ملک کے حالات تشویشناک ہیں: نصیر الدین شاہ

ممبئی : بالی ووڈ کے معروف ادکار ہ نصیر الدین شاہ اور ان کی اہلیہ رتنا پاٹھک کئی سالوں سے تھیٹر اور فلموں سے وابستہ ہیں۔ اب ان کے تینوں بچے بھی فلموں اور تھیٹر میں اپنی جگہ بنا نے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے مذہب اور ملک کے حالات سے وابستہ اپنی سوچ کا کھل کر اظہار کیا ان کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ان کی پیدائش ایک مسلم کنبہ میں ہوئی تھی، لیکن وہ مذہبی نہیں ہیں۔ ان کی بیوی رتنا بھی مذہب کو نہیں مانتی ہیں، اس لئے انہوں نے جب اپنے بچوں کا اسکول میں داخلہ کروایا تھا، تو داخلہ فارم میں ‘مذہب والا باکس خالی چھوڑ دیا تھا۔انہوں نے طے کیا تھا کہ ان کے بچے مذہب کو مانیں یا نہ مانیں، اگر مانیں تو کون سے مذہب کو، یہ فیصلہ بچوں کا ہی ہوگا۔ لیکن نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ اب انہیں ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں کوئی ان کے یا ان کے بچوں کو پکڑ کر ان کے مذہب کے بارے میں سوالات نہ کرنے لگے۔ نصیر الدین شاہ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مولوی صاحب نے اس عمر میں انہیں بھی مذہب سے وابستہ کئی باتیں سکھائی تھیں۔ ان سے بھی کہا گیا تھا کہ سچا مسلمان وہی ہے جو داڑھی بڑھاتے ہیں اور ٹخنوں سے اوپر پاجامہ پہنتے ہیں، لیکن ان کے خاندان میں کوئی بھی داڑھی نہیں رکھتا تھا۔آج کے دور پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ آج سے پہلے اس ملک میں کبھی بھی امن اور اتحاد پھیلانے والی سمجھداری بھری باتوں کو بزدلی یا غداری نہیں سمجھا گیا تھا۔ اگر ایک مسلمان ہو کر کوئی ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کی بات کرتا ہے تو اسے پاکستانی کہہ دیا جاتا ہے۔ شاہ بتاتے ہیں کہ یہ بات انہیں انتہائی چونکاتی ہے کہ فیس بک پر نیوکلیئر جنگ سے وابستہ وارننگ کو تو بہت ہی کم لائکس ملتے ہیں ، لیکن اسلام مخالف باتیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔
ملک کی تقسیم کے بعد جوان ہوئی نسل کے زیادہ تر لوگوں کی طرح بچپن سے انہوں نے مسلمانوں اور سکھوں کی آپسی دشمنی کی باتیں سنی تھیں۔ لیکن انہیں اپنے دوستوں کے درمیان کبھی بھی ایس بات کا احساس نہیں ہوا۔ نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں جو ہو رہا ہے، وہ طویل عرصہ سے ہونا ہی تھا، جن ریاستوں میں لوگوں کو دیکھ کر ان کا مذہب بتانا مشکل تھا، پچھلے دس سالوں میں وہاں بھگوا کپڑے، تلک، داڑھی، حجاب اور ٹوپی کی کثرت نظر آنے لگی ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے،

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *