بہت ضروری ہے سماج کے گوکیوں کو پہنچاننا

یہ کہانی مجھے پربھو جی نے سنائی اور کہا کہ اس کہانی سے پوری زندگی سبق لینے کی ضرورت ہے۔پربھو جی نے کہانی کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ پوری کائنات میں صرف انسان ایسی مخلوق ہے جس میں کائنات میں پیدا ہوئی تمام زندہ اجسام کی خوبیاں ہیں۔ ہر آدمی میں کسی نہ کسی مخلوق کا اقتباس ہے، اسی لئے وہ اقتباس اس انسان کی عادتوں میں زیادہ عکاسی کرتا ہے۔ ہم کسی بھی آدمی کو کہتے ہیں کہ دیکھو، اس کی آنکھیں الّو کی طرح تیز ہیں۔ کسی کو کہتے ہیں کہ یہ گدھے کی طرح بیوقوف ہے۔ کسی کو کہتے ہیں کہ یہ لومڑی کی طرح چالاک ہے ۔کسی کو کہتے ہیں کہ یہ شیر کی طرح بہادر ہے۔کسی کو کہتے ہیں کہ یہ کتنے کی طرح وفادار ہے یا کتے کی طرح دم ہلاتا ہے۔کسی کو کہتے ہیں کہ یہ سانپ کی طرح زہریلا ہے۔کسی کو کہتے ہیں کہ یہ بچھو کی طرح ڈنک مارتا ہے۔کسی کوکہتے ہیں کہ یہ بلی کی نظر رکھتا ہے اور کسی کو ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سیار کی طرح چالا ک ہے اور یہ فلاں مخلوق کی طرح دھوکہ باز ہے۔
ہم کبھی بھی یہ نہیں کہتے کہ سیار آدمی کی طرح ہے۔ ہم کبھی نہیں کہتے کہ بلی میں کتے کی خوبی ہے۔ ہم کبھی نہیں کہتے کہ کتنے میں شیر کی خوبی ہے۔ ہم کبھی نہیں کہتے کہ بھیڑیئے میں لومڑی کی خوبی ہے۔ صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس میں ہم کسی نہ کسی جاندار کی خوبی تلاش کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہوئے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پربھو کے مطابق اس کہانی کی سیکھ یہ ہے کہ ہمارے آس پاس بہت سارے انسان ہیں جو انہی خوبیوں سے آراستہ ہیں۔ وہ کبھی وفادار نہیں ہو سکتے۔ وہ ہمیشہ لالچی ہوتے ہیں ۔وہ ہمیشہ ڈنک مارتے ہیں۔ موقع ملتے ہی کاٹتے ہیں۔ وقت ملنے کی دیر ہے کہ وہ جھوٹی کہانیاں پھیلاتے ہیں اور بغیر چُوکے آپ کی پیٹھ پر حملہ کرتے ہیں، گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں۔ پربھو کا کہنا ہے کہ ایسی خوبیوں کو پہچاننا چاہئے اور ان سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار کیسے رہیں؟ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے ڈنک مارنا بچھو کی طرح اور کچھ لوگوں کی خوبی ہوتی ہے سادھو کی طرح اس ڈنک مارنے والے آدمی کو بار بار اپنے آس پاس یہ سوچ کر باقی رکھتے ہیں کہ یہ سدھر گیا ہوگا لیکن جیسے بچھو نہیں سدھرتا، سانپ نہیں سدھرتا، لومڑی نہیں سدھرتی،گیدڑ نہیں سدھرتا، کتا نہیں سدھرتا،اسی طرح یہ آدمی بھی نہیں سدھرتے۔ یہ آپ کے ساتھ دو سال رہیں،چار سال رہیں، چھ سال رہیں ،ان کی زندگی آپ کی قربت سے بن جائے، یہ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں اور جب یہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ کے اثر سے اپنی شخصیت بناتے ہیں۔اپنے کو سارے بازار میں بیچتے ہیں اور جب ان کا کردار سامنے آجاتا ہے تو یہ باہر جاکر بھی آپ کو گالی دے کر، آپ کو بدنام کرکے، آپ کی شبیہ خراب کرکے اپنا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے آس پاس ایسے بہت سارے لوگ ہیں اور پربھو کی اس کہانی کو میں آپ کو اس لئے سنا رہا ہوں تاکہ آپ اپنے آس پاس کے ایسے لوگوں کو پہچانیں ۔یہ لوگ صحافت میں ہیں، یہ لوگ سیاست میں ہیں،یہ دلالی میں ہیں اور ان میں مرد اور عورت سبھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے پربھو کے اس بیان کی سیکھ یہی ہے کہ جتنا ہو سکے، انہیں پہچاننے کی کوشش کیجئے۔
پربھو نے ایک کہانی اور سنائی ۔انہوں نے کہا کہ جنگل میں ایک چھوٹا کیڑا ہوتا ہے جس کا نام گوکی ہوتاہے۔ اس گوکی کو بہت لوگ نہیں پہچانتے لیکن اس گوکی کی عادت یہ ہے کہ جب کبھی آپ کہیں پر غافل ہوںیا آپ ٹوائلٹ کرنے جائیں تو آپ کی نچلی جگہ سے یہ آپ کے جسم کے اندر داخل ہو جاتاہے اور دھیرے دھیرے جسم کے سارے اعضا کو کاٹتا ہوا بغیر آواز ، بغیر درد کے، یہ آپ کے سر کے پاس سے جو بھی جگہ ملتی ہے، وہاں سے نکل جاتا ہے اور یہ گوکی بغیر شور کئے، بغیر ہلہ مچائے، بغیر درد دیئے، آپ کی زندگی نگل لیتا ہے۔ پربھو کا کہنا ہے کہ آج کل سماج میں ایسے گوکیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔ہم صحافت میں ہوں، ہم سیاست میں ہوں، ہم راستہ چل رہے ہوں، ہم کسی پر بھروسہ کرکے اسے اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہوں، اس کی زندگی اسٹینلیس رہے،صرف یہ سوچ رہے ہوں، لیکن وہ گوکی کی عادت والا آدمی گوکی کی طرح آپ کی زندگی کو کترے گا، کترتا رہے گا۔ آپ کی محنت کا سہریٰ لیتا رہے گا اور وقت آنے پر آپ کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے کی حالت میں لاکر کھڑا کر دے گا۔ پربھو کا کہنا ہے کہ ان گوکیوں کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔اگر اسے پہچانا نہیں جاسکتا لیکن اس سے ہوشیار رہنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔یہ کہانی میں آپ کو اس لئے سنا رہا ہوں کہ آپ کے آس پاس بھی ایسے گوکی بہت ہوں گے اور پہلی کہانی کے ان گوکیوںسے ہوشیار رہئے۔
کچھ کہاوتیں اور ہیں، ہاتھی چلتے ہیں تو کتے بھونکتے ہیں۔ ان کتوں کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے لیکن ان لوگوں کی پرواہ کرنی چاہئے جو آپ کے ساتھ رہ کر آپ کی پیٹھ میں چھرا بھونکتے ہیں اور آپ سے ساری طاقت لے کر آپ کے ہی خلاف اس کا استعمال کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر کہانیاں بنا تے ہیں اور پھر بیٹھ کر آپ کو برباد کرنے کا منصوبہ بنانے میں زور و شور سے جٹ جاتے ہیں۔
ان کا سامنا کیسے کریں؟اس کا کوئی ایک راستہ نہیں ہے۔یہ سبھی کو سوچنا ہے اور اگر کسی کو ان گوکی جیسے لوگوں سے یا مختلف جانداروں کی عاد ت والے لوگوں سے بچنا ہے اوراس کا اگر کوئی طریقہ آپ کو پتہ ہو تو آپ اسے سب کے ساتھ بانٹئے اور خاص طور پر ہمارے ساتھ ضرور بانٹئے ۔کیونکہ یہ لوگ آپ سے خوبیوں میں نہیں لڑ سکتے، یہ لوگ آپ سے ساکھ میں نہیں لڑ سکتے،یہ لوگ آپ سے ہمت میںنہیں لڑ سکتے، یہ لوگ آپ سے ایمانداری میں نہیں لڑ سکتے،یہ لوگ آپ سے گلیمرمیں نہیں لڑسکتے،یہ لوگ بچھو کی طرح ڈنک مار سکتے ہیں،یہ سانپ کی طرح ڈس سکتے ہیں، یہ لومڑی کی طرح آپ کو بھٹکا سکتے ہیں اور آپ کو سمت سے گمراہ کر سکتے ہیں۔ ان سے بچنے کا کوئی راستہ اگر ہو تو تلاش کیجئے ضرور اور ہمیں بھی بتائیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *