کیسے ٹرانسفارم ہوگا کشمیر ایک سال میں؟

گزشتہ ایک سال سے پر تشدد حالات کا شکار وادی کشمیر میں ان دنوںہر شخص کی زبان پر یہ سوال ہے کہ یہاںاب کیا ہونے والا ہے؟در اصل لوگ ابھی تک وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اُس مبہم بیان کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو انہوں نے کشمیر کے حالات کے بارے میںاس سال 11اپریل کو دیا تھا۔ وزیر داخلہ نے انتہائی پر اعتماد انداز میں یقین دہانی کرائی کی کشمیر ایک سال کے اندر اندر ٹرانسفارم ہوجائے گایعنی بدل جائے گا۔ انہوں نے اپنے اس پر اسرار بیان کی وضاحت ان الفاظ میں کی : ’’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیسے لیکن ( کشمیر کے حالات میں )تبدیلی ضرور آئے گی۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک سال کے اندر اندر کشمیر میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔‘‘اگر یہ بیان بی جے پی کے کسی عام لیڈر نے دیا ہوتا تو شاید اسے اندھیرے میں پھینکا ہوا تیر سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا تھا لیکن چونکہ یہ بیان ملک کے وزیر داخلہ نے دیا ہے اس لئے وزیر داخلہ نے یہ بیان یقینا کسی سوچے سمجھے منصوبے کو مدنظر رکھ کر دیا ہوگا۔کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین یہ سمجھنے سے قاصر نظر آرہے ہیں کہ صرف ایک سال کے اندر اندر( جس میںسے دو ماہ نکل چکے ہیں) حالات کیسے ٹھیک کئے جاسکتے ہیں؟ مرکزی سرکار حریت کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملی ٹینٹوں کے ساتھ بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کو قابو کرنے اور نوجوانوں کا غصہ کم کرنے کیلئے زمینی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے تو پھر حالات ایک سال کے اندر اندر کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ گزشتہ ایک سال سے پر تشدد حالات کا شکار وادی کشمیر میں ان دنوںہر شخص کی زبان پر یہ سوال ہے کہ یہاںاب کیا ہونے والا ہے؟در اصل لوگ ابھی تک وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اُس مبہم بیان کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو انہوں نے کشمیر کے حالات کے بارے میںاس سال 11اپریل کو دیا تھا۔ وزیر داخلہ نے انتہائی پر اعتماد انداز میں یقین دہانی کرائی کی کشمیر ایک سال کے اندر اندر ٹرانسفارم ہوجائے گایعنی بدل جائے گا۔ انہوں نے اپنے اس پر اسرار بیان کی وضاحت ان الفاظ میں کی : ’’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیسے لیکن ( کشمیر کے حالات میں )تبدیلی ضرور آئے گی۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک سال کے اندر اندر کشمیر میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔‘‘اگر یہ بیان بی جے پی کے کسی عام لیڈر نے دیا ہوتا تو شاید اسے اندھیرے میں پھینکا ہوا تیر سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا تھا لیکن چونکہ یہ بیان ملک کے وزیر داخلہ نے دیا ہے اس لئے وزیر داخلہ نے یہ بیان یقینا کسی سوچے سمجھے منصوبے کو مدنظر رکھ کر دیا ہوگا۔کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین یہ سمجھنے سے قاصر نظر آرہے ہیں کہ صرف ایک سال کے اندر اندر( جس میںسے دو ماہ نکل چکے ہیں) حالات کیسے ٹھیک کئے جاسکتے ہیں؟ مرکزی سرکار حریت کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملی ٹینٹوں کے ساتھ بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کو قابو کرنے اور نوجوانوں کا غصہ کم کرنے کیلئے زمینی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے تو پھر حالات ایک سال کے اندر اندر کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ وادی کشمیر میں سیاسی مبصرین مودی سرکار کی کشمیر کے تئیں موجودہ پالیسی اور فوجی سربراہ سے لیکر امیت شاہ تک کے حالیہ بیانات سے جو کچھ اخذ کررہے ہیں، اُس کے مطابق نئی دہلی کشمیر میں تمام ملی ٹینٹوں کو ختم کرنے ، مظاہرین کے خلاف بے تحاشا طاقت کا استعمال کرکے انہیں خاموش کرنے اور حریت لیڈروں کو عوام میں بے وقعت بنانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ تاکہ یہاں قبرستان کی جیسی خاموشی قائم کرکے اسے امن کا نام دیا جاسکے۔

 

 

وزیر اعظم مودی نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں فوج کو ہدایات دی کہ کشمیر میں سرگرم تمام ملی ٹینٹوں کو دو ماہ کے اندر اندر ختم کیا جائے۔ حالانکہ نئی دلی کے میڈیا رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم کے اس بیان سے کچھ دن پہلے ہی سری نگر میں فوج کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں جنوبی کشمیر میں سرگرم بارہ ملی ٹینٹ کمانڈروں کی ہٹ لسٹ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان بارہ ملی ٹینٹ کمانڈروں میں لشکر کے 6، حزب کے 5اورجیش محمد کا 1کمانڈر شامل ہے۔ مقامی میڈیا نے ان عسکری کمانڈروں کی فہرست بھی شائع کی ہے۔ دوسری جانب فوجی سربراہ پہلے ہی وارننگ دے چکے ہیں کہ فوج اور ملی ٹینٹوں کے درمیان جھڑپوں کے دورن ملی ٹینٹوں کو بھاگنے کا موقعہ دینے کے لئے پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔اس دوران حکومت نے حریت لیڈروں کو دبائو میں لانے کی مہم شروع کردی ہے۔ فی الوقت حریت لیڈروں پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ پاکستان سے سینکڑوں کروڑ روپے حاصل کرکے وادی میں حالات خراب کروا رہے ہیں۔ لیکن تاحال حکومت اس ضمن میں کوئی ٹھوس ثبوت یا دلیل پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔16مئی کو ’’انڈیا ٹوڈے ‘‘  نے ایک سنسنی خیز ویڈیو جاری کرتے ہوئے ، کشمیر میں حوالہ سکنڈل طشت از بام کرنے کا دعویٰ کیا۔ ویڈیو میں تین حریت لیڈروں نعیم احمد خان ، فاروق احمد ڈار اور غازی بابا کو یہ اعتراف کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ کشمیر میں حالات خراب کرنے کے لئے پاکستان سے سینکڑوں کروڑ روپے کی رقومات حریت لیڈروں کو ملتی ہیں۔ایک عام تاثر  تھا کہ اس انکشاف کے فوراً بعد سیکورٹی اور تحقیقاتی ایجنسیاں متحرک ہوجائیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔البتہ دوہفتے بعد یعنی یکم جون کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی ایک 50رکنی ٹیم وارد کشمیر ہوئی۔ ٹیم کی سربراہی ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر رینک کے آفیسر کررہے تھے۔ ٹیم میں ایک ڈپٹی انسپکٹر، 2ایس پی اور 10ڈی ایس پی شامل تھے۔یہاں پہنچنے کے دو دن بعد یعنی 3جون کو  این آئی اے ٹیم نے مختلف تاجروں، حریت لیڈروں اور سرمایہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا۔ 3جون کو  این آئی اے کی دس ٹیموں نے کل 18مقامات پر چھاپے مارے۔ دوسرے دن یعنی 4جون کو مزید 7جگہوں پر چھاپے مارے گئے۔ اسکے علاوہ  این آئی اے نے دلی اور ہریانہ کے 9مقامات پر چھاپے مارے۔ دلی میں یہ چھاپے گریٹر کیلاش، پیتم پورہ اور بلی ماراں کے مقامات پرمبینہ حوالہ ڈیلروں کے گھروں یا دفاتر میں مارے گئے۔ جموں شہر کے ایک غیر مسلم تاجر کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا۔ کل 33مقامات پر چھاپے مارے گئے۔حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی کارروائی کے بعد خود  این آئی اے کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ان چھاپوں کے دوران محض ایک کروڑ 15لاکھ روپے نقدی، سونے کے 85سکے، 40لاکھ روپے کے مالیت کے زیورات ضبط کئے گئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ سب چیزیں صرف ایک جگہ سے نہیں بلکہ مختلف گھروں سے برآمد کئے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ  این آئی اے نے33مختلف جگہوں پر چھاپے مار کر اتنی معمولی رقم اورچند لاکھ زیورات کو برآمدکرنے کا دعویٰ کرکے خود ہی ان الزامات کو مشکوک بنادیا ہے کہ حوالہ کے ذریعے کشمیر میں ہزاروں یا سینکڑوں کروڑ روپے لایا جارہا ہے۔بلکہ مختلف جگہوں پر ضبط کی گئی اس معمولی رقم کے بل پر عدالت میں کچھ بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔اگر کسی سرمایہ دار یا تاجر کے گھر میں چند لاکھ روپے نقدی بر آمد کئے بھی جاتے ہیں تو اس پر زیادہ سے زیادہ چند لاکھ روپے کی بلیک منی رکھنے کا الزام لگا یا جاسکتا ہے۔ این آئی آے نے چھاپوں کے دوران کئی لیپ ٹاپ اور چند موبائل فون بھی ضبط کرلئے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن سرمایہ دار تاجروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں، ان میں بعض کی تجارت کا سالانہ ہزاروں کروڑ روپے کا وائٹ ٹرنزکشن ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ  این آئی اے نے اس تحقیقات کے لئے ایک اوپن ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ یعنی کسی بھی شخص کو ملز م نہیں بنایا گیا ہے۔ ان سارے حقائق سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ نئی دلی کی بعض نیوز چینلوں پر کشمیر میں حوالہ سکینڈل ’ بے نقاب‘ ہوجانے کے جوبلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں، ان کو ئی ٹھوس ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ بلکہ  این آئی آے نے مختلف گھروں سے جو کچھ ضبط کیا ہے ، ممکن ہے اسے وہ سب عدالت میں متعلقین کو واپس کرنا پڑے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2002ء انکم ٹیکس محکمے نے وادی میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے تھے، کئی حریت لیڈروں کے گھروں سے ’اہم دستاویزات ‘ برآمد کرنے کے دعوے کئے گئے تھے۔ دلی کے میڈیا نے بوال مچاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ کوئی بہت بڑا سکینڈل طشت از بام ہوا ہے۔ لیکن چند ہفتوں کے بعد خود ہی انکم ٹیکس محکمے نے یہ کیس بند کردیا۔ ممکن ہے کہ آنے والے چند ہفتوں نے  این آئی اے خود ہی اس ایف آئی آر کو ختم کرئے گی ، جس کی بنیاد پر اتنے بڑے پیمانے پر چھاپے مارے گئے ہیں اور میڈیا نے اتنا بوال مچارکھا ہے۔

 

 

ملک بھر کے سنجیدہ فکر مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ اگر حکومت کا یہ دعویٰ صیح ہے کہ کشمیر میں حالات خراب کرنے کے لئے پاکستان سے سینکڑوں کروڑ روپے یہاں بھیجے جارہے ہیں ، تو کیا وجہ ہے کہ ریاستی اور مرکزی سرکاریں اتنے برسوں کو کوئی ایک ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کرسکی۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت کی تحقیقاتی اور سیکورٹی ایجنسیاں آج تک یہ پتہ لگانے میں ناکام ہوگئی ہیں کہ اتنی بڑی رقومات کہاں سے اور کن لوگوں کے ذریعے سے یہا پہنچائی جارہی ہیں۔ ’’انڈیا ٹوڈے ‘‘ کی جانب سے سٹنگ آپریشن کے بعد ہی  این آئی اے متحریک کیوں ہوگئی کیا حکومت ایسے معاملات میں میڈیا پر منحصر ہے۔پچھلے ایک سال سے حکومتی سطح پر مسلسل کہا جارہا ہے کہ کشمیر میں پتھرائو کرنے والوں کو پیسہ ملتا ہے۔ اگر یہ صیح ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے باضابطہ ایک نیٹ ورک ہوگا جو وادی کے کونے کونے تک پیسہ پہنچانے کا کام کرتا ہوگا اور اس نیٹ ورک کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ جڑے ہونگے۔ تو پھر حکومت کی ایجنسیاں یہاں کیا کررہی ہیں۔دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ یا تو حکومت اور اسکی ایجنسیاں ناکارہ ہیں، جو اب تک نہ کچھ پتہ لگاسکی ہیں اور نہ کچھ ثابت کرسکی ہیں۔یا یہ ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے سارے الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عام کشمیریوں کا تعلق ہے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت اس طرح کے  جھوٹے الزامات لگا کر کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گزشتہ جمعہ یعنی 9جون کو وادی میں حریت کی کال پر ہمہ گیر ہڑتال ہوئی۔ حریت کے بعض لیڈروں جمعہ کو سرینگر شہر کے بعض علاقوں میں احتجاجی مارچ کرنے کی کال دی تھی اور حکومت کو یہ ناکام بنانے کے لئے شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ صاف ظاہر ہے کہ این آئی اے کے چھاپوں اور دلی کی نیوز چینلوں کی جانب سے کردار کشی کی مہم کے باجود حریت کا عام لوگوں میں مان سمان ہے۔ یہ سارے وہ حقائق ہیں ، جنہیں نئی دلی کا بیشتر میڈیا چھپا رہا ہے۔ ’’ چوتھی دُنیا‘‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پچھلے ایک سال سے مسلسل کشمیر کے حقیقی حالات کو صحافتی دیانتدای کے ساتھ اپنے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جہاں تک کشمیر میں ملی ٹنسی کا تعلق ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وادی کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر میں ملی ٹنسی کا گراف ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ سرکاری طور پر کہا جارہا ہے کہ جنوبی کشمیر میں فی الوقت 300ملی ٹینٹ سرگرم ہیں۔لیکن ہمارے ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پولیس اس بات کا خود اعتراف کررہی ہے کہ گزشتہ سال کی ایجی ٹیشن کے بعد درجنوں نوجوان ملی ٹینٹوں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ ایک سال کے دوران نوجوانوں نے سیکورٹی فورسز اور پولیس سے 60سے زائد رائفلیں چھین لی ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں سے بندوقیں چھیننے کی اس طرح کے واقعات اتنے بڑے پیمانے پر ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔ اتنا ہی نہیں باوثوق ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘کو بتایا کہ جنوبی کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے خلاف فوج اور فورسز کی ناکامی کا ایک بنیادی سبب عام لوگوں کا ملی ٹینٹوں کے تئیں ہمدردی ہے۔ملی ٹینٹوں کو بستیوں میں تلاش کرنا فورسز اور فوج کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1990میں وادی میں مسلح تحریک بپا ہوجانے کے بعد یہاں بڑے پیمانے پر عوام نے ملی ٹینٹوں کا ساتھ دیا تھا، لیکن چند سال بعد ملی ٹینٹوں کے تئیں عوامی ہمدردی میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی تھی۔ لیکن گزشتہ ایک سال کے حالات و واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ ملی ٹینٹوں کو ایک پھر عوام کا سپورٹ حاصل ہورہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب اگر کسی جگہ کوئی ملی ٹینٹ مارا جاتا ہے تو سیکورٹی فورسز اور پولیس کو اس کی نماز جنازہ میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کے لئے آس پاس کے علاقوں میں عوام کی نقل و حرکت پر قدغنیں لگانی پڑتی ہیں۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے یہاں مارے جانے والے ملی ٹینٹوں کی نماز جنازہ میں بیک وقت ہزاروں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان مواقعوں پر عام نوجوانوں کو کافی جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران نئی دلی کے بعض ٹی وی چینلیں مسلسل یہ پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں کہ کشمیر میں پتھرپھینکنے والوں کو پیسے دیئے جاتے ہیں، لیکن اب وادی میں جگہ جگہ سکول وردیوں میں ملبوس طلبا و طالبات کو بھی پتھرائو کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی شروعات دو ماہ قبل یعنی 15اپریل کو اُس وقت  ہوئی ، جب جنوبی کشمیر کے پلوامہ ڈگری کالج میں فو ج داخل ہوئی اور یہاں مبینہ طور پر طلبا کی مارپیٹ کی۔ کالج کے پرنسپل نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے فوج کو کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے منع کیا تھا لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی۔ حکومت نے اس واقعہ تحقیق کا حکم دیا تھا لیکن دوسرے سینکڑوں واقعات کی تحقیقات کی طرح اس واقعہ کی تحقیق کا حکم بھی ایک سراب ہی ثابت ہوا۔ آج تک کسی کو یہ پتہ نہیں چلا کہ فوج پرنسپل اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کالج کے احاطے میں داخل کیوں ہوگئی تھی اور اسے وہاں کیا ملا؟لیکن اس ایک واقعہ کی وجہ سے بعد میں وادی بھر میں طلبا و طالبات کے احتجاج اور پتھرائو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔گزشتہ پچیس سال میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ سکول وردیوں میں ملبوس لڑکے اور لڑکیاں سڑکوں پر آکر سیکورٹی فورسز پر پتھرائو کررہے ہیں۔سٹوڈنٹس کے اس طرح کے پر تشدد پروٹیسٹ کی بین الاقوامی میڈیا میں خوب تشہیر ملی ہے۔کشمیر میں حالات کی خرابی کا تعلق صرف ملی ٹنسی اور پتھرائو کے واقعات سے ہی جڑا نہیں ہے۔ لائن آف کنٹرول پر آئے دن ہند و پاک فوجوں کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کی وجہ سے سرحدی آبادیوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔ راجوری ضلع کے سرحدی علاقے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی گولہ باری کے نتیجے میں اب ایک لڑکی سمیت تین افراد مارے جاچکے ہیں۔ یہاں گولہ باری سے بچنے کے لئے تقریباً ساڑھے پانچ سو کنبوں نے ہجرت کرلی ہے۔ دو ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ان کنبوں کو انتظامیہ نے پانچ مختلف مہاجر کیمپوں میں پناہ دے رکھی ہے۔ کنٹرول لائن پر صرف گولہ باری ہی ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ کنٹرول لائن پر ہر دوسرے دن ملی ٹینٹوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں ایک عام بات بن چکی ۔ ان خبروں کو اب میڈیا میں کافی تک نظر انداز کیا جارہا ہے لیکن کشمیر کے حقیقی حالات کا اس طرح کی جھڑپوں سے کافی گہرا تعلق ہے۔حکومت نے ایک ماہ قبل وادی میں پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی لگاررکھی ہے۔ انٹرنیٹ پر بھی آئے دن بین لگایا جارہا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود امن و قانون کا کہیں دور دور تک عندیہ نہیں ملتا ہے۔ہر دن وادی کے کسی نہ کسی علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپیں ہوجاتی ہیں۔ ہر دن کسی نہ کسی علاقے میں نوجوان پر تشدد احتجاج اور پتھرائو کرتے نظر آتے ہیں اور ہر دن سرحد پر گولہ باری یا در اندازی کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔کل ملا کر وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کرنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ ملی ٹنسی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ فروغ پارہی ہے۔ مظاہرے اور پتھرائو ایک معمول سا بن چکا ہے اور سرحدوں پر تنائو برقرار ہے۔ اس ساری صورتحا ل کے باوجود اگر وزیر داخلہ اعتماد کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ایک سال کے اندر اندر کشمیر کے حالات بدل جائیں گے تو لازمی طور پر ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیسے؟ایک تاثر یہ بھی شاید حکومت ہند کشمیر میں بہت ملی ٹنسی اور مظاہرین کو کچلنے کے لئے بہت زیادہ طاقت کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں کشمیر میں تشدد کی بٹھی اور تیز جلنے لگے گی ۔ فوج اور اور فورسز کی جانب سے بہت زیادہ طاقت کا استعمال کا  مطلب بہت زیادہ ہلاکتیں، بہت زیادہ زخمی، بہت زیادہ گرفتاریاں ، بہت زایاہ تشددلیکن پھر ایک سوال سب کے ذہن میں کلبلا رہا ہے کیا اس سے سب کچھ ٹھیک ہوگا؟حالیہ ایام کے دوران جو سنجیدہ فکر شخصیات وادی کشمیر کے دورے پر آئی ہیں، اُن میں یشونت سنہا، منی شنکر ائر اور کمل مرارکا شامل ہیں۔ ان شخصیات کی کی قیادت میں آئے وفود نے یہاں عام لوگوں سے لیکر بڑے بڑے لیڈوروں سے سب سے ملاقاتیں کیں اور صورتحال کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ دلچسپ بات ہے کہ واپس جانے کے بعد ان سب نے حکومت ہند کو مشورہ دیا کہ کشمیر کی طاقت کی زبان کی نہیں، محبت کی زبان کی ضرورت ہے۔ ان شخصیات نے حکومت ہند کو فوراً کشمیر میں بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی صلاح دی ۔سنتوش بھارتی، ونود شرما، سیما مصطفی  جیسے صحافیوں ، جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران وادی کشمیر کے کئی کئی دورے کئے اور یہاں کے حالات کا جائزہ لیا ، نے بھی اپنی تحریروں میں حکومت ہند کو طاقت کے بجائے صلاح جوئی اور مذاکرات کا طریقہ کار اپنانے کا مشورہ دیا۔لیکن سچ تو یہ ہے مودی سرکار کشمیر کے بارے میں کوئی بھی نرم رویہ اختیار کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک اسکی وجہ یہ ہے کہ کشمیر کے تئیں سخت رویہ کا مظاہرہ کرنے سے بی جے پی کو ملک بھر میں سیاسی فائدہ ہورہا ہے۔اگر یہ سچ ہے تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار کی موجودہ کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔ بلکہ ایک سال کے اندر اندر حالات بدلنے کی بات کہہ کر وزیر داخلہ نے غالباً یہی تاثر دیا کہ یہاں مخالف آوازوں کو دبانے کے لئے طاقت کا زبردست استعمال کیا جائے گا۔یعنی کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے چند ماہ کے دوران کشمیر کے حالات مزید بگڑنے کا قوی احتمال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *