ہندوستان کی ضرورت رام مندر یا سماجی ناانصافی سے آزاد ہندوستان کی تعمیر؟

ویسے تو یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کا اعلان ہوتے ہی یہ طے سا ہوگیا تھا کہ ان کی قیادت میں رام مندر تعمیر ی مشن کو انتہا پر پہنچایا جائے گا،لیکن انتظار تھا اس دن کا جس دن وہ اس کا ٹھوس آغاز کرتے اور 31 مئی کو وہ دن آ ہی گیا۔ اس دن وہ آئینی عہدوں پر براجمان لوگوں کے متنازع مقامات سے دور رہنے کی روایت کو توڑتے ہوئے ایودھیا کے متنازع مقام پر واقع رام للا کے درشن کو پہنچے۔اس معاملے میں انہوں نے کلیاں سنگھ کے بعد یو پی کے دوسرے وزیر اعلیٰ کی شکل میں اپنا نام درج کروایا۔ یاد رہے کہ 1991 میں یو پی کے وزیرا علیٰ بننے کے بعد کلیان سنگھ حلف لینے کے دوسرے ہی دن اپنی پوری کابینہ اور اس نعرے ’ رام للا ہم آئے ہیں، مندر یہیں بنائیں گے‘ کے ساتھ رام للا کے درشن کے لئے آئے تھے۔ ان کی اس یاترا کے کچھ عرصہ بعد ہی 1992 میں بابری مسجد ٹوٹی جس کے نتیجے نہ صرف اتحاد کا کنگال ہندوستان بلکہ ممبئی شیئر بازار تک ٹوٹا ۔یہی نہیں ہزاروں کروڑ کی املاک اور لوگوں کی جانوں کا نقصان بھی اس کے نتیجے میں ہوا۔

 

 

یوگی کا جوش و خروش
بہر حال ویسے تو یوگی آدتیہ ناتھ بھی وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف برداری کے بعد مارچ میں ہی ایودھیا پہنچنے والے تھے لیکن جب انہیں اس بات کی جانکاری ملی کہ رام جنم بھومی مکتی آندولن کے ہیرو لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی وغیرہ کی 30 مئی کو ایودھیا انہدامی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیشی ہونے والی ہے، تو انہوں نے اپنی یاترا کو ملتوی کر دیا ۔بعد میں جب مقرر تاریخ پر اڈوانی ، جوشی وغیرہ پیشی کے لئے آئے، انہوں نے ان کا جم کر استقبال کیا ۔یہی نہیں 30 مئی کو ہی سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ویر بہادر سنگھ کی برسی کے موقع پر منعقد شردھانجلی سبھا(خراج عقیدت ) میں رام مندر کا تالا کھلوانے کے ان کے کردار کو کارِ عظیم کا کام بتا کر رام مندر کے بارے میں اپنے اپنے ارادے ظاہر کر دیئے،(یہ وہی ویر بہادر سنگھ ہیں جن کے دور میں 22-23 مئی 1987کو ہاشم پورہ سانحہ ملیانہ قتل عامکے ساتھ ہوا تھا)جس کی جھلک اگلے دن ان کی ایودھیا یاترا میں دکھائی دی۔
ایودھیا پہنچ کر یوگی آدتیہ ناتھ نے ہنومان گڑھی، دگمبر اکھاڑہ، منی رام داس دھاونی اور سرجو ندی کے نیا گھاٹ اور اس کے پاس بنے پل کا درشن کیا جو مندر آندولن کے دنوں میں کار سیوکوں اور سیکورٹی دستوں کے بیچ لڑائی کا گواہ رہا۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے مرکز ی اور ریاستی سرکار کے ذریعہ ایودھیا کی ترقی اور روایتی شناخت کو قائم کرنے والے کاموں کی چرچا کی۔ سرجو ندی میں گرنے والے نالوں کو بند کرنے اور رام جنم بھومی آندولن علمبردار آنجہانی رام چندر پرم ہنس کی آخری رسومات کی جگہ کو سجانے ، سنوارنے اور یاد گاری کی شکل میں بنانے کی بات کہی۔ اس یاترا کے دوران انہوں نے ایودھیا کی پہچان اور مندر آندولن والے مقامات کو سیمبل بناکر جو کچھ کیا اور کہا اس سے یہ پیغام پرزور طریقے سے گیا کہ بی جے پی رام مندر تعمیر کے ہدف کو بھولی نہیں ہے۔ ان کی ایودھیا یاترا کو سیاسی پنڈتوں نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں نئے سرے سے متحد ہورہے اپوزیشن کو چیلنج دینے والے ہندوتو کی بنیاد پر 80بنام20 کی لڑائی کی زمین تیار کرنے والی یاترا مانا۔
بہر حال بھلے ہی یوگی آدتیہ ناتھ رام مندر کو قیادت دینے کے کاموں میں زور وشور سے جٹ گئے ،ایسا ظاہر ہورہا ہے۔ لیکن سچائی یہی ہے کہ بی جے پی سے جڑے تمام مضمون نگار، دانشور، میڈیا اور سادھو سنت نیز سنگھ کی کئی درجن ذیلی تنظیمیں اپنے اپنے طریقے سے مندر مشن کو رفتار دینے میں مستعد ہو گئی ہیں۔ مارچ 2017 میں یو پی سمیت دیگر کچھ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بھاری کامیابی کے بعد ان میں عدالت اور آپسی بات چیت کو درکنار کرکے قانون کے ذریعہ مندر تعمیر کرنے کے جذبے حاوی ہوگئے ہیں۔ اس کے لئے وہ 100 کروڑ لوگوں کی عقیدت اور آستھا کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی اپنی سطح پر مندر تعمیرکرنے کے لائق مناسب ماحول بنانے لگ گئے ہیں۔
30-25 فیصد رام مندر حامی
بہر حال لوک سبھا انتخابات 2019 کو دھیان میں رکھ کر رام مندر کے حق میں سنگھ پریوار بھلے ہی100 کروڑ لوگوں کی آستھا کا حوالہ دیں لیکن سچائی یہی ہے کہ بمشکل 30-25 فیصد لوگ ہی مندر تعمیر کے پُر جوش حامی ہیں۔ باقی لوگ اس لئے نہیں ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ مندر تعمیر کا ماحول بنانے کے پیچھے اعلیٰ ذات پرست بی جے پی کو شکتی دے کر سماجی انصاف کے مسئلے کو زمین دوز کرنا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی بڑی تعداد نے دیکھا ہے کہ ہزاروں سال سے اعلیٰ نسل پرستوں پر مبنی ہندو دھرم کے ذریعہ غلاموں کی حالت میں رکھے گئے لوگوں کو سماجی ناانصافی کی کھائی سے نکالنے کے لئے جب 7 اگست 1990 کو مندر کی سفارشوں کا اعلان ہوا تبھی مندر آندولن کے ہیرو لال کرشن اڈوانی نے ستمبر 1990 سے رام جنم بھومی مُکت آندولن چھیڑ دیا۔
یہی نہیں ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ ہے کہ رام مندر آندولن کے ذریعہ حکومت میں پہنچی بی جے پی نے پرائیویزیشن اور استفادے کی پالیسیوں کے ذریعہ سماجی ناانصافی کو بڑھاوا دینے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ لیکن بی جے پی کا سماجی انصاف مخالف عمل اور بد نظمی پر مشتمل انتظام کو جاننے ،سننے کے باوجود بہت سے لوگوں کی مخالفت اس لئے نہیں ابھر پا رہی ہے کیونکہ مندر حامیوں میں سے اکثر 85-80 فیصد مضمون نگار ، صحافی ، سرمایہ دار اور سادھو ،سنیاسی ،جو اعلیٰ اور سماجی انصاف مخالف طبقہ سے ہیں،کا سماجی اثر اتنا زیادہ ہے جس کے سبب اکثرلوگوں کی مخالفت بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔ بہر حال ملک کے دانشوروں اور دنیا بھر سے اپیل ہے کہ وہ بتائیں کہ موجودہ وقت میں ہندوستان کے عوام کی ضرورت رام مندر ہے یا سماجی ناانصافی سے آزاد ہندوستان کی تعمیر ۔
ویسے اس درخواست پر غور کرتے وقت دو حقائق کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ بی جے پی کی بنیادی سیاسی اسٹریٹجی ہندو دھرم ،کلچر کے روشن پہلو اور اقلیت ، خاص طور پر مسلم دشمنی کی تشہیر ہے۔جس کے لئے وہ خاص طور پرغلامی کی علامتوں کو اجاگر کرنے کی مہم چلاتی ہے۔ ایسا کرنے کے معاملے میں اسے اپنے ہندو دھرم کے کلچر کو قابل فخر مشتہر کرنے اور جارحانہ شکل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایودھیا میں واقع بابری مسجد سنگھیوں کے نزدیک غلامی کی سب سے بڑی علامت قرارد ی گئی جس کو منہدم کر کے اب اس کی جگہ رام مندر کھڑا کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔ لیکن کسی طرح اگر وہاں مندر بن بھی جاتا ہے تو بھی ملک میں استحکام اورامن قائم نہیں ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ آریہ پالیسی کے سبب ہندوستان کے چپے چپے پر بابری جیسے بے شمار غلامی کے نشانات کھڑے ہیں۔ جن سے نجات کی مہم سنگھ پریوار عرصہ دراز ر تک چلاتا رہے گا۔ لہٰذا رام مندر بن جانے پر طاقتور سنگھ کو شیر کی طرح خون کا مزہ مل جائے گا جسکے بھیانک نتائج کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس کو مندر آندولن سے ہوئی جن دھن کی نقصان کا احساس ہے۔

 

 

سماجی ناانصافی کی توضیح
جہاںتک رام مندر کی جگہ سماجی ناانصافی سے پاک ہندوستان کی تعمیر کی بات ہے ، اس کے بارے میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ سماجی ناانصافی کی کوئی مخصوص توضیح نہیں ہے ۔زیادہ ترسماجی سائنسدانوں کے مطابق طاقت کے ذرائع(اقتصادی، سیاسی،مذہبی، روایتی ،تعلیمی) سے جبراً بائیکات ہی سماجی ناانصافی کہلاتا ہے۔اس لحاظ سے دنیا میں عورت کی شکل میں آدھی آبادی بالکل ہی سماجی ناانصافی کی شکار رہیں۔ زیادہ تر ناانصافی کی شکار طبقوں میں امریکہ اور جنوبی افریقہ کے سیاہ فام اورہندوستان کے بہوجن رہے ہیں۔ ان میں ہندوستان کے بہو جنوں کو ہی ٹاپ پر رکھا جاسکتا ہے۔
دلت، آدیواسی اور پسماندوں پر مشتمل ہندوستان کا بہو جن سماج، قدیم دنیا کے ان گنے چنے سماجوں میں سے ایک ہے جنہیں پیدائشی وجوہات سے طاقت کے تمام ذرائع ( معاشی،سیاسی ، مذہبی، تعلیمی وغیرہ ) سے لمبے وقت تک الگ رکھا گیا ۔ ایسا انہیں مذہبی شکل میں لپٹے اس نظام کے پروویژن کے تحت کیا گیا جو شکتی کے ذرائع کی تقسیم کا طریقہ رہا۔ اس میں مطالعہ ،تعلیم، اقتدار، زمینداری،حکومت چلانا، ملٹری کیریئر،،صنعت و تجارت سمیت سماجی مریادہ صرف برہمن، چھتریہ اور ویشیوں پر مشتمل اعلیٰ طبقوں کے ذریعہ تقسیم کی گئی مذہبی تعمیل کے نام پر کرم شودھتا کی لازمیت کے نتیجے میں اعلیٰ طبقاتی سسٹم نے ایک ریزرویشن نظام کی شکل لے لی جسے ہندو ریزرویشن نظام کہا جاسکتا ہے۔ ہندوریزرویشن میں شکتی کے تمام ذرائع صرف اعلیٰ طبقوں کے لئے ریزروڈ رہے۔ اس وجہ سے اعلیٰ طبقہ جہاں کہیں مضبوط تھے تو دلت ،آدیواسی اور پسماندہ سدا کے لئے کمزور اور غلام بننے کے لئے مجبور ہوئے۔
حال کے دنوں میں ملک و بیرون ملک میں ہوئے تمام تجزیات بتاتے ہیں کہ جس قدیم خاص طبقے کو طاقت کے ذرائع پر مکمل اختیار رہا، آج بھی ان کا ہی صنعت ، کارو بار، حکومت، انتظامیہ، تعلیم، مذہبی و روایتی ذرائع پر 85-80 فیصد قبضہ ہے اور جو 20-15فیصدموقع محروم بہو جنوں کو ملا ہے، مودی سرکار اسے بھی اپنی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعہ طاقتور طبقوں کے حصے میں ڈالنے کے لئے پوری طاقت لگا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں سماجی ناانصافی کا وہ نظریہ پیدا ہورہاہے جس کی توقع آج کے جمہوری اور لائق سماج میں نہیں کی جاسکتی۔ ایسے میں ملک و بیرون ملک کے دانشور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ یہ بتانے کے لئے سامنے آئیں کہ موجودہ ہندوستان کی ضرورت رام مندر ہے یا سماجی ناانصافی سے پاک ہندوستان کی تعمیر۔
(مضمون نگار بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *