ہندوستان کا مسلمان ایمرجینسی کو کبھی بھول نہیں سکتا

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ 42برس قبل 26جون 1975 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور حکومت میں لگائی گئی ایمرجینسی جمہوریت کا قتل تھا۔ اس سے ملک میں جمہوری نظام درہم برہم ہو گیا تھا ۔بیشتر بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران و کارکنان اور دیگر اہم شخصیات 21ماہ آہنی سلاخوں کے اندر رہے۔ سرکاری اعدادو شمار کی روشنی میں یہ تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تھی۔ان پابند سلاسل لوگوں میں غیر سیاسی پارٹی آر ایس ایس ،آنند مارگ اور جماعت اسلامی ہند کے افراد بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ ان تنظیموں پر پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں پریس پر سنسرشپ عائد تھی۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ اندرا گاندھی کے اس ایکشن کی مخالفت میں ان کی سگی بھوپھیاںوجے لکشمی پنڈت اور کرشنا ہاتھی سنگھ کے علاوہ ان کی پھوپھی زاد بہن نین تارا سہگل بھی کھڑی ہوگئی تھی۔ ہر وہ شخص جو جمہوریت نواز تھا، وہ اسے ناپسند کررہا تھا۔ ویسے اچاریہ ونوبابھاوے، کماری نرملا دیش پانڈے اور سردار خشونت سنگھ جیسی اہم شخصیات ایمر جینسی کی تائید و حمایت میں تھیں۔ ونوباجی نے تو ایمرجینسی کو ’ انوشاسن پرب ‘( نظم و ضبط کا تہوار )کہہ کر اسے ضروری قرار دے دیا تھا۔

 

یوں تو ایمرجینسی کی زد میں بلا تفریق مذہب و ملت سبھی لوگ آئے مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ملک کا مسلمان اس سے بعض لحاظ سے اس طرح متاثر ہوا کہ 42 برس بعد بھی وہ ان سیاہ ایام کو فراموش نہیں کرپاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ملک بھر میں جبری نس بندی کا شکار ہوا۔ قومی راجدھانی دہلی کی صفائی کے بہانے شاہی جامع مسجد،ترک گیٹ اور پھاٹک دوجانہ میں جھگی ،جھونپڑی اور کچے پکے مکانات اور ہوٹل و دوکانوں کو بڑی ہی بے دردی سے مسمار کیا گی اجس دوران کئی اموات ہوئیں، املاک برباد ہوئے اور لوگ مجروح اور ہراساں ہوئے۔ نیز مسلمانوںکے ایک بڑی تنظیم کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔آر ایس ایس جس کے افراد جئے پرکاش نرائن کی تحریک کے ساتھ تھے، کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی ہند جو کہ جے پی تحریک کو پسند تو کرتی تھی ،مگر اس کا اس تحریک سے عملی طور پرکوئی لینا دینا نہیں تھا پرپھر بھی پابندی لگا دی گئی اور ملک گیر سطح پر مختلف ریاستوں میں اس کے لیڈروں اور کیڈروں اور کارکنان کو آہنی سلاخوں کے پیچے دھکیل دیا گیا ۔ان کی گرفتاری کے جو از میں جو الزامات لگائے گئے تھے، وہ جھوٹے ہی نہیں بلکہ بے بنیاد اور مضحکہ خیز بھی تھے۔ مثلاًامیر جماعت محمد یوسف ؒ پر چارج یہ تھا کہ وہ اپنی تقریر میں اندرا گاندھی کا تختہ پلٹنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ اسی طرح دیگر افراد پر تھانہ ،ریلوے اسٹیشن یا دیگر سرکاری اداروں کو نذر آتش یا بم سے اڑانے کی سازش کا الزام تھا۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ یہ الزامات سیاسی نوعیت کے تھے اور ایک ایسی تنظیم پر تھے جو کہ سیاست میں صرف حصہ ہی نہیں لیتی تھی بلکہ اس کے ارکان پر ملک کے انتخابات میں حصہ لینے، کسی کے حق یا خلاف مہم میں شامل ہونے یا ووٹ تک ڈالنے کی اجازت نہیں تھی۔اس کے باوجود سیاسی وجوہ سے یہ غیر قانونی قرارد ی گئی اور اس کے افراد بڑی تعداد میں جیل گئے۔
علاوہ ازیں ملک بھر میں نس بندی کی ایمرجینسی کے دوران جو مہم چلائی گئی، اس میں جبراًسبھی کو اس کا شکار بنایاگیا۔مگر مسلم علاقوں میں زیادہ تیزی دیکھی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی جبراً مہم سے لاکھوں لوگ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اسی دوران ملک کی صورت حال اور جمہوریت کو درپیش خطرات پر غورو خوض کے لئے امیر شریعت بہار و اڑیسہ اور جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولاناسید منت اللہ رحمانی ـؒ نے ذاتی حیثیت میں دہلی کی جامعہ رحیمیہ مہندیان میں اکابرین ملت اسلامیہ ہند کی ایک نمائندہ میٹنگ بلائی جس میں ملک کی تمام اہم مسلم شخصیات نے شرکت کی۔ بقول اس میٹنگ میں شریک قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، اس وقت ایسی فضا بن گئی تھی کہ ان تمام مسلم اکابرین کو سیدھے جیل جانا پڑ سکتا تھا۔اس میٹنگ میں برسراقتدار پارٹی کی غیر جمہوری کوششوں کی سخت تنقید کی گئی تھی اور جبری نس بندی پر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

 

اسی طرح لکھنو میں ندوۃ العلماء لکھنو کی 85ویں یوم تاسیس کے موقع پر مصر کے اس وقت کے شیخ الازہر اور دیگر غیر ملکی مہمانان نے ہندوستان کی سیاسی صورتحال کا ذکر کیا اور جماعت اسلامی ہند پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا تو ان لوگوں کی عربی تقریروں کے ترجمہ کرتے وقت ان نکات کو مولانا علی میاں کی موجودگی میں حذف کردیا گیا جس پر مولانا ابرار اصلاحی نے بروقت احتجاج کیا۔ تب جاکر اس تقریب میں کسی حد تک ایمرجینسی سے متعلق تھوڑا تذکرہ ہو پایا۔
اسی سلسلہ کا ایک اور مشہور واقعہ ہے 15اگست 1975 کا جب لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم اندرا گاندھی قوم سے خطاب کررہی تھیں تب اس وقت شاہی جامع مسجد دہلی کے اس وقت کے شاہی امام مولانا سید عبد اللہ بخاری اپنی گرجدار آواز میں وزیر اعظم کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور جمہوریت کو سخت خطرہ ہے۔
یہ ایمر جینسی کے ہی دنوں کی بات ہے کہ دہلی کی شاہی جامع مسجد اور ترکمان گیٹ میں جھگی جھونپڑیوں اور بے ضابطہ ہوٹل کی بے تحاشہ مسماری کرکے متعدد جانوں کو ہلاک کیا گیا اور کروڑوں اور اربوں کی جائدادکا نقصان کیا گیا جس سے مقامی آبادی میں زبردست خوف و ہراس پھیلا۔ ان دنوں ان مہمات کی قیادت خود سنجے گاندھی، رخسانہ سلطانہ کے ساتھ گاڑی پر بیٹھ کر کررہے تھے۔ ان دنوں سابق گورنر جموں و کشمیر جگ موہن دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئر مین تھے۔انہیں ہی سنجے گاندھی نے دہلی کے بیوٹی فکیشن کی ذمہ داری دی تھی جس میں بڑے پیمانہ پر سلمس (Slums)کی مسماری کی گئی اور جانی و مالی نقصانات ہوئے۔
مسلمانوں پر صرف قومی راجدھانی ہی نہیں پورے ملک میں ایمرجینسی کے دوران بہت بری گزری۔بحیثیت مجموعی مسلمانوں نے اس دوران ایمرجینسی کے ختم ہونے پر جو عام انتخابات ہوئے ،اس میں پورے جوش و خروش سے حصہ لیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ ملک کا مسلمان ایمرجینسی کے سیاہ ایام کو ابھی تک بھولا نہیں ہے۔ ایمرجینسی کے دوران کے واقعات کاذکر کرتے ہوئے جماعت اسلامی جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ کو بتایا کہ قابل تشویش بات تو یہ ہے کہ بعض پہلوئوں سے آج کے حالات 1975 کی ایمرجینسی سے بھی زیادہ خطرناک محسوس ہوتے ہیں‘‘۔انجینئر سلیم کی بات میں اس وقت وزن محسوس ہوتا ہے جب ہم سابق نائب وزیر اعظم اور سینئر بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی کی گزشتہ برس کی اس تشویش کو یاد کرتے ہیں جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ پورے اطمینان اور یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ایمرجینسی جیسی صورت حال ملک میں پھر کبھی پیدا نہیں ہوگی۔اب تو آنے والے لمحات ہی بتائیں گے کہ انجینئر سلیم اور اس سے قبل اڈوانی کے خدشات صحیح ثابت ہوں گے یا غلط ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *