رحمانی 30 کے روح رواں فہد رحمانی سے خصوصی انٹرویو 

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں واقع رحمانی فائونڈیشن  نے اپنے پروگرام رحمانی 30  کے ذریعہ  مسلمانوں میں اعلی تعلیم خصوصاً  اعلی ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حوالے سے ایک نئی بیداری  پیدا کردی ہے ۔ اس کے زیر اہتمام رحمانی ایکسیلنس پروگرام نے محض ایک مختصر عرصہ میں  مسلم طلبہ و طالبات میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ و حوصلہ پیدا کیا ہے۔اس کی ان کاوشوں کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج بر آمد ہورہے ہیں۔ امسال بھی  رحمانی  30کے تحت  JEE MAINS 2017  ( اعلی مقابلہ جاتی امتحان) میںاس  کے  137 میں سے  117 طلبا ء نے کامیابی حاصل کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا اور حتمی نتائج میں 78  طلبہ کو اعلی اداروں میں داخلہ ملے گا  ۔ یہ کامیابی اس معنی میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ملک بھر میں کاروباری بنیاد پر چلنے والے کوچنگ سنٹر ایسے شاندار نتائج پیش کرنے میں ابتک ناکام ہیں۔ جہاں ہر طالب علم کو لاکھوں روپیئے فیس کی شکل میں دینے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس رحمانی ادارہ رضاکارانہ بنیاد پر کام کرتا ہے ۔ یہ واحداقامتی کوچنگ ادارہ ہے جہاں بچوں کو ایک سخت داخلہ جاتی امتحان کے بعد منتخب کیا جاتا ہے اور گیارہویں اور بارہویں کی تعلیم دے کر انہیں مسابقتی امتحان کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ اس کی تعلیم کا بھی منفرد طریقہ ہے یعنی یہاں بچوں کو پڑھایا نہیں بلکہ پڑھنا سکھایا جاتا ہے ۔ اب ٹیکنالوجی کے میدان کے علاوہ یہاں  میڈیکل ، چارٹرڈ اکاوئنٹنٹ وغیرہ کورسوں میں داخلہ کے امتحانات کی تیاری کرائی جارہی ہے۔    ان کامیابیوں میں رحمانی 30کے جنرل سیکریٹری اور سی ای او  فہد رحمانی کی محنت و جہد،  فعال و موثر قیادت نیز وسیع النظری کا بڑ اداخل ہے ۔ تاہم وہ اسے اپنے والد  مولانا محمد ولی رحمانی اور ابھیانند جی ( سابق ڈائرکٹر جنرل بہار پولیس) کی بے لوث کوششوں کا ثمرہ قرار دیتے ہیں۔   ٖ فہد رحمانی پیشہ سے انجینئر ہیں اور بنگلور میں اپنی پر کشش ملازمت ترک کرکے اس مشن کی زمام سنبھالے ہوئے ہیں۔ رحمانی 30کے مقاصد ، محرکات اور دیگر امور پر’’ چوتھی دنیا ‘‘ کے لئے  عبدالباری مسعود نے فہد رحمانی سے ان کے پٹنہ دفتر میں ایک خصوصی انٹرویو لیا جس کے اہم اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ٖ سوال :  رحمانی  30  شروع کرنے کے پشت پر کونسے محرکات کار فرما رہے؟ جواب: جب ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تو ذہن میں تین چار سطحوں پر بڑی سوچ ( Vision ( کارفرما تھی۔ہم لوگ مدد کے تعلق سے سوچ کی تشریح نو چاہتے تھے۔مدد کے لفظ کو سنتے ہی احساس ہو جاتا ہے کہ ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں۔  والد محترم حضرت امیر شریعت  مولانا ولی رحمانی نے سمجھایا کہ اس پروگرام میں مسکین کی مدد مت کرو، کیونکہ مسکین کی جب مدد کی جاتی ہے تو تو ہم نفسیاتی طور پر اسے کچھ دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس سوچ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا کہ یہاں جو بچے ہیں ہم سے بہتر تیار ہوں گے ۔ اس طرح ہم  آگے کی طرف پیش قدمی کرتے چلے گئے یعنی  مضبوطی سے مضبوطی حاصل کرتے چلے گئے۔ دوسری اہم  چیز یہ تھی کہ ہم نے بچوں میں اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ بیدار کیا ۔جو آجکل کا ماحول ہے اس میں کثیرا لجہتی حکمت عملی  اختیار کرنا ضروری ہے ۔ہم نے اپنے بچوں کو بتایا کہ اکیڈمک انسٹی ٹیوٹشن ،  ریزرویشن، خارجی سطح سے مدد اور دیگر چیزیں سب اپنی جگہ ہیں مگر ہمیں خود کو تیار کرنا ہے ۔اسی طرح ملت کو ٹیکنیکل یا آئی ٹی آئی کی سوچ سے باہر نکال کر اسے اعلی تکنیکی تعلیم یعنی آئی آئی ٹی کی طرف لیجانا تھا ۔ ٖ    اسکے علاوہ والد محترم کی ہدایت پر ہم نے اس پروگرام کے لئے زکوۃ کی رقم استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہمارے یہاں سے بچے کوالیفائی نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب ہم کامیاب ہوں گے تو اس کامیابی کو دوسروں میں بانٹیں گے، شیئر کریں گے ۔ کسی بچہ کو دینے والے سے وابستہ نہیں کریں گے تاکہ مد د کرنے والا بھی پابند عہد ہو اور ہم بھی اس کے لئے جوابدہ ہوں۔ اس چیزسے ایک تعلق خاطر پیدا ہوتا ہے۔میرے خیال میں انہی حکمت عملیوں کی وجہ سے یہ پروگرام مقبول ہوا ہے اور اللہ تعالی نے اسے نوازا بھی ہے۔ س:آپ نے ابتداء سے ابتک کا جو سفر طے کیا ہے اس بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟ ج:ابتداء میں یہ کہانی شروع ہوئی تو اس نقطہ نظرکے ساتھ کہ کوئی مدرسہ والا بھی ٹیکنالوجی کی اعلی ترین تعلیم کا بند وبست کرا سکتا ہے۔ یہ ہم اکیڈمیشین کو دکھانا چاہتے تھے گرچہ میر ا تعلق انجینئرنگ سے ہے  لیکن سوچ مدرسہ والوں کی کارفرما ہے۔ ہم نے اکیڈمیشین کو راہ دکھائی کہ وہ  محض کامیابی پاس کرنے  کی سوچ  کے دائرہ سے باہر نکلیں اور بہتر سے بہتر کرنے کے لئے کوشاں ہوں۔ کیونکہ اس دور میں ایکسیلنس کی اہمیت ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم نے  2008 میں دس بچوں سے اس پروگرام کا آغاز کیا اور سب کے سب ٹیکنالوجی کی اعلی ترین تعلیم کے باوقار ادارے آئی آئی ٹی  کے لئے منتخب ہوئے۔  ابتک 138طلبہ آئی آئی ٹی کے لئے،  اور256 طلبہ دیگر اہم تعلیمی ادارے جیسے  انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس  کے لئے منتخب ہوئے۔ گزشتہ  چند سالوں میں ہم نے اپنی حکمت عملی میں بڑی زبردست تبدیلی کی ہے۔یہ تبدیلیاں اکیڈیمک سطح، انٹیک ( بچوں کے داخلہ) اور دیگر سطحوں پر کی گئی ہیں۔ہمارے اعداد وشمار اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم بہتر سے بہتر کارکردگی کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں ۔ امسال ہماری کامیابی کی شرح میں 64 فی صد کا اضافہ ہوا۔  پٹنہ کے سنٹر کی کامیابی  سب سے زیادہ رہی ہے ۔ یہاں سے 29 طلبہ، 11ممبئی سنٹر سے اور دس حیدرآباد سنٹر سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمار امنصوبہ ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں کم ازکم پانچ ہزار بچے ان امتحانات میں کوالیفائی کریں۔ س: رحمانی  30کے کے اثرات کیا مرتب ہوئے ہیں ۔ کن علاقوں میں زیادہ اثر ہے ؟  ج:  ملت میں بڑے پیمانے پر بیداری آئی ہے ۔ اس کاوش میں ملت کا بڑا حصہ ہے۔ تقریباً30ہزار بچے ہمارے داخلہ امتحان میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہم ایسا نہیں کرسکے۔ پھر بھی 12ہزار بچوں نے آن لائن فارم بھرا۔ اسکول اور ٹیچر  نیز والنٹیئروں سب کی اس میں مدد حاصل رہی  اور ہے ، پرنسپل صاحبان اور ٹیچر صاحبان اپنے اپنے اسکولوں میں اتوار کو  رک کر امتحان منعقد کرتے ہیں اور جوابی پیپر اپنے خرچہ سے کوریئر کے ذریعہ سنٹر بھیجواتے ہیں۔  بیداری کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملک بھر میں رحمانی 30میں داخلہ کے امتحان میں پچھلے سال 66فی صد اضافہ ہوا تھا  اور اس سال اس میں ڈھائی سو 250 فی صد کا اضافہ ہوا۔ پہلے 92اسکولوں میں امتحانی مراکز تھے اب ان کی تعداد292  ہوگئی ہے۔یعنی اس میں 250 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہم یہ ادارہ کارپوریٹ انداز میں نہیں چلا رہے ہیں ۔ یہ رضاکارانہ نہج پر کام کرتا ہے۔    س:رحمانی فائونڈیشن تعلیمی میدان میں مختلف سطحوں پر کام کررہا ہے، مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ 1857میں انگریزوں سے شکست کے بعد ان کے یہاں تعلیم  کی  دو اسٹریم راہ پاگئیں ایک عصری اور دوسرا دینی تعلیم کی۔ کیا اس خلیج کو پاٹنے کی طرف بھی توجہ دی جارہی ہے؟ ج: رحمانی 30کا ابتداء میں یہی ارادہ تھا کہ دینی و عصری علوم کا امتزاج پیدا کیا جائے۔ چونکہ گیارہویں اور بارہویں کی جماعت  کے ذریعہ امپیکٹ بنتا ہے اور پچھلے دس سالوں میں ہم نے یہ کردکھایا ہے۔  ہم پانچ چھ اسکولوں پر بھی کام کررہے ہیں کہ کم سے کم لاگت میں  ان کے انفرا اسٹکچر ، تعلیمی ماحول،  دیگر امور کو بہتر سے بہتر کیا جائے۔ اگر اسکولی تعلیم کا نظام بہتر اور معیاری ہوگا تو  لامحالہ اس کا نتیجہ اچھا آئے گا۔ اسی طرح ہم مدرسہ پر بھی کام کررہے ہیں۔مدارس کے نصاب کی تشکیل نو  اور اس میں عصری علوم کی شمولیت کے لئے مولانا محمد علی مونگیری نے ہندوستان کے تمام علماء کو 1894 میں کانپور  میں  جمع کرکے ان سے ایک دستاویز پر دستخط حاصل کئے تھے ۔ یہ دستاویز ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ ہے کہ زیادہ  تر مدارس زکوۃ کی بیساکھی پر چلتے ہیں۔ کیا محض دو اڑھائی فی صد رقم سے آپ مدارس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ  لیڈر شپ پید ا کریں ۔ بہر کیف ہم ان دونوں تعلیمی نظام کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ س:  بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال میں ہندوستان میں مسلمانوں کی کل آبادی کا تقریباً 60 فی صد حصہ رہتا ہے۔ یہ پسماندہ ریاستیں کہلاتی ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی جو تصویر ہے اس میں ان علاقوں کا زیادہ حصہ ہے۔ کیا اس طرف بھی ، خصوصا بہار میں اقتصادی امور کی طرف بھی  پر توجہ دی جارہی ہے ؟ ج: مجھے صرف اور صرف تعلیم پر کام کرنا ہے ۔ ہمار اہدف اگلے 50سال تک یہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اچھی اور معیاری تعلیم ہی بااختیار بنانے کے لئے کافی ہے۔ تعلیم ہر چیز کا حل ہے۔یہ  ایک فطری عمل ہے ۔ تاہم صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔  بہت سے اسکولوں میں تعلیم نہیں ہورہی ہے،  بہت سی چیزیں ہم کرسکتے ہیں ۔ دیکھئے  ہم نے بہار، جھارکھنڈ  پورے زون میں اولمپیاڈ کی 48 فی صد جیتی ہیں ۔  حالات کتنے بھی خراب ہوں اچھی تعلیم اس کو بہتر کرنے کی کنجی ہے ۔مجھے نئی نسل سے زیادہ امیدیں ہیں۔ س:  رحمانی30 کی منفرد خصوصیت کیا ہے؟ ج: ہم یہاں بچوں کو پڑھاتے نہیں  ہیں بلکہ انہیں  پڑھنا سکھاتے ہیں۔ یہ یورپی ملک فن لینڈ کا  تدریس کا جو ماڈل ہے ہم اس پرعمل کررہے  ہیںجس میں ٹیچر کا عمل دخل کم طلبہ کا زیادہ ہوتا ہے۔ ہم نے تدریس کا نظریہ بدلا ہے۔اس کے اثرات  و نتائج آپ سب کے سامنے ہے ۔ آئی آئی ٹی میں تعداد بڑھی ہے اور طلباء میں زبردست جوش و خروش  پید اہوا ہے۔ مزید برآں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے کمرشیل یا تجارتی کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کی ہمت شکنی ہوئی ہے کیونکہ رحمانی 30 نے رضاکارانہ رجحان کا رواج بڑھایا ہے۔لہٰذا ضرورت ہے کہ دیگر ریاستوں مین بھی رضا کارانہ بنیاد پر اس طرح کی کوششیں بڑھیں اور فروغ پائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *