سہارنپور بنا پولرائزیشن کی تجربہ گاہ

سہارنپور، جہاں اس وقت کرفیو نافذ ہے اور اس سے قبل پولیس و انتظامیہ کے افسروں کا وہاں سے تبادلہ یا سسپینڈ کردیا گیا ہے، کا مسئلہ دہلی تک پہنچ گیا ہے۔ امبیڈکر جینتی سے اٹھا تنازع اب تک سلگ رہا ہے۔ سہارنپور تنازع میں قتل، حملہ، تشدد،مظاہرے سب کچھ ہوئے، لیکن اسے طول دینے کا سلسلہ نہیں تھما۔ اب دہلی گھیرنے کاسلسلہ بھی اس میںشامل ہوگیا۔ سہارنپور کے ایس ایس پی کی رہائش پر ہوئے حملے کے بعد ریاست کی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی اپنی روٹیاں سینکیں، سماجوادی پارٹی نے اپنی الگ سے جانچ ٹیم بھیج دی، تو آل انڈیا پیپلز فرنٹ سے جڑی تنظیموں نے بھی اپنی جانچ ٹیم بھیجی اور یوگی سرکار پر تمام الزام منڈھے۔ کسی بھی پارٹی نے سہارنپور تنازع کی جڑ میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہاں ہوئے قتل کے اسباب کی طرف ایمانداری سے دیکھنے کی کوشش کی۔ سیاسی پارٹیوں کو ویسے بھی ووٹ بینک کے علاوہ کہاں کچھ دکھائی دیتا ہے؟
سماجوادی پارٹی نے اپنی جانچ رپورٹ میں واقعہ کے لیے بی جے پی لیڈروں کے غصے کا سبب بتایا۔ ایس پی کی جانچ ٹیم کے سربراہ محبوب علی تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سہارنپور کیس کو انجام دینے میں بی جے پی ایم ایل اے، بی جے پی ضلع صدر اوردیگر بی جے پی لیڈروں کا رول ہے۔
مسئلہ کی شروعات
تنازع 14اپریل کو امبیڈکر جینتی سے شروع ہوا، جب ضلع انتظامیہ نے کسی بھی جلوس کے نکالے جانے کی اجازت نہیں دی ۔ اس کے باوجود پانچ سو کارکنوں نے جلوس نکالا۔ انتظامی افسروں پر بھی حملہ کیا گیا۔ جم کر افراتفری پھیلی لیکن مجرموں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ایس پی کہتی ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے پورا واقعہ کرایاگیا۔ ایس پی نے سہارنپورمعاملے کی عدالتی جانچ کی مانگ کی۔ ایس پی کی اس جانچ رپورٹ کو مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے خارج کردیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ محض سیاست سے متاثرہ رپورٹ ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کی جانچ رپورٹ کو کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، یہ کسی پولیس یا دیگر ایجنسی کی رپورٹ نہیں ہے۔
دوسری طرف سے آل انڈیا پیپلز فرنٹ سے جڑی سماجی تنظیموں کے 28 نمائندوں کی جانچ ٹیم نے بھی اپنی جانچ رپورٹ دی ہے۔ جانچ ٹیم میں اترپردیش جن منچ ، سوراج ابھیان جیسی تنظیموں کے ممبران بھی شریک تھے۔ جانچ ٹیم نے 5 مئی اور اس کے بعد کے واقعات کو ہی جانچ کے دائرے میں رکھا اور بتایا کہ سہارنپور کے شبیر پور گاؤں میں دلتوں کے خلاف تشدد ہوا، جس میں دلتوں کے 60 گھر جلے اور 14 دلت زخمی ہوئے۔ دوسری طرف سے کتنے لوگ زخمی ہوئے اور کتنے گھروں کو نقصان پہنچا؟ جانچ ٹیم نے اسے اپنی جانچ کے دائرے میں نہیں رکھا۔ جانچ ٹیم نے اپنی رپورٹ میںکہا کہ پانچ مئی کو سہارنپور کے سملانہ گاؤں میں مہارانا پرتاپ جینتی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے صرف سبھا کرنے کی اجازت دی تھی لیکن کچھ لوگوں نے جلوس نکالا۔ جانچ ٹیم کا الزام ہے کہ جلوس میں مہارانا پرتاپ کی جے او رامبیڈکر مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ اس پر دلتوںنے اعتراض کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے دخل دے کر جلوس کو آگے بڑھادیا۔ جانچ ٹیم کا کہنا ہے کہ تھوڑی دیر بعد کچھ لوگوں نے دلت آبادی پر حملہ کردیااور روی داس مندر میں توڑ پھوڑ شروع کی۔ اس پر دلتوں نے اپنے دفاع میں پتھراؤ کیا۔ اس دوران دوسرے فریق کے جس لڑکے کا قتل ہوا، اس کے حقائق جانچنے کے بجائے جانچ ٹیم نے کہا کہ سمت نام کے ایک لڑکے کی مشکوک حالات میں موت ہوگئی تھی۔
جانچ ٹیم پھر خود کہتی ہے کہ اس کی موت کی وجہ دم گھٹنا پایا گیا۔ جانچ ٹیم خود ہی یہ تصدیق بھی کرتی ہے کہ جائے واردات پر اس قسم کا کوئی بھی ثبوت نہیںپایا گیا جس سے یہ کہا جاسکے کہ اس لڑکے کو دلتوں نے مارا تھا۔ تشدد میں ایک اور نوجوان سنگین طور پر زخمی ہوا۔ اس بارے میں جانچ ٹیم نے ہلکا سا ذکر کیا اور اتنا ہی کہا کہ وہ جولی گرانٹ ہوٹل میں بھرتی ہے۔
شبیر پور کے واقعہ کے بارے میں پولیس نے 17 لوگو ں کو گرفتار کیا ہے۔ اس میں دونوں فریقوں کے لوگ شامل ہیں۔ کل چھ مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ واقعہ سے متاثرہ دلوگوںکو ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاوضہ دینے کی کارروائی چل رہی ہے۔ 20 اپریل کو ہوئے واقعہ کے ملزم بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال شرما کے خلاف ا بھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

 

 

گونج پہنچی جنتر منتر
سہارنپور واقعہ کے خلاف دلتوں کا غصہ 21مئی کو دہلی کے جنتر منتر پر پہنچا۔ اس مظاہرے کا انعقاد بھیم آرمی نے کیا تھا۔ بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد راون کے خلاف سہارنپور میں درج مقدموں پر مظاہرے میں بھی غصہ کا اظہار کیا گیا۔ سبھا کو بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھر ،وجے رتن، روی کمار گوتم، جے بھگوان جاٹو، کنور سنگھ بدلیا،شانتی سروپ بودھ، پروفیسر ہنس راج سمن، وی پی سنگھ لبرا،گجرات کے جگنیش موالی، جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار سمیت کئی لوگوں نے خطاب کیا۔ بھیم آرمی نے یہاں تک دھمکی دے ڈالی کہ ان کی مانگیں نہیںمانی گئیں تو ملک کے زیادہ تر دلت بودھ دھرم اپنالیں گے۔ اپنے اوپر لگے نکسلی کنکشن کے الزام پر چندر شیکھر نے کہا کہ سماج کے مفاد کے لیے انھیں نکسلی ہونا بھی قابل قبول ہے۔
دراصل سہارنپور کے معاملے میں بھیم آرمی 9 مئی کو داخل ہوئی، جب ان لوگوں نے مقامی روی داس ہاسٹل میں میٹنگ بلائی۔ پولیس نے انھیں ہاسٹل میں میٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی اور انھیں گاندھی میدان جانے کو کہا۔ بھیم آرمی کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہاں سے بھی پولیس نے انھیں کھدیڑ دیا۔ اس کے بعد بھیم آرمی نے شہر بھر میںہنگامہ کرنا شروع کردیا۔ پولیس نے اس بارے میںبھیم سینا کے ممبروں کے خلاف کئی معاملے درج کیے او رتقریباً تین درجن گرفتاریاں کیں۔
مایاوتی پر تذبذب
کچھ لوگوںکو مایاوتی کچھ بولیں تب بھی اعتراض ہوتا ہے اور وہ کچھ نہ بولیں تب بھی اعتراض ہوتا ہے۔ آل انڈیا پیپلز فرنٹ کے ترجمان ایس آر داراپوری ایسے ہی لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔ داراپوری کو اعتراض ہے کہ مایاوتی نے سہارنپور کے معاملے میںخاموشی اختیار کیے رکھی۔ داراپوری نے اترپردیش جن منچ کے ترجمان اور سوراج ابھیان کے رکن کے طور پر باقاعدہ پریس ریلیز جاری کرکے کہا ہے کہ ایک طرف مایاوتی، ہری شنکر تیواری کے گھر پر دبش کے معاملے میں بی ایس پی کے ریاستی صدر کو گورکھپور بھیجتی ہیں اور اسمبلی سے واک آؤٹ کراتی ہیں،لیکن دوسری طرف سہارنپور کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے رہتی ہیں، نہ وہ خود موقع پر جاتی ہیں اور نہ ہی اپنے کسی نمائندے کو وہاں بھیجتی ہیں۔ داراپوری کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ بھیم سینا کے ممبروں کی گرفتاری کے مسئلے پر بھی مایاوتی خاموش کیوں ہیں؟ بی ایس پی لیڈر مایاوتی کی چپی توڑنے اور سہارنپور کا دورہ کرنے کے بعد بھی داراپوری نے اپنا غیر منطقی بیان واپس لینے کے تعلق سے کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی۔
داراپوری کے دعوے کے برعکس اصلیت یہ ہے کہ 5 مئی کے واقعہ کے بعد بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے افسوس اور تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ واقعات کے بعد اب نسلی جھگڑے کی واردات سے اترپردیش حیرت زدہ ہونے لگا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جرائم پر کنٹرول اور لاء اینڈ آرڈر بہتر کرنا برسرا قتدار بی جے پی کے بس کی بات نہیں ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ بغیر اجازت کے جلوس نکالنا اور اس دوران منمانی کرکے ماحول خراب اور پرُتشدد بنانا حقیقت میں ایک فیشن جیسا ہوگیا ہے، جس کو روک پانے میں ریاستی سرکار ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ ریاستی سرکار غیر سماجی اور مجرمانہ عناصر کے سامنے بونی دکھائی دے رہی ہے۔ بغیر اجازت کے جلوس نکالنے اور اسے لے کر نئی روایت کی شروعات کرنے والے لوگوں پر سخت قانونی کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا تھا کہ بی جے پی سرکار کو اب اپنی کتھنی اورکرنے کے فرق کو ختم کرکے ریاست میں نظم و نسق بہتر بنانے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ مایاوتی پھر 23 مئی کو سڑک کے راستہ سے سہارنپور بھی پہنچیں اور متاثرہ دلت خاندانوں سے ملیں۔
مایاوتی نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے پارٹی فنڈ سے معاوضہ کا اعلان کیا اور کہا کہ جن کے گھر جلے ہیں، انھیں 50 ہزار روپے اور جن کا نسبتاً کم نقصان ہوا ہے ، انھیں 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ مایاوتی نے شبیر پور گاؤں میںاسٹیج سے یہ اعلان کیا۔ مایاوتی نے کہا کہ سہارنپور فساد بی جے پی نے کرایا ہے۔ مایاوتی کے شبیر پور پہنچنے سے قبل بھی دلت فرقہ کے لوگوں نے دوسرے فرقہ کے لوگوں کے گھروں میں آگ زنی کی اور مایاوتی کے واپس لوٹنے کے بعد بھی پُرتشدد واقعات جاری رہے، جن میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔

 

 

سہارنپور کو لگا گہن
مغربی اترپردیش کے سہارنپور کو سیاسی پارٹیوں کا گہن لگ گیا ہے۔ سیاسی روٹیاں سینکنے والوں نے ضلع کو اپنے گھیرے میںلے لیا ہے۔ مظفر نگر ، ہری دوار، دہرہ دون، یمنا نگر اور شاملی سے گھرا سہارنپور ،یوپی کو اتراکھنڈ اور ہریانہ سے جوڑتا ہے۔ مغربی اترپردیش کے سبھی ضلعے فرقہ وارانہ فسادات کے حساب سے حساس مانے جاتے ہیں لیکن سہارنپور نسبتاً پُرامن اور بہتر ضلع رہا ہے۔ سہارنپور میں کبھی فساد نہیں ہوئے لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں سہارنپور کو نسلی اور فرقہ وارانہ سیاست کا مرکز بنا دیا گیا۔
سہارنپور کی سیاست میںبی ایس پی اہم کڑی رہی ہے۔ فرقہ وارانہ پولرائزیشن سے قبل بی ایس پی، ایس پی اور کانگریس سہارنپور کی سیاست کو کنٹرول کرتی تھیں۔ ذات برادری کی ایکوئیشن کے حساب سے بھی اعلیٰ ذات کے لیے یہ سیٹ بہت مضبوط نہیں تھی۔ مسلمانوں کی تعداد 45 فیصد سے زیادہ ہونے کے سبب 26 فیصد آبادی کے پولرائزیشن کی سیاست میںبی جے پی کامیاب ہوگئی۔ بی ایس پی کی ا س ضلع میں پکڑ خاص طور پر دلت فرقہ کی چمار ذات کی بڑی تعداد کے سبب ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ 1989 سے قبل مغربی اترپردیش میں دلت ووٹ بڑی تعداد میں نہیںپڑتا تھا، لیکن بی ایس پی کے عروج سے دلتوں، پچھڑوں اور پسماندہ مسلمانوں کا اتحاد مضبوط ہوتاگیا۔ اس سے اعلیٰ ذات کا دبدبہ کم ہوتا گیا۔
اترپردیش کے انتخابات میں بھاری جیت کے بعد بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں۔ اب مقامی بلدیات کے انتخابات سامنے ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ پورے ہندوستان میں پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک بی جے پی کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے بی جے پی کو جو بھی’ اُپکرم ‘کرنا پڑے، وہ کرے گی۔ مقامی بلدیا ت میں جیتنے کے لیے دلتوں کا ساتھ بھی چاہیے اور انھیں اکسانا بھی چاہیے۔ سہارنپور کے واقعہ کو غور سے دیکھیں تو یہ سوال اٹھے گا کہ جب امبیڈکر جینتی پورے ملک میں 14 اپریل کو منا لی گئی تھی تو 20 اپریل کو سہارنپور میں جبراً جلوس نکالنے کا کیا جواز تھا؟
گہری سازش
جلوس کے کندھے پر رکھ کرگہری سیاست کی سازش تو نہیں رچی جارہی تھی۔ سہارنپور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام لکھن پال شرما نے پولیس انتظامیہ کی پرواہ کیے بغیر جو شوبھا یاترا نکالی ، وہ بالکل غیر قانونی تھی،لیکن شرما پر کوئی کارروائی کرنے کے بجائے مشتعل بھیڑ کے حملے کا شکار ہوئے ایس ایس پی لو کمار کا ہی تبادلہ کردیاگیا۔ ایس ایس پی کی سرکاری رہائش پر رکن پارلیمنٹ کے حامیوں نے حملہ کیا لیکن سرکارنے رکن پارلیمنٹ کو آڑے ہاتھوں لینے کے بجائے ایس ایس پی کو ہی باہر کا راستہ دکھادیا۔
لوکمار کی جگہ سہارنپور کے جو نئے ایس ایس پی سبھاش چندر دوبے آئے، ان کے بارے میںخبر ہے کہ وہ مظفر نگر فسادات کے دوران وہاں کے ایس ایس پی تھے اور سابق جج ویشنو سہائے کی جانچ میںانھیں فسادات نہ روک پانے کا مجرم پایا گیا تھا۔ بہرحال سہارنپور کے اس طرح کے چھوٹے بڑے بلوے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ مغربی اترپردیش جو ایک خوشحال خطہ رہا ہے، جہاںکے کسان سیاسی، اقتصادی طور پر طاقتور رہے ہیں، آج وہاں سے خوشحالی غائب ہورہی ہے۔کھیتی خطرے میں ہے، کسانوں کے مدعے غائب ہیں۔ کسانوں کے مدعوں کو فرقہ پرستی اور ذات پات کے زہر میں گھول دیا گیا ہے۔ اس علاقہ نے میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ، آگرہ، بریلی،بجنور ،ملیانہ جیسے خوفناک فساد دیکھے ہیں اور انھیںبھگتا ہے۔ سہارنپور تشدد کے اسباب کی تفصیل سے جانچ ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ یا اسمبلی کی اعلیٰ کل جماعتی کمیٹی سے اس معاملے کی جانچ کرانی چاہیے۔ ساری پارٹیوں کو ایسا قانونی راستہ نکالنا چاہیے کہ جن لیڈروں کا نام نسلی یا فرقہ وارانہ فساد پھیلانے میں آئے، انھیں الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ نہ ملے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *