گھوٹالے کی جانچ گھوٹالے کے ملزم پردیپ دوبے کررہے ہیں۔ لیجسلیٹو بینچ پر قانون کی دھجیاں کھلے عام اڑر ہی ہیں۔ اسمبلی سکریٹریٹ میںدھاندلی ہوئی اور اسمبلی سکریٹریٹ ہی اس دھاندلی کی جانچ بھی کررہا ہے۔
یہ عجیب و غریب لیکن سچ ہے۔ چیف سکریٹری دوبے نے باقاعدہ اپنی صدارت میںجانچ کمیٹی تشکیل کردی ہے اور اپنے ماتحتوںکو جانچ کمیٹی میںممبر بنا ڈالا ہے۔ ماتحت اپنے آقا کے خلاف کیا جانچیںگے، اس جانچ کا اندازہ عوامی عدالت میں تو ابھی ہوہی گیا ہے۔جانچ کمیٹی میں اسمبلی سکریٹریٹ کے جوائنٹ سکریٹری امریش سنگھ شرینیت ،نائب سکریٹری راجندر سنگھ اور انڈر سکریٹری اشوک کمار کو ممبر بنایا گیا ہے۔ ایسی بھی اطلاع ہے کہ جوائنٹ سکریٹری راجند رسنگھ نے متنازع جانچ کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ اب ان کی جگہ کسی دلت افسر کو ممبر بنانے کا ’اپکرم‘ ہورہا ہے، جو دوبے کے خاص ہیں۔ کمیٹی کے دو دیگر ممبر بھی دوبے کی ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ چیف منسٹر اور اسمبلی اسپیکر دونوں کو اندھیر میںیہ بھرم میںرکھ کر جانچ کی رسم شروع کردی گئی ہو یا یہ بھی ہوسکتاہے کہ اقتدار اورقانون ساز علمبرداروں نے ’موندہوں آنکھ کتہوں کچھ ناہی‘ کے مصداق فارمولہ وضع کرلیا ہو۔یہ جانچ کا نتیجہ آتے ہی لوگوںکے سامنے صاف ہوجائے گا۔
ماتا پرساد اور پردیپ دوبے کا سچ
اب ایک بار پھر سماجوادی دور کے اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے اور دونوں دوروںمیںایڈجسٹ ودھان سبھا کے چیف سکریٹری پردیپ دوبے کے فعلوںکا ایک بار پھر درشن کرتے چلیں۔ پانڈے نے تو دوبے کے ساتھ مل کر اسمبلی سکریٹریٹ کو اپنے رشتہ داروں، علاقے والوںور چاپلوسوں کا اڈہ بنا دیا۔ پانڈے کے ساتھ ساتھ ایس پی کے کئی لیڈروں اور ودھان سبھا سکریٹریٹ کے افسروں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعدبھی ماتا پرساد پانڈے نے ودھان سبھا سکریٹریٹ میںتقرریاں جاری رکھیں اوراپنے لوگوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ انتخابی نتائج آنے تک جاری رکھا۔ ان غیر قانونی تقرریوں کے بارے میں الیکشن کمیشن سے شکایت بھی کی گئی تھی لیکن کمیشن نے اس میں ہاتھ ڈالنے سے پرہیز کیا۔
ماتاپرساد پانڈے خود بھی اٹوا سمبلی حلقہ (305)سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار تھے۔ ان پر ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی دوہری ذمہ داری تھی، اسے طاق پر رکھ کر وہ اسمبلی سکریٹریٹ میں اپنے ناتے رشتے داروں اور پیروی بیٹوں کی تقرری کرنے میں لگے تھے۔ ریاست میںانتخابی ضابطہ اخلاق 4 جنوری 2017 سے نافذ ہوگیا تھا۔ آپ اسمبلی سکریٹریٹ کی دستاویز کھنگالیں تو پائیں گے کہ ضابطہ اخلاق کے دوران خوب تقرریاں کی گئیں۔ ضابطہ اخلاق کے بیچ 12,13.16,17,18اور 27 جنوری 2017کو اسمبلی کے ریویو افسروں کی تقرریاں کی گئیں۔ ان سے متعلقہ دستاویز ’چوتھی دنیا‘ کے پاس دستیاب ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے دوران اسمبلی سکریٹریٹ میں جن ریویو افسروں اور اسسٹنٹ ریویو افسروں کی تقرریاں کی گئیں، ان میں سے کچھ نام ہم، قارئین کے اطمینان کے لیے چھاپ رہے ہیں ۔
اس فہرست میں اوپندر ناتھ مشر، رودر پرتاپ یادو، نریندر کمار یادو، مان بہادر یادو، رجنی کانت دوبے، راکیش کمار ساہنی، ورون دوبے، رویندر کمار دوبے، بھاسکر منی ترپاٹھی، ویریندر کمارپانڈے، جے پرکاش پانڈے، آدتیہ دوبے، نوین چترویدی ، پرویش کمار مشر، منی رام یادو، درگیش پرتاپ سنگھ، سدھیر کمار یادو، سندیپ کمار دوبے، راجیش کمار سنگھ، راکیش کمار سنگھ، سنیل سنگھ ، وجے کمار یادو، وویک کمار یادو، امیتابھ پاٹھک، راہل تیاگی، اویناش چترویدی، پنیت دوبے، شلبھ دوبے ، پرشانت رائے شرما، آدتیہ کمار دویدی، شریانش پرتاپ مشر، کالی پرساد، وپن شرما، سونی کمار پانڈے، سنجیو کمار سنگھ، سدھارتھ دھرم راجن، چندریش کمار پانڈے، ستیش کمار سنگھ، کیرتی پردھان، شیشر رنجن، ورون سنگھ، پیوش دوبے،اروند کمار پانڈے،اورنگ زیب عالم، سلمان، کرونا شنکر پانڈے، دلیپ کمارپاٹھک،پروین کمار سنگھ،بھوپندر سنگھ، سشمتا گپتا، ابھیشک کمار سنگھ، انکتا دویدی ، ہمانشو شریواستو، اپرتھ سارتھی پانڈے، پرشانت کمار شر ما، راہل تیاگی او رہری شنکر یادو کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ ماتا پرساد پانڈے کے اسمبلی حلقہ کے رہنے والے،ان کے یا ان کے قریبی لیڈروںکے رشتہ دار یا ان کے ضلع کے رہنے والے حامی ہیں۔ ماتا پرساد پانڈے نے تقرریوں کو اور پختہ کرنے کے لیے کچھ دیگر دستاویزی خرافات بھی کیں، جس میںاسمبلی کے چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے اور اسپیشل سکریٹری پر مود کمار جوشی خاص طور پر ان کا ساتھ دیتے رہے۔ 27 فروری 2017 کو ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی سیشن میں اوور ٹائم کام کرنے والے 652 افسروں / ملازمین کے لیے پچاس لاکھ روپے کی اضافی تنخواہ منظور کی اور بڑی چالاکی سے اس لسٹ میںان لوگوں کے نام بھی گھسیڑ دیے، جن کی تقرری ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد کی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اسمبلی سکریٹریٹ میںریویو افسروںاور اسسٹنٹ ریویو افسروں کی تقرری کے لیے 12 جون 2015 کو اشتہار شائع کیا گیا تھا۔ اس میںتقریباً 75ہزار امیدواروں نے اپلائی کیا تھا۔ اسمبلی نے ان سے فیس کے طور پر کل تین کروڑ روپے وصول کیے تھے۔ تقرری کے لیے امتحان کرانے کا ذمہ ٹاٹا کنسلٹینسی سروس (ٹی سی ایس) کو دیا گیا تھا۔ اس کے لیے ٹی سی ایس کو ایک کروڑ 52 لاکھ 33 ہزار 700 روپے فیس کے طور پر دیے گئے۔ ٹی سی ایس نے 29/30سمبر 2015 کو 11 ضلعوں میں بنائے گئے مراکز پر آن لائن ایگزام لیا۔ اس ایکزام کے رزلٹ کا لوگوں کو انتظار تھا۔ لیکن سات مہینے کے انتظار کے بعد امیدواروں کو پتہ چلا کہ وہ ایگزام تو اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ منسوخ کیا جاچکا ہے۔ 27 جولائی 2016 کو اسمبلی کے نوٹیفکیشن کے ذریعہ اسپیشل سکریٹری پرمود کمار جوشی نے ٹی سی ایس کاآن لائن ایگزام منسوخ کیے جانے اور دوبارہ ایگزام میںشامل ہونے کے لیے ان ہی امیدواروںسے پھر درخواست دینے کا فرمان جاری کیا۔ امتحان منسوخ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔
سچ کو چھپایا گیا
اس نوٹیفکیشن میں یہ بات بھی گول کردی گئی کہ اب کون سی کمپنی امتحان دوبارہ کرائے گی۔ ملک و ریاست سے درخواست دینے والے امیدواروںمیںبھی بھگدڑ جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔ ہزاروںامیدواروں کو تو دوبارہ امتحان کی جانکاری بھی نہیںمل پائی۔ان کی فیس کا پیسہ ڈوب گیا۔امتحان منسوخ ہونے اور دوبارہ منعقد کرنے کے بارے میںقاعدے کے مطابق اشتہار شائع کرایاجانا چاہیے تھالیکن اسمبلی نے ایسا نہیںکیا۔کہیںکوئی شفافیت نہیںبرتی۔ دوبارہ امتحان دینے کے لیے 60 ہزار امیدوار ہی درخواست داخل کرپائے۔ امیدوار اور ان کے سرپرست پریشان اور بے چین تھے لیکن اسمبلی کے اندر سازش کا کھیل بڑی تسلی سے کھیلا جارہا تھا۔ اس بار امتحان کرانے کا ٹھیکہ گپ چپ طریقہ سے ’ایپٹیک‘کو دے دیا گیا۔ اس بار محض چھ ضلعوں میںبنائے گئے مراکز پر آف لائن ایگزام کرایا گیا۔ اس میں او ایم آر شیٹ پر جواب کے خانوں میںپینسل گھسوائی گئی تاکہ آسانی سے ہیراپھیری کی جاسکے۔
اور ایسا ہی ہوا۔ تقریباً 60 ریویو افسروں (آر او) اور 80 اسسٹنٹ ریویو افسروں (اے آر او)کی ایسے وقت میں تقرریاں کی گئیں جب اترپردیش میں ضابطہ اخلاق نافذ تھا۔ ایسے بھی لوگوں کی تقرری کی گئی جو امتحان میںپاس نہیں تھے اور مقررہ عمر کی حد سے کافی اوپر کے تھے۔ ماتاپرساد پانڈے کوا ندازہ تھا کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد ریاست میں سماجوادی پارٹی کی سرکار نہیںبچے گی۔ اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے بھی 30اپریل 2017 کو ریٹائر ہونے والے تھے۔ لہٰذا بہتی گنگا میںہاتھ دھوتے ہوئے 25-30 اسسٹنٹ ریویو افسروںکی بھرتی کر لی گئی۔ اس کے لیے اسمبلی سکریٹریٹ نے اشتہار شائع کرنے کے قاعدہ پر عمل کرنا مناسب نہیںسمجھا۔ان تقرریوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو تعلیمی اعتبار سے نااہل ہیں اور مقرر کی گئی عمر سے بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ چپراسی کی تقرری کا اشتہار ایک ساندھیہ اخبار میں شائع کرایا گیا اور اس میںماتا پرساد پانڈے نے بھی اپنے علاقے کے لوگوںکو بھر دیا۔ اناپ شناپ طریقے سے پروموشن بھی دیے گئے۔ایس پی لیڈر رام گوپال یادو کے قریبی بتاجانے والے رمیش کمار تیواری کی اسمبلی لائبریری میںاو ایس ڈی (ریسرچ) کے عہدے پر بغیر کسی انتخابی عمل کے تقرری کردی گئی۔ اسی طرح ریٹائر ہو چکے رام چند ر مشر کو پھر سے او ایس ڈی بناکر لے آیا گیا۔ اس طرح کے کئی نمونے ہیں۔ عجیب وغریب لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ جن 40 ریویو افسروں کی 2005 میں تقرری ہوئی تھی، انھیں ریگولر نہیں کیا گیااور سال 2007 کے الیکشن کے وقت ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے درمیان ہی انھیں نکال باہر کیا۔ تب بھی اسمبلی اسپیکر ماتا پارساد پانڈے ہی تھے۔ سال 2011 میں ان ہی میں سے کچھ پیروی بیٹوں کو پھر سے ریگولر کردیا گیا او رباقی لوگوں کو سڑک پر دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ماتا پرساد پانڈے کو ضابطہ اخلاق کے درمیان ہی ناپسند افسروںکو نوکری سے باہر نکالنے اور ضابطہ اخلاق کی مدت میںہی اپنے پسندیدہ لوگوںکو نوکری دینے میںمہارت حاصل ہے۔
ماتا پرساد پانڈے کے دو دامادوں اور سابق اسمبلی اسپیکر سکھ دیو راج بھر کے داماد کی غیرقانونی تقرریوں سے اسمبلی کا مذاق پہلے ہی اڑ چکا ہے۔ پانڈے نے اپنے دو دامادوں پردیپ کمار پانڈے اور نریندر شنکر پانڈے کی سارے قانون طاق پر کھ تقرری کی تھی۔ بڑے داماد پردیپ کمار پانڈے 22 مارچ 2013کو اسمبلی میںایڈیٹر کے عہدے پر اور چھوٹے داماد نریندر شنکر پانڈے 12مئی 2015 کو او ایس ڈی کے عہدے پر مقرر کیے گئے تھے۔ اسی طرح بی ایس پی کے دور حکومت میں اسمبلی اسپیکر رہے سکھ دیو راج بھر نے بھی اپنے داماد راجیش کمار کو اسمبلی سکریٹریٹ میںریسرچ اینڈ ریفرنس آفیسر کے عہدے پرضابطوں پر عمل کیے بغیرتقرری کردی تھی۔ ماتا پرساد نے اسمبلی کے مینوئل کی ان دفعات کو بھی ترمیم کردیا جسے ترمیم کرنے کا حق اسمبلی اسپیکر کو ہے ہی نہیں۔ اسمبلی میں انفارمیشن افسر کرمیش پرتاپ سنگھ کی غیر قانونی تقرری کے سیاق و سباق میںاس ترمیم کا بھانڈہ پھوٹا لیکن تب تک پانڈے انفارمیشن افسر کی تقرری کرچکے تھے۔
ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی سکریٹریٹ میں ریویو افسروں اور اسسٹنٹ ریویو افسروں کی بھرتی کا ہدف 2006 سے ہی سادھ رکھا تھا۔ ان وقت بھی ملائم کے دور حکومت میں ماتاپرساد پاندے ہی اسمبلی اسپیکر تھے او رانھوںنے 50 ریویو افسروںاور 90 اسسٹنٹ ریویو افسروں کی تقرری کے لیے 12 مارچ 2006 کو ایگزام کرایا تھا۔ تقرریوں میںتاخیر ہوئی اور 2007 میںاقتدار بدل گیا۔ بی ایس پی سرکار نے آتے ہی سارے امتحانات رد کردیے تھے۔
بنسل جی کے انمول وچن
آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ریاستی اقتدار کے محرک بی جے پی کے سنگٹھن منتری سنیل بنسل نے بھی گزشتہ دنوںایک ملاقات کے دوران ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ انھوںنے اسمبلی سکریٹریٹ میںکی گئیں تقرریوںمیں دھاندلی کو اجاگر کرنے والی خبریں ’چوتھی دنیا‘ کے کئی شماروںمیںدیکھی ہیں۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ اس مسئلے پر وہ و زیر اعلیٰ اور نئے اسمبلی اسپیکر ہردے نارائن دیکشت سے بات کریں گے۔ بنسل نے اپنے پاس ’چوتھی دنیا‘ کی کچھ کاپیاں بھی رکھیں اورراقم الحروف سے کہا کہ وہ آج ہی وزیر اعلیٰ سے ملنے جارہے ہیں اور یہ مدعا ان کے سامنے رکھیں گے۔ بنسل جی نے یہ مدعا وزیر اعلیٰ اور اسمبلی اسپیکر کے سامنے رکھا یا نہیں، اس بارے میںان سے دوربارہ تو بات نہیں ہوئی،لیکن جس طرح کے نتیجے دکھائی دے رہے ہیں اس سے نہیںلگتا کہ بنسل جی نے وزیر اعلیٰ یا اسمبلی اسپیکر سے اس مسئلے پر کوئی بات کی۔ بنسل جی کی یقین دہانی بھی ان کا سیاسی یعنی غیر حقیقی وچن ہی سمجھئے۔
جب غائب ہوگئیں فائلیں
22 اپریل کو سنیچر تھا۔ سرکاری دفتر بند تھے۔ اچانک اسمبلی سکریٹریٹ کا دفتر کھولاگیا۔ چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے کے کچھ خاص افسر اسٹاف فائلیں اور دستاویز ٹٹولتے ہوئے دکھائی دیے۔ سنیچر کو دفتر کھولنے کا حکم کس نے جاری کیا اور کیوںجاری کیا،ا س کی سرکاری طور پر وضاحت اب تک سامنے نہیںآئی۔ سنیچر کو اسمبلی سکریٹریٹ کے دفتر کھلواکر کچھ دستاویزات غائب کرنے کی خبر اڑی اور ٹویٹر سے لے کر فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع سے یہ خبر چرچا میں آگئی ۔ اسمبلی سکریٹریٹ تقرری گھوٹالے کے شکار کچھ بچوں نے راقم الحروف کو بھی فون پر یہ اطلاع دی۔ میںنے بھی ٹوئیٹر پر یہ اطلاع جاری کی۔ اس کے باوجود اسمبلی سکریٹریٹ کی طرف سے کوئی عوامی طور پر وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ اس خاموشی کو اعتراف کے طور پر مانا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *