کشمیر پرنریندر مودی کی خاموشی بے چینی پیدا کرتی ہے

کشمیر کے حالات یقینی طور پر بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جموں و کشمیر مسئلہ 1948سے ہی موجود ہے لیکن1990 کی دہائی کے اوائل میںخاص طور پر1987کے الیکشن کے بعد (جس کے بارے میںیہ خیال ہے کہ اس میںدھاندلی ہوئی تھی)، کشمیر میں اصل مسئلے کی شروعات ہوئی۔ 1990 کی دہائی میں حالات خراب رہے ۔ صورت حال کو کسی طرح منظم کرکے وہاں الیکشن ہوئے۔پی ڈی پی -بی جے پی اتحاد کے بعد حالات پھر بے قابو ہوگئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے پورے سیاسی سفر میںبی جے پی آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے کی بات کرتی رہی ہے۔ ا س کے مطابق کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ مربوط کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ دوسری طرف پی ڈی پی یہ کہتی آئی ہے کہ آرٹیکل 370 ہی کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ جوڑنے والی واحد کڑی ہے۔ اگر اسے منسوخ کیا گیاتو کشمیر میںلوگ اسے قبول نہیںکریں گے اور پھر کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیںرہے گا۔ یہ دو بالکل برعکس خیال ایک ساتھ مل کر کیسے سرکار بنا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے،صرف عہدہ حاصل کرنے اور اقتدار کی ملائی کھانے کے لیے۔ کچھ وزیر پیسے کمائیں گے، پی ڈی پی کچھ پیسے اکٹھا کرے گی،کچھ پیسے بی جے پی اکٹھا کرے گی۔ دراصل ، پیسے اکٹھا کرنے کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ مفتی محمد سعید کے آبائی شہر بجبہرا کے لیے ان کا جنازہ ایک جھٹکا تھا کیونکہ اس میںکچھ لوگ ہی شامل ہوئے تھے۔مفتی ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ شیخ عبداللہ کے بعد وہ کشمیر کے دوسرے اہم لیڈر ہیں۔شیخ عبداللہ کے جنازے میں شریک ہونے والوںکی تعداد لاکھوں میںتھی۔محبوبہ مفتی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ لہٰذا وہ سرکار بنانا نہیںچاہتی تھیں۔ انھوں نے سرکار بنانے میںاس وقت تک تاخیر کی جب تک کہ ان کے اور بی جے پی کے درمیان کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں ہوگیا جو دونوں کے لیے پُرکشش تھے۔ بہرحال انھوں نے ایک سیاسی غلطی کی، جس نے شاید ان کی سیاست کو ختم کردیا۔
خیر وہ بات اب بیت چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حالات کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا، کیونکہ وہ روزانہ بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ آرمی نے ایک شہری کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر اس لیے گھمایا تاکہ اس کے اوپر پتھر نہ پھینکے جائیں۔ کوئی بھی کہے گا کہ یہ غیر مہذب طریقہ تھا۔یقینی طور پر یہ فوج کا طریقہ نہیںہوسکتاہے۔ ٹویٹر پر اروندھتی رائے، جوایک لبرل رائٹر ہیں، کو لے کر ڈبیٹ چل رہی ہے۔ کچھ غیر ذمہ دار لوگ کہہ رہے ہیں کہ انھیں ہی گاڑی کے آگے باندھ کر گھماناچاہیے۔ظاہر ہے ، یہ کوئی سنجیدہ تجویز نہیں ہے۔میںسمجھتا ہوںکہ ملک میںبحث کی سطح نیچے گرتی جارہی ہے۔ جو زبان ہم استعمال کررہے ہیں،وہ غیر مہذب ہے۔ اس پر سرکار کا کیا رخ ہے؟

 

 
ان سب معاملوں سے اپنا پلو جھاڑتے ہوئے وزیر دفاع ارون جیٹلی کہتے ہیں کہ کشمیر کے فیصلے کو فوج کے اوپر چھوڑ دیناچاہیے۔میںنے اس طرح کا بیان پہلے کبھی نہیں سنا۔ کیا کشمیر ہندوستان کی کالونی ہے؟ کشمیر ایک ریاست ہے، جہاںایک چنی ہوئی سرکار ہے۔ ہمارے آئین کے مطابق فوج چنی ہوئی سرکار کے اصرار پر آتی ہے۔ بے شک کشمیر میں افسپا نافذ ہے لیکن اسے لامحدود اختیار نہیں دیے جاسکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ مرکزی سرکار کشمیر میں اپنی ذمہ داریوںسے بھاگ رہی ہے۔ ہم پاکستان کو کون سا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ بیان بے معنی ہے۔ ہمیں اپنے مہذب طرز عمل کو پھر سے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ بتانا چاہیے کہ چاہے ان کی سوچ جو بھی ہو، وہ باتیںتو مہذب کریں۔
کشمیر پر سرکار کا نقطہ نظر کیا ہے، مجھے جاننا ہے۔ یہ سرکار کہتی ہے کہ کشمیر نہرو کی غلطی ہے۔ نہرو کی کیا غلطی تھی؟ کیا یہ کوشش کرنا کہ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملایا جائے، غلطی تھی؟ اقوام متحدہ میں جانا غلطی تھی یا بعد میں اس نتیجے پر پہنچنا کہ ریفرنڈم نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان نے اپنی افواج کو واپس نہیں بلایا؟ تو ، ان کی غلطی تھی؟ وہ اس بات کا خلاصہ نہیںکرتے ۔ سردار پٹیل، جو ان کے موجودہ ہیرو ہیں، کا ماننا تھا کہ ہمیں کشمیر کو چھوڑ دینا چاہیے۔ جب ہم مسلم اکثریت کے مطابق تقسیم پر متفق ہوئے ہیں اور کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ جانے دینا چاہیے۔ مہاراجہ ہری سنگھ ڈرے ہوئے تھے۔ وہ پاکستان کے ساتھ مل گئے ہوتے، اگر شیخ عبداللہ نہیںہوتے۔ شیخ عبداللہ پاکستان کے ساتھ نہیںجانا چاہتے تھے۔ اب یہ لوگ دنیا میںنہیںہیں۔ اب آپ کا (مرکزی سرکار) نقطہ نظر کیا ہے؟ آج نریندر مودی ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں، تقریباً ساری ریاستیںان کے قبضے میںہیں۔کیاآپ کشمیر چاہتے ہیں؟ کیا آپ کشمیر نہیںچاہتے ہیں؟ صرف نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اور آرمی چیف کی باتیں سننا مسئلے کے حل کا طریقہ نہیںہے۔ کشمیر کی بات سمجھ میںآتی ہے، کل اگر کسی دوسری ریاست میںکوئی بات ہوتی ہے، تو کیا آپ اس ریاست کو فوج کے حوالے کردیں گے؟ تو پھر پاکستان کی طرح فوج یہ سوال کرے گی کہ ہمیںسویلین سرکار کی کیا ضرورت ہے؟ فوج اقتدار پر قبضہ کرلے گی۔ وہ یہ نہیںسمجھ رہے ہیںکہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیںہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ آرمی چیف، این ایس اے او رکیبنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کے ساتھ بات چیت کرے،راستہ نکالے۔ راجناتھ سنگھ وزیر داخلہ ہیں،وہ کشمیر کا دورہ بھی نہیں کررہے ہیں۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کشمیر کو وزارت داخلہ سے الگ کردیا گیا ہے؟
ملک میں غیر فعال پالیسی کی حالت ہے۔ یہ باتیں بی جے پی منموہن سنگھ کے لیے کہتی تھی۔ منموہن سنگھ خاموش رہے،انھوںنے کچھ نہیںکہا۔ میںسمجھتا ہوں کہ نریندر مودی کی خاموشی بے چینی پیدا کرتی ہے۔ انھوںنے کشمیر مدعے پر ایک لفظ بھی نہیںبولا ہے۔ یا تو ہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو پیسہ بنانے ، لوٹ کی چھوٹ دے رہے ہیں تاکہ وہ الیکشن جیت سکیں۔میںسمجھتا ہوں کہ نریندرمودی نے صرف ایک چیز سیکھی ہے،وہ ہے کانگریس کی غلط چیزیں۔ الیکشن جیتو، سرکار بناؤ چاہے جیسے بھی بنے۔ان کا پورا دھیان ان ہی چیزوں پر ہے۔ گوا میںبی جے پی کو 40 میں سے 13 سیٹیں ملی تھیں لیکن وہ وہاںسرکار بنانا چاہتی تھی اور بنائی بھی۔ منی پور میں کانگریس کو 28 سیٹیں ملی تھیں،سرکار بنانے کے لیے چاہیے تھیں 31، لیکن سرکار بنی بی جے پی کی۔ بی جے پی نے کانگریس سے ہر غلط کام سیکھ لیا ہے۔ کانگریس میںبھلے ہی ابھی مایوسی ہو، لیکن میں اس ملک کو گزشتہ 60-70 سالوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کانگریس میںکئی اچھائیاں بھی ہیں۔ اس میںسے ایک سب سے اچھی بات ہے، ڈائیلاگ، کانگریس ڈائیلاگ کرتی ہے۔ وہ بات چیت کا دروازہ کھول کررکھتی ہے۔ ہندو پاک بات چیت لگ بھگ آزادی کے ساتھ ہی شروع ہوئی ہے۔کرن سنگھ نے سندھو جل معاہدہ پر اپنا بہت وقت لگایا تھا۔ بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور آج اس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ سرکار کی حکمت عملی کیا ہے؟ اسے چاہیے کہ وہ لوگوںکو اعتماد میںرکھے۔ لوگوںکی رائے لے۔ اگر لوگ جنگ چاہتے ہیں، تو آپ پاکستان کے ساتھ جنگ کرلیجئے۔ جب آپ کو چنا جاتا ہے تو اچھے کام کے لیے چنا جاتا ہے یا برے کام کے لیے؟  پریس کی آزادی کیا ہے؟ آزادی کا مطلب ہوتا ہے سچائی لکھنا۔ آج میںنے دیکھا کہ لوگ ابھجیت بھٹاچاریہ کو ٹیوٹر سے ہٹائے جانے پر ٹیوٹر پر ہی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہ پریس کی آزادی ہے؟ وہ سبھی لبرل لوگ کہاں ہیں؟ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آزادی کیا ہے؟ پریش راول، اروندھتی رائے کو جیپ سے باندھنے کی بات کرتے ہیں۔ کس طرح کی رواداری ہے یہ؟ یہ ایسے لوگ ہیں، جنھوںنے فلم انڈسٹری میںاور موسیقی کی دنیا میں اپنا نام بنایا ہے۔ ان کے ایسے خیالات ہیں! یہ بہت ہی افسوسناک صورت حال ہے۔ ان کے آئیکیو کم ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بارے میںانھوںنے سنا ہی نہیں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کیبنٹ کو فوری طور پر کشمیر مسئلے پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ ضرورت ہو تو کشمیر کے مدعے پر پارلیمنٹ کا ایک سیشن بلایا جائے۔ بحث کے بعد اس مدعے پر اپنی پالیسی کو واضح کیجئے کہ آخرآپ کشمیر میں کرنا کیا چاہتے ہیں۔ یشونت سنہا کشمیر گئے، میںبھی گیا تھا۔ لیکن سرکار ایسے لوگوںسے کشمیر کے بارے میں سننا ہی نہیںچاہتی کہ کشمیر پر ان کی کیا رائے ہے؟ سرکار کو معلوم ہے کہ اصلیت اسے بے چین کردے گی۔ جتنی جلدی یہ سب سمجھ لیا جائے،اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *