کیا کشمیر وہابیت کے کنٹرول میں ہے؟

پچھلے کچھ مہینوں سے کشمیر میں ایک نئی کہانی کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ وہاں گراؤنڈ پر جو کچھ بھی ہورہا ہے، وہ مبینہ طور پر براہ راست اسلام کا نتیجہ ہے۔ ایسے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ کشمیر وہابیت کے کنٹرول میں ہے، جو سلفی نظریہ کے مترادف ہے اور کشمیر میں مسلمانوں کے ایک ایسے طبقہ کے ذریعہ جانا جاتا ہے، جنھیں اہل حدیث کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہابیت، اٹھارہوں صدی کے عالم دین محمد ابن عبدالوہاب ، کے ذریعہ نجد، سعودی عرب سے شروع کی گئی ایک تجدیدی تحریک تھی۔ اس کے پیروکار خاص طور سے عرب میں ہیں، قطر میں سب سے زیادہ 48فیصد ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہابیت لفظ کا استعمال کشمیر کے بارے میں بہت زیادہ ہورہا ہے۔ کسی کو بھی تعجب ہوسکتا ہے کیا سچ مچ کشمیر اس آئیڈیالوجی کی راجدھانی ہے۔
یہ ماہرین خاص طور سے ٹی وی چینلوں پر آسانی سے اسلام کے ساتھ جڑے ایک سیاسی مسئلے کو ظاہر کرنے کے لیے اس کا استعمال کررہے ہیں۔ جب جامع مسجد میںجمعہ کی نماز کے بعد کچھ فسادی لڑکوں کے ذریعہ آئی ایس آئی ایس کا جھنڈا لہرایاجاتا ہے تو یہ اس دن کی ہیڈ لائن بن جاتی ہے۔
اس سے کوئی انکار نہیںکرسکتا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں اہل حدیث کی مقبولیت میںاضافہ ہوا ہے اور یہ دنیا بھر میںہونے والی تبدیلیوںکا نتیجہ ہے۔ لیکن کیا سماج کے اس طبقہ کے لوگوں نے اس سیاسی لڑائی میں اہم کردار نبھایا ہے جو 27 سالوںسے چلی آرہی ہے؟ کشمیر کی مسلح جدوجہد 1980کی دہائی کے آخیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ذریعہ شروع ہوئی تھی۔ یہ اپنے سیکولر آئیڈیا لوجی کے لیے جانا جاتا ہے اور اس کا ہدف 1947 والے جموں و کشمیر کا انٹیگریشن کرناتھا۔ اسے 1990 میں حزب المجاہدین اور دیگر تنظیموںکے ذریعہ آگے بڑھایا گیا۔ سماج کے کئی حصوںکے لوگ جو نئی سیاسی حالت میںخود کو حاشیہ پر پاتے تھے،اس مسلح بغاوت میںشامل ہوتے گئے۔ تحریک المجاہدین ایک ایسی تنظیم تھی جو ظاہری طور پر اہل حدیث کی مسلح برانچ تھی،لیکن دونوں نے اس حقیقت کو کبھی عوامی طور پر تسلیم نہیںکیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے دس سال میںایک بھی نوجوان، جس نے کسی مدرسہ یا دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی ہو، دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوتا ہوا نہیںپایا گیا۔ یہ سب کو پتہ تھا کہ اپنے سیاسی وجود کی بقا اور کیڈر کے سیف گارڈ کے لیے کچھ چھوٹی تنظیموں کو لانچ کیا گیا تھا۔

 

اہل حدیث تحریک کشمیر کے لیے نئی نہیں ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ چلائی جانے والی مسجدوں کی تعداد 1990 میں 500 تھی جو بڑھ کر 2017 میں 900 ہوگئی ہے اور اسے خاص طور سے سعودی عرب سے مالی امداد ملتی ہے۔ اس کی وزارت داخلہ کے ذریعہ نگرانی کی جارہی ہے۔ کیونکہ اہل حدیث سے جڑے اداروںمیںسے کچھ ایسے ہیںجنھیںفارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں۔
وادی کشمیر تحریک 120سال پرانی ہے۔ سری نگر میں پہلی اہل حدیث مسجد 1890 میں قائم کی گئی تھی۔ اسے شوپیان کے رہنے والے انور شاہ شوپیانی نے قائم کیا تھا۔ یہ اس دور کے غیرمنقسم پنجاب کی سلفی تحریک سے متاثر تھے۔ کشمیر میں اہل حدیث کی تشہیر کرنے والے لوگ مولانا ثناء اللہ امرتسری، ابوالقاسم بنارسی،عبدالعزیز رحیم آبادی جیسے دانشوروں سے متاثر ہوئے۔ حقیقت میںاہم اسلامی تحریک جیسے جماعت اسلامی، اہل حدیث اور بریلوی، ہندوستان کے اپنے ساتھیوںسے متاثر ہوئی ہیں۔ کشمیر میں اہل حدیث نے علیحدگی پسند تحریک میں زیادہ کردار نہیںنبھایا ہے۔ حالانکہ یہ متحدہ حریت کانفرنس کا حصہ تھی۔ 2003 میں یہ اس سے الگ ہوگئی تھی۔ اس کے بعد یہ کسی بھی دیگر گروپ میں شامل نہیںہوئی۔ اس کے ایک مولانا شوکت کے قتل کے بعد اس نے اپنی پروفائل تھوڑی نیچے کرلی اور تب سے اسے کسی بھی سیاسی تحریک میں اہم کردار میںنہیں دیکھا گیا ہے۔
لیکن جس طرح سے وہابیت کی کہانی سنائی جارہی ہے،اس سے لگ رہا ہے کہ یہ کشمیر کو لے کر ہارڈ لائن اپنائے جانے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سشیل پنڈت ایک کشمیری پنڈت ہیں اور سیاسی مبصربھی۔ سشیل پنڈت نے سرینگر کے ایک پینلسٹ سے کہا تھا کہ’ ’ابھی بھی بہت کچھ آنے والا تھا۔‘‘ یہ پینلسٹ متاثرین کے بارے میں بات کررہے تھے۔ اسی طرح بی جے پی کے ایک ترجمان کشمیر کی تحریک آزادی سے فکرمند دکھائی دیے اور سری نگر سے آْٓنے والے ایک دیگر پینلسٹ سے کہا کہ کہاں ہے آپ کی تحریک آزادی؟ اسے تو سلفی اسلام نے ہائی جیک کرلیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بی جے پی کو ایسی کسی تحریک آزادی سے اعتراض نہیںہوگا، اگر وہ پاکستان اور اسلام سے الگ ہو۔
کشمیر کا سیاسی فری امپاورمنٹ 1586 سے شروع ہوتا ہے جب مغل شہنشاہ اکبر نے خود مختار حکمراں یوسف شاہ چک کو ہٹادیا اور انھیںجلاوطن کردیا۔ لوگ تب سے جدو جہد کررہے تھے اور انھوںنے ایسے مسلم اور غیر مسلم حکمراں کے بیچ بھید بھاؤ نہیں کیا، جس نے حملہ کیا۔ آج بھی سید علی شاہ گیلانی،میر واعظ فاروق اور یاسین ملک سلفی یا وہابی نظریہ کو نہیںمانتے۔ گیلانی ایک معروف پاکستان حامی لیڈر ہیں لیکن وہ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کی مذمت کرنے والے لیڈر تھے۔ انھوںنے ہمیشہ کہا ہے کہ لوگوں کی خواہش آخری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیریوں نے مذہب کے ساتھ ریاست کا اختلاط کرنے سے ہمیشہ پرہیز کیا ہے۔ حذب کمانڈر ذاکر موسیٰ کے ’’اسلامی خلیفہ‘‘ کے خیالات کو ان لوگوں نے پوری طرح نامنظور کرکے یہ صاف کردیا ہے کہ اسلام کے بارے میں بات کرنے والے ان دہشت گردوں کے لیے کشمیر جنگی خطہ کیوںبن گیا ہے؟ کیونکہ دہلی نے ہمیشہ سیاسی مدعے کو مخاطب کرنے سے انکار کیا اور کشمیریوںکے ذریعہ تشدد سے تشدد کی طرف جانے کے سلسلے میںجو اسپیس بنا،اس کا استعمال ایسے عناصر کے ذریعہ کیا گیا۔

 

کشمیریوںکو اپنے اوپر فخر ہے، یہاںتک کہ اپنے ہندو ماضی پر بھی۔ حریت لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ تو کشمیر میںہندوستان کے برہمنوں اور کشمیر کے برہمنوںکے بیچ لڑائی کا بیان بھی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم کشمیری سارسوت برہمن ہیں، ہندوستانی برہمن لکشمی برہمن ہیں، ہم ان پر بھاری پڑیں گے۔ شیخ محمد عبداللہ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ہندوستان میں الحاق کے لیے حمایت کی اور دوقومی نظریہ کی مخالفت کی۔ اس اصول کے مطابق تو جموںو کشمیر خود ہی پاکستان کا حصہ بن جاتا۔ لیکن سچائی جلد ہی سامنے آگئی جب انھیں(شیخ عبداللہ) کو 1953 میں بے عزت کرکے اقتدار سے بے دخل کردیا گیا۔ لوگوںنے محسوس کیا کہ نئی دہلی کا ارادہ ایمانداری پر مبنی نہیںتھا۔
یہاں تک کہ اگر کوئی اسلام کے اصول پر چلے بھی تو بھی کیوں پچھلے چار سال میں 100 کشمیری ہی دہشت گرد بنے جبکہ 1990میںان کی تعداد 15000 تھی۔ پولیس افسر سوئم پرکاش پانی، جو ابھی جنوبی کشمیر میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہیں ، نے میتھ فنڈامنٹلزم کا پردہ فاش کیا۔ یکم جون 2017کو ہندوستان ٹائمز میں پانی لکھتے ہیں، ’’دوسرا میتھ یہ ہے کہ یہ سبھی بنیادپرست نوجوان ہیں۔ زیادہ ترمعاملوںمیںدہشت گردی میں شامل ہونے کی وجہ ساتھیوںکے گروپ سے رابطہ ہونا پایا گیا ہے نہ کہ بنیاد پرست سوچ۔ بے شک دہشت گرد گروپ میںشامل ہونے کے بعد وہ کبھی کبھی سوشل میڈیا پر بنیاد پرست خیالات کا اظہار کرتے ہیں جو کچھ معاملوں میںایک طاقتور ہتھیار بن جاتا ہے۔ اسے تشدد کو صحیح ٹھہرانے ، دھیان کھینچنے اور اعلیٰ اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ بنیاد پرستی سیاسی ہے۔ زیادہ تر کشمیریوںکی دلیل ہے کہ اگر کشمیر میںمذہبی احساس ہے تو بی جے پی سرکار کے تحت باقی بھارت میںجو کچھ ہورہا ہے،اسے دیکھتے ہوئے اسے جائز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ فکر یہ ہے کہ سرکار کے ذریعہ کی جارہی ایک کوشش، جسے ٹی وی کے ذریعہ تائید حاصل ہے، کشمیر کو اس طرح کی بنیاد پرستی کی طرف دھکیل رہی ہے تاکہ سیاسی حل کی بات نہ کی جاسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *