بات چیت کے منتظر ہیں کشمیر کے لوگ

اب کشمیر میں کیا ہوگا؟یہ بڑا سوال اس لئے اٹھ کھڑا ہوا ہے ،کیونکہ ایک طرف مرکزی سرکار بات چیت شروع کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دے رہی ہے۔سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ پہلے پتھر بازی بند ہو اور اس کے بعد بات چیت ہو۔ کشمیر میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیا سپریم کورٹ کو یہ یاد نہیں کہ اکتوبر سے لے کر اپریل کے شروع تک کشمیر میں امن ہی امن تھا۔ اس کے پہلے 9 مہینے سے زیادہ پورا کشمیر، چاہے شہر ہو یا گائوں مکمل اسٹرائک پر تھا،حریت کا کیلنڈر چلتا تھا۔ دوسری طرف، ہندوستانی سرکار ان تمام چیزوں سے بالکل پریشان نہیں دکھائی دے رہی ہے اور اسے لگ رہا ہے کہ کشمیر میں جو بھی ہو رہاہے، وہ پاکستان سے وابستہ لوگ کررہے ہیں۔ تیسری طرف ٹیلی ویژن ، لگ بھگ سارے ٹیلی ویژن چینل کشمیر کے لوگوں میں نفرت اور غصہ بھر رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ٹیلی ویژن وہ سب دکھا رہے ہیں، جو نہ کشمیر میں ہورہا ہے نہ کشمیر کے لوگ چاہتے ہیں، بلکہ ٹیلی ویژن چینلوں نے ایسا ماحول کھڑا کر دیا ہے، مانو کشمیر کے لوگ ہندوستان کے دشمن ہوں ۔ہندوستان کا دشمن جتنا بڑا چین ہے، جتنا بڑا پاکستان ہے، اس سے بھی بڑے دشمن کشمیر کے لوگ ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں نے روز رات میں ڈسکشن کر کے ملک میں تو ماحول بنایا ہی، کشمیر میں بھی ایسا ہی ماحول بنا دیا ہے۔
میں تین مہینے کے بعد کشمیر گیا۔ ملک کے کئی علاقوں کے صحافی کشمیر میں ملے۔ سب نے لگ بھگ یہی رائے بتائی۔لیکن دہلی میں بیٹھی سرکار اور ٹیلی ویژن چینل کشمیر کے مسئلے سے ذرا بھی پریشان نہیں دکھائی دیئے۔ وہ کیوں پریشان نہیں ہیں اور کیوں ایسا کررہے ہیں، اس کے بارے میں آگے بات کریں گے۔لیکن سب سے پہلے ہم یہ بتا دیں کہ کشمیرمیں جب سے لڑکیوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھائے ہیں، تب سے وہاں ماحول عجیب طرح سے بدل رہا ہے۔ ہم نے جب پتہ کیا کہ لڑکیوں نے پتھر کیوں اٹھائے، تو اس کے کئی اسباب نظر آئے۔ لیکن جس سبب کی طرف سب نے اشارہ کیا، وہ یہ ہے کہ ٹیلی ویژن چینل جس طرح سے لڑکیوں کے پتھر چلانے کو ایک اوینٹ بناکر ملک کے سامنے اور دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر اسکول کے اندر طلباء کے درمیان پتھر چلانا دکھ کا،درد کا، پریشانی ظاہر کرنے کا اور ساتھ ہی ایک گلیمرس اوینٹ کا حصہ ہونے کا سبب بن گیا ہے۔
آخر کشمیر میں کیا ہوگا؟اگر ہندوستانی سرکار کے نظریئے سے دیکھیں توچاہے وہ وزیرداخلہ ہوں،چاہے نیشنل سیکورٹی صلاح کار ہوں یا کشمیر کے وہ وزیر ہوں جو وزیر اعظم کی کابینہ کے ممبر ہیں، ان سب کا ماننا ہے کہ کشمیر میں سختی برتنی چاہئے اور کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ جس طرح انہوں نے پچھلے سال 7-8 مہینے تک جو سختی برتی، جس کی وجہ سے لوگ حریت سے دور چلے گئے اور اپنے آپ انہوں نے دکانیں کھول لیں، اسی طریقے سے عوام کو پھر سے تھکائو ، پتھر چلے، اخباروں میں بیان ہو، سرکار کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑتا۔شاید ہندوستانی سرکار ان کی ایک لسٹ بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے، جو وہاں علاحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا جو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا جو پتھر چلانے میں ملوث ہیں۔ سرکار چاہتی ہے کہ انہیں پکڑا جائے اور نہ پکر پائیں تو انہیں گولی مار دی جائے ۔جو ماحول بن رہاہے، وہ یہی بن رہا ہے کہ کشمیر میں فوج کو کھلی چھوٹ دی جائے اور فوج اس صورت حال کو کنٹرول کرے۔ کشمیر کے لوگ،سول سوسائٹی کے لوگ اور سیاسی پارٹیوں کے لوگ ہندوستانی سرکار سے یہ اپیل کرتے کرتے تھک گئے کہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت جلد سے جلد شروع کی جائے۔ جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی بیچ بیچ میںیہ کہتی رہی ہیں کہ کشمیر کے لوگوں سے بات چیت ہونی چاہئے، جن میں حریت کے لوگ بھی شامل ہوں۔ان تمام چیزوں کا ہندوستانی سرکار کے اوپر اثر نہیں ہے۔ اس لئے اب یہ لگتا ہے کہ ہندوستانی سرکار بات چیت کے راستے پر نہیں جائے گی،جیسے وہ تین سال سے نہیں گئی اور اب وہ فوج کے قانون اور طریقے پر چلے گی جس سے وہ کشمیر کو کنٹرول کر سکے۔ میں یہاں صاف کر دوں کہ کشمیر کو کنٹرول کرنے کا مطلب وہاں کے لوگوں کو کنٹرول کرنے سے ہے، زمین تو ہندوستانی سرکار کے کنٹرول میں ہے ہی۔
دوسری طرف ،کشمیر میں لگ بھگ سبھی لوگ ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ وہ ہندوستانی سرکار سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں لگتا ہے کہ بات چیت سے کیا نکلے گا، کیونکہ ہندوستان کی سرکار کشمیر کے لوگوں کو وہ چیزیں بھی مہیا نہیں کرا رہی ہے جو مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار یا اترپردیش کے لوگوں کو حاصل ہے۔یعنی وہ آزادی جسے میٹنگ کرنے کی آزادی کہتے ہیں، اپنی شکایت کرنے کی آزادی کہتے ہیں، جلسے جلوس نکالنے کی آزادی کہتے ہیں، وہ کشمیر کے لوگوں کو نہیں ہے۔ کشمیر میں اب سرکار اسی راستے جارہی ہے، جس راستے وہ آج سے 15 سال پہلے پنجاب میں گئی تھی۔ 14 سال سے اوپر کے لڑکوں پر نظر ہے اور اگر کشمیر کے لوگوں کے بتائے جانے والے ْقصوں پر بھروسہ کریں، تو 14 سال سے لے کر 24 سال تک کی عمر کے لوگوں کے اوپر پولیس وجہ بے وجہ سختی کررہی ہے۔
کشمیر کے لوگ ایک زبان میں بول رہے ہیں۔اپنے درد کا اظہار کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان سے لوگ کشمیر جائیں اور وہاں کے حالات کو دیکھیں ۔یہ ایک عجیب سچائی ہے کہ پچھلے 60سالوں میں ہندوستان سے لوگ سیاحت کے لئے تو گئے، لیکن ہندوستان کے لوگوں نے کشمیر کے لوگوںکی تکلیف کیا ہے یا در د کیا ہے یا وہ کیا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں کبھی بات چیت ہی نہیں کی ۔اس وقت کشمیر کے لوگوں کی چاہت ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے لوگ، جن میں بی جے پی کے لوگ بھی شامل ہیں، وہ کشمیر آئیں اور کم سے کم دو دن، تین دن وہاں رہ کر کے جس سے چاہیں بات چیت کر کے کشمیر کا درد جاننے کی کوشش کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان کے وہ صحافی ،جو مہاراشٹر میں ہیں، دہلی میںہیں، پٹنہ میں ہیں، لکھنؤ میں ہیں، اندور میں ہیں، کولکاتہ میں ہیں، حیدرآباد میں ہیں، ان سب پریس کلبوں سے ایک ایک ٹیم کشمیر جائے، سری نگر جائے اور وہاں جاکر وہ لوگوں سے تو ملیں ہی، کم سے کم اپنی برادری کے لوگوں سے یعنی کشمیر کے صحافیوں سے بھی ملیں اور دیکھیں کہ کشمیر کے صحافی کیا کہہ رہے ہیں۔ کشمیر کے صحافیوں میں بڑے اخباروں کے ایڈیٹر اورنامہ نگار تو شامل ہیں۔ لیکن چھوٹے اخباروں کے ایڈیٹر اور نامہ نگار بھی اس میں شامل ہیں۔کشمیر کے ٹیلی ویژن چینلوں کے لوگوں سے بھی بات کریں اور اتنا ہی نہیں کشمیر میں جب صحافی جائیں تو ان جگہوں پر بھی جائیں، جنہیں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر مانا جارہاہے۔

 
کشمیر کے لوگوں کی یہ خواہش پوری ہو پائے گی یا نہیں ہو پائے گی ،میں نہیں جانتا۔ لیکن ان کی خواہش بالکل منطقی ہے اور اگر وہ مدعو کررہے ہیں، سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کو، صحافیوں کو، تو انہیں ایک بار کشمیر ضرور جانا چاہئے۔ ان لوگوں کو تو ضرور جانا چاہئے، جو ٹیلی ویژن چینل میں اینکرنگ کرتے کرتے ہندوستانی سرکار کے ترجمان بن جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ صحافی کا کام دونوں طرف کی چیزوں کو دکھانا ہے۔ دراصل صحافت کی ایک نئی توضیح ہمارے ٹیلی ویژن چینل لکھ رہے ہیں اور بہت سارے بڑے نام جنہیں صحافت کا اے بی سی ڈی نہیں آتا، جس ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر چیختے ہیں، انہیں پورے ہندوستان میں کتنی گالیاں مل رہی ہیں، انہیں ابھی نہیں پتہ، لیکن آگے پتہ چلے گا۔
سول سوسائٹی کے لوگ دہلیمیں، ممبئی میں بیٹھ کر میٹنگ کررہے ہیں، بات چیت کررہے ہیں اور مرکزی سرکار کے پاس یہ اپنی درخواست پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ کشمیر کے لوگوں سے بات چیت کریں۔سول سوسائٹی کے لوگ کشمیر جارہے ہیں۔ حالانکہ یہ سچ ہے کہ ان کے جانے سے صورت حال کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ،لیکن کشمیرکے لوگوں کو یہ تسلی مل رہی ہے کہ کم سے کم ہندوستان میں ایک طبقہ ہے جو ان کی تکلیف سمجھنا چاہتا ہے۔لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ جب تک سرکار رد عمل کا اظہار نہیں کرتی یا بات چیت کرنے کا اشارہ نہیں دیتی، تب تک کشمیر کے مسئلے کے حل کی طرف ایک انچ بھی نہیں بڑھا جاسکتا۔

 
کشمیر میں صورت حال ہر مہینے بدل رہی ہے۔ کشمیر میں صورت حال کا دارو مدار کشمیر کے انتظامیہ پر ہے۔ صورت حال بدلنے کا سبب ہندوستانی سرکار کی بات چیت نہ کرنے کی ضد ہے۔صورت حال بدلنے کی وجہ نوجوانوں کا اپنے سے بڑی عمر کی لیڈرشپ کے اوپر سے بھروسہ کا اٹھنا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے لوگ اپنے انتخابی حلقوں میں نہیں جا پاتے ۔گنے چنے لوگ ہیںجو انتخابی حلقوں میں جاتے ہیں۔ میری ملاقات بی جے پی کے لوگوں سے ہوئی، پی ڈی پی کے لوگوں سے ہوئی، کانگریس کے لوگوں سے ہوئی، میری ملاقات حریت کے لوگوں سے ہوئی اور سب نے جو زبان بولی، اس زبان میں کومہ اور فل اسٹاپ کا کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ کسی نے پورے بیان میں کومہ لگایا، کسی نے نہیں لگایا ،بس اتنا ہی فرق ہے۔ لیکن زبان کی حقیقت ،زبان کا عنصر ، زبان کا مزاج اور زبان کا درد لگ بھگ سب کی زبان میں ایک ہی جیسا ملا۔ پورے کشمیر میں لوگوں کو یہ درد ہے کہ ٹیلی ویژن چینلوں کے اوپر جو لوگ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں، وہ کبھی کشمیر آئے بھی ہیں یا نہیں آئے ہیں یا یہ کسی ایک ایجنڈے کے تحت کشمیر کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں ،مانو کشمیر کے لوگ ہندوستان کے دشمن ہیں اور ان کے اوپر ویسے ہی بم گرا دینا چاہئے جیسے ہم دشمنوں کے اوپر اگر ضرورت پڑے تو بم گرائیں گے۔
یہ جو کشمیر کی تکلیف ہے، کشمیر کا درد ہے، کشمیر کی شکایت ہے، کشمیر کے آنسو ہیں، ان سب کو ہندوستان کے لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی نادانی میں یا انتہائی انتظامی سمجھداری میں ان لوگوں کو ہراساں کررہے ہیں جنہیں ہم اپنا لازمی حصہ کہتے ہیں ۔کشمیر میں کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ اگر ہندوستان کا یہ کہنا ہے کہ کشمیر اس کا لازمی حصہ ہے تو کیا لازمی حصہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ اس سے بات چیت نہ کی جائے، اس سے تکلیف نہ پوچھی جائے، اس کے مسائل کو حل نہ کیا جائے۔اب یہ بات پریشان کرنے والی ہے کہ ایک طرف تو ہم کشمیر کے لوگوں کو ہندوستان کا لازمی حصہ مانتے ہیں اور دوسری طرف ہم ان سے بات نہیں کرتے۔ بھلے ہی صحیح، بھلے ہی غلط ، بھلے ہی ٹیڑھی،کوئی بھی بات ہو، لیکن کیا سرکار اتنی کمزور ہے کہ بات چیت کرنے سے اس کی شان چلی جائے گی یا ساکھ چلی جائے گی۔ سرکار بڑی چیز ہے۔ سرکار سارے ملک کی سرکار ہے اور اسے اپنے لوگوں سے بات چیت کرنے میں شرم کیوں آنی چاہئے؟ اسے اپنے لوگوں سے بات چیت کرنے میں ہچک کیوں ہونی چاہئے؟ لیکن کشمیر کے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ وزیر اعظم جی کا بھروسہ مند کیریکٹر جب تک نہیں آتا، تب تک کوئی بھی بات چیت کرنے کا کسی طرح کا فائدہ نہیں ہے۔ آخر میں ایک چیز اور ، کشمیر کے کچھ دردمند لوگوں نے ایک رائے دی کہ سرکار کو چاہئے کہ فوراً کشمیر کے نوجوانوں سے بات چیت کرے۔ جب میں نے پوچھا کہ بات چیت کرنے کا طریقہ کیاہو سکتا ہے، تو لوگوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کے پاس بہت سارے ایسے سے لوگ ہیں ، جو اسکولوں اور کالجوں میں جائیں اور ان سے بات چیت شروع کریں۔ ان نوجوانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ان نوجوانوں کا لیڈر ان کا موڈ ہے اور ان کی مایوسی ہے۔ اس لئے سرکار کو چاہئے کہ کشمیر کے طلباء سے بات چیت کرے اور ان طلباء کے ذہن سے مایوسی کو نکال کر انہیں اچھے مستقبل کا بھروسہ دلائے۔ کشمیر کے نوجوان ملے اور انہوں نے کہا کہ جو پتھر مارتے ہیں، ان سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو اچھے کھلاڑی ہیں،جو اچھے میوزیشین ہیں ،جو اچھے وعدو وعید کے ہیں،جو اچھے سماجی علوم کے ماہر ہیں ،لوگوں کے لئے کشمیر میں کوئی امید نہیں ہے اور ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا سرکار کوئی ایسا منصوبہ بنا سکتی ہے جس سے کشمیر کے نوجوانوں کو اپنا مستقبل دکھائی دے۔ میرا خیال ہے،یہ سب ہو سکتاہے۔ بشرطیکہ وزیر اعظم خود اس طرف دھیان دیں۔ کشمیر کے لوگوں کا کسی اور وزیر میں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔انہیں لگتا ہے کہ جس طرح پورے ہندوستان کو یا پوری پالیسیوں کو وزیر اعظم اپنی سوچ سے متاثر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں کشمیر میں بھی وہاں کی صورت حال کو متاثر کرنا چاہئے اور کشمیر کے لوگوں سے ایک بار دل کی بات کرنی چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *