پرسپشن کی لڑائی میں کتنے کامیاب ہونگے عاپ؟

سیاست میں کسی پارٹی یا فرد کے لئے مرثیہ پڑھنے کا رواج نہیں ہے۔ وجہ ،کب کون کہاں سے دھول مٹی جھاڑتے ہوئے پھر سے میدان میں آ ڈٹے، کسی کو پتہ نہیں ہوتا اس لحاظ سے عام آدمی پارٹی کے خاتمے کی پیش گوئی کرنا یا اروند کجریوال کی کہانی کی بخیہ ادھیڑنا ، دونوں خطرے سے خالی نہیں ہے۔ لیکن پانچ سال پرانی پارٹی سے جڑے کچھ ایسے سوال ، کچھ ایسی کہانیاں ضرور ہیں،جسے جاننا نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔پڑھئے ’’ چوتھی دنیاُُ کی خاص رپورٹ۔
یہ واقعہ ایم سی ڈی انتخابی نتائج آنے سے پہلے کا ہے۔ دہلی کی سندر نگری سے ہی اروند کجریوال نے سب سے پہلے سماجی سرگرمی شروع کی تھی۔ ظاہر ہے ،یہاں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جو اروند کجریوال کو اور اروند کجریوال ان لوگوں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ آج بھی پارٹی میں اس علاقے کے کافی لوگ پوری سرگرمی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اسی سندر نگری کے کچھ لوگ اروند کجریوال سے ملاقات کا وقت چاہتے تھے۔یہ لوگ بار بار اپوائنٹ منٹ لینے کے لئے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ جارہے تھے لیکن انہیں نہ تو اپوائنٹ منٹ مل پا رہا تھا اور نہ ہی اروند کجریوال سے ان کی ملاقات ہو پا رہی تھی۔ کافی دنوں بعد یہ لوگ اروند کجریوال کی بیوی سنیتا کجریوال تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور جیسے ہی اروند کجریوال کو اپنی بیوی کے ذریعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سندر نگری کے لوگ ان سے ملنے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں اپوائنٹ منٹ نہیں مل پارہا ہے، وہ غصے میں آجاتے ہیں۔ پھر آناً فاناً میں ان لوگوں کووزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر بلایا جاتاہے اور اروند کجریوال ان لوگوں سے ملتے ہیں۔ اس چھوٹی سی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ اقتدار وہ شئے ہے ،جو کئی بار آپ کو خود کی خبر بھی نہیں لگنے دیتی۔ایسا ہی کچھ اروند کجریوال کے ساتھ بھی ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس اقتدار کے ایلی ٹیزم کے خلاف آپ کھڑے ہوئے، خود اسی میں کیسے پھنس گئے؟پھنس گئے اس لئے، کیونکہ ظاہر ی طور پر سندر نگری کے ان لوگوں کو اپوائنٹ منٹ نہ دینے کے پیچھے کچھ ایسے لوگوں کا ملوث ہونا رہا ہوگا جو یہ طے کرتے ہوں گے کہ اروند کجریوال کو کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں ملنا ہے۔
اس کہانی سے ’ عاپ‘ کی کہانی شروع کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟اس لئے کہ اگر عام آدمی پارٹی کا تجزیہ صرف ان دلائل اور حقائق کے سہارے کیا جائے جو سالوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا میں تیر رہے ہیں تو یہ تجزیہ ، تجزیہ نہ رہ کر کچھ اور بن جائے گا۔’’چوتھی دنیا‘‘نے اپنی جانچ میں کچھ ایسے نئے حقائق اور کہانیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جن کے ذریعہ عام آدمی پارٹی کی موجودہ حالت کو بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً گوا اور پنجاب میں کن لیڈروں کی انا پارٹی کی ہار کا سبب بنی۔ محض 313اضلاع میں جس پارٹی کی ڈسٹرکٹ کمیٹی تھی، اس نے 400 سے زیادہ لوک سبھاحلقوں میں انتخابات لڑنے کا حوصلہ کیوں اور کیسے کیا۔ تنظیمی سطح پر پہلے کیا غلطیاں ہوئیں اور اب اسے سدھارنے کی کیا کوششیں ہو رہی ہیں، وغیرہ۔
400لوک سبھاامیدواروں کی حقیقت
سب ے پہلے اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی نے ایسی کیا امیدیں جگائی تھی، جس پر عوام نے بھروسہ کر کے اسے دو دو بار دہلی کی گدی سونپی۔ عوام کو امید تھی کہ عام آدمی پارٹی سیاست کا بہتر اور شفاف متبادل بنے گی۔ پارٹی شفاف طریقے سے کام کرے گی ،چندے سے لے کر ٹکٹ تقسیم میں شفافیت آئے گی، جس سے عام آدمی کی سیاست میں حصہ داری بڑھے گی۔یہ پارٹی بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑے گی۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار جن مسائل پر دھیان دے گی،وہ اقتدار کی مرکزیت ہوگی لیکن 49 دن کی سرکار کے بعد ہی اچانک جب عام آدمی پارٹی نے لوک سبھا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تب عاپ کے ووٹروں کو ایک جھٹکا سالگا۔ عوام نے تو دہلی کی سرکار چلانے کے لئے انہیں عوامی حمایت دی تھی۔ پھر سرکار سے نکلنے اور لوک سبھا انتخاب لڑنے کا اعلان کا کیا مطلب تھا؟یہاں سوال یہ بھی ہے کہ نسبتاً ایک نئی پارٹی کے پاس کیا قومی سطح پر ایسی کوئی مضبوط تنظیم تھی، جس کے سہارے اس نے ملک بھر کے 400 سے زیادہ لوک سبھاحلقوں سے انتخاب لڑنے کی ہمت دکھائی ؟
دراصل لوک سبھاانتخاب سے پہلے عام آدمی پارٹی کے تب کے سرپرست شانتی بھوشن نے دہلی کے کنسٹی ٹیوشن کلب میں ایک جوشیلی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام بار بار موقع نہیں دیتی۔ اس لئے ہمیں اس موقع کو نہیں گنوانا چاہئے۔ تب پارٹی کے سینئر لیڈر یوگیندر یادو بھی چاہتے تھے کہ پارٹی ملک بھر میں لوک سبھا کا الیکشن لڑے۔ پارٹی نے تیاری شروع کی۔ تنظیم سے جڑے لوگوں کی لسٹ نکالی گئی ۔پتہ چلا کہ صرف 313 ضلعوں میں ہی پارٹی کی ڈسٹرکٹ کمیٹی بن پائی ہے۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ ان ڈسٹرکٹ کمیٹیوں میںزیادہ تر ایسے لوگ تھے جو انّا آندولن کے وقت جڑے تھے اور بعد میں پارٹی بننے پر پارٹی کی ضلع اکائی سے جڑ گئے۔ دہلی ، ممبئی، بنگلور جیسے کچھ شہروں کے علاوہ کہیں بھی پارٹی کی مضبوط تنظیم نہیں تھی۔ چھٹ پُٹ طریقے سے کچھ نام ضرور پارٹی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، وہ بھی صرف لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کے لئے۔ باوجود اس کے یوگیندر یادو کی صلاح پر عام آدمی پارٹی نے 400 سے زیادہ لوک سبھا حلقوں سے اپنے امیدوار اتار دیئے۔ خود کجریوال بنارس سے انتخاب لڑنے چلے گئے۔ انتخابی نتیجہ آیا، تو پتہ چلا کہ بنارس اور پنجاب کو چھوڑ کر تقریباً ہر سیٹ پر پارٹی کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ ظاہر ہے انا آندولن سے کجریوال کو جو گلیمر حاصل ہوا تھا، وہ لوک سبھاانتخابی نتائج میں نہیں بدل پایا۔ اس کے علاوہ اس وقت کا سیاسی ماحول بھی ایسا تھا جہاں انتخاب لڑنے کا دائو بھی سیاسی طریقے سے عام آدمی پارٹی کے لئے الٹا پڑ گیا ۔میڈیا اور عوام کے بیچ کجریوال کو بھگوڑا تک کہا جانے لگا۔
پرسیپشن کی لڑائی میں پچھڑے
لیکن تب بھی دہلی کے عوام کا بھروسہ شاید عام آدمی پارٹی سے پوری طرح سے ہِلا نہیں تھا۔نتیجتاً لوک سبھا انتخاب کے ایک سال بعد ہی دہلی میں پھر سے اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور عوام نے عام آدمی پارٹی کو دوسرا موقع دیا۔ پارٹی نے 70 میں سے 67 سیٹیں حاصل کی۔ لیکن دو سال گزرتے گزرتے ایسا کیا ہوا کہ عام آدمی پارٹی کو پنجاب سے لیکر گوا اور پھر دلی نگر نگم الیکشن میں ایک کے بعد یک زبردست ہار کا سامناکرنا پڑا؟ دراصل ان دو سالوں میں اس سرکار نے جتنے اچھے کام کئے (بجلی، پانی ، ہیلتھ، ایجوکیشن سیکٹر میں ) اس سے کہیں زیادہ تنازعات میں پھنستی چلی گئی۔ پہلے وزیروں سے جڑے تنازع، لیفٹنینٹ گورنر اورمرکز کے ساتھ تنائو ، میڈیا کے ساتھ کھٹے میٹھے رشتے،مرکزی سرکارکے خلاف حملہ آور رویہ وغیرہ کی وجہ سے خود اروند کجریوال اور ان کی پارٹی کے بارے میں میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک میں ایک نیگٹیو پرسیپشن کری ایٹ ہوا۔ دہلی کے مکمل ریاستی درجہ نہ ہونے کے سبب وہ گورنر کے ساتھ پٹری بیٹھا کر کام نہیں کر سکے، جس سے کئی سارے غیر ضروری تنازع بھی کھڑے ہوئے۔ مودی سرکار پر حملہ آور رہنے کے سبب کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی امیج عوام اور میڈیا کے درمیان سب سے زیادہ خراب ہوئی۔ عوام کو لگنے لگا کہ وہ کام کام کرتے ہیں مگر تنازع کی سیاست زیادہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایم سی ڈی انتخابی نتائج میں دیکھنے کو ملا۔
گپتا پربھاری، تلوار پربھاری، پارتی ہاری
لیکن دہلی سے ہٹ کر ایک بڑا سوال پنجاب اور گوا سے جڑا ہے۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں گوا کی۔ گوا کی کہانی یہ ہے کہ پارٹی کے قومی سکریٹری پنکج گپتا گوا کے انچارج بنائے گئے تھے۔ گپتا شریف اور نرم گفتار لیڈر ہیں۔وہ چپ چاپ اپنا کام کرتے ہیں اور تکڑم سے دور رہتے ہیں۔ گوا میں پارٹی کا وجود تو تھا لیکن رضاکار نہیں تھے۔ دوسری طرف کرناٹک کے عام آدمی پارٹی انچارج پرتھوی ریڈی کے پاس رضاکاروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ اس وقت انہوں نے اپنے قریب 200 فل ٹائم رضاکاروں کو گوا بھیجا۔ مہاراشٹر سے بھی رضاکار آئے۔ باوجود اس کے مقامی سطح پر پارٹی کارکردگی میں وہ تیزی نہیںآرہی تھی، جس کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد ہی گرائونڈ سے ملی ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر اروند کجرویال نے اشیش تلوار کو انچارج بنا کر گوا بھیجا۔ گوا میں پارٹی کی حالت یہیں سے بگڑنے لگی۔ کمار وشواس کی ریلی گوا میں کب ہو، کہاں ہو، کتنی ہو، اتنی معمولی سی بات کو لے کر بھی پنکج گپتا اور اشیش تلوار کے بیچ ہم آہنگی نہیں بن پاتی تھی۔ پنکج کچھ کہتے تو اشیش کچھ کہتے۔ اس چکر میں رضاکار بھی کنفیوژ ہو گئے۔ پارٹی نے بہت دیر کرتے ہوئے سی ایم عہدہ کے لئے ایلوس گومس کا نام طے کیا۔ اروند کجریوال اور کمار وشواس کی ایک یا دو ریلی میں بھیڑ تو جمع ہوئی لیکن یہ بھیڑ تنظیمی صلاحیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ کجریوال اور کمار وشواس کے خود کے گلیمر کی وجہ سے آئی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے روڈ شو میں گنتی کے لوگ ہوتے تھے۔ دیگر لیڈروں کی ریلی میں بھی بھیڑ نہیں ہوتی تھی۔ کجریوال کی ریلی میں آئی بھیڑ ووٹ میں بدلے، اس کے لئے پارٹی کے پاس تنظیمی صلاحیت نہیں تھی۔ تنظیم کو مضبوط بنانے والے لوگوں کے بیچ جو آپسی رابطہ چاہئے تھا ،وہ بھی ندارد تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گوا میں پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی اور سخت ہار کا سامناکرناپڑا۔
اُوَر کنفیڈنس کا نتیجہ پنجاب
اب بات کریں پنجاب کی ۔ پنجاب میں انتخاب سے پہلے ہی میڈیا سروے سے لے کر تمام سیاسی بحثوں میں یہ بتایا جاتا تھاکہ عام آدمی پارٹی وہاں سب سے آگے ہے۔ پھر ایسا کیا ہو گیا کہ عام آدمی پارٹی پنجاب میں تیسرے نمبر کی پارٹی بن کر رہ گئی۔دراصل ایک لائن میںکہیں تو پنجاب کو جیتنے کی ذمہ داری ان لوگوں کو دے دی گئی تھی جنہیں پنجاب کا ’پ ‘نہیں معلوم تھا۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘کو ملی جانکاری کے مطابق جس درگیش پاٹھک کو پنجاب کی ذمہ داری دی گئی، اس نے نہ صرف پارٹی اعلیٰ کمان کو مس لیڈ کیا بلکہ پنجاب میں تنظیم بنانے، امیدواروں کے انتخاب اور تشہیری مہم تک میں اپنی مرضی چلائی۔ درگیش پاٹھک پنجاب میں پارٹی کے نائب انچارج تھے اور سنجے سنگھ انچارج تھے۔لیکن پاٹھک وہاں انتخاب سے قریب ایک سال پہلے سے کیمپ کئے ہوئے تھے۔ سنجے سنگھ وہاں تبھی جاتے تھے جب کوئی بیٹھک وغیرہ کرنی ہوتی تھی۔ اروند کجریوال انتخاب کے ایک مہینے کے دوران ہی وہاں مقررہ کمپین کرتے رہے۔ اس سے پہلے انہوں نے پنجاب میں کچھ ریلیاں ہی کی تھی۔ یعنی کل ملا کر پارٹی اور اعلیٰ کمان پنجاب کی گرائوڈ ریالیٹی کے لئے صرف اور صرف درگیش پاٹھک کے فیڈ بیک پر ہی منحصر تھے۔ انتخاب سے کافی پہلے پنجاب کے گائوں کی دیواروں کو عام آدمی پارٹی کے نعروں اور انتخابی نشان سے پاٹ دیاگیا تھا۔ جہاں دیکھئے وہاں صرف’ عاپ ‘ ۔ اس سے لوگوں کو لگا کہ پارٹی یہاں کافی مضبوط حالت میں ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ مقامی سطح پر تنظیم کا کام اتنے جوش و خروش سے نہیں ہوا، جتنے جوش و خروش سے پنجاب کی دیواروں کوپارٹی کے رنگ میں رنگنے کا کیا گیاتھا۔ ٹکٹ تقسیم کا کام بھی درگیش پاٹھک سے ملے فیڈ بیک اور یقین دہانی کی بنیاد پر ہی کیا گیا۔ اس معاملے میں بھی درگیش پاٹھک نے صرف اور صرف اپنی مرضی چلائی۔ ایسے بہت لوگوں کو بھی ٹکٹ مل گیا جن کے پاس صرف بہت پیسہ تھا۔ غور طلب ہے کہ پنجاب اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کے امیدواروں نے اچھا خاصا پیسہ خرچ کیا۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر ایسے پیسے والے امیدوار تھے، جو انتخاب صرف انتخاب لڑنے کے لئے لڑ رہے تھے۔ ان کے پاس سماجی اور سیاسی تجربہ نہیں تھا۔وہ صرف پیسہ خرچ کرسکتے تھے اور کیا بھی۔ پارٹی نے دہلی سے رضاکار بھیجے، ایم ایل اے بھیجے، لیکن دشواری یہ تھی کہ ان لوگوں کو بھی وہاں جا کر صرف اور صرف درگیش پاٹھک کے اشاروں پر ہی کام کرنا پڑتا تھا۔ وہاں قاعدے سے بوتھ مینجمنٹ کے لئے سروے کرنے،لوگوں کو نشان زد کرنے وغیرہ کا کام کرنا تھا، جو الیکشن ہونے ہونے تک نہیں ہو سکا تھا۔ دہلی سے گئے رضاکاروں، ایم ایل اے اور وہاں کے نائب انچارج درگیش پاٹھک کے بیچ کہیں کوئی ہم آہنگی نام کی چیز نہیں تھی۔ سب اپنے اپنے حساب سے کام کر رہے تھے۔ ایک اور دشواری تھی۔ پنجاب کے لوگ اپنی زبان، اپنی روایت ،اپنی پنجابیت سے پیار کرتے ہیں۔ دہلی سے گئے رضا کار ،ایم ایل اے اور خود درگیش پاٹھک اس بات کو نہیں سمجھ پائے ۔وہ مقامی سطح پر نوجوانوںکو اپنے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہے۔ گائوں کے پنجابی زبان بولنے والے لوگ ان کی ہندی سن کر متاثر بھی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن درگیش پاٹھک کو شاید یہ لگا کہ لوک سبھا الیکشن کے وقت جیسے انہیں جھٹکے میں 4 سیٹیں مل گئیں تھی، ویسے ہی اسمبلی انتخابات میں بھی یہ بازی مار لیں گے۔ لیکن ایسی صورت ہوگئی کہ انتخاب سے دو دن پہلے ان کے کئی مقامی کارکن اکالی دل اور کانگریس کے ساتھ چلے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوںبوتھ پر ان کے لوگ تک نہیں دکھائی دیئے۔ انتخابی نتائج کے بعد ،سنجے سنگھ پر کئی طرح کے الزام لگے، وہیں درگیش پاٹھک صاف بچ کر نکل گئے۔ جبکہ بنیادی ذمہ داری انہی کی تھی جسے نبھانے میںیہ بری طرح ناکام رہے۔ عام آدمی پارٹی کی پنجاب کی ہار دراصل گمراہ کن،غلط اطلاع اور حد سے زیادہ خود اعتمادی اور درگیش پاٹھک کے اور کنفیڈنس والے رویہ کا بھی نتیجہ ہے۔
کیا اپوزیشن اتحاد کے حامی نہیں ہیںکجریوال
حالانکہ اُور کنفیڈنس ہونے کی یہ کہانی صرف یہیں نہیں تھمتی اور نہ صرف پنجاب اور گوا سے شروع ہوتی ہے۔ اس حد سے زیادہ کنفیڈنس کا شکار بقیہ قیادت بھی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ سیاسی پس منظر میں اپوزیشن یکدم کمزور پڑا ہوا ہے اور اپوزیشن اتحاد کی بات ہر جگہ سے سنائی دے رہی ہے، ویسی حالت میںبھی اروند کجریوال اور ان کی پارٹی اکیلے مرکزی سرکار کے خلاف لگاتار حملہ آورہے۔ گزشتہ دو سال میں اروند کجریوال صرف نتیش کمار اور ممتا بنرجی سے ملے، لیکن تمام اپوزیشن کے لیڈروں سے وہ دوری بنائے رہے۔ پارٹی صرف پریس کانفرنس کر کے مودی سرکار پر حملے کرتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ سے سڑک تک کی لڑائی میں پارٹی اکیلی رہ گئی۔ حال ہی میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپوزیشن لیڈروں کی ایک میٹنگ بلائی تھی لیکن اس میٹنگ میں عام آدمی پارٹی کو نہیں بلایاگیا۔ اس کے پیچھے سیاسی وجوہات ہو سکتی ہیں ،یہ پہلی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ ابھی تک کی انتخابی لڑائی میں عام آدمی پارٹی نے سیدھے کانگریس اور بی جے پی کو ہی ٹکر دی ہے۔ کانگریس عام آدمی پارٹی کو اپنے لئے ایک بڑی مخالف پارٹی (دہلی کے نقطہ نظر سے ) مانتی ہے۔کجریوال خود بھی شاید یہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ ملنے سے اچھا ہے کہ اکیلے ہی چلا جائے۔ یعنی خود کو مودی کے برعکس پیش کیا جائے۔حالانکہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ لیکن ان کی اس سوچ کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ ایک بڑی مخالف آواز، نقارخانے میں طوطی بن کر رہ گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگاکہ صدر جمہوریہ کے انتخاب میں پارٹی کا کیا کردار ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کسے اپنا سپورٹ دیتی ہے۔ اس سے بھی آنے والے وقت کی سیاست کی تصویر بہت حد تک صاف ہوگی لیکن اب تک کی اپنی سیاست کی وجہ سے عام آدمی پارٹی ایک ایسے پرسپشن کی لڑائی میں پچھڑتی جارہی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا سے بہت حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
بھول سدھارنے یا شبیہ سدھارنے کی قواعد
بہر حال پنجاب ،گوا اور ایم سی ڈی انتخابات کے نتائج کے بعد عام آدمی پارٹی کو کم سے کم یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ سیاسی پارٹی اصل پرسپشن کی بھی ایک لڑائی ہوتی ہے اور اس لڑائی میں وہ کافی پچھڑ گئی ہے۔ پارٹی نے ایک بار پھر خود کو اپنی پرانی شبیہ میں ڈھالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس کے اشارے کجریوال کی حال کی سرگرمیوں سے ملتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں پنجاب میں ان کا چار دن کا دورہ زیر تجویز تھا ۔لیکن اس چار دن کے دورے کو انہوں نے یک روزہ دورہ میں سمیٹ دیا ۔ صرف ایک دن کے لئے وہ امرتسر گئے اور وہاں پارٹی کارکنوں سے ملاقات کرکے واپس دہلی آگئے۔ ان دنوں کجریوال دہلی کے دیہی علاقوں میں گھوم رہے ہیں اور لوگوں سے مل رہے ہیں۔ اپنے وزیروں اور ایم ایل ایز سے بھی انہوں نے عوام کے بیچ رہنے اور عوام سے ملنے کے لئے کہا ہے۔ یہ سبھی کام اس لئے بھی کئے جارہے ہیں کیونکہ ان پر یہ الزام لگ رہا تھا کہ وہ دہلی سے زیادہ ملک کے دوسری ریاستوں پر فوکس کرتے ہیں۔ کجریوال عوام کے اس پرسپشن کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔ وہ اب سیدھے وزیر اعظم پر بھی حملہ کرنے سے بچ رہے ہیں۔ ایک طرح سے کہیں تو اس معاملے میںوہ سائلنٹ موڈ میں ہیں۔ حالانکہ ای وی ایم کے ایشو کو لے کر ان کی پارٹی الیکشن کمیشن پر لگاتار حملہ آور ہے۔
تنظیمی سطح پر بھی پارٹی بڑے بدلائو کرنے جارہی ہے۔ دہلی کے نئے انچارج گوپال رائے قریب ڈیڑھ لاکھ پارٹی عہدیداروں کی تقرری کرنے جارہے ہیں۔ یہ تقرری بوتھ لیول تک کی ہوںگی۔ باقاعدہ ان لوگوں کو اپوائنٹ لیٹر دے کر ڈویژن صدر، بوتھ انچارج، حلقہ انچارج وغیرہ بنایا جائے گا۔ پہلے اس طرح کی تقرری پارٹی نے نہیں کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایسے زمینی کارکنان جو پارٹی سے روٹھے ہوئے ہیں یا پارٹی چھوڑ چکے ہیں، انہیں بھی منانے کی کوشش کی جائے گی یعنی کل ملاکر دیکھیں تو عام آدمی پارٹی اب دہلی پر زیادہ فوکس کرنے کے موڈ میں ہے۔ پارٹی پرسپشن کی اس لڑای میں خود کو پھر سے واپس لانا چاہتی ہے، جس میں وہ کافی پچھڑ چکی ہے۔ اب عام آدمی پارٹی اس میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں ،یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چلے گا لیکن اس کا اشارہ اگلے ہی کچھ مہینوں میں مل جائے گا۔ انتظار کیجئے ،یہ دیکھنے کے لئے کہ صدر جمہوریہ انتخاب اور گجرات انتخابات کو لے کر پارٹی کا رخ کیا رہتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *