ریاض اسلامی کانفرنس ایران کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحیثیت صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں سب سے پہلے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کا بھی دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتیانیو سے ہوئی ۔ ریاض میں انہوں نے علاقائی سربراہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس اجلاس میں51 اسلامی ممالک سمیت 15 عرب ممالک نے شرکت کی جبکہ سوڈان کے صدر عمر البشیرنے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ سعودی عرب نے سوڈان کے صدر کو اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا جس پر امریکہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے کہ صدر عمر البشیر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے مصافحہ تو کیا جس کو پاکستان اپنے لئے ایک بڑی کامیابی سمجھ رہا ہے لیکن ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کے سلسلہ میں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔یعنی امریکا کی نظر میں پاکستان کا کردار تب تک مشکوک رہے گا جب تک اس کی خواہشات کے تمام تقاضے پورے نہیں کردئیے جاتے۔ ظاہر ہے پاکستان میں پنپ رہی دہشت گردی کے بارے میں اسے سوچنا ہوگا۔
عرب اور اسلامی دنیا کے عوام امید کر رہے ہیں کہ ریاض مسلم ممالک سربراہ کانفرنس سے واشنگٹن کے ساتھ رابطے پر قائم تعلقات کی نئی راہ پیدا ہو گی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو ماہ تک بھرپور کوششیں کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے دو کامیاب اتحاد بھی تشکیل دیئے تھے۔ ایک عرب اتحاد اور پھر اس کے بعد دوسرا اسلامی اتحاد۔ ان اتحادوں کے مشن کا واشنگٹن کی جانب سے خیر مقدم کیا گیاتھا۔ان سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ مزید خوش حال عوام کے ذریعہ دنیا کو زیادہ محفوظ اور پْر امن بنایا جائے۔
سب سے بڑا دفاعی سودا
سابق امریکی صدر اوبامہ نے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرکے سعودی عرب کو ناراض کرلیا تھا۔ نئے امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ پرانے گرم جوش تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مرکزی خیال امریکہ کے اندر سرمایہ کاری لانا اور اپنے شہریوں کو انتخابی وعدے کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اپنے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوںنے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز سعودی عرب میں ساڑھے تین سو ارب ڈالر کے معاہدوں سے کیا ہے۔ان معاہدوں میں 150 ارب ڈالر کا اسلحہ معاہدہ بھی شامل ہے جو کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہے۔6 مسلم ممالک کے مہاجرین کے ویزوں پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کو سخت تنقید کا سامناتھا ۔ انہیں مسلم مخالف امریکی صدر سمجھا جارہا تھا لیکن ان کا یہ دورہ اس سوچ کو بدلنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبر کا کہنا ہے کہ’’ امریکی صدر کے اس دورے سے اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان عموماً اور امریکہ کے درمیان خصوصاً بات چیت کا انداز بدلے گا اور یہ پیغام جائے گا کہ امریکہ عالم اسلام کا دشمن نہیںہے۔امریکی صدر کا یہ دورہ شدت پسندوں کو تنہا کر دے گا، چاہے وہ ایران ہو، دولتِ اسلامیہ ہو یا القاعدہ ہو، جو کہتے ہیں کہ مغرب ہمارا دشمن ہے۔

 

 
ایران کے خلاف تیورسخت
صدر ٹرمپ نے سربراہان کانفرنس میں امریکہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیااور کہا کہ ایران ’’دہشت گردوں اور ملیشیا (Militias)کی تربیت کررہا ہے ،انھیں مسلح کررہا ہے ، انھیں فنڈنگ فراہم کر رہا ہے اور ایران اپنے رویے کی وجہ سے خطہ میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے‘‘۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی امریکہ ایران کی ایٹمی توانائی کی وجہ سے تشویش میں ہے اور اسے خطہ کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے تو پھر اس نے جوہری معاہدے میں نرمی کیوں کی ؟ماضی میں صدر ٹرمپ ایران کی میزائل سرگرمیوں پر کئی مرتبہ ایران کو خبردار کر چکے ہیں اور سابق صدر اوباما کی جانب سے طے کئے جانے والے معاہدے کی شرائط کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کہا تھا کہ’ ’اگر میں منتخب ہو گیا تو اس تباہ کن معاہدے کو ختم کرنا میری اولین ترجیح ہوگی‘‘۔مگر جیت حاصل کرنے کے بعد معاہدے کو ختم کرنے کے بجائے اس کی توسیع میں نرمی کا مظاہرہ کیا گیا،جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ریاض کی امریکن اسلامک کانفرنس میں جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ،زمینی حقیقت اس سے الگ ہے۔
ایران کی مخالفت کیوں؟
صدر ٹرمپ کا اسلامی سربراہان کے سامنے ایران کے خلاف سخت بیان دینا ،ان کے کئی خفیہ اہداف کا حصہ ہے۔ ایک تو یہ کہ حسن روحانی جب پہلی بار ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے اعتدال پسند پالیسی اختیار کی تھی۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ خطہ میں شیعہ -سنی میں جو شدت اور دوری تھی ،اس میں بہت حد تک کمی آئی تھی، مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر سنی ممالک امریکی لابی میں شامل ہیں جبکہ ایران امریکہ مخالف رہا ہے ۔ظاہر ہے یہ ممالک ایران سے جتنا دور رہیں گے ،امریکہ سے اتنا ہی قریب ہوجائیں گے۔چونکہ خطہ میںشیعہ- سنی دوری میں کمی سے امریکہ کا اثرو رسوخ ان پرکمزور پڑتا دکھائی دے رہا تھا،خاص طور پر جب سے سعودی عرب کے اصرار کے باوجود سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے شام پر راست فوجی کارروائی کرنے سے گریز کیا تھا۔ تب سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان رشتوں میں کچھ کراہٹ سی آگئی تھی، ٹرمپ نے اپنے اس دورے سے جہاں ایک طرف رشتے کی اس کراوہٹ کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ،وہیں ایران کے خلاف کھل کر بول کر جو کڑواہٹ شیعہ -سنی کے بیچ سرد پڑ گئی تھی، اسے ایک مرتبہ پھر گرم کردیا ہے۔دوسرا یہ بھی کہ صدر ٹرمپ اپنے پیشرو باراک اوبامہ کی بہ نسبت اسرائیل و فلسطین کے سلسلے میں اسرائیل کے تعلق سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔وہ پہلے ہی راجدھانی کوتل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے بھی ان کا موقف قدرے نرم ہے اور وہ کہتے ہیں کہ امن کی تلاش میں شاید ان بستیوں کی موجودگی نہیں بلکہ پھیلاؤ رکاوٹ ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ مشرقی یروشلم اور غربِ اردن میں 1967 کے بعد بننے والی ان 140 بستیوں میں 6 لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جس پر فلسطین اپنی مستقبل کی ریاست کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہیں مگر ٹرمپ ان بستیوں کی آبادکاری کو نظر انداز کررہے ہیں۔ حالانکہ اس مرتبہ انہوں نے اس پر کھل کر کچھ نہیں بولا لیکن ایران جو کہ فلسطین کا سب سے بڑا حامی ہے اور لبنان میں حز ب اللہ جو کہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ جنگجو گروپ ہے ، اسرائیل کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ٹرمپ نے ایران مخالف بیان دے کر سرائیل کو خوش کیا ہے کہ اس کے سب سے بڑے دشمن ایران کووہ کبھی بھی جوہری طاقتور ملک نہیں بننے دے گا۔اس طرح دیکھا جائے تو ایران کے خلاف تیور دکھا کر ٹرمپ نے ایک طرف سنی ممالک پر اپنا اثرو رسوخ بڑھا یا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو بھی خوش کیا ہے۔
عرب -اسرائیل قربت کا راستہ صاف
صدر کے اس طریقہ کار نے خطہ میں ایک اور بڑی تبدیلی پیدا کی ہے اور وہ ہے دشمن کا دشمن دوست۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں دو بڑی طاقتیں برتری کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ وہ دونوں طاقتیں ہیں ایران اور سعودی عرب۔ اسی برتری کا نتیجہ ہے کہ شام میں ایک طرف سعودی عرب بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے تو دوسری طرف ایران کھل کر بشار کے ساتھ ہے۔ اسی طرح یمن میں برسراقتدار کے ساتھ سعودی عرب کھڑا ہوا ہے تو حوثیوں کے ساتھ ایران ہے۔ سعودی عرب کا اثرو رسوخ خطہ میں تمام چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں پر ہے اور یہ ممالک سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ ایسے میں جبکہ سعودی عرب اور ایران آمنے سامنے ہے اور ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن بنے ہوئے ہیں تو اسرائیل جوکہ ایران کا دشمن ہے ،فطری طور پر سعودی عرب کا دوست بنے گا اور خطہ میں جو بھی سنی عرب ممالک ہیں ،وہ ایران دشمنی کی وجہ سے اسرائیل سے قریب ہوںگے۔غالباً اسی قربت کا نتیجہ ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسلحہ ڈیل اور عرب ناٹو کے قیام پر اسرائیل نے کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا کہ یہ مسلم اتحاد خطے کے وسیع تر مفاد میں بن رہا ہے ۔ٹرمپ سنی ممالک اور اسرائیل کی اس قربت میںمزید اضافہ چاہتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے ایران کے خلاف اشتعال انگیز بیان دے کر اس موضوع کو پھر سے زندہ کردیاہے۔
ٹرمپ کا تیور اور روحانی کا جواب
صدر نے سعودی عرب کے بعد یروشلم پہنچنے کے بعد بھی ایران کو نشانے پر لینا نہیں چھوڑا ۔انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے سامنے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور 2015 میں دنیا کی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران سمجھتا ہے کہ وہ ’جو چاہے کر‘ سکتا ہے تو اسے ایسا نہیں کرنے دیا جاسکتا ۔یران نے براک اوباما کے ساتھ ایک زبردست ڈیل کی تھی جس سے انھیں خوشحالی کا راستہ ملا۔ تاہم اس پر شکریہ ادا کرنے کے بجائے ایران دہشت گردی کی حمایت میں لگ گیا۔
امریکی صدر کے اس ریمارکس پر ایران کے دوبارہ منتخب صدر حسن روحانی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ مشرق وسطیٰ میں استحکام تہران کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب میں منعقدہ اسلامی کانفرنس ایک رسمی تقریب تھی جس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی نتائج نکلیں گے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کون یہ کہہ سکتا ہے کہ علاقائی استحکام ایران کے بغیر بحال ہوسکتا ہے؟ کون یہ کہہ سکتا ہے کہ ایران کے بغیر خطے میں مکمل طور پر استحکام ہوگا؟‘ حسن روحانی نے کہا کہ انتخابی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی عوام ملک میں مزید جمہوریت اور دنیا سے روابط چاہتے ہیں، جس سے اقتصادی ترقی حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران یہ جاننے کا منتظر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ آخر چاہتی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام انتظار کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کب مہذب بنتی ہے اور امید ہے کہ معاملات جلد حل ہوجائیں گے، جس کے بعد ہم کوئی درست فیصلے کرسکیں گے۔دہشت گردی کا مسئلہ سپر پاورز کو دولت دے کر حل نہیں ہوسکتا۔دنیا کو یاد رکھنا چاہئے کہ ’تہران اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوم طاقتور بننے کا فیصلہ کرچکی ہے، ہمارے میزائل دفاع اور امن کے لیے ہیں، امریکی حکام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب بھی ہمیں میزائل کے تکنیکی تجربے کی ضرورت ہوگی ہم تجربہ کریں گے اور اس کے لیے ان کی اجازت کا انتظار نہیں کریں گے۔‘ انہوں نے ایران کے روایتی حریف سعودی عرب کو بھی جمہوری اقدار کی کمی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریاض پر زور دیا کہ وہ اپنے عوام کو آزادانہ انتخابات کے ذریعے ان کی قسمت کا خود فیصلہ کرنے دیں
امریکہ کا معاشی مفادسعودی عرب میں
بہر کیف ٹرمپ کا یہ سعودی عرب دورہ جہاں ایک طرف امریکہ کی حالیہ خارجہ پالیسی کا سمت طے کرتا ہے، وہیں امریکہ کے معاشی مفادات کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اطلاع کے مطابق سعودی عرب امریکہ سے 110 بلین ڈالر کے ہتھیار خرید رہا ہے۔ آئندہ دس سالوں میں یہ رقم 350 بلین ڈالر تک جا پہنچے گی۔ اس کے علاوہ اگر عرب ناٹو کامیاب ہوتی ہے تو اسے خطے (مشرق وسطیٰ) کی سیکورٹی کا کام سونپا جا سکتا ہے اور اس آرمز ڈیل سے امریکہ میں بے روزگاری کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
سعودی عرب امریکی اسلحے کا بہت پرانا خریدار ہے اور بدلے میں وہ امریکہ کو تیل فراہم کرتا ہے۔ 2008 میں امریکہ نے سعودی عرب کو 20 بلین ڈالر کے 15 F فروخت کیے جبکہ F 15 کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب کو یہ خریداری بہت مہنگی پڑی ہے ۔ کیونکہ اس کے لیے مملکت میں نہ تو پائلٹس موجود ہیں نہ ان کی مینٹننس کے لیے انجینئرز، ان کی مینٹیننس ان کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوگی۔اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ سعودی عرب کو ان جنگی جہازوں کی فروخت کا مقصد تیل کی قیمت کو سعودی عرب تک پہنچنے سے روکنا ہے تاکہ سعودی عرب کا انحصار امریکہ پر بنا رہے اور امریکہ مشرق وسطی اور مسلم دنیا کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اپنے مضبوط ترین اتحادی کو استعمال کرتا رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *