مسجد نہیں ،ہندوستان کی فخریہ روایت ٹوٹی ہے

(ایودھیا میں ڈھانچہ گرائے جانے پر 17دسمبر 1992 کو لوک سبھا میں چندر شیکھر)
آج میں اٹل جی سے اپیل کروں گا اور جسونت جی سے گزارش کروں گا کہ آج ہم نے اپنے انتہائی جذبات میں یا اپنے عارضی سیاسی فائدے کے لئے تمام روایتوں کو توڑ دیا۔ آج فرانس کے سب سے بڑے اخبار ’’ لامونڈے ‘‘نے لکھا ہے کہ ’’ ہندوستان میں مذہبی غیرجانبداریت ہمیشہ کے لئے مر گئی‘‘،ہمارے سامنے ہندوستان میں کئی بار اتار چڑھائو آئے ہیں،لیکن دنیا میں ایک ہی تہذیب،اگر مشترکہ تہذیب کو چھوڑ دیا جائے جو کبھی مٹی نہیں، کبھی ٹوٹی نہیں اور کبھی گری نہیں، ہندو مذہب اکیلا مذہب ہے۔میں نے ایک بار اس ایوان میں کہا تھا، مجھے ہندو ہونے کا اس لئے فخر ہے کہ ہندو مذہب نے سب کو اپنایا، کسی کو ٹھکرایا نہیں ۔ہندو مذہب نے سب کی عزت کی، تمام مذاہب کی جو اچھی خوبیاں تھیں، ان کو لیا۔ بودھ نے ہندو میں برہمن مذہب کو مٹانے کی کوشش کی، لیکن ہندو مذہب نے اس کو اوتار بنا کر اس کی پوجا کی۔ یہ ہماری روایت رہی ہے، یہ ہمارا احساس رہا ہے اور یہ روایت اور تہذیب رہی ہے۔
اڈوانی جی کہتے ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ لوگ گھیرے ہوئے تھے اور پانچ سو لوگ مسجد گرا رہے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ لوگ اتنیغیر فعال تھے کہ پانچ سو لوگوں کو روک نہیں سکتے تھے۔ دنیا میں آپ کس کو یقین دلانا چاہتے ہیں؟ دنیا میں کس کے سامنے آپ یہ اپنی صفائی دینا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ،آپ یہ نعرے دے کر کامیاب ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے پارلیمنٹ میں یہاں بڑی تعداد میں آ جائیں۔ تین دن پہلے میں نے اپنے کچھ دوستوں کو کہتے ہوئے سنا کہ کس میں ہمت ہے، مسجد بنائے گا، ایک اینٹ رکھے گا، اس کا گھر دروازہ سب ختم ہو جائے گا۔ اگر دروازہ ختم کر دوگے ، لیکن یاد رکھو اسی کے ساتھ ہندوستان کا ماضی ختم کرنے کی ذمہ داری آپ کے اوپر ہوگی۔ ہندوستانی آئین اور روایت کو قبر میں پہنچانے کی ذمہ داری آپ کی ہوگی۔
میں فرقہ وارانہ طاقتوں کی بات نہیں کرتا۔یہ لڑائی ملک کی مریادا کو، وقار کو بچانے کی لڑائی ہے، اس ملک کو زندہ رکھنے کی لڑائی ہے۔اس میں ایک مسجد نہیں ٹوٹے، ایک مندر نہیں ٹوٹے۔ مسجدٹوٹے ، مندر ٹوٹے ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن آج کروڑوں کا دل ٹوٹ گیا ، اس دل کو آپ نہیں جوڑ سکتے۔ آپ اپنے خطاب سے اس کو پھر سے جوڑ نہیں کر سکتے۔ 15کروڑ لوگوں کی عقیدت کو چوٹ پہنچی ۔مجھے یاد ہے، ہر بار مجھے ایسی ہی بات کرنی پڑتی ہے، جو لوگوں کو اچھی نہیں لگتی۔ڈیڑھ کروڑ سکھوں کے ساتھ جب کچھ ہوا تھا تب بھی میں نے کہا تھا مت کرو اس کام کو۔ اس وقت ہمارا بڑا تمسخر ہوا تھا،بڑی تنقید ہوئی تھی۔میں اٹل جی سے درخواست کروں گا کہ آج بھی چھوٹے دائرے کو توڑیں ،وہ ہم نہیں جانتے کہ یہ تسلیم کریں گے یا نہیں کریںگے۔ کیا اڈوانی کی گرفتاری سے سچ کچھ بدل گیا، کیا صورت حال، حقائق بالکل ٹوٹ گئے۔ ساری دنیا آج کہے گی کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی مٹانے کی کوشش ہور رہی ہے۔کیا اس کے لئے ہم کو اور آپ کو شرم نہیں آنی چاہئے۔
آپ نے ایک بیان میں کہا کہ یہاں پر ہم نے صحیح تصویر نہیں رکھی۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ یہ محض ڈھانچہ تھا، پوجا ہوتی تھی، نماز نہیں پڑھی جاتی تھی، صحیح ہے اٹل جی، لیکن کچھ نہیں تھا پھر بھی 500برسوں کی، 421برسوں کی عمارت تھی۔ دنیا کے کسی ملک میں آپ کہوگے کہ 400 برس پرانی عمارت،چاہے وہ پوجا کی جگہ ہو یا نہیں،ہم نے سیاسی وجوہات سے توڑ دیا ہے، تو دنیا میں کوئی آپ کی طرف منہ اٹھا کر نہیں دیکھے گا، دنیا آپ کے منہ پر کالک لگاکر رہے گی، کیونکہ ہماری تہذیب، روایت عظیم تاریخ کا حصہ ہے اور آپ نے اس کو اٹھا کر تہس نہس کر دیا۔ کیا بی جے پی کے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کو دنیا میں وقار ملنے والا ہے؟مجھے اس بات کو کہنے میں تھوڑی بھی ہچک نہیں ہے کہ دنیا کے اسلامی ملکوں نے جو رخ دکھایا ہے، 1-2 ملکوں کو چھوڑ کر، اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اپنا تحمل نہیں چھوڑا۔
صدر محترم، مجھے خوشی ہے کہ دنیاکے دوسرے ملکوں نے ہندوستان کی پرانی عظیم روایت کو، جو دوستی کی روایت ہے، کو قائم رکھا ہے۔ یاد رکھئے، اسلامی ملکوں نے ہماری سینکڑوں برسوں کی دوستی کی روایت کو قائم رکھا ہے اور آپ نے اس ملک کی ہزاروں برسوں کی روایت کو توڑا ہے۔ آپ اپنے کو ہندو مذہب کا سپہ سالار، عظمت ، تہذیب کا دعویدار کہیں، ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن اٹل جی، آپ سے ہمیں امید تھی، جسونت سنگھ جی، آپ سے ہمیں امید تھی۔ راج ماتا جی سے بھی ہم کو امید تھی،یہ تو امید تھی کہ وہ مذہب کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہیں، لیکن مسجد گرنے دیںگی، یہ ان سے امید نہیں تھی۔
میں یہ بات سیدھے طور سے کہتاہوں، اندر جیت جی نے جو لفظ استعمال کیا، وہ لفظ تو میں استعمال کرنا نہیں چاہتا۔لیکن اتنا کہنا چاہتاہوں کہ مرلی منوہر جوشی جی، اڈوانی جی، جو ساری دنیا کو چیلنج دے سکتے تھے، اپنے 500 کارکنوں کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے؟کیا آپ ملک کو چلائوگے،کیا آپ قوم کو اس مشکل وقت سے نکالوگے، یہ بات میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں،اس کا جواب تاریخ آپ سے پوچھے گی۔
ہمارے کئی دوست ادھر سے بول رہے ہیں کہ کیا کرتے، گولی چلا دیتے۔نہیں گولی مت چلائیے۔پولیس اور فوج بیٹھی ہوئی ہے، اس کی گولی کو مخمل کا گدا بچھا کر رکھ دیجئے اور جب ضرورت پڑے ،وہ آپ کو سیلوٹ دے سکے، انہیں گولی چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ فوج، پولیس جس پر ہر سال بجٹ پاس کرتے ہیں، کس لئے بنی ہوئی ہے۔ کیا گولی چلانے کے لئے نہیں بنی ہوئی ہے؟اسٹیٹ کا تصور کیسے بنا؟اسٹیٹ کئی پاور کا مجموعہ ہے، سختی کرنے کی طاقتوں کو سماج نے آپ کے ہاتھ میں دیا ہے۔ تاکہ سماج کو توڑنے والی طاقتوں کا مقابلہ کرسکیں اور ان طاقتوں کا اگر آپ استعمال نہیں کرتے ہیں تو آپ اپنے کردار سے الگ ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ ہم سے مت کہئے۔
اٹل جی نے کہا ارجن سنگھ جی سے کہ اتنا غصہ کر رہے ہو تو آپ استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا؟ارجن سنگھ جی نے بڑے ڈرامائی انداز سے کہا کہ میں بھاگنے والا نہیں ہوں،میں لڑنے والا ہوں۔ وزارت کے عہدہ سے ہٹ جاتے تو لڑنے میں کچھ کمی آجاتی؟اتنے کانگریس کے ممبرس بیٹھے ہیں، یہ نہیں لڑیں گے؟صرف وزیر لوگ ہی لڑیں گے؟اگر وزیر کا عہدہ نہیں رہے گا تو لڑائی نہیں لڑ سکتے۔میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست اداکاری نہیں ہے ،سیاست آسانی کا کھیل نہیں ہے، سیاست سخت فیصلہ دینے کے لئے ہر پل آپ کو مدعو کرتی ہے۔
آج یہاں پر اٹل جی نے کہا، وہ ملائم سنگھ سرکار پر بڑے ناراض ہیں۔ اس وقت بھی ناراض تھے لیکن ملائم سنگھ نے گولی چلوائی تھی تو صرف 16 لوگ مرے تھے اور کلیان سنگھ نے گولی نہیں چلوائی تھی تو کم سے کم 1200 لوگ مرے۔ آپ پھر کہتے ہیں ہم ذمہ دار نہیں ؟اڈوانی صاحب کا بیان ہے، کلیان سنگھ ،ملائم سنگھ نہیں ہو سکتے۔ میں جانتا ہوں ملائم سنگھ اور کلیان سنگھ میں کوئی موازنہ نہیں ہے۔ ملائم سنگھ آئین کے تحفظ کے لئے کچھ بھی کر سکتے تھے، کلیان سنگھ ،سَنگھ کے حکم کی تعمیل کے لئے کچھ بھی کر سکتے تھے۔ ایک کو آئین کا حکم تھا اور دوسرے کو سنگھ پریوار کا حکم تھا۔ دونوں حکموں میں فرق ہے۔ اس فرق کو ہمیں اور آپ کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ فرق ہم جانتے تھے۔ مجھے فرق معلوم تھا، یہ فرق ہمارے وزیر اعظم جی کو نہیں معلوم تھا، یہ فرق ارجن سنگھ جی کو نہیں معلوم تھا،یہ فرق نہیں معلوم تھا شرد پوار جی کو۔
صدر محترم ، ہم سے دنیا کے لوگ جب پوچھتے ہیں، ہم سب چیزوں کا جواب دے سکتے ہیںیا ہمارے پاس جواب ہے 6تاریخ کو، 11.45 بجے یا 11.30 بجے مسجد پر لوگ چڑھے، 6.15 تک آپ دیکھتے رہے۔ ایسی لنگڑی سرکار کہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی، ہمیں دھوکہ ہو گیا۔ دھوکہ آپ کو نہیں ہوا، آپ نے اپنے کو دھوکہ دیا اور آپ نے ملک کے عوام کو دھوکہ دیا۔
میں کانگریس کے وزیروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو کلنک کا دھبہ ملک کے اوپر لگا ہے، اس کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ آپ ارجن سنگھ جی کو جانتے ہیں۔ آپ کو زیادہ علم ہے۔میری ان میں بڑی دوستی رہی ہے۔ آج بھی کہتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو میں بہت بنیادی اور آئیڈیالسٹ آدمی مانتا ہوں۔مجھے کہنے میں ہچک نہیں ہے کہ آپ سرکار کے عہدہ پر بیٹھے تھے۔ آپ سب کچھ جانتے تھے اور چپ چاپ بیٹھے رہ گئے۔ آپ کو بھی کیا کوئی کرشن چاہئے، گیتا کا اُپدیش دینے کے لئے ارجن کی طرح، کہاں سے کوئی کرشن آتا؟آپ مہا بھارت کی بات کرتے ہو۔ مہا بھارت آپ نے پڑھا ہے اور کچھ سیکھا ہے ۔صرف پڑھ کر یہاں بھاشن دینے کے لئے ، اس کے دو لفظ یاد کرلیے۔
صدر محترم، آج یہ ملک ایک ایسے نکتے پر کھڑاہوا ہے جہاں ہمارے اور آپ کے لئے فیصلہ لینا مشکل ہے۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آج ہماری شناخت دائو پر ہے۔ آج ہماری یقین دہانی دائو پر ہے۔ پہلی بار ایسی سرکار اس ملک میں ہے جس کی یقین دہانی پر کسی کو کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ پہلی بار ایسا اپوزیشن ہے جس کے بارے میں دنیا کو کوئی غلط فہمی نہیں ہے،کم سے کم مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے جو کسی اقدار کو نہیں رکھنا چاہتے۔ اس ملک کی عجیب حالت ہے۔ جو سرکار کو چلا رہے ہیں وہ اپاہیج ہیں اور جو اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہ سرکار پر حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ وہ ملک کی شناخت کو توڑنا چاہتے ہیں اور ملک کی روایتوں کے خلاف کام کررہے ہیں۔ اپنے گرو دیو سے، انہوں نے کہا کہ شاگرد بہت ہی مدد کرسکتا ہے۔میں گرو دیو سے چاہوں گا کہ آپ میری مدد کریں۔ ایسے میں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں۔ آپ کے لئے بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔ بھیشم پتاما بن جانے سے کلنک لے کر ہی مریں گے تو کوئی اوپر مریادا نہیں ملنے والی ہے۔آپ کا اُپدیش کوئی نہیں سنے گا۔
صدر محترم ، آج یہ سخت صورت حال اس ملک کے سامنے ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ایوان ایک بار اس کی حقیقت کو سمجھے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کو چھوڑ کر ہم اپنی صحیح حیثیت کو ماننے کے لئے تیار ہوں۔ اگر ہم سے جرم ہوا ہے تو اس کو قبول کریں۔ اٹل جی، آپ نے جو انڈیا ابروڈ کو بیان دیا تھا، اس سے مت ڈریئے ، ہر وقت بدل جانا کوئی سیاست نہیں۔ صورت حال کے مطابق مڑ جانا اور حالت کے رخ سے اپنے کو بچا لینا، یہ کوئی سیاست کا کردار نہیں ہے۔
وزیر اعظم جی سے میں گزارش کروں گا بہت ہو گیا لیکن غیر فیصلہ کن کی حالت سے آپ کی شبیہ کو جو دھکا لگا، اس سے بچنے کے لئے کوئی بھی قدم بغیر سوچے سمجھے مت اٹھایئے۔ ناقابل یقین طور سے سرکاروں کو برخاست کرنے کا کام آپ سمجھیں کہ قدیم روایت کا عکس ہے ، آپ کی بگڑی ہوئی شبیہ کو سدھارنے کی بھونڈی کوشش ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح سے الزام لگائے گئے ہیں، اڈوانی جی کے اوپر تو کیا ان الزمات کو کسی بھی عدالت میں ثابت کرسکتے ہیں۔ اس وقت فیصلہ لینے کے لئے اڈوانی جی کے اوپر پولیس انسپکٹر نے الزام لگایا ہے تو اس الزام کو لے کر اڈوانی جی کو گرفتار کرتے ہو۔کس نے یہ صلاح دی تھی، کس نے یہ بات کہی تھی ،آج آپ بین کرتے ہو دوسرے دن ہائی کورٹ آپ کے اوپر کہتا ہے ،یہ غلط بین آرڈر ہے۔ اپنے فرض سے شکست کھانے کے بعد مسلسل اپنی ساکھ بڑھانے کے لئے غلط کام نہ کیجئے۔ اس سے ملک کا نقصان ہوگا، ٹکرائو اور بڑھے گی۔
آپ نے حمایت کی پالیسی سے شروع کیا تھا لیکن شاید کسی وزیر اعظم نے اتنی بری ٹکرائو کی پالیسی نہیں اختیار کی۔ اس لئے ہر وقت بولتے وقت کچھ اپنے جنڈر کا،اپنی شخصیت کا، اپنی صلاحیت کا، اپنی مریاد کا دھیان رکھ کر اگر لوگ بولیں، جو اقتدار میں ہیں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ آپ نے کہہ دیا کہ اسی جگہ پر مسجد بنے گی۔ بنا سکتے ہیں کیا؟ تو زیادہ اچھا ہوگا۔ آپ نے کہہ دیا کہ اسی جگہ پر مسجد بنے گی، وزیر داخلہ نے کہا تھوڑے دن بعد بنے گی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ایک سال بعد بنے گی یا ایک سال کے اندر بنے گی۔ آپ کہتے ہیں دونوں بنیںگے جو کام بجرنگ دل اور وی ایچ پی کہہ رہی تھی کہ مندر بنے گا لیکن نقشہ نہیں بتائیںگے ،اسی طرح سے نرسمہا رائو مندر اور مسجد دونوں بنائیںگے،نقشہ نہیں دکھائیں گے۔میں نہیں جانتا کہ ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ جو شرد یادو نے کہا تھا، لیکن سوچنے کے طریقے ہیں۔ آج ملک مشکل میں ہے۔یہ اچانک ہو گیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز ہے۔ میں نہیں جانتا کہ راز کیا ہے؟اگر راز کا انکشاف کرنا ہے تو آپ لوگوں کو کرنا ہوگا، جو ادھر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اس طرح کی عدم فعالیت سے، اس طرح کی ہچکچاہٹ سے ملک کی مریادا کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔
( اقتباسات: راشٹرپروش چندر شیکھر، پارلیمنٹ سے دو ٹوک)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *