رمضان المبارک کے فضائل اور فوائد

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ماہ مقدس نیکیوں کی موسلادھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ قرآن مجید میں خالق ارض وسماء نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جائو‘‘۔
رمضان کا لفظ ’’رمضا‘‘ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانے کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاء کو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی ایک غرض و غایت اورکچھ نہ کچھ مقصد ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ تقویٰ نام ہی اس چیز کا ہے کہ تمام برائیوں سے انسان نفرت کرنے لگے اور نیکیوں کی طرف لپک کر جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ سے کسی نے پوچھا کہ اے امیر المومنین تقویٰ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کیا تیرا گزر کبھی خاردار جھاڑیوں سے ہوا ہے؟ تو وہاں سے کیسے گزرتا ہے؟اس آدمی نے کہا کہ اپنے دامن کو سمیٹ کر، کانٹوں سے بچ کر گزرتا ہوں کہ کہیں خاردار کانٹوں کی وجہ سے میرا جسم زخمی نہ ہو جائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا کہ یہی تقویٰ ہے کہ مسلمان اس دنیا میں گناہوں سے اپنے دامن کو بچا کر گزر جائے اور آخرت کا رختِ سفر باندھ لے۔
دراصل اللہ تعالیٰ کی بخشنے والی ذات نے اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر عطا کیا ہے جس میں مسلمان اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش اپنے رب سے طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس اپنے بندوں کے سابقہ گناہ اپنی رحمت سے معاف کر دیتی ہے۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ مبارک مہینہ ملا ہے اور وہ اس ماہ میں فضائل کو سمیٹ رہے ہیں۔

 

 

رمضان میں صحت مند کیسے رہا جائے؟
طبی ماہرین کے مطابق انسان کو رمضان میں مذہبی عبادات کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ صرف چند چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال کر کے روزے میں بھی اپنی صحت برقرار رکھ سکتے ہیں۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزہ داروں کو اکثر صحت سے متعلق پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس مرتبہ چونکہ رمضان المبارک مئی کی شدید گرمی میں آئے ہیں تو صحت کا خیال کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں بیشتر افراد کو جسم میں شوگر اور پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ اس لیے روزے داروں کو چاہیے کہ موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے رمضان گزاریں۔ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ روزے دار افطار و سحر میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور ریشہ سے بھرپور غذا لیں ،تلی ہوئی چیزیں نہ کھائیں
افطار
ماہرین کے مطابق افطار میں اعتدال سے کام لینا چاہئے ۔ چینی اور چربی سے بنائی جانے والی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اشیا انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالنے کے ساتھ ساتھ سر میں درداور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر یہ ہے کہ روزہ کھجور اور دہی، پانی اور تازہ پھلوں کے رس کے ساتھ کھولیں۔ اور دس منٹ بعد ایسی خوراک کھائیں جس میں معدنیات زیادہ ہوں۔آم کا موسم ہے لہٰذا آم ، کھجور کا مِلک شیک بناکر بھی استعمال کرنا مفید ہوگا۔ماہرین غذائیات افطار کے وقت بھی خود پر کنٹرول رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ افطار میں کولڈرنک، جنک فوڈ اور کیفین پر مشتمل خوراک مثلاً چائے کافی کا استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے پیاس بڑھ جاتی ہے
سحری
سحری میں وقت سے قبل بیدار ہوں تاکہ وقت کم ہونے کی وجہ سے بے صبری اور جلدی جلدی میں نہ کھانا پڑے، سحری میں بھی ایک کے اوپر ایک چیز بالکل نہیں کھانی چاہیے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کاہلی اور نیند کے باعث سحری نہیں کرتے۔ ماہرین نے اس رویے کو انتہائی غلط قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ سحری ضرور کریںاور سحری میں ایسے کھانوں کا انتخاب کریں جن میں کاربوہائیڈریٹس کی بھاری مقدار موجود ہو جیسے کہ روٹی اور دال وغیرہ۔سحری میں شوربے والے سالن استعمال کریں جس میں تیل اور مسالا کم ہو، جو باآسانی ہضم ہوسکے۔ کوشش کریں کہ غذا میں ریشہ کا زیادہ استعمال ہو، مثلاًپھل اور ہری سبزیوں کا استعمال کریں کیونکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں، اور ان کے استعمال سے دن میں پیٹ خالی محسوس نہیں ہوتا۔ اور ان کے ذریعے جسم کو پانی بھی مہیاہوتا رہتا ہے۔
ورزش
رمضان کے مہینے میں بھی ورزش کو اپنائے رکھیں اور جو افراد بالکل ورزش نہیں کرتے، انہیں تو رمضان میں ہلکی ورزش ضرور کرنی چاہئے۔ رمضان میں پیدل چلنے کو اپنا معمول بنائیں۔
نیند
رمضان میں روزمرہ کے شیڈول میں تبدیل واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے نیند کے دورانئے میں کمی آ جاتی ہے۔ ماہرین اسے انسان کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوشش کریں کہ دن کے 24 گھنٹوں میں سے کم از کم 8 گھنٹے ضرور سوئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *