مولانا برکتی کا معاملہ سیاسی مفادات کا کھیل

’’چوتھی دنیا‘‘نے ہمیشہ ان کوششوں کو بے نقاب کیاہے جو مذہب کے سہارے سیاست اور سیاست کے سہارے مذہب کا استعمال کرکے اپنی روٹی سینکنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ کولکاتہ کی ٹیپو سلطان کے امام مولانا نورالرحمن برکتی نے وزیر اعلیٰ بنگال ممتا بنرجی کے خلاف تو ہین آمیز ریمارکس دینے والے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کو سنگسار کرنے کا فتویٰ جاری کیا اور پھر ایک ماہ بعد ایک قدم آگے بڑھ کر ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے ان کے چہرے پر سیاہی اور داڑھی کاٹنے والوں کو 25 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تو ’’چوتھی دنیا ‘‘ نے اپنے 6تا 12فروری 2017 کے شمارہ میں ’’ مسلمانوں کو ساکشی مہاراج جیسے لیڈر نہیں چاہئے ‘‘ جیسی بے باک رپورٹ پیش کیا جسے کافی سراہا گیا۔اب پھر جب مولانا برکتی نئے شگوفے چھیڑ کر سرخیوں میں ہیں اور مسجد انتظامیہ نے انہیں امامت سے ہٹا دیا ہے اور ان کو لے کر ریاست میں نئی سیاست ہورہی ہے ، تب اس تعلق سے تازہ رپورٹ نذر قارئیں ہے۔
ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے مغربی بنگال میں سیاست کا مزاج و طریقہ کار سب سے زیادہ جداگانہ اور منفرد ہے۔یہاں 24گھنٹے سیاست ہوتی ہے ۔ہر ایک معاملات کو سیاسی فائدے اور نقصان کے ترازوں میں تولا جاتا ہے۔یہاں سیاست زندگی کا جز ہونے کے بجائے کل ہے اور سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ سیاست اخلاقی اقدار سے محروم ہے چناں چہ ملک میں سب سے زیادہ سیاسی تشدد کے واقعات بنگال میں رونما ہوتے ہیں اورہر سال درجنوں افراد کی جانیں ہلاک ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال کلکتہ شہر کے قلب میں واقع اور شہید ٹیپوسلطان کے سب سے چھوٹے بیٹے پرنس غلام محمد کے ذریعہ تعمیر تاریخی ’’ٹیپو سلطان مسجد‘‘ کے امام مولانا نورالرحمن برکتی جو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے میڈیا کی سرخیوں میں ہمیشہ رہتے ہیں کی برطرفی کو لے کر جاری سیاست ہے۔امام کی برطرفی ایک مقامی اور انتظامی مسئلہ ہے۔ہندوستان میں لاکھوں مساجد ہیں جہاں آئے دن امام رکھے ا ور ہٹائے جاتے ہیں مگر جس طریقے سے ٹیپو سلطان مسجد کے امام کی برطرفی پر ہنگامہ آرائیاں ہورہی ہیں ،سیاسی لوگ اس میں شامل ہیں ، سیاسی آقائوں کے اشارے پر پریس کانفرنسیں ہورہی ہیں اور میڈیا کے سامنے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عاید کیے جارہے ہیں اور ایک امام کو ملک دشمن ، غدار بتاکر ہٹانے کی مہم چلائی گئی وہ اپنے آ پ میں کئی سوالات کھڑے کررہے ہیں ۔
مولانا نور الرحمن برکتی کے متنازع بیانات اور ان کے سیاسی فتوئوں کو کوئی بھی مسلمان پسند نہیں کرتا ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے انہی صفحات میںمیںنے مولانا برکتی کے سیاسی فتوائوںکی سخت گرفت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’مسلمانوں کو ساکشی مہاراج جیسے علماء اور قائدین کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔مگر اس وقت مولانا برکتی کو ہٹانے کیلئے جس طریقے سے کلکتہ سے شایع ہونے والے ایک اردو روزنامے نے جس کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے اور اس کے ایڈیٹر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ بھی ہیںنے جس طریقے سے مہم چلائی ، مولانا برکتی کو غنڈہ، جعلی ، فریبی ، ملک کا دشمن اور غدار بتاکر عوام کو ورغلانے کی کوشش کی گئی ،اس کے نتیجہ میں19مئی کو نماز جمعہ میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور حالات اتنے خراب ہوگئے کہ اگر مولانا برکتی منبر سے نہیں ہٹتے تو شایدکوئی بڑا واقعہ ہوسکتا تھا۔اس کی وجہ سے مسلمانوں کو برادران وطن کے سامنے رسوا ہونا پڑتا۔
جمعہ کی نماز میں مولانا برکتی جیسے ہی امامت کیلئے پہنچے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا، کچھ باہری لو گ جو دوسرے محلوں سے لائے گئے تھے نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، امام پر بوتل بازی شروع ہوگئی ، یومیہ نمازی حیران تھے کہ کیا ہورہا ہے ۔مائیک چھین لیا گیا حالات بد تر ہوگئے اور مولانا برکتی درمیان میں ہی خطبہ چھوڑ کر چلے گئے ۔ اس سے ایک دن قبل بھی مولانا برکتی پرجمعرات کو بھی عصر کی نماز میں حملہ کیا گیا ۔بعد میں اس حملے کی ذمہ داری آرا یس ایس کے حامی اپدیش رانا نامی نوجوان نے فیس بک کے ذریعہ قبول کی۔اس نے حملے سے قبل اپنے فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ٹیپوسلطان مسجد میںداخل ہورہے ہیں، وہ برکتی جو ہندو دشمن ہے پر حملہ کرنے والا ہے۔حملہ کے بعد بھی اس نے حملے کی ویڈیو کے ساتھ پوسٹ کیا کہ اس نے ہندئوں کی توہین کا بدلہ لے لیا۔اس کے بعد مسجد میں ایک گروپ نے ایک دوسری جماعت شروع کردی ۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس ہنگامہ آرائی کی وجہ کیا ہے؟ گزشتہ تین دہائیوں سے امامت کا فریضہ انجام دینے والے امام کے خلاف عوام کیوں ہیں؟ انہیں ہٹانے پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا مولانا کو عوامی امنگوں و خواہشوں پر ہٹایا جارہا ہے یا پھر کسی سیاسی آقاء کی خوشنودی کے حصول کیلئے یہ سب کیا گیا ہے؟ ان سوالوں کو سمجھنے کیلئے مولانا برکتی کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ اور موجودہ سیاسی منظر نامے کو سمجھے بغیر موجودہ ہنگامی آرائی کو نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔
مولانا نور الرحمن برکتی ٹیپوسلطان مسجد کی امامت پر گزشتہ تین دہائیوں سے فائز ہیں ۔ان سے قبل ان کے والد مولانا سلمان برکتی ٹیپو سلطان مسجد کے امام تھے۔ دہلی کے جامع مسجد کی طرح یہاں خاندانی امامت کا سلسلہ نہیں ہے اس کے باوجود مولانا نورالرحمن برکتی کو امامت اپنے والد کی وراثت میں ملی ہے ۔ مولانا سیدسلمان برکتی مدرسہ عالیہ میں استاذی کے فریضہ کے ساتھ ساتھ امامت کی بھی ذمہ داری ادا کرتے تھے۔سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت نہ کے برابر تھی ۔مگر مولانا نور الرحمن برکتی کا سیاسی رجحان شروع سے رہا ہے۔1998میں کانگریس سے علاحدہ ہوکر ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس قائم کی تو اس وقت مسلمانوں کو ترنمول کانگریس کے تئیں تحفظات تھے کیو ں کہ بی جے پی سے ان کی قربت تھی مگر مولانا برکتی برسر عام ممتابنرجی کی حمایت کی۔1999میں ممتا بنرجی اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں وزیر ریلوے بنیں تو مولانا برکتی کو ریلوے کی کمیٹی کا ممبر بنایا گیا۔جس وقت ترنمول کانگریس کے پاس کوئی مسلم چہرہ نہیں تھا اس وقت ترنمول کانگریس کے اسٹیجوں پر مولانا برکتی ہی مسلم چہرہ ہوتے تھے۔2011اور2016کے اسمبلی انتخابات میں مولانا نے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلائی۔
ترنمول کانگریس کے تمام بڑے سیاسی پروگراموں میں مولانا کو شرکت کی دعوت دی جاتی تھی۔مگر ان دنوں بنگال کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ۔اپوزیشن کی صف سے بایاں محاذ کا صفایا ہورہا ہے اور بی جے پی و آر ایس ایس تیزی اپنے قدم جمارہی ہے۔2011سے قبل تک بنگال میں آر ایس ایس کی شاکھائوں کی تعداد محض 300تھی اور اس کے اسکولوں کی تعداد درجنوں میں تھی مگر آج آر ایس ایس کی شاکھائوں کی تعداد تین ہزار سے زاید پہنچ چکی ہے اور اسکولوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب ۔بی جے پی جس کے ووٹ فیصد کی شرح کبھی بھی 10فیصد سے زاید نہیں ہوتی تھی آج اس کا ووٹ فیصد 20فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے ۔بی جے پی ممتا بنرجی کے خلاف جارحانہ مہم چلارہی ہے۔ بدعنوانی اور ترقیاتی ایشوز کو موضوع بنانے کے بجائے ممتا بنرجی کی مسلم نوازی کو ایشو بناکر پولرائزیشن کی سیاست کی جا رہی ہے اور اس کیلئے ہندو ووٹوں کو متحد کیا جارہا ہے۔ان حالات سے ترنمول کانگریس اندرونی طور پر پریشان ہے۔مولانا برکتی کے وزیر اعظم ، ہندو راشٹر اور لال بتی لگانے پر اصرار کو لے کر بیانا بازی کے بعد بی جے پی نے مولانا کو ترنمول کانگریس کا حامی بتاکر زوردار مہم چلائی ہے۔ایسے میں ترنمول کانگریس کو یہ ڈر ستانے لگا ہے کہ کہیں وہ ہندئوں کیلئے اچھوت نہ بن جائے۔اس لیے پارٹی نے اب مولانا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کیلئے ترنمول کانگریس کے مسلم لیڈروں کوہدایت دی گئی کہ وہ مولانا برکتی کے خلاف جارحانہ مہم چلائیں۔
چنانچہ سب سے پہلے ممتا بنرجی کی وزرات میں شامل اور مغربی بنگال جمعیۃ علماء کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری نے مولانے کے خلاف پریس کانفرنس کے علاوہ ٹیپوسلطان مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مولانا جن کے یہاں آئے دن ممتا بنرجی کے وزراء اور ممبرپارلیمنٹ حاضری دیتے تھے انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ترنمول کانگریس کے ایک مسلم ممبرپارلیمنٹ جو ہمیشہ مولانا کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور جنہوں نے مولانا کے ساتھ مل کر ممتا بنرجی کو وزیر اعظم بنانے کی مہم چلائی تھی ،نے مجھ سے خود بتایا کہ پارٹی کی ہدایت ہے کہ مولانا سے دوری اختیار کریں ۔پارٹی کے ہی اشارہ پر مذکورہ اردو اخبار نے جارحانہ مہم چلائی اور سیاسی دبائوکے نتیجے میں مسجد انتظامیہ کمیٹی نے بھی مولانا کو اچانک برطرف کرنے کا اعلان کردیا۔مسجد کمیٹی اور مولانا کے درمیان تعلقات کئی سالوں سے کشیددہ ہیں ۔کیوںکہ مولانا پرنس غلام محمد وقف اسٹیٹ جس کے پاس کئی سو کروڑ مالیت کی زمین ہے، میں خرد برد کا الزام عاید کرتے ہوئے آر ہے ہیں ۔آج ٹیپو سلطان خاندان کے لوگ سائیکل رکشہ اور کراسن کی دوکان چلا کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں تو دوسری طرف پرنس غلام محمد وقف اسٹیٹ میں لوٹ مچی ہوئی ہے ۔
مولانا پر ممتابنرجی کو راکھی پہنانے کا بھی سنگین الزام ہے؟ متعدد مرتبہ متنازع فتویٰ دینے کے بھی قصور وار ہیں ۔ نکاح و طلاق کے مسئلے پرمولانا نے بے احتیاطی کا مظاہرہ کئی بار کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت مسجد کمیٹی اور مسلمانوں نے مولانا کو امامت کے عہدہ سے برطرف کیوں نہیں کیا؟ جب مولانا نے ممتا بنرجی کو راکھی پہنائی تھی اس وقت مسلمانوں کو مسجد کے تقدس کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ایک ایسے وقت میں جب آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے خط و کتابت کے ذریعہ مولانا کو ان کی کوتاہیوں سے آگا ہ اور امامت کے تقدس کے فریضے سے آگاہ کیا تھا اور مولانا مشاورت کے صدر کے خط کے قائل ہوگئے تھے اور وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اپنی گاڑی سے لال بتی ہٹادیں گے اور آئندہ سیاسی بیانات سے گریز کریں گے تو پھر مسجد میں اس قدر ہنگامہ برپا کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوگئی ۔در اصل ترنمول کانگریس اپنے مسلم لیڈران کے ذریعہ مولانا برکتی کے خلاف جارحانہ مہم چلاکر بی جے پی کی پولرائزیشن کی سیاست کی ہوا نکالنا چاہتی ہے ۔تاکہ ہندو ووٹ ان سے نہیں کھسکے ؟یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا کو ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کے مسلم لیڈران قربانی کا بکرہ بنارہے ہیں۔
مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ’کیا اب ہماری مساجدکے امام کی برطرفی و بحالی کا مسئلہ بھی سیاست اور سیاست دانوں کے ذریعہ حل ہوں گے؟‘۔کیا سیاسی جماعتیں اور لیڈران طے کریں گے مسلمانوں کا امام کون ہوگا اورکون نہیں ہوگا ؟ کلکتہ میں جس نظیرکو قائم کیا گیا ہے، وہ ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ اب مساجد سیاست کا اکھاڑہ بن جائے گا۔اس کیلئے نہ مسجد کے تقدس کا خیال رکھا جائے اورنہ ہی علماء جنہیں وارث انبیاء کہا گیا ہے کہ کے قدر و منزلت کا پاس و لحاظ رکھا جائے گا۔

مجھے سیاسی سازش کا شکار بنایا جارہاہے:برکتی
مجھے سیاسی سازش کا شکار بنایا گیا ہے، مجھے آر ایس ایس اور بی جے پی نے نہیں مسلمانوں کے ایک گروپ جو سیاست کے غلام ہیں، نے ملک دشمن اور غدار بتاکرمجھے امامت سے ہٹانے کی مہم چلائی ہے ۔میرا قصوریہ ہے کہ میں نے ہندوستان کو ہندو راشٹربنانے کی مہم کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر ہندوستان کو ہندو راشٹربنانے کی کوشش کی گئی تو مسلمانوں خاموش نہیں رہیں گے۔جس طریقے سے ہم نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا تھا اسی طرح سیکولر برداران وطن کے ساتھ مل کر اس کے خلاف جہاد کریں گے؟۔اس میں ملک کی غداری کہاں سے ہوجاتی ہے؟جب ہندو راشٹربنانے کی کوشش جو سراسر ہندوستان کے آئین خلاف ہے، وہ ملک سے غداری نہیں ہوتی ہے تو پھر اس کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کہاں سے غداری ہوسکتی ہے۔در اصل سیاست داں مسلمانوں کی اجتماعیت اور قیادت کو خاتمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ٹیپوسلطان مسجد کے منبر و محرات سے ہمیشہ مسلمانوں کے حق کی آواز اٹھی ہے ۔جب بھی بنگال حکومت یا پھر مرکز میں مسلمانوں کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی گئی تو ہم نے اس کی مخالفت کی۔یقینا ممتا بنرجی سے میرے تعلقات ہیں اور رہیں گے مگر میں نے مسلمانوں کی مفادات کا کبھی بھی سودا نہیں کیا۔حالیہ دنوں میں جب ریاست میں سلسلہ وار فسادات کا سلسلہ شروع ہوا اورمسلمانوں کو ہی گرفتار کرنے کی کوشش ہوئی تو ہم نے اس کے خلاف زور دار آواز اٹھائی ۔اسی طرح جب مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس عام کیلئے پارک سرکس میدان دینے سے حکومت نے انکارکردیا تو ہم نے کھلے عام کہا کہ جب آرا یس ایس کو اجلاس کرنے کی اجاز ت ہے تو پھر مسلمانوں کو کیوں نہیں؟ہم ہر حال میں پارک سرکس میدان میں اجلاس عام کریں گے تو حکومت مجبوراً راضی ہوئی۔میں نے مسلم مجلس مشاورت اور دیگر مسلم تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ بات چیت کرنے کو تیار ہیں اور ان کے مشورے پر کام کرنے کو راضی ہیں تو پھر یہ کن لوگوں نے مسجد میں ہنگامہ آرائی کی اور منبر رسول کی توہین کی۔
مـضمون نگار یو این آئی اردو سروس کلکتہ کے انچارج ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *