’گاگر‘ سے چھلکا کسانوں کا درد

دودہائی قبل مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع میںپانی جمع کرنے کے لیے ریاستی سرکار نے ایک اندھیرے تالاب کی کھدائی کرائی تھی۔ بارش ہونے پر وہ تالاب لبالب بھرگیالیکن اگلے ہی دن پھر خالی ہوگیا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ بغیر سوچے سمجھے کھدائی ہونے کے سبب تالاب کی جھر ٹوٹ گئی تھی۔اسی جھر کی وجہ سے تالاب کا پانی یہاںکی مقامی گرینائٹ جغرافیائی ساخت سے الگ تھا۔ آج سرکار خشک سالی سے راحت کے لیے آب پاشی کے کئی پروجیکٹ چلا رہی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے ان پروجیکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں لیکن شاید ہی کوئی پروجیکٹ مقررہ وقت پر پورا ہوتا ہے یا کسانوںکو اس کا فائدہ ملتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آب پاشی کے ان پروجیکٹوں سے سرمایہ داروں کی صنعتیںتو خوب پھل پھول رہی ہیں لیکن کسان آج بھی بے حال ہیں۔
ہزاروں کسان احتجاج پر
چھتیس گڑھ کسان سبھا اور آدیواسی ایکتا مہا سبھا کے بینر تلے آج ہزاروں کسان اور آدیواسی امبیکا پور میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ بلرامپور ضلع کے گیارہ گاؤوں کو بہتر آبپاشی سہولت دینے کے لیے سرگوجا ضلع کی لنڈرا تحصیل میں گاگر فیڈر کی تعمیر ہورہی ہے، اس سے سرگوجاکے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن اس پروجیکٹ سے سات گاؤوں کی 300 ہیکٹیئر سے زیادہ زمین متاثر ہورہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے مقامی لوگ کھیتی کرکے گزربسر کرتے ہیں۔ اگر زمین کی تحویل کرکے تالاب بنایا گیا تو اس سے ان کا ذریعہ معاش چھن جائے گا۔
اس بڑے تالاب کی تعمیر کی تجویز دس سال پرانی ہے۔ تجویز کے مطابق اس سے 11 گاؤوں کو آب پاشی کے لیے پانی ملنا ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ گیارہ گاؤوں کو سیراب کرنے کے لیے سات بسے بسائے گاؤوں کو اجاڑا جارہا ہے۔ کسان کہتے ہیںکہ جب انھیںآب پاشی کے لیے پانی ہی نہیںملے گا توہ اپنی زمین کیوںدیں؟ تالاب بننے سے یہ پورا علاقہ زیر آب ہوجائے گا لیکن اس کا فائدہ بلرامپور ضلع کو ملے گا۔ وہیں، ریاستی سرکار نے سرگوجا ضلع کے کندی علاقہ میںگاگرندی پوربڑے باندھ کی تعمیر کے لیے 36 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پروجیکٹس سے کھالپوڑی،کرگیڈیہہ، بکنا، چلگلی،اداری، ڈکئی،ڈڈگاؤں، کندی وغیرہ گاؤوں کے کسانوںکی زمین چھن جائے گی جس سے 10,000 سے زیادہ لوگ متاثر ہوںگے۔
گاگر باندھ کی تعمیر آئین کے پانچویں شیڈول کے پروویژن کی خلاف ورزی ہے۔ جیو ایکٹ کی دفعہ 41 کے تحت ان علاقوں میںگرام سبھاؤں کی رضامندی کے بغیر زمین کی تحویل نہیںکی جاسکتی ہے۔ دیہی لوگوںکا الزام ہے کہ تالاب کو لے کر بلائی گئی گرام سبھاؤں کی میٹنگوں کے رجسٹر میں چھوڑی گئی خالی جگہوں پر فرضی دستخط کردیے گئے۔ انتظامیہ کو اتنی جلدی تھی کہ جلد بازی میں ایک پنچایت کی تجویز پر ایک خاتون سرپنچ کے دستخط کردیے جبکہ اس پنچایت میںکبھی کوئی خاتون سرپنچ نہیںرہی ہے۔ گرام سبھا کی فرضی تجویز کا سہارا لینے کا خلاصہ 2016 میں لنڈرا میں منعقد ایک عوامی سماعت کے دوران ہوگیا تھا۔ تب پانچ گاؤوں کے ہزاروںکسانوں نے باندھ کی تعمیر کی پُرزور مخالفت کرکے تجویز کو فرضی قرار دیا تھا۔
کسان اور آدیواسیوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب زمین کا معاوضہ دینے کے لیے نوٹس تھمائے جانے لگے۔آدیواسیوں کی زرخیز زمین کو بنجر بتاتے ہوئے انتظامیہ نے ایک طرف فیصلہ کرتے ہوئے 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے فی ایکڑ معاوضہ کی رقم طے کردی۔ دیہی باشندوں کی رضامندی نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ زبردستی زمین تحویل کرنے لگا۔ تالاب سے متاثرہ علاقوں میں آدیوی واسیوں کو پہلے جنگلاتی زمین کا پٹّہ دیا گیا تھا۔ اب زمین کی تحویل کے نام پر انتظامیہ مذکورہ پٹوںکو گرام چوکیدار کے ذریعہ واپس لے رہا ہے۔ گاؤں کے کشُن مہتو کہتے ہیں کہ یہ فاریسٹ رائٹس لاء کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ سرکار کے پاس بے گھر ہوئے گاؤں والوں کی بازآبادکاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ہم جان دے دیں گے لیکن زمین نہیں دیں گے۔ باندھ کی تعمیر سے اس علاقہ کے کسان تباہ ہوجائیں گے۔

 

عظیم الشان ریلی
چھتیس گڑھ کسان سبھا نے 17 مارچ کو ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا۔ ریلی میںایک ہزار سے زیادہ گاؤںوالوں نے شرکت کی ، جس میں زیادہ تر آدیواسی اور خواتین شامل تھیں۔ ریلیمیں سابق کسان سبھا نے ایک وسیع مہم چلا کر دیہات کے لوگوں کو صف آراکیا تھا اس دروان کئی گاؤوں میں میٹنگ کی گئی۔ فرضی قرارداد کی جانکاری دے کر گاؤں والوں کو سچ سے روبروکرایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ریلی میںپچاسوں کلو میٹر دور سے سے پیدل چل کر سیکڑوں آدیواسی ریلی میں شریک ہوئے۔
کسانوں کی مخالفت کے سبب افتتاح کے بعد سے ہی ’گاگر فیڈر جلاشیہ‘ کا کام ٹھپ ہے۔ حالانکہ محکمہ جاتی افسران کسی طرح کام شروع کرنے کے لیے پوری طاقت جھوک رہے ہیں۔ آبی وسائل بلرامپور کے ایکزیکٹو انجینئر رام ٹیکر کہتے ہیں کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے زمین کے حصول کا عمل مکمل کرکے زمین فراہم کرائی جائے گی تبھی کام شروع ہوگا۔ گرام سبھا کی رضامندی سے زمین کا حصول وغیرہ ہمارا کام نہیں ہے۔ وہیں لنڈرا رکن اسمبلی چنتا منی مہاراج سمیت کئی مقامی لیڈر اس پروجیکٹ پر انتظامیہ سے نظر ثانی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
انٹرنیشنل کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر زراعت بون ایپن اور شری سبّاراؤ کا کہنا ہے کہ تالابوں سے آبپاشی کرنا کسانوں کے لیے اقتصادی نقطہ نظر سے فائدہ مند اور زیادہ پیداواری ہوتا ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ پرانے تالابوں کی حفاظت اور نئے تالاب بنانے کے لیے ’بھارتیہ تالاب پرادھیکرن‘ کی تشکیل ہونی چاہیے۔ سابق کمشنر برائے زراعت بی آر بھنبولا کا بھی ماننا ہے کہ جن علاقوں میںسالانہ بارش کی اوسط 750 سے 1150ملی میٹر ہے، وہاں نہروں کی بنسبت تالاب سے آبپاشی زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ اگر مختلف آبپاشی پروجیکٹوں پر خرچ بجٹ اور اس سے ہوئی آبپاشی اور ہزار سال پرانے تالابوں کی صلاحیت کا موازنہ کریں تو جدید انجینئرنگ کے نقصان ہی زیادہ نظر آتے ہیں۔ ایسے میںپالیسی سازوں کو یہ طے کرنا ہے کہ بڑے تالابوں کی تعمیر کرکے باندھ کمپنیوں اور انٹرپرینئرس کو فائدہ پہنچانا ہے یا پھر خشک سالی سے راحت پانے کے لیے روایتی وسائل کی طرف لوٹنا ہی بہتر متبادل ہے۔
فرضی قرارداد کا ہوا پردہ فاش
آبی وسائل محکمہ نے 22 اگست 2015 کو کھالپوڑی پنچایت کی گرام سبھاکی قرارداد پیش کی تھی، جس میںآبپاشی پروجیکٹ کو دیہات کے لوگوںنے رضامندی دی تھی۔ گاؤںوالوںکی مخالفت کے بعد لنڈرا رکن اسمبلی چنتا منی مہاراج نے کہا کہ محکمہ کی یہ تجویز صحیح ہے یا غلط،اس کی جانچ کے لیے گرام پنچایت کا رجسٹر چیک کیا جائے گا۔ جب کھالپوڑی گرام پنچایت کے ذریعہ منعقدمیٹنگ کی جانچ کے لیے رجسٹر دیکھا گیا تب پتہ چلا کہ مذکورہ تاریخ کو گرام سبھا کی کوئی میٹنگ ہی نہیںہوئی تھی۔ کھالپوڑی گرام پنچایت کی موجودہ سرپنچ کوشلیا مرکام ہیں۔ قرار داد منظور ہونے کی تاریخ کے دوران بھی کوشلیا ہی کھالپوڑی کی سرپنچ تھیں۔ لیکن مذکورہ قرارداد میں سابق سرپنچ ہری ہر سائے کے دستخط ہیں۔ وہیںسابق سرپنچ کا بھی کہنا ہے کہ ایسی کسی قرارداد پر دستخط نہیںکیے ہیں۔ چنتا منی مہاراج نے کہا کہ غلط طریقہ سے قرارداد منظور کرنے کی کوشش میں انتظامیہ نے بہت بڑی چوک کردی ہے۔

 

 

لیڈروں کی پینترے بازی میںالجھی چال

پچھلے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کے دوران گاگر فیڈر جلاشیہ کی تعمیر ایک خاص انتخابی مدعا تھا۔ تب کانگریس اور بی جے پی،دونوںنے یقین دہانی کرائی تھی کہ تالاب کی تعمیر نہیںہونے دی جائے گی۔اسمبلی انتخابات میںریاست میںبی جے پی کی سرکار بن گئی لیکن علاقہ سے کانگریس کا امیدوار جیتا۔ وہیں پارلیمانی انتخاب میں اس حلقہ سے بی جے پی کا رکن پارلیمنٹ بنا اور مرکز میںبی جے پی کی سرکارہے۔ آج کانگریس، بی جے پی دونوںہی اس مدعے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کسانوںکو جب چھلے جانے کا احساس ہواتب انھوںنے کسان سبھا کے جھنڈے تلے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *